معذور افراد اور کھیل

(Arif Jameel, Lahore)
انسان کی اولین ترجیع صحت ہے اور اسکے مقابل دُنیا کی کوئی بھی شے نہیں ۔ اس ہی لیئے کہا جاتا ہے کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔لہذا جسم کے کسی بھی حصے میں ہلکی سی در د زندگی کو بدمزاح کر دیتی ہے۔۔۔۔اخبارات میں خبر ہے کہ ایک عشرے میں" معذور عالمی آبادی "میں 2گنا اضافہ ہو چکا ہے ۔یعنی تعداد15فیصد ہو گئی ہے۔غریب ممالک میں 75 فیصد اورامیر ممالک میں 25 فیصد معذور افراد دوسروں کے رحم و کرم پر ہیں ۔۔۔۔سب کے مشاہدے میں وقتاً فوقتاً آتا رہتا ہے کہ ایک نابینا فرد کیسے سڑک پار کرتا ہے، ایک لنگڑا یا وہیل چیئر پر بیٹھا ہوا شخص کیسے اپنے زندگی کے داخلی معاملات سے نبرد آزماء ہو تا ہے۔ایک گونگا بہرہ اپنی بات سمجھانے۔۔۔۔اس سلسلے میں کھیلوں کے ایونٹ منعقد کروانا بھی معذور افراد کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہو تا ہے۔۔۔۔"انسان معاملات سے شکست کھا سکتا ہے معذوری سے نہیں"۔۔۔۔پاکستان میں معذور افراد کی تعداد 63فیصد دہی اور37فیصد شہر میں۔۔۔

کھیلوں میں معذور افراد کی حوصلہ افزائی

انسان کی اولین ترجیع صحت ہے اور اسکے مقابل دُنیا کی کوئی بھی شے نہیں ۔ اس ہی لیئے کہا جاتا ہے کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔لہذا جسم کے کسی بھی حصے میں ہلکی سی در د زندگی کو بدمزاح کر دیتی ہے۔
بس اس سے اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ ایک معذور فرد اپنی زندگی کالطف کیسے اُٹھا سکتا ہے اور خاص کر اُس وقت جب معاشرے میں اُسکو وہ مقام و سہولیت بھی میسر نہ آئیں جن سے وہ اپنے دل کو یہ سکون دے سکے کہ اُسکو معذور ہونے کی وجہ سے جن مشکلات کا سامنا ہے وہ کا فی حد تک افراد و ریاست کی فلاحی طرفداری کی وجہ سے حل ہو رہی ہیں۔

اخبارات میں خبر ہے کہ ایک عشرے میں" معذور عالمی آبادی "میں 2گنا اضافہ ہو چکا ہے ۔یعنی تعداد15فیصد ہو گئی ہے۔غریب ممالک میں 75 فیصد اورامیر ممالک میں 25 فیصد معذور افراد دوسروں کے رحم و کرم پر ہیں ۔

معذور افراد اگر ایک طرف سماجی مسائل کا شکا ر ہیں تو دوسری جانب وہ مسلسل نظر انداز ہو رہے ہیں۔واضح الفاظ میں وہ بنیادی حقوق سے محروم ہو رہے ہیں۔موجودہ ترقی یافتہ دور میں جہاں طبی و طبعی سطح پر جدید ترین سہولتیں میسر ہیں وہاں پھر بھی اُنکی تعداد میں اضافہ ایک لمحہِ فکریہ کیوں نہیں؟ ہاں ! اگر کسی حد تک ہے تو اُس پر بھی عمل میں اتنی تاخیر ہو جا تی ہے کہ وہ مجبور ہو جاتا ہے کہ اپنی معذوری پر اپنے آپ کو لعنت کرے۔

سب کے مشاہدے میں وقتاً فوقتاً آتا رہتا ہے کہ ایک نابینا فرد کیسے سڑک پار کرتا ہے، ایک لنگڑا یا وہیل چیئر پر بیٹھا ہوا شخص کیسے اپنے زندگی کے داخلی معاملات سے نبرد آزماء ہو تا ہے۔ایک گونگا بہرہ اپنی بات سمجھانے کی کسی حد تک کوشش کرتا ہے۔ہاتھ یا بازو سے محروم اپنے ذاتی وخارجی معاملات کیسے پورے کرتا ہے۔اسکے علاوہ کچھ ایسے معذور جنکی جسمانی معذوری واضح نہیں ہوتی اور وہ اُس کمی کی وجہ سے ذاتی طور پر اپنے اندر مزید ایسے احساسات پیدا کر لیتے ہیں کہ اُنکے لیئے معاشرہ ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔

ذہنی معذوری والے افراد کا معاشرے میں کیا مقام ہے وہ تو صدیوں سے ہی ایک اہم معاملہ رہا ہے لیکن آج کے مادی دور میں جو نفسیاتی مسائل افراد کے ساتھ منسلک ہو چکے ہیں وہ زندگی کو تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔ روز مرہ اخبارات و رسائل اور اب تو سوشل میڈیا پر بھی ڈیپریشن سے بچنے کے طریقے، اپنے آپ میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے نسخے وغیر ہ اس ہی لیئے پیش کیئے جارہے ہیں تاکہ کہیں فردِ واحد اور خصو صی طور پر بچے و خواتین مزید نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو کر کسی ذہنی و جسمانی معذوری کا شکا نہ ہو جائیں۔

پیرا لمپکس و بلائنڈ کرکٹ:
اس سلسلے میں کھیلوں کے ایونٹ منعقد کروانا بھی معذور افراد کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہو تا ہے۔ "انسان معاملات سے شکست کھا سکتا ہے معذوری سے نہیں"۔ اسکی ایک واضح مثال" پیرا لمپکس" میں دیکھنے میںآتی ہے جہاں معذور افراد اپنی جسمانی معذوری میں بھی اپنی کسی بھی بہترین صلاحیت کو اُجاگر کرنے کی خواہش رکھتے ہوئے کمال کی حد تک کامیابی کیلئے کوشاں نظر آتے ہیں۔
بلائنڈ کرکٹ بھی اس کی ہی کڑی ہے جس میں ہماری پاکستانی بلائنڈ ٹیم ملک کانام روشن کرنے کیلئے اپنی معذوری کو بھول کر حقیقی معنوں میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔بلکہ ایک اہم مثال ایتھلیٹ حیدر علی بھی ہیں۔

حیدر علی پاکستانی نے کانسی کا تمغہ جیتا :
ایتھلیٹ حید علی پاکستان کی طرف سے واحد کھلاڑی تھے جنہوں ریو پیرا لمپکس کیلئے کوالیفائی کیا اور پھر وہاں پر لانگ جمپ کے مقابلے میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے "کانسی" کا تمغہ بھی جیت کر پاکستان کاپرچم بلند کیا اور اُسکی آنکھوں میں آنسو تھے۔وہ2008ء میں بھی بیجنگ پیرا لمپکس میں "چاندی" کا تمغہ جیت چکا ہے لیکن اُسکو قومی سطح پر حکومتی اداروں کی طرف سے کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔

پاکستان میں معذور افراد کی تعداد 63فیصد دہی اور37فیصد شہر میں ہے۔لیکن اُن کے لیئے بھی کسی حکومت نے سر جوڑ کر یہ فیصلہ نہیں کیا کہ اُنکے زندگی گزارنے و روزانہ کے اخراجات پورے کرنے کیلئے کیا حل نکلا جائے کہ وہ دوسروں کے محتاج نہ رہیں۔لیکن اب تو ایک تعداد اُن افراد کی بھی ہے جو مختلف ٹریفک حادثات و دہشت گردی کی نظر ہو کر معذور ہو رہے ہیں اور اُنکو بھی حکومتِ وقت چند پیسے علاج کیلئے دے دے تو بہت باقی زندگی وہ کیسے گزریں گے وہ معذور جانے یا اُسکے گھر والے۔

عوام کو احساس ہے کہ اداروں کے سربراہ بھی ایک حد تک اُن اصولوں کی پیروی کر سکتے ہیں جن کے وہ پابند ہوتے ہیں۔لیکن معاشرے کا بھروسہ بھی تو وہی سربراہ ہوتے ہیں۔لہذا وہ ادارے کی بہتری کو انسانی معاملات سے ضرور نتھی کریں ۔ خاص کر معذورں کیلئے بھی۔ عزت و کامیابی اُنکے قدم چومے گی اور اُنکو ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔

بہرحال ان تمام معاملات کے باوجود جہاں بھی ہمیں کوئی ذہنی و جسمانی معذور نظر آئے اُسکا خصوصی طور پر خیال رکھیں اور ایک بے احتیاطی جو ہم عام کرتے ہیں کہ اُنکی معذوری سے متعلقہ اُنکا کوئی ایسا نام رکھ دیتے ہیں جسکی وجہ سے اُنکو عمر بھر ہر کوئی اُس نام سے ہی پکارتا ہے دینی طور پر بھی منع ہے اور اخلاقی طور پر بھی نامناسب۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 160 Articles with 173320 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
22 Feb, 2017 Views: 815

Comments

آپ کی رائے