تخریب کاری کی لہر

(Dr B.A Khurram, Karachi)
وطن عزیز کی سرزمین پہ سماج دشمن عناصرکی تخریبی کاروائیوں کی خونی نئی لہر نے شہریوں میں شدید قسم کا خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے دہشت گرد عناصر کی دہشت گردی کی نئی لہر نے پھر سے سر اٹھا لیا ہے ماہ فروری میں یکے بعد دیگرے خونی دھماکوں نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا پنجاب ،خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کے صوبائی دارالحکومتوں میں دھماکوں نے جہاں سینکڑوں بے گناہ نہتے معزز شہریوں کو ابدی نیند سلا کر ریاستی اداروں کو یہ باور کرادیا کہ وہ جیسا چاہیں کر سکتے ہیں ابھی ایک دھماکے میں اپنوں کے لاشے اٹھائے نہیں جاتے دشمنان ملک و امت دوسری جگہ لاشوں کے انبار لگارہے ہیں سیہون شریف میں ہونے والے خود کش دھماکہ نے خوف و ہراس میں اضافہ کرتے ہوئے امن اور سکھ کے لمحات چھین لئے ابھی سیہون شریف میں ہونے والے دھماکے کے زخم تازہ ہی تھے کہ دہشت گردنے پھر سے خیبر پختون خواہ کا رخ کیاچار سدہ میں پولیس کے فرض شناس اہلکاروں نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے ایک بڑے سانحہ سے وطن عزیز کو بچایایہاں پولیس چوکنا تھی پھر بھی تخریب کار سات شہادتیں کرنے میں کامیاب دکھائی دیئے 23فروری کو لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس کے وائے بلاک میں واقع زیر تعمیر چار منزلہ عمارت میں’’پراسرار‘‘ دھماکے کے نتیجے میں 7افراد لقمہ اجل بن گئے(پر اسرار اس لئے کہ اب تک کوئی واضح رپورٹ سامنے نہیں آسکی کبھی کہا گیا کہ یہ دھماکہ جنریٹر سے ہوا پھر کہا گیا کہ گیس سلنڈر پھٹنے سے یہ دلخراش واقعہ رونما ہوا اور پھر یہ رپورٹ آئی دھماکہ گیس لیک ہونے کے باعث ہوا، تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہد اور عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ گیس لیکج سے ہوا ہے، دھماکے میں دہشتگردی کے امکانات سامنے نہیں آئے اس دھماکہ کی اصل صورت حال آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گی )جبکہ درجنوں زخمی ہوئے جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے ،دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور شدت کے باعث قریبی عماعتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ باہر کھڑی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بھی تباہ ہو گئیں جبکہ 17 کاریں اور 20موٹر سائیکلیں بھی تباہ ہو گئیں۔ فرانزک ماہرین نے تباہ ہونے والی گاڑیوں اورموٹر سائیکلوں سے بھی شواہد اکٹھے کئے جن سے یقینی طور پہ مدد لی جا سکتی ہے یہ بھی واضح رہے کہ وائے اور زیڈ بلاک میں دھماکے اور دہشتگردی کا امکان ظاہر کیا گیا تھا اور اس علاقے کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا اس علاقے میں کھانے پینے اور چائے کے ریسٹورنٹس کی بڑی تعداد موجود ہے جہاں پر ان اوقات میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے صدر مملکت ممنو ن حسین ، وزیر اعظم محمد نواز شریف ، گورنر ملک محمد رفیق رجوانہ ، ،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ، وزیر اعلیٰ خیبر پختوانخواہ پر ویز خٹک، وزیر اعلیٰ خیبر پختوانخواہ ثنا اﷲ زہری ، سابق صدر مملکت آصف علی زرداری ، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ، مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سمیت دیگر نے دھماکے میں ہلاکتوں پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔

پاک سر زمیں میں نئی تخریب کاری کی لہر وفاقی اور صو با ئی حکو متوں کیلئے ایک کھلا سو الیہ نشا ن ہونے کے ساتھ ساتھ مکمل ناکا می اور بے حسی کے متر ادف ہے عوام کی جا ن و املاک،مز ارات بز رگا ن دین ، مسا جد و امام با رگاہ، پیر ان عظام ائمہ تصو ف کے تحفظ کے لئے حکومت مکمل نا کا م ہو چکی ہے اس وقت پورا ملک حالت جنگ میں لہذا قوم اتحاد ویگانگت کااورصبر تحمل سے کام لے تاکہ ملک میں افراتفری پھیلانے کے دشمن کے مکروہ عزائم خاک میں ملائے جاسکیں آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلانے چلانے والی مقتدر قوتوں کواز سر نو دہشت گردی کیخلاف لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔صوبائی دارلحکومت لاہور میں دہشتگردی کے واقعہ کے باوجود تاجروں،شہریوں کے حوصلے بلند،شہر کی اہم مارکیٹوں میں شہریوں نے خریدو فروخت کرکے یہ پیغام دیدیا کہ دہشتگرد اس طرح قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ مین مارکیٹ اور لبرٹی سمیت تمام بیشتر اہم مارکیٹیں کھلی رہیں اور لوگ خریدوفروخت میں مصروف رہے۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ مٹھی بھر دہشتگرد ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے، ہم کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لبرٹی کے تاجروں کا کہنا تھا کہ یہاں مارکیٹ میں سکیورٹی کے مناسب انتظامات ہیں۔ مارکیٹوں میں موجود شہریوں کا کہنا تھا کہ دھماکوں سے ڈرنے والے نہیں، دہشتگردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،انہوں نے کہا کہ دہشتگرد یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ڈرا دھمکا کر وطن عزیز کی عوام کو گھروں تک محدود کر دیں گے تو یہ ان کی خام خیالی تصور ہوگی
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr B.A Khurram

Read More Articles by Dr B.A Khurram: 543 Articles with 226153 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Feb, 2017 Views: 198

Comments

آپ کی رائے