صحافت پر حملے، کب کیا ہوا

(Maryam Arif, Karachi)
خصوصی کالم: مہوش کنول، کراچی
صحافت دنیا کا ایک معتبر اور مقدس پیشہ ہے،سیاستدان سے لیکر عام آدمی تک صحافت کے مختاج ہیں،لیکن بدقسمتی کہ ملک کے باقی تمام شعبوں کی طرح صحافت بھی ایک ایسا ہی شعبہ ہے جس پر آئے دن کوئی نہ کوئی آفت ٹوٹتی رہتی ہے۔ گزشتہ دنوں لاہور میں ایک دھماکا ہوا۔ گزشتہ دنوں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا جب کراچی کی فائیو اسٹار چورنگی کے قریب پولیس کی بکتر بند پر ایک کریکر حملہ ہوا اور اس کی کوریج کے لیے جانے والی سماء ٹی وی کی ڈی ایس این جی وین کو کے ڈی اے چورنگی کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ کچھ نا معلوم افراد کی جانب سے کی گئی فائرنگ سے اسسٹنٹ انجینئر تیمورگردن میں لگنے والی گولی اور ٹریفک جام میں پھنسے رہنے کے باعث جاں بحق ہوگئے۔پھر لاہور میں بھی دھماکا ہوا جس میں آج نیوز کے ڈی ایس این جی مکمل طور پر تباہ ہوئی اورسننے میں آیا کہ یہ واقعہ کسی چینل کے خلاف نہیں بلکہ میڈیا کے خلاف لگتا ہے کیونکہ نشانہ بنائی گئی ڈی ایس این جی پر کسی چینل کا نام نہیں تھا۔ تمام اداروں اور سیاستدانوں کی جانب سے اس واقع کی پر زور مزمت کی گئی۔اور ایف آئی آر بھی درج کی گئی لیکن پاکستان کی تاریخ میں صحافت پر کیاجانیوالا یہ پہلا جان لیوا حملہ نہیں تھا اس سے قبل بھی متعدد صحافیوں کو شہید کیاجاچکا ہے۔

2016ء میں کوئٹہ کے سول اسپتال میں وکلا کے مظاہرے کی کوریج کے دوران خود کش حملے میں 2 کیمرا مین جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ میڈیا سے وابستہ 16 افراد اپنے ابلاغی اداروں کے لئے کوریج دیتے ہوئے زخمی ہوئے اور ایک میڈیا ایگزیکٹو کو پشاور میں اغوا بھی کیا گیا۔ 8ستمبر 2015ء کو کراچی میں جیو نیوز کی ڈی ایس این جی پر حملہ کیا گیا جسکے نتیجے میں ڈی ایس این جی آپریٹر ارشد علی جعفری ہلاک اورایک ڈرائیور زخمی ہو گیا تھا۔یہی نہیں بلکہ جنگ میڈیا گروپ سے وابستہ نامور صحافی حامد میر کو 19اپریل2014ء کو دہشت گردوں نے اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا۔

17 جنوری 2014 ء کو دہشت گردوں نے میٹرک بورڈ آفس کے قریب ایکسپریس نیوزکی ڈی ایس این جی وین پر فائرنگ کر کے ٹیکنیشن وقاص، گارڈ اصغر اور ڈرائیور خالد کو شہید کردیا تھا ۔اور یوں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران یہ افراد موت کی وادیوں میں گم ہو گئے۔ پے در پے ہونے والے ان واقعات کے لئے کچھ لوگ حکومت کوذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور کچھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس کا ذمہ دار تصور کرتے ہیں۔۔ لیکن یہ ادارے ایک دوسرے پر الزامات لگا کر اپنے فرائض سے بری الزماں ہو جاتے ہیں۔۔ اور پھر ایسے واقعات یکے بعد دیگرے رونما ہوتے ہی جاتے ہیں۔

اس سے قبل بھی2دسمبر2013 ء کو ایکسپریس گروپ کے کراچی آفس پرکریکر بم حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں ایک گارڈ زخمی ہوگیا تھا جب کہ اگست 2013ء میں ہونے والے حملے میں ایک خاتون کارکن اور گارڈ زخمی ہوئے تھے۔پاکستان پریس فاونڈیشن (پی پی ایف) کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق2002ء سے اب تک پاکستان میں ذرائع ابلاغ سے وابستہ 185 اراکین زخمی، 88 زدوکوب، 22 اغوا اور 42 حراست میں لیے گئے۔ اس سے قبل 31مئی2011ء کوایکاسلام آباد کے صحافی سلیم شہزاد کو کچھ نا معلوم افراد کی جانب سے اغواء کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ حملہ صحافت پر ہو یا آزادی صحافت پر، صحافی برادری پر گراں ہی گزرتا ہے، اور کون نہیں جانتا کہ ہمارے ملک کی تاریخ میں کچھ ایسے باب بھی دفن ہیں جب صحافت اور آزادی صحافت کو کھلے عام نشانہ بنایا گیا۔

کچھ صحافتی تنظیموں نے صحافیوں کو منظم کرنے اور ان کے پیشہ وارانہ مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے ضرور اقدام کئے تھے تاہم ریاستی جبر کا سامنا کرتے ہوئے ناکام ہوتے گئے۔ ملک کے صحافیوں کو نظریاتی طور پر تقسیم کر دیا گیا۔ یعنی اعلان تو یہ کیا گیا کہ اختلاف کی اصل وجہ عقیدہ اور اخلاقیات کا فرق ہے لیکن نظریہ کی بنیاد پر صحافیوں کے اتحاد پر چوٹ لگانے والوں نے ملک کی آمرانہ حکومت کا ساتھ دیا۔ اس طرح صحافت میں ذاتی مفاد اور حرص کو متعارف کروانے کا رواج ڈالا گیا۔ صحافت دائیں اور بائیں بازوں میں بٹ گئی۔جس میں صحافیوں کو سزائیں بھی ہوئیں اور جیلیں بھی کاٹنی پڑیں۔ جہاں آمریت نے صحافت کو بہت نقصان پہنچایا وہیں جمہوریت نے بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی۔

جمہوری حکومتوں نے بھی صحافیوں کے انتشار سے فائدہ اٹھانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا۔ ان حکومتوں کی تاریخ بھی ہمارے سامنے ہے۔ بھٹو صاحب سیکولر تھے۔ لبرل تھے۔ ’’قائد عوام‘‘ تھے بلکہ ’’قائد ایشیا‘‘ تھے مگر ان سے کوئی اور کیا روزنامہ جسارت تک برداشت نہ ہوا۔ ان کے دور میں جسارت کے مدیر اور ناشر ایک سے زیادہ مرتبہ گرفتار ہوئے اور جسارت کو بالآخر بند کردیا گیا۔ 2000 ء کی دہائی میں الیکٹرانک میڈیا منظر عام پر آنے تک مالکان کے کمرشل مفادات تمام میڈیا ہاؤسز کو اپنی گرفت لے چکے تھے۔ ورکنگ جرنلسٹ نہ تو اپنے حالات کار بہتر کروانے کے لئے اقدام کرنے کے قابل تھے اور نہ ہی وہ مل کر صحافت کی آزادی کے لئے کوئی حصار بنانے میں کامیاب ہو سکے۔

ماضی میں مقامی اخباروں پر منظم حملے، رپورٹروں کی پٹائی روز کا معمول تھااور آج پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ملک بن چکا ہے۔ حکومت اور ابلاغی اداروں کے مالکان کو چاہئے کہ وہ صحافیوں کے خلاف جرائم کے مقدمات کی قانونی پیروی کریں اور صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے قدم آگے بڑھائیں۔ ورنہ ایسے ہی ایک کے بعد ایک کیس فائل ہوتے جائیں گے لیکن ان کی سنوائی کوئی نہیں ہوگی۔ ان سب کے باوجود بھی سچے صحافیوں کی ہمت کم نہیں ہوگی اور وہ ہر قید و بند کی صعوبت اُٹھانے کے بعد بھی اپنے کام کو بخوبی انجام دیتے رہیں گے۔
بقول حبیب جالب:
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا‘ میں نہیں جانتا
تم نے چوسا ہے صدیوں ہمارا لہو
اب نا ہم پہ چلے گا تمہارا فسوں
ظلم کی رات کو‘ جہل کی بات کو
میں نہیں مانتا‘ میں نہیں جانتا
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1238 Articles with 516385 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Feb, 2017 Views: 296

Comments

آپ کی رائے