21ویں صدی کے جدید ہتھیار٬ وار ٹیکنالوجی دنیا تباہ کرسکتی ہے؟؟

(Rehman Mehmood Khan, Islamabad)
اب دشمن علاقے یا خطے کوصفحہ ہستی سے مٹانا اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانا چند سیکنڈوں کی بات ہے

بلاسٹک میزائل نیوکلیائی،کیمیائی یا حیاتیاتی اور روایتی اسلحہ استعمال کیے جاتے ہیں اور عموماً دور فاصلے پر موجود ہدف کو تباہ کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں بین البراعظمی بلاسٹک میزائل (آئی سی بی ایم ) بھی شامل ہیں جو ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک مار کرتے ہیں

آر ایس 28سرمیٹ میزائل جسے نیٹو ممالک نے ’’شیطان2‘‘ کا نام دیا ہے۔ یہ میزائل12سے زائد ایٹم بم لے کر 10ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔اس میزائل بنا لینے کے بعد روس کے پاس ایک ہی حملے میں امریکی ریاست ٹیکساس یا پورے فرانس کے برابر علاقے کو ملیامیٹ کرنے کی طاقت آ گئی ہے

52 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑنے کی صلاحیت رکھنے والا ریپر ڈرون 36 گھنٹے تک مسلسل پرواز کرسکتا ہے، یہ 500 پاؤنڈ وزنی بم تک ساتھ لے جاسکتا ہے۔ اور اسی ڈرون کی مدد سے پاکستان کے شمالی علاقوں میں حملے کیے جاتے ہیں

مختلف ممالک میں اسلحے کی ایک دوڑ جاری ہے ۔ماضی کے ادوار کی بجائے عصر حاضر میں ناصرف میزائل ٹیکنالوجی نے وقت کی رفتار سے بھی کہیں تیز ترقی کی ہے بلکہ ڈرون اور دیگر ایٹمی ٹیکنالوجی میں بھی برق رفتاری سے جدت آئی ہے۔اب دشمن علاقے یا خطے کوصفحہ ہستی سے مٹانا اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانا چند سیکنڈوں کی بات ہے۔زیر نظر مضمون میں ہم ایسے خطرناک ہتھیاروں کے بارے میں بتائیں گے جو لمحوں میں انسان اور بستیاں صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں۔ جنگی ہتھیار فوج کی دنیا کا ایک اہم ترین حصہ ہوتے ہیں اور یہ جتنے زیادہ جدید اور طاقتور ہوتے ہیں دشمن بھی اتنا ہی زیادہ دباؤ شکار ہوجاتا ہے۔ آج ہم آپ کو چند ایسے خطرناک ترین ہتھیاروں کے بارے میں بتائیں گے جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ ان ہتھیاروں میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے بم،رییپر ڈرون،ٹوماہاک میزائل،آر ایس 28سرمیٹ میزائل،بلاسٹک اور اینٹی بلاسٹک میزائل کے علاوہ چینی اینٹی سیٹیلائٹ پروگرام بھی شامل ہے۔

بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے بم
یہ امریکہ کا سب سے بڑا بم ہے جس کی لمبائی 20 فٹ ہے جبکہ یہ 30 ہزار پاؤنڈ وزنی ہے۔ یہ بم 200 فٹ زیرِ زمین موجود بنکرز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکہ نے اس کا پہلا کامیاب تجربہ 2007ء میں کیا۔بوئنگ کمپنی نے زیرزمین خفیہ ٹھکانوں کوتباہ کرنے کے لئے تیرہ اعشاریہ چھ ٹن وزنی بم کی پہلی کھیپ امریکی فضائیہ کے حوالے کردی ہے۔پریس ٹی وی نے لاس اینجلس ٹائمز کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ یہ بم جو عظیم اسلحوں کی زرہ( Massive Ordnance Penetrator bombs) کے نام سے مشہور ہوگیا ہے، اسلحہ ڈپو میں موجود دوسرے بموں سے تقریبا پانچ ٹن زیادہ وزنی ہے۔

امریکی فوج نے جی پی ایس سسٹم سے گائیڈ کئے جانے والے اس بم کو بنانے کے لئے تین سو چودہ ملین ڈالر خرچ کئے ہیں۔لمبی دوری تک پرواز کرنے والے بوئنگ کمپنی کیاسٹراٹوفورٹس بی باون اور نورٹروپ گرامن کمپنی کے بمبار بی ٹو اس بم کے ذریعے اپنے ہدف کو نشانہ بناسکتے ہیں۔رپورٹوں سے پتہ چلتاہے کہ واشنگٹن نے مشرق وسطی کے ممالک کو مسلح کرنیکی کوششیں تیز کر دی ہیں اور دنیا کے اس اہم حصے میں اسلحے کی دوڑ شروع ہوگئی ہے۔امریکہ نیابھی حال ہی میں متحدہ عرب امارات کو براہ راست مشترکہ یلغار کے لئے 4900 جنگی ساز و سامان اور دوسرے اسلحے بیچنے کی پیشکش کی ہے۔امریکی صدر باراک اوباما کی حکومت نے اسی طرح حالیہ برسوں کے دوران سعودی عرب بحرین عمان قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیج فارس کے عرب ملکوں کے ساتھ دسیوں ارب ڈالر کے فوجی معاہدے کیے ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ استبدادی اور ڈکٹیٹر حکومتوں کی حمایت اور انہیں فوجی ہتھیاروں کی فروخت علاقے میں جمہوریت کی حمایت میں امریکی دعووں سے تضاد رکھتی ہے۔

رییپر ڈرون
اس ڈرون کو ایم 19 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ڈرون پہلی مرتبہ 2001ء میں سامنے آیا۔ 52 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑنے کی صلاحیت رکھنے والا یہ ڈرون 36 گھنٹے تک مسلسل پرواز کرسکتا ہے۔ یہ 500 پاؤنڈ وزنی بم تک ساتھ لے جاسکتا ہے۔ اور اسی ڈرون کی مدد سے پاکستان کے شمالی علاقوں میں حملے کیے جاتے ہیں۔

ڈرون کے بارے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ روایتی توپخانے کے برعکس موثر ترین ہتھیار ثابت ہوتے ہیں، توپخانے کے ذریعے ہدف پر کئی گولے داغے جاتے ہیں جبکہ ڈرون ایک یا دو میزائل فائر کرتا ہے، آرٹلری کے ذریعے داغے جانے والے گولوں کا پھیلاؤ زیادہ ہوتا ہے اور اسے بات کی یقین دہانی کرنے کے لیے کہ ہدف نشانہ بنا ہے اس کے لیے کئی گولے فائر کرنا پڑتے ہیں، لیکن میزائل کی ٹارگٹ تک پہنچنے تک رہنمائی کی جاتی ہے اور وہ عین ہدف پر جا لگتا ہے۔ ایم19رییپڑ صرف ایک جہاز ہی نہیں بلکہ یہ ایک پورا نظام ہے۔ اس پورے نظام میں چار ڈرون، ایک زمینی کنٹرول سٹشین اور اس کو سیٹلائٹ سے منسلک کرنے والا حصہ ہوتا ہے۔ اس نظام کو چلانے کے لیے پچپن افراد کا عملہ درکار ہوتا ہے۔

ٹوماہاک میزائل
ان میزائلوں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ سمندر میں حرکت کرنے والی کسی بھی شے کو اپنا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میزائلوں میں دورانِ پرواز اپنا رخ تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہوتی ہے۔ اس میزائل کی رینج ایک ہزار ناٹیکل میل ہے۔

ٹوماہاک ایک امریکی کروز میزائل ہے۔ ٹوماہاک کا پورا نام BGM-109 ٹوماہاک ہے۔ ٹوماہاک میزائل 1100 کلومیٹر تک ایک ایٹم بم یا عام بم کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے زمین یا بحری جہاز یا آبدوز یا کسی ہوائی جہاز سے چلایا جا سکتا ہے۔ٹوماہاک میزائل GPS کے زریعے اپنی نشانے کا پتہ لگاتا ہے۔ ٹوماہاک میں دو قسم کے نظام اسے اس کے نشانے تک لے جانے اور اسے تباہ کرنے میں مدد دیتے ہیں ایک TERMOC اور دوسراDSMAC-TERMOCاڑان کے دوران نیچے زمین کو اپنے اندرونی نقشے سے ملاتا ہے تاکہ اسے پتہ چل سکے کہ وہ صحیح راستے پر ہے کہ نہیں۔ DSMAC کا نظام اسکے نشانے کی تصاویر کو ملاتا ہے تاکہ صحیح نشانے کی شناخت ہوسکے۔ عراق کے حملے کے دوران کوئی 800 کے قریب ٹوماہاک مختلف نشانوں پر چلائے گئے۔

آر ایس 28سرمیٹ میزائل
حال ہی میں روس نے ایک ایسا خطرناک اور جدید ترین ایٹمی میزائل تیار کر لیا ہے جسے دنیا کا کوئی بھی موجودہ ریڈار سسٹم روکنے کی صلاحیت نہیں ر کھتا اور یہ چند سیکنڈ میں کسی بھی ملک کا مکمل صفایا کرسکتا ہے۔ یہ میزائل امریکہ اور برطانیہ کے کسی بھی شہرکو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق اس میزائل کا نام آر ایس 28سرمیٹ(RS-28 Sarmat) ہے مگر اس کی تباہ کن صلاحیتوں کے باعث نیٹو ممالک نے اسے ’’شیطان2‘‘ کا نام دیا ہے۔ اس جدید ترین میزائل کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ یہ 12سے زائد ایٹم بم لے کر 10ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
آر ایس 28سرمیٹ میزائل بنا لینے کے بعد روس کے پاس ایک ہی میزائل حملے میں امریکی ریاست ٹیکساس یا پورے فرانس کے برابر علاقے کو ملیامیٹ کرنے کی طاقت آ گئی ہے۔روس کا یہ میزائل یورپ میں بڑی تباہی لا سکتا ہے۔

چینی اینٹی سیٹیلائٹ پروگرام
چینی ائیرفورس کے پاس ایسا اینٹی کرافٹ سسٹم موجود ہے جو کہ فضا میں موجود کسی بھی جہاز یا میزائل کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چین نے اپنا یہ سسٹم نومبر 2014ء میں ہونے والی ائیر ایوی ایشن اینڈ ایرو اسپیس کی نمائش کے دوران پہلی مرتبہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ 2007ء میں چین اپنے اس ہتھیار کے ذریعے 500 میل کی بلندی پر موجود ایک سیٹلائٹ کو مار گرانے کا تجربہ بھی کرچکا ہے۔

The V-22 Osprey
یہ ایک جنگی طیارہ ہے جو امریکی میرین کور کا حصہ ہے اور ہیلی کاپٹر کی مانند بھی اڑ سکتا ہے۔ یہ طیارہ 2007ء میں متعارف کروایا گیا اور اس کی منفرد خصوصیت کی بدولت اسے ایسے مقامات پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں جہاز اتارنے کے لیے جگہ انتہائی کم ہو۔

THAAD missiles
یہ دنیا کا سب سے جدید ترین میزائل سسٹم ہے جو اپنے دشمن میزائل کو فضا میں ہی تباہ کردیتا ہے۔ یہ سسٹم Kinetic ٹیکنالوجی کی مدد سے میزائل کو ناکارہ بنا دیتا ہے۔حرکی توانائی یعنی Kinetic Energy وہ اِضافی توانائی جو کسی متحرک جسم کے پاس اُس کی حرکت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اِس کی تعریف یوں کی جاتی ہے کہ‘‘مخصوص کمیت والے جسم کو حالت سکون سیحالت حرکت میں لانے کے لیے مطلوبہ کام کی مقدار‘‘۔

The YAL Airborne Laser Testbed
ائیر بون لیزرایک امریکی طیارہ ہے جو لیزر پھینک کر بلاسٹک میزائلوں کو راستے میں ہی روک سکتا ہے اور2010ء میں اس کا کامیاب تجربہ بھی کیا جاچکا ہے۔ یہ لیزر طیارے کی ناک پر موجود آلے سے پھینکی جاتی ہے۔ تاہم ان طیاروں کی تیاری پر آنے والی بے پناہ لاگت کی وجہ سے اس پراجیکٹ کو روک دیا گیا ہے۔

The X-47B
امریکی بحریہ کا یہ ایک ایسا طیارہ ہے جو بغیر کسی پائلٹ کے اڑتا ہے اور اپنی منفرد خدمات سرانجام دیتا ہے۔ اس طیارے کی مدد سے فضا موجود دیگر طیاروں تک ایندھن پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ طیارہ بھاری ہتھیار بھی لے کر جاسکتا ہے۔

بلاسٹک میزائل
بلاسٹک میزائل نیوکلیائی،کیمیائی یا حیاتیاتی اور روایتی اسلحہ استعمال کیے جاتے ہیں اور عموماً دور فاصلے پر موجود ہدف کو تباہ کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں بین البراعظمی بلاسٹک میزائل (آئی سی بی ایم ) بھی شامل ہیں جو ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک مار کرتے ہیں۔ شمالی کوریا کا زیر بحث میزائل جس کا تجربہ ابھی ہونے والا ہے وہ بھی انٹر کانٹی نینٹل میزائل میں شمار ہوتا ہے۔پہلا بلاسٹک میزائل A-4 تھا جسے وی ٹو راکٹ بھی کہا جاتا تھا اور یہ1930ء اور 1940ء کے درمیانی عرصے میں جرمنی نے بنانے شروع کیے تھے جبکہ اس کا پہلا کامیاب حملہ 3 اکتوبر 1942ء، دوسرا کامیاب حملہ 6 ستمبر 1944ء کو پیرس پر ہوا اور مئی 1945ء کو لندن پر بھی اسی میزائل کے ذریعے حملے کیے گئے۔ دوسری جنگ عظیم میں 3000 کے قریب اس نوعیت کے میزائل ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیے گئے۔ یہ میزائل تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ بلاسٹک میزائل فکسڈ اور موبائل پلیٹ فارموں سے لانچ کیے جا سکتے ہیں۔ ان کو زمین کے علاوہ ہوائی جہاز، بحری جہاز اور آبدوز سے بھی فائر کیا جا سکتا ہے۔ ان میں شارٹ رینج بلاسٹک میزائل (ایس آر بی ایم ) ایک ہزار کلو میٹر تک مار کرتے ہیں۔ درمیانی فاصلے والا بلاسٹک میزائل ایک ہزار سے دو ہزار پانچ سو کلو میٹر تک مار کرتا ہے۔ انٹر میڈیٹ رینج بلاسٹک میزائل ڈھائی ہزار کلومیٹر سے تین ہزار پانچ سو کلو میٹر تک کا فاصلہ طے کرتا ہے۔ سب کانٹی نینٹل میزائل پینتیس سو کلومیٹر سے چار ہزار پانچ سو کلو میٹر تک کا فاصلہ طے کرتا ہے۔ جبکہ انٹر کانٹی نینٹل بلاسٹک میزائل پینتالیس سو کلو میٹر سے زائد اور چھ ہزار کلو میٹر تک کا فاصلہ طے کرتا ہے۔ لمیٹڈ رینج انٹر کانٹی نینٹل بلاسٹک میزائل (ایل آر آئی سی بی ایم ) آٹھ ہزار کلو میٹر تک کا فاصلہ طے کرتا ہے جبکہ فل رینج انٹر کانٹی نینٹل بلاسٹک میزائل (ایف آر آئی سی بی ایم ) بارہ ہزار کلو میٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔

اینٹی بلاسٹک میزائل
اینٹی بلاسٹک میزائل‘ میزائل ٹیکنالوجی کی ایک ایسی خطرناک قسم ہے جو بلاسٹک میزائل کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ ایسے دنیا میں ابھی صرف دو سسٹم موجود ہیں ایک امریکہ کا سیف گارڈ سسٹم جو ایل آئی ایم 49A سپارٹن اور سپرنٹ میزائلوں پر انحصار کرتا ہے اور دوسرا روس کا نظام (اے 35 سسٹم) ہے۔

پاکستان کا حتف 7یا بابر میزائل زمین سے زمین اور زمین سے سمندر میں مار کرنے والے میزائل کی قسم کا ہے جو ہر طرح کے جوہری اور روائتی اسلحہ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی حد پانچ سو کلومیٹر ہے۔ بابر میزائل کی نشاندہی کسی بھی ریڈار سسٹم یا دفاعی سسٹم پر نہیں ہو سکتی اور اس میزائل کو زمین کے علاوہ جنگی کشتی، آبدوز اور ہوائی جہاز کے ذریعے بھی پھینکا جا سکتا ہے اور یہ پاکستان کے سرکردہ سائنسدانوں اور انجینئروں کی کاوش کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے سب سے دور مار کرنے والے میزائل شاہین ٹو کا بھی تجربہ کیا ہوا ہے اور یہ میزائل جوہری اسلحہ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شاہین 2، دو ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور متعدد بھارتی مقامات تک باآسانی پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شاہین میزائل کو پاکستان میں سب سے اہم بلاسٹک میزائل گردانا جاتا ہے۔ جبکہ غوری ،حتف اور عنزہ میزائل بھی موجود ہیں۔یہ زمین سے فضا، زمین سے زمین اور اور فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل ہیں۔

دنیا کے ایٹمی ممالک تباہ کن ہتھیاروں سے لیس ہیں!!
آج پوری دنیا میں کوئی ملک نہیں جو امریکا کی برابری کا دعویٰ کرسکے۔ آپ جانتے ہیں آج کے دور میں دفاع کا سب سے بڑا ہتھیار ایٹم بم ہے۔ دنیا میں اس وقت 30 ہزار 16 نیوکلیئر وارہیڈز موجود ہیں۔ روس کے پاس 8000 ہزار اور امریکا کے پاس 7300 نیوکلیئر وارڈہیڈز ہیں۔ دیگر ممالک میں برطانیہ کے پاس 225، فرانس کے پاس 300، چین کے پاس 250، اسرائیل کے پاس 80، بھارت کے پاس 90 سے 110 اور پاکستان کے پاس 100 سے 120 نیوکلیئر وارہیڈز ہیں۔ روس سے امریکا کا پلہ اس لیے بھاری ہے، کیونکہ امریکن ایٹم بم روس سے کہیں زیادہ جدید ہیں۔ امریکا نے 1945ء میں اس وقت پہلا ایٹمی تجربہ کرلیا تھا جب پاکستان کا وجود ہی نہیں تھا۔ امریکا کے 1920 ایٹمی ہتھیار ہمہ وقت فوجی اڈوں پر نصب ہیں، جبکہ امریکا نے 2013ء میں فوج پر 619 ارب ڈالر کے قریب رقم خرچ کی جو مجموعی عالمی فوجی اخراجات کا 37 فیصد ہے۔رُوس کے 1600 ہتھیار فوجی اڈّوں پرنصب ہیں اور اس روس نے 2013ء میں فوجی اخراجات پرقریباً 85 ارب ڈالر خرچ کر ڈالے۔ برطانیہ کے 160 ہتھیار اڈوں پر نصب ہیں اور2013 میں برطانیہ کے فوجی اخراجات کا حجم قریباً 58 ارب ڈالر رہا۔ فرانس کے 290 ایٹمی ہتھیار نصب ہیں۔ اس نے 2013ء میں فوج پر 62 ارب 30 کروڑ ڈالر خرچ کیے۔ چین نے 2013ء میں فوجی اخراجات پر 171 ارب 40 کروڑ ڈالر خرچ کیے۔ 2013ء میں بھارت نے فوجی اخراجات پر 47 ارب 40 کروڑ ڈالر خرچ کیے۔ اسرائیل کے فوجی اخراجات کا حجم 15 ارب 30 کروڑ ڈالر رہا۔ 2013ء میں پاکستان نے دفاعی اخراجات پرقریباً 5 ارب 70 کروڑ ڈالر خرچ کیے۔ سیکورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود پاکستان کے اخراجات خطے کے دیگر ممالک کی نسبت سب سے کم تھے، لہٰذا آپ ان اعدادو شمار کو دیکھیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے آج اگر امریکا پوری دنیا پر دندناتا پھر رہا ہے تو اس کے پیچھے 7300 جدید ترین ایٹمی ہتھیار ہیں۔ آج اگر امریکا کو کوئی ملک آنکھیں دکھانے کی کوشش کر رہا ہے تو وہ ہے زخم خوردہ روس۔ اور روس کی ان آنکھوں کے پیچھے اس کے 8000 ایٹم بم کا زعم کارفرما ہے۔ آج اگر چین سپرپاور بننے کے خواب دیکھ رہا ہے تو اس کے پس پردہ بھی جدید ترین 250 ایٹم بموں کا ذخیرہ ہے۔ پس جس ملک کی دفاعی پوزیشن مستحکم ہے، جس کے پاس دفاعی طاقت زیادہ ہے وہ اس دنیا کا اکیلا بادشاہ ہے جب کہ امت مسلمہ کی حالت زار یہ ہے کہ 58 اسلامی ملک اور ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی ہونے کے باوجود صرف ایک پاکستان ہی ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت ہے۔ جو بین الاقوامی سطح پر ایٹمی ملک ڈکلیئر ہے۔
٭٭٭
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rehman Mehmood Khan

Read More Articles by Rehman Mehmood Khan: 38 Articles with 22136 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Feb, 2017 Views: 1072

Comments

آپ کی رائے