بھارتی دھمکیاں، بہادر عوام اور پاکستانی حکمت عملی۔۔۔۔1

(Ghulam Ullah Kiyani, )
بھارت نے اس سے پہلے بھی عوام کو دھمکیاں دیں۔ عوام کو مجاہدین کی سر پرستی اور تعاون سے الگ رکھنے کی سازشیں اور کوششیں کی گئیں۔مگر ان کی ہمت اور جرائت کو سلامجنھوں نے بھارتی دھمکیوں، ترغیابت، دھونس و دباؤ یا حرص و لالچ کو یکسر مسترد کر دیا تو بھارتی منصوبہ ساز دیگر آپشنز پر غور کرنے لگے۔ ان کے مقاصد میں ترجیح مجاہدین کو عوام سے الگ کرنے اور کشمیریوں میں پاکستان نوازی کا قدیم جذبہ سرد کرنا تھا۔ اس کے لئے کشمیریوں سے متعلق پاکستانی حکومتوں کی وقتاً فوقتاً اس سرد مہری کے حوالے دیئے گئے۔ کشمیریوں پر شدید مظالم کرنے والوں نے پاکستان کو مدد کے لئے پکارنے اور بلانے کے طعنے بھی دیئے۔ لیکن اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ بھی پروپگنڈہ ہوا کہ کشمیری بھارت کے ساتھ ہیں۔ لیکن بھارت انہیں ورغلا رہا ہے۔ بھارت کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ ٹریننگ اور پیسہ پاکستان دے رہا ہے۔ نئی دہلی نے ہمیشہ دنیا کو گمراہ کیا۔ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ کشمیری بھارت کے ساتھ خوش ہیں۔ وہ دہلی کے ساتھ اپنا مستقبل وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ بھارت نے اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے والوں کو مٹھی بھر گمراہ لوگ قرار دیا۔ یہ کہا جاتا رہا کہ کشمیریوں کو پاکستان نے گمراہ کیا۔ یہ درست ہے کہ پاکستان نے کشمیریوں پر بھارت کے مظالم اور نسل کشی کے خلاف آواز بلند کی۔ ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی مدد جاری رکھی۔ تا ہم پاکستان نے ہمیشہ مسلہ کشمیر کو عالمی مسلہ قرار دیا۔ کبھی بھارتی فریب کاری کے تحت اس مسلہ کو پاکستان اور بھارت کا مسلہ بنانے کی بھی کوشش کی گئی۔ جب کہ کشمیر ہر گز دو طرفہ مسلہ نہیں ہے۔ کشمیر کا فیصلہ صرف پاکستان اور بھارت کو نہیں کرنا۔ اس میں پاکستان بنیادی فریق ہے۔ کشمیری اصل فریق ہیں۔ جن کی مرضی کے مطابق ہی کشمیر کا حل نکل سکتا ہے۔ اقوام متحدہ بھی فریق ہے۔ کیوں کہ اس کے فوجی مبصرین کشمیر کی جنگ بندی لکیر کے آر پار موجود ہیں۔ کسی کے کہنے سے اقوام متحدہ کی قرار دادیں پرانی یا بوسیدہ نہیں ہو سکتیں۔ یہ بھارتی مکاری تھی۔ اس نے ایک جال ڈالی تھی۔ مگر کشمیری اس میں نہ پھنسے۔ بھارت کے پاکستان پر کشمیر کی تحریک میں حمایت کے الزامات اگر درست بھی ہیں تو بھی یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی۔ جس طرح بھارت نے کشمیر کے ایک حصہ پر قبضہ بھی کیا ہوا ہے اور وہ اسے اپنا اٹوٹ انگ بھی قرار دیتا ہے۔ اس طرح پاکستان نے کشمیر پر دعویٰ نہیں کیا۔ پاکستان کشمیر کو متنازعہ مسلہ سمجھتا ہے، جب کہ وہ دو قومی نظریہ کے تحت بر صغیر کی تقسیم کے تحت کشمیر پر اپنا دعویٰ پیش کر سکتا تھا۔ پاکستان کی جانب سے کشمیر پر دعویٰ نہ کرنے سے بھارت کو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر بھی اپنے دعویٰ پیش کرنے کا موقع ملا ہے۔ بہر صورت یہ درست ہر گز نہیں کہ کشمیری پاکستان کے اشارے پر ناچ رہے ہیں۔ اس کا مظاہرے گزشہ برسوں میں دنیا دیکھ چکی ہے۔

تحریک آزادی کی اصلی پشت بانی کشمیری عوام خود کر رہے ہیں۔ تحریک کی اونر شپ ان کے پاس ہے۔ اسی وجہ سے بھارت کے نئے فوجی سربراہ نے بھی عوام کو دھمکیاں دینے شروع کر دی ہیں۔ لیکن عوام سمجھتے ہیں کہ بھارت نے قتل عام کیا۔ کشمیریوں کی نسل کشی تین دہائیوں سے تیز کی گئی ہے۔ کشمیریوں کو قتل ہی نہیں کیا جا رہا بلکہ ان کی نئی نسل کو تاریکیوں میں ڈالنے کی بھی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ کشمیری نئی نسل کو نہ صفر اندھا کیا جا رہا ہے بلکہ ان کا ذہنی اور جسمانی ٹارچر جا ری ہے۔ کشمیریوں کی جان و مال ہی نہیں ان کی عزتوں اور عصمتوں کو بھی نیلام کیا گیا۔ کشمیریوں کی خرید و فروخت کی گئی۔ ان کو بکاؤ مال سمجھا گیا۔ مگر بھارت کی تمام سازشوں کو عوام نے ناکام بنایا۔ پہلے عوام کافی محتاط تھے۔ پھونک پھونک کر قدم رکھتے تھے۔ کیوں کہ بھارت نے لاکھوں کے آزادی مظاہروں پر نشانہ باندھ کر فائر کھول کر ہزاروں افراد کو شہید کیا۔ یہ1990کا وہ دور تھاجب بھارت بندوق اور طاقت سے نئی سرے سے ابھرتی تحریک کو کچل دینے میں مصروف رہا۔ عوام چند دنوں، ہفتوں یا مہینوں میں آزادی کے خواب دیکھ رہے تھے۔ بھارت اسی رفتار سے ان خوابوں کو طاقت سے کچلنے کا عزم رکھتا تھا۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ بھارت نے قتل عام اور مظالم کی انتہا کے باوجود ناکامی کا منہ دیکھا۔ اس کے تمام منصوبے ناکام ہو گئے۔ بھارت 28سال بعد بھی یہ تسلیم کرنے اور حقائق کا جائزہ لینے سے محروم ہے۔ بھارت اگر چہ کسی اخلاقیات کے زمرے میں نہیں آتاتاہم اسے اخلاقی طور پر شکست ہو چکی ہے۔ بھارت کو اب بھی اندازہ ہو پا رہا ہے یا وہ شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہا ہے کہ عوام کا تردد، خوف، بندوق یا طاقت سے زرا بھر ڈرنے یا گھبرانے کا تصور ختم ہو چکا ہے۔ بھارتی فورسز اور مجاہدین میں اب جہاں بھی مقابلے ہوتے ہیں۔ وہاں مارٹر گولے ، بارودی سرنگیں، بم پھٹتے ہیں۔ شیلنگ ہوتی ہے، گولیاں چلتی ہیں۔ دو طرفہ گولہ باری ہوتی ہے۔ مگر عوام نہتے ہونے کے باوجود اس جنگی علاقے کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں موجود بھارتی فورسز کو چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں۔ انہیں محاصرے میں لے کر ان پر پتھروں سے حملہ کرتے ہیں۔ نہتے عوام کا ہتھیار کنکر اور لاٹھیاں ہے۔ کشمیری عوام تصادم کی جگہ پہنچ کر جو ان سے ہو سکتا ہے، وہی کرتے ہیں۔ دنیا کی کوئی بھی قوم ایسا کبھی نہیں کر سکی۔ لیکن کشمیریوں کے اندر بندوق یا طاقت سے ڈرنے کا سہم جانے کا خوف بالکل ہی ختم ہو چکا ہے۔ کیون کہ وہ ہر قیمت پر شہداء کے خون اور بے شمار قربانیوں کو رائیگان نہیں ہونے دنیا چاہتے۔ وہ ہر قیمت پر شہدا کے مشن کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ (جاری)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 574 Articles with 219450 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
25 Feb, 2017 Views: 341

Comments

آپ کی رائے