ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا

(Muhammad Abdullah, Hyderabad)

پرانے دور میں ہندو عورتیں اپنے خاوند کا نام نہیں لیا کرتی تھیں۔ ایسی ہی ایک عورت کہ جس کے خاوند کا نام مولی چند تھا وہ دکان سے مولی خرید کر لائی تو اس کی ہمسائی نے اس سے پوچھا کہ کیا خرید کر لائی ہو تو اس نے جواب میں کہا کہ پتوں والی خرید کر لائی ہوں، ہمسائی تعجب سے گویا ہوئی کہ پتوں والی کیا ہوتی ہے تو وہ عورت کہنے لگی کہ جو سفید ہوتی ہے۔ کچھ یہی حال ہمارے ملک میں اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھے خواجاؤں اور چوہدریوں کا ہے کہ جو ملک خداداد میں دہشت گردی کے واقعات مین بھارتی مداخلت کے واضح ثبوت ملنے کے باوجود بھی مودی کا نام زبان پر لانا پاپ سمجھتے ہیں، جو اجیت ڈوول کے پاکستان کے بارے خطرناک منصوبے طشت ازبام ہونے پر بھی گونگے کا گڑ کھا کر خاموش رہتے ہیں، جو پاکستان میں پکڑے جانے والے حاضر سروس بھارتی ایجنت کلبھوشن یادیو کا نام زبان پر لانے کو اپنی بھارت سے دوستی کو بھرشٹ ہو جانے کے ڈر سے غلط سمجھتے ہیں، مگر یہی سیاسی دانشوروں کے سامنے جب پاکستان آرمی ہو یا پاکستان کی مذہبی جماعتیں اور ان کے سربراہان تو پھر ان کی زبانیں زہر اگلتے نہیں تھکتیں، پاکستان کے وزیر دفاع (جو پاکستان کے کم اور بھارت کے وزیر دفاع زیادہ لگتے ہیں) نے شاہ (مودی) سے زیادہ شاہ کی وفاداری کرتے ہوئے جرمنی کے شہر میونخ میں جاری سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آبیل مجھے مار والے محاورے کو سچ ثابت کرنے کے لیے بھارتی موقف کی تائید کرتے ہوئے محب وطن پاکستانی حافظ سعید اور ان کی جماعت کے بارے میں پھر سے زہر افشانی کر کے اقوام عالم میں پاکستان کی جگ ہنسائی کا موقع فراہم کیا ، موصوف اپنے خطاب میں فرمارہے تھے کہ حافظ سعید سے معاشرے کو خطرہ تھا جس کی وجہ سے ان کو فورتھ شیڈول کے تحت حراست میں لیا گیا ہے، موصوف مزید ارشاد فرما رہے تھے کہ جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ ماضی میں دہشت گردی میں براہ راست ملوث رہی ہیں۔

میں اس بحث میں نہیں جانا چاہتا کہ وہ حافظ سعید اور ان کی جماعت کی پاکستان میں کیا خدمات ہیں اور کس طرح سے ہر مشکل وقت میں قوم کو سہارا دینے اور قوم کا مورال بلند کرنے کے لیے ان لوگوں نے اپنا آپ مٹا ڈالا اور یہ ساری باتیں پاکستان عوام بھی جانتی ہے اور اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھے نام نہاد خواص بھی جانتے اور مانتے ہیں۔ سر دست میرا اور میری پوری پاکستانی قوم کا مسئلہ اور سوال "خواجہ" صاحب سے ہے کہ اس بین الاقوامی فورم پر کھڑے ہوکر آپ نے حافظ سعید اور انکی جماعت کے بارے میں بھارتی موقف کی کھلم کھلا تائید کرکے اپنے ملک پاکستان کی کونسی خدمت کی ہے؟ بھارتی حکومت اور بھارتی میڈیا جو اتنے عرصے سے حافظ سعید اور انکی جماعت کو لے کر پاکستان پر الزام تراشیاں کررہا تھا خواجہ صاحب آپ نے فقط چند الفاظ کہہ کر ان کے الزامات کو سچ ثابت کردیا ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع ہونے کی حیثیت سے آپ کو چاہیے تھا کہ آپ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں اور پاکستان کی قربانیوں کی بات کرتے ، پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر اقوام عالم کی ہمدردی اور توجہ پاکستان کی جانب مبذول کرواتے، پاکستان میں بھارتی سازشوں اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس چلانے والے کلبوشن یادیو کو لے کر اقوام عالم کے سامنے بھارت کی اس دہشت گردی کے بے نقاب کرتے، پاکستان کے بارڈرز پر بلا اشتعال بھارتی فائرنگ اور اس کے نتیجے میں معصوم پاکستانی شہریوں کی شہادت کی بات کی جاتی اور دنیا کہ یہ باور کرایا جاتا کہ بھارت کی ان سب حرکات سے یہ خطہ تیزی سے جنگ کی طرف دھکیلا جارہا ہے اور امن کی ساری کوششوں کو بھارت اپنے جوتے کی نوک پر رکھ رہا ہے۔ مگر نہ جی ہم یہ بات کرتے تو صاحب بہادر مودی ہم سے ناراض ہوجاتے، ہماری ساڑھیوں اور آموں کے تحفے ناکام جاتے، ہمارا مودی کو بغیر ویزے کے اپنی سرحدوں کی پامالی کرواکر پاکستان آنے دینا بیکار جاتا، ہماری بیتی کی شادی میں مودی کی شرکت سے ہمارے بھارت کے ساتھ دوستی اور تجارت کے سارے خواب بےکار جاتے، ہمیں تو ہر حال میں اپنے یار مودی کو راضی کرنا ہے اس کے لیے ہمیں کوئی بھی قیمت چکانی پڑے ہم تیار ہیں، ملکی سالمیت کو گروی رکھنا پڑے تو بھی تیار ہیں۔

ہمیں تو سمجھ اس بات کی آرہی ہے کہ مودی کو خوش کرنے کے لیے ہم نے حافظ سعید کو نظر بند کیا مگر تحریک آزادی کشمیر اسی طرح جاری رہی، پورا پاکستان کشمیر کشمیر سے گونج اٹھا تو ہم نے مودی سرکار کی اس پر ناراضگی کو دور کرنے کے لیے بین الاقوامی فورم پر پاکستان کی سالمیت پر حملہ کرتے ہوئے ہم نے سارے الزام اپنے پر سچ مان لیے ہیں۔

میں خواجہ صاحب کی شخصیت پر بحث نہیں کرنا چاہتا کہ کس طرح انہوں نے اپنے ہی جیسی ایک سیاسی خاتون کو ٹریکٹر ٹرالی جیسے بے ہودہ القاب سے نواز کر اپنی ذہنی پختگی کو عیاں کردیا تھا۔ سیالکوٹ کا شہری ہونے کے ناطے دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں خواجہ صاحب پر لگنے والے دھاندلی کے الزامات کی حقیقت کا بھی پردہ چاک نہیں کرنا چاہتا میں تو فقط یہ چاہتا ہوں اگر حکومت کی نظر میں حافظ سعید دہشت گرد ہیں تو اتنی دیر سے آپ لوگ اس پر چپ کیوں تھے اور دوسری بات کہ ان کی دہشت گردی کے ثبوت عوام کے سامنے رکھے جائیں، جو ظاہر ہے قیامت تک بھی ان کو میسر نہیں آسکتے، عجب تماشا ہے پانامہ کے معاملے پر ثبوت ،ثبوت کی بات کرنے والے حافظ سعید کو بغیر کسی ثبوت کے ہی دہشت گرد قرار دینے پر تلے بیٹھے ہیں یہ اور بات ہے کہ پنجاب کے ہی وزیر قانون برملا یہ اعتراف کرچکے ہیں حافظ سعید اور انکی جماعت پر دہشت گردی میں ملوث ہونے والے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

خواجہ آصف کے اس بیان پر وضاحت دیتے ہوئے ایک اور ذمہ دار حکومتی وزیر طارق فضل چوہدری نے بھی ایک سنگین انکشاف کردیا۔ دن رات جمہوریت اور رائے عامہ کا راگ الاپتے یہ حضرت ایک پروگرام میں سوال کا جواب دئتے فرما رہے تھے کہ میں یہاں پر ایک پاکستانی کی حیثیت سے نہیں بیٹھا بلکہ حکومتی نمائندے اور وزیر کی حیثیت سے بیٹھا ہوں۔ یعنی آپ کا مطلب یہ کہ اس معاملے پر آپ کی حکومت جو عوامی مینڈیٹ کی بات کرتی ہے آپ تو اس کو مانتے ہی نہیں تو کس ناطے پر حکومت کررہے ہیں کیونکہ آپ کو بھی پتا ہے کہ پوری قوم حافظ سعید کی نطر بندی اور اوپر سے خواجہ آصف کے بیان پر حکومت کو آڑھے ہاتھوں لے رہی ہے، ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس پر سراپا احتجاج ہیں۔ عوامی امنگوں اور رائے عامہ کا خون کرتے ہوئے آپ بھارت سے دوستی کے چکر میں ہر حد سے گزرتے چلے جارہے ہیں۔ حکومتی وزراء اور اعلی ذمہ داران کے بیانات ، ان کی ذہنی ناپختگی اور بھارت سے دوستی کی پاکستان کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ
ایک ہی الو کافی تھا بربادی گلشن کے لیے
ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Abdullah

Read More Articles by Muhammad Abdullah: 39 Articles with 19629 views »
Muslim, Pakistani, Student of International Relations, Speaker, Social Worker, First Aid Trainer, Ideological Soldier of Pakistan.. View More
21 Feb, 2017 Views: 355

Comments

آپ کی رائے