تیرہ سالہ لڑکی

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)
‎آج سے ٹھیک ایک ماہ پہلے جنوری کی 19 تاریخ کو زمرہ سچی کہانیاں کے تحت ہماری ایک تحریر " ھماری ویب " پر شائع ہوئی " کوئی عقلی توجیہہ ممکن نہیں " کے عنوان سے ۔ بہت سالوں پہلے ہم نے اسے روزنامہ جنگ کے مڈ ویک میگزین میں لکھا تھا ۔ مگر ابھی اس کا کوئی ریکارڈ یہاں ہمارے پاس موجود نہیں ہے ۔ " ھماری ویب " کے لئے ہم نے اسے از سر نو تحریر کیا ۔ یہ تحریر موسٹ ویوڈ کی لسٹ میں شامل ہوئی اور دو ہفتوں بعد ٹاپ پر چلی گئی ۔ ریٹنگ بھی ملی مگر اسے اب تک بھی کسی غیر رسمی تبصرے سے نہیں نوازا گیا ۔ اور اشاعت کے تقریباً تین ہفتوں بعد یہ تحریر اچانک وائرل ہو گئی ۔ فیس بک کے ساتھ ساتھ اسے بہت سی ویب سائٹوں پر کاپی پیسٹ کیا گیا جن میں جاوید چودھری اور مولانا طارق جمیل صاحب کے پیجز بھی شامل ہیں ۔ صفحات کی وڈیو بنا کے یو ٹیوب پر ڈالا گیا ۔ جن میں راز ٹی وی کے 12 فروری کو کئے جانے والے اپ لوڈ پر اب تک ایک لاکھ کے قریب ویوز لگ چکے ہیں ۔ باقی کی کئی اور وڈیوز پر لگنے والے ہزاروں ویوز اس کے علاوہ ہیں ۔ اور اس قبولیت عام کا سارا کریڈٹ " ھماری ویب " کو جاتا ہے جہاں ہم ناچیز کی یہ قلمی کاوش شائع ہوئی جس کے لئے ہم " ھماری ویب " کے تہہ دل سے شکر گذار ہیں ۔

‎اور اس سارے معاملے میں ایک دلچسپ بات یہ رہی کہ دو چار پوسٹوں کو چھوڑ کر ہر جگہ اسے اصل عنوان کی بجائے " تیرہ سالہ لڑکی " کا نام دے کر پبلش کیا گیا ۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ کہیں بھی پوسٹ کے ساتھ بطور مصنف ہمارا نام نہیں دیا گیا ۔ اس تحریر کو ناپسند کرنے والوں کی تعداد میں بھی کمی نہیں رہی ہے ۔ بہت سے اعتراضات بھی ہماری نظر سے گذرے ہیں جو اپنی جگہ بالکل درست منطقی اور فطری ہیں ۔ بنیادی وجہ اس سچی کہانی کے خلاصے اور قارئین کی معروف دینی معلومات اور عقائد کا تصادم ہے ۔ خود ہم بھی اس بات کو مانتے ہیں کہ فرشتوں سے غلطی نہیں ہو سکتی وہ خطا سے مبرا ہیں اور خدا کے حکم کے پابند ہیں ۔ لیکن یہ اس نوعیت کا پہلا یا واحد واقعہ نہیں ہے ایسی بہت سی اور مثالیں موجود ہیں ۔ کئی لوگوں نے اس کی تائید کی ہے ۔ مغربی دنیا کے لوگوں کو بھی ایسے تجربات کا سامنا ہؤا ہے ۔ ابھی ہم ناچیز کا ایک ادنیٰ سا تجزیہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ بعض اوقات کسی مخصوص صورتحال میں فرشتوں سے پہلے کوئی اور نامعلوم مخلوق کارفرما ہوتی ہو جس کی تکمیل پھر فرشتوں کی کارروائی پر منتج ہوتی ہو اور بندے کی واقعتاً موت واقع ہو جاتی ہے اور اس مرحلے پر بندہ انہی مرحلوں اور کیفیات سے گذرتا ہو جس کا ہماری مذہبی تعلیمات اور کتابوں میں ذکر موجود ہے ۔ مگر وہ بتانے کے لئے کبھی کوئی واپس نہیں آیا ۔ لیکن نامعلوم مخلوق کی کسی غلط فہمی کے باعث رونما ہونے والی واردات اسے بروقت علم ہو جانے کی بناء پر درجہء تکمیل تک نہیں پہنچتی اور اس کا شکار بندہ بظاہر آدھے تک مر کے واپس زندہ ہو جاتا ہے ۔ اگر آپ کو ہماری اس رائے سے اتفاق ہو تو ضرور بتائیے گا اگر نہیں تو پھر آپ اپنی دلیل دیجئے گا ۔ یہ ماننا ہو گا کہ قدرت بہت وسیع و لامحدود اور سربستہ رازوں پر مشتمل ہے ۔ بے شمار پراسرار مافوق الفطرت اور محیر العقول واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں جن کی کوئی عقلی توجیہہ ممکن نہیں ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 168 Articles with 1020284 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Feb, 2017 Views: 22381

Comments

آپ کی رائے