اشتہارات میں صنف ناز ک کا بے جا استعمال !

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)
لگاہے حسن کا بازار دیکھو ، نئی تہذیب کے شاہکار دیکھو!
آجکل ہمارے ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے جو اشتہارات اس ملک کے باشندوں تک پہنچتے ہیں ا ن کاجزوخاص عورت ہے ۔جی ہاں جب تک اشتہارمیں کسی عورت کو نہ دکھایا جائے اشتہار کو مکمل نہیں سمجھاجاتااور اب تو خالص مردانہ چیزوں کے اشتہارات میں بھی عورتوں کو دکھایا جانے لگا ہے ۔اب آپ ہی بتائیں کہ کسی سگریٹ، شیونگ کریم اور’’کنڈوم ‘‘کے اشتہار میں کسی عورت کو دکھانے کا کم سے کم ہمارے اسلامی ملک میں کیا جواز ہوسکتا ہے؟لیکن ملکی میڈیا ہو یا یاغیرملکی میڈیا،الیکٹونک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیااب تو سب ہی جگہ ہر اشتہار میں عورت کو سجا بنا کر اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ کوئی اشتہار غور سے دیکھے نہ دیکھے اس عورت کو ایک بار غور سے سیکھنے پر ضرور مجبور ہوجاتا ہے ،پاکستان میں شائع ہونے والا کوئی بھی فلمی یا غیرفلمی میگزین یا رسالہ اٹھا کر دیکھ لیں اس کے سرورق پر کسی نہ کسی خاتون کی تصویر کو پورے اہتمام اور سجاوٹ کے ساتھ شائع کیا جاتا ہے ،خواتین کے رسالے ہوں یاعام ڈائجسٹ سب کے ٹائٹل پر صنف نازک کی تصویر شائع کرنا ایک معمول کی بات بن چکی ہے اور شاید یہ ضروری سمجھ لیا گیا ہے کہ ٹائٹل پر عورت کی تصویر شائع کرنے سے ان کا رسالہ ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوجائے گا،کسی کو کپڑے فروخت کرنے ہیں تو کسی کوچائے یا ضروریات زندگی کی کوئی بھی دوسری چیز کی پبلسٹی کے لیئے تصویر کائنات کہلائے جانے والی صنف نازک کوبے دریغ اور بے تحاشہ استعمال کیا جارہا ہے،ماڈلنگ کا میدان ہو یا ٹی وی اور فلم کی دنیا سب ہی جگہ عورت کو نت نئے دلفریب انداز میں سجاسنوار کر اس طرح پیش کیا جاتا ہے لگتا ہہے کہ وہ اشتہار کسی پروڈکٹ کا نہیں بلکہ شاید اس عورت کا ہے جسے اس اشتہار میں انتہائیـ’’اشتہاانگیز ‘‘انداز میں پیش کیا گیا ہے اور فیشن شوز جسے ’’کیٹ واک‘‘ بھی کہا جاتا ہے توصنف نازک کی نمائش ،زیبائش اورـ’’فرمائش‘‘کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے جہاں ایک سے بڑھ کر ایک حسینہ نت نئے انداز کے جدید ملبوسات میں ملبوس ہوکر ایک شاندار اسٹیج پر اٹھلاتی ہوئی سامنے آکر نمائش حسن کرکے بہت سے دلوں پر بجلیاں گراکرچلی جاتی ہے لیکن اگر وہ حاضرین میں سے کسی کے دل کو لبھانے میں کامیاب ہوجائے تووہ بہت جلد’’ ٹاپ ماڈل‘‘ بن کر ’’ہاتھوں ہاتھ‘‘چلتی ہے جس کے بعد وہ شہرت کی بلندیوں پرپہنچ کرجاتی ہے لیکن اس بلندی پر پہنچنے کے لیئے اسے ابتدا سے انتہاتک ذلت کی جن ’’پستیوں ‘‘سے گزرنا پڑتا ہے اس کے بارے میں بہت سے لوگ بہت کچھ نہیں جانتے۔

فیشن شوز اور کیٹ واک کی آڑ میں اسٹیج کے سامنے اور پردے کے پیچھے جو کچھ ہوتا ہے اسے بہت سی بھارتی فلموں اور پاکستانی ڈراموں میں دکھایا جاتا رہا ہے۔ ماڈلنگ کی دنیا سے فلمی دنیا تک پہنچتے پہنچتے، صنف نازک کو ہر اسٹیج پر بہت سی ’’قربانیاں ‘‘دینی پڑتی ہیں لیکن شہرت اور دولت پانے کی ہوس میں مبتلا ہوکر بہت سی خواتین آج بھی ہر’’ قربانی ‘‘کے لیئے تیار ہوکرشوبزکی دنیا میں آنے کے لیئے بے چین نظر آتی ہیں یہی وجہ ہے کہ اشتہارات بنوانے اور بنانے والوں کے پاس خوبصورت اور جوان لڑکیوں کا تانتا لگا رہتا ہے اور یوں ان سب کی انگلیاں گھی میں اورسر کڑھائی میں ڈوبا ہوا نظر آتا ہے جس کی وجہ سے اشتہارات کے شعبے سے کسی بھی سطح پرمنسلک لوگوں کی آنکھیں ،دل،نیت اور جیب ،سب ہی کچھ بھر جاتاہے اور اب تو صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ اشتہارمیں عورت کودکھانا ضروری نہ بھی ہو تو پھر بھی کوشش یہی کی جاتی ہے کہ کسی لڑکی کی ایک جھلک دکھا کر ہی صارف کو اپنی پروڈکٹ کی طرف مائل کرلیا جائے،عورت نہ ہوئی گویا بکاؤ مال ہوگئی کہ دکھتی ہے تو بکتی ہے ۔اور ذرا خواتین کو بھی تو دیکھئے کہ وہ اخبارات اور ایکٹرونک میڈیا میں اکثر یہ پڑھنے اور دیکھنے کے باوجود کہ کس طرح بعض انسان نما بھیڑیے ،سادہ لوح اور معصوم لڑکیوں کا شکار کرنے کے لیئے جگہ جگہ دفاتر کھول کر بیٹھ گئے ہیں کہ راتوں رات شہرت اور دولت حاصل کرنے کے چکر میں عورتیں ان کے چکر میں آکر اپنا سب کچھ لٹا کر بھی کچھ نہیں پاتیں اور اکثر اسیے لوگ خواتین کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتے اور جو قتل نہیں کرتے وہ ان لڑکیوں کو بلیک میل کرکے گمراہیوں کے راستے پر ڈال دیتے ہیں اور وہ لڑکی جونام اورپیسہ کمانے شوبز کی دنیا میں آتی ہے اسے پیسہ تو مل جاتا ہے لیکن اس کے لیئے سب سے پہلے اس کو اپنی عزت داؤ پر لگانی پڑتی تب کہیں جاکر وہ کچھ کما کھا لیتی ہے ۔ بقول شاعر:دولت کے سنہری پنجوں سے ،مفلس کا بدن جب چھلتا ہے،تب روٹی کپڑ املتا ہے !

اﷲ معاف کرے آجکل کے اشتہارات میں جس طرح سے نوجوان لڑکیوں کو پیش کیا جارہا ہے اس سے تو ایسادکھائی دیتا ہے کہ:لگا ہے حسن کا بازار دیکھو،نئی تہذیب کے شاہکار دیکھو۔اﷲ !اشتہارات بنوانے والوں،بنانے والوں اوردیکھنے والوں کوہدایت عطا فرمائے کہ وہ گناہ بے لذت کے اس بازارمیں اپنے مال کی خریدوفروخت کے لیئے عورت( چھپانے والی چیز) کو عریاں کرنے سے باز آجائیں کہ روزی روٹی کمانے کے اور بھی بہت سے جائز طریقے ہیں پھر کیا ضرورت ہے گوشت کی دکان سجانے کی۔لڑکیوں اور عورتوں کے دلفریب اور توبہ شکن مناظر اورتصاویر سے سجے ہوئے اس طرح کے سینکڑوں اشتہارات آپ کو ملکی وغیرملکی ٹی وی چینلز پراکثر نظر آئیں گے جنہیں دیکھ کر آپ کے سر میں درد بھی ہوسکتا ہے کیونکہ جو کچھ اب اشتہارات میں دکھایا جانے لگا ہے اسے دیکھ کر تو کچھ بھی ہوسکتا ہے ،سر درد تو معمولی بات ہے۔اب اشتہارات میں گلیمر اور بولڈ نیس کے نام پر بے ہودگی اور فحاشی کے نظارے بھی عام ہیں جنہیں دیکھنے کے بعد کوئی وہ پرڈکٹ خریدے نہ خریدے لیکن اشتہار میں دکھائی جانے والی خوبصورت اور ماڈرن لڑکیوں کو دیکھنے کے لیئے اس طرح کے گلیمرائز اشتہارات با ر بار دیکھتا ضرو ر ہے کہ مفت میں کوئی بھی چیز ملے ،بری کس کو لگتی ہے؟حتی ٰ کہ اب پاکستانی چینلز اور پرنٹ میڈیا خواتین کی خفیہ اشیا کی فروخت کے لیئے بھی اشتہار بناتے وقت نوجوان لڑکیوں کو استعال کررہے ہیں ،بازوؤں اور’’ زیر ناف بالوں‘‘ کی صفائی کے لیئے تیار کی گئی کریموں اور لوشن کے اشتہارات ہوں یاخواتین کے’’ مخصوص ایام ‘‘میں استعمال ہونے والے’’ لیڈیز پیڈز‘‘کی پبلسٹی مقصود ہو ہر اشتہار میں عورت کو بھی ایک اشتہار بنا دیا گیا ہے اور جب کیبلزکے ذیعے گھر گھر دیکھے جانے والے ڈراموں ،فلموں اور شوزکے درمیان اس طرح کے بیہودہ اشتہارات اچانک نظر آتے ہیں تو اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے والے گھروں میں بہت سی آنکھیں شرم کے مارے جھک جاتی ہیں ۔موبائل کمپنیاں ہوں یا لان بنانے والے ادارے یا دیگر اشیا کے تاجر سب ہی کے اشتہارات کا مرکزخوبصورت اورماڈرن لڑکیوں کی بولڈ تصاویر ہیں اور اب تو پاکستان کی شاہراہیں بھی بولڈ لڑکیوں کی ہوشربا تصاویر کی ہورڈنگز سے سجی ہوئی نظر آنے لگی ہیں کہ اگر کوئی ٹی وی پر نمائش حسن نہ دیکھ پائے تو راستے میں آتے جاتے ہی مفت میں مزے لے لے۔ویسے ایک بات ہے کہ مشرف کے دور سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ زرداری حکومت میں بھی شائقین حسن کی نگاہوں کا مرکز بنا ہوا ہے اور مہنگائی سے پریشان لوگوں کو اس حکومت میں کوئی چیز اگر مفت میں دستیاب ہے تو وہ یہی گلیمرائزاشتہارات ہیں جنہیں غریب سے غریب آدمی بھی سکون کے ساتھ دیکھ کر اپنی بھوک مٹا لیٹا ہے ۔ارے پیٹ بھرے نہ بھرے کم سے کم نیت تو بھر جاتی ہے نا!اگر کسی کا پیٹ بھرا ہوا ہو اور نیت نہ بھری ہو تو پھر اس طرح کے لطیفے وجود میں آتے ہیں۔آئیے !آپ بھی اس لطیفے سے لطف اندوز ہوں۔

ایک بچہ اپنے باپ سے آکر بولا :’’ابو!شہر میں ایک بہت اچھا سرکس لگا ہوا ہے ،آپ مجھے وہاں لیکر چلیں ،وہاں پر بڑے زبردست کمالات اور کرتب دکھائے جارہے ہیں۔ باپ نے بیٹے کو ڈانٹ کر کہا:نہیں میں ابھی آفس سے تھک کر آیا ہوں ،میں نہیں جاسکتااور ویسے بھی اس طرح کے کمالات تو ٹی وی پر بھی آتے ہیں پھر سرکس دیکھنے کے لیئے جانے کی کیاضرورت ہے؟۔یہ سن کر بچہ بولا:ابوآپ کو پتہ ہے وہاں پر ابھی ایک نیا کرتب دکھایا جارہا ہے جو ٹی وی پر نہیں دکھاتے جس میں ایک نوجوان لڑکی بہت مختصر کپڑوں میں ایک خونخوار چیتے پر بیٹھ کرگراؤنڈ کاچکر لگا تی ہے۔اس پر باپ بولا :چلو یا رتمہار ا زیادہ دل چاہ رہا ہے تو چلتے ہیں، میں نے بھی بہت دن سے ’’چیتا‘‘نہیں دیکھا‘‘۔دیکھا آپ نے یہ چیتا دیکھنے کاشوق تھکے ہوئے انسان کو بھی کھڑا کردیتا ہے۔

اشتہار کی ایک بہت ہی پرانی اور گھی پٹی قسم ہے’’ً تلاش گمشدہ کا اشتہار‘‘آپ روزانہ ٹی وی پر نہیں بلکہ اخبارات میں ملا حظہ فرماتے ہیں اس کے علاوہ ریڈیو بھی حسب توفیق یہ خدمت انجام دے لیتا ہے ۔تلاش گمشدہ کے اشتہار بھی مختلف اقسام کے ہوتے ہیں ،کسی کا بچہ گم ہوگیا ہے اور کسی کے ضروری کاغذات ،کسی کا زیور،کسی کا پالتو جانور ، یا گٹر کا ڈھکن ( تو بقول چچاچھکن ) اس کی گمشدگی کا تو اشتہار دینا ہی بے کار ہے لہذا اس کی گمشدگی یا چوری کا اشتہار آپ کو اخبارات میں کبھی نظرنہ آے گا البتہ مختلف علاقوں کے تھانوں میں ان کی چوری کا انداج کثرت سے موجود ہوگا ۔

اسی تلاش گمشدہ کے متعلق ایک گمشدہ لطیفہ بغیر تلاش کئے یاد آگیا ہے تو کیوں نہ آپ کو بھی سناتا چلوں، لطیفہ کچھ یوں ہے کہ ایک محترمہ نے ایک اخبار کے دفتر ٹیلی فون کیا اور اپنے مخاطب سے کہا ۔ میں نے آپ کے اخبار میں اپنے گمشدہ کتے کو تلاش کرنے والے کیلئے انعامی رقم کا اشتہار دیا تھا ،دفتر کو اسکے بارے میں کوئی اطلاع تو نہیں ملی ۔؟ دوسری جانب سے جواب ملا ً جناب ! میں تو معمولی چپراسی ہوں مجھے کچھ معلوم نہیں ۔‘ ‘ محترمہ نے ذرا جل کر کہا ۔ ً کسی ذمہ دار شخص سے بات کرو اؤ ،آخرایڈیٹر صاحب اور رپورٹر حضرات کہاں غائب ہیں؟‘‘ جواب ملا کہـ’’ ً سب کے سب کتے کی تلاش میں دفتر سے باہر جاچکے ہیں ‘‘۔ قارئین!آپ روزانہ ٹی وی پر طرح طرح کے اشتہار دیکھتے رہتے ہیں اور بعض اشتہارات سے تو آپ بے حد بے زار بھی ہیں ۔مثال کے طور پرآپ کے پسندیدہ ڈرامے یا فلم کے دوران پیش ہونے والا ہر اشتہار آ پ کے لیے کوفت کا باعث ہوتا ہے۔

آپ نے پی ٹی وی پر ایک بوٹ پالش کا اشتہار ضروردیکھاہوگا اس اشتہار میں آپ نے بارہا دیکھا ہوگا کہ ایک بہت بڑے جوتے میں سے بچے پیدا ہو رہے ہیں ،جی ہاں ! بچے اور وہ بھی نو نہال ِ، خیر اتنا بڑا جو تا ہونا اور جوتے میں سے بچے پیدا ہونا ۔ ٹیسٹ ٹیو ب بے بی کی پیدائش کے بعد اب کوئی حیرت کی بات نہیں ہے یہ سائنسی دور ہے جو کچھ بھی ہو کم ہی ہے ۔ اس اشتہار سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اشتہار میں دکھائی جانے والی پالش کی وجہ سے جوتے کی چمک میں چار چھ چا ند لگ جاتے ہیں۔ ایک حد تک اس بات کو صحیح بھی مانا جا سکتا ہے لیکن مجھے اس سے اختلاف ہے کیو نکہ میرے جوتے اس وقت بھی اچھے خاصے چمک رہے ہیں لیکن یقین جانیئے ! میرے جوتوں کی چمک پیدا کرنے میں بوٹ پالش کا حصہ کم اور میرے محلے کے موچی کا ہاتھ زیادہ استعمال ہواہے۔

پی ٹی وی پر جب اردو فیچر فلم ٹیلی کاسٹ ہوتی ہے تو اس سے پہلے اور فلم کے دوران اکژ ایک اشتہار ایک مشہورکمپنی کے بلب اور ٹیوب لائٹس کا دکھایا جاتا ہے ،اب کی مرتبہ جب یہ اشتہار آئے تو ذرا غور سے دیکھیئے گا اور پھر دیر تک اس ترقی یا فتہ زمانے کی ترقی پر سردھنیے گا۔ جی ہاں ! اس اشتہار میں آپ نے بار ہاد دیکھا ہوگا کہ ایک نوجوان عورت زمین کی کشش سے چھٹکارا پاکر بالکل آزاد ہوا میں معلّق تیرتی ہوئی سیڑھی اور لفٹ وغیرہ کا استعمال کیئے بغیربڑے بڑے بلند میناروں مزاروں اور کارخانوں وغیرہ میں اشتہار میں دکھائی جانے والی کمپنی کے بلب اور ٹیوب لائٹس کی کار کردگی کا جائزہ لیتی پھر رہی ہے ۔انسان کا یوں کــشِش نقل سے چھٹکارا پا کر ہوا میں متعّلق ہوجانا اور کسی لفٹ و غیرہ کی مدد کے بغیر بلند و بالا عمارتوں پر گھومتے پھر نا اس ملک کے حالات کو دیکھتے ہوئے کوئی تعجب یا حیرت کی بات نہیں ہے ۔ یہ ترقی یافتہ ملک ہے اس ملک کے باشندے ترقی یافتہ ہیں اور ان کے پاس بہت زیادہ وسائل ہیں (اوہ غلطی ہوگئی معاف کیجیئے گا ) بہت زیادہ مسائل ہیں ۔ پھر بھلاایساہو جانا کیوں کر ناممکن ہے ۔

آپ کو یقیناً ان چند لطیفوں پر تھوڑی بہت ہنسی تو ضرور آئی ہو گی لیکن یقین جانیئے ! مجھے بالکل ہنسی نہیں آئی ؟ شاید مجھ پر بھی ہوشربا مہنگائی اور ملکی حالات اثرانداز ہوگئے ہیں کہ پاکستان کے پریشان حال باشندوں کی طرح میں ابھی پوری طرح ہنس بھی نہیں پاتا کہ فکر معاش کے اندیشے میری لبوں پر چند لمحوں کے لیئے آئی ہوئی ہنسی بھی چھین لیتے ہیں ۔

اشتہارت کی دنیا میں جس طرح صنف نازک کو بے جا استعال کیا جارہاہے اور میڈیا پر جس دلفریب اور توبہ شکن انداز میں عورت کو جدید ملبوسات میں سجا بنا کر پیش کیا جارہا ہے وہ کوئی ایسا پہلو نہیں جسے نظر انداز کیا جاسکے ،ہمارا معاشرہ ایک اسلامی اور مشرقی معاشرہ ہے جس کی اپنی روایات اور ثقافت ہے جسے کسی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکتااور اس حوالے سے ہمارے ذرائع ابلاغ کوملکی قوانین اور پاکستانی معاشرت کے حوالے اپنے طور پر بھی ایک معیار بنانا چاہیئے تاکہ اشتہارات کی دنیا میں عورت کی بے جا نمائش کی حوصلہ شکنی کی جائے کیونکہ ہم مسلمان ہیں اوربھارتی میڈیا کی طرح ہم صنف نازک کوبکاؤ مال نہیں بنا سکتے۔عورتوں کی خفیہ اشیا اورایام مخصوصہ کے حوالے سے پاکستانی میڈیا پر جس طرح کے اشتہارات آج کل دکھائے جارہے ہیں ان پر بھی نظر ثانی کی اشد ضرور ہے کیونکہ ان اشتارات کی نمائش سے معاشرے میں بے ہودگی ،فحاشی اور بے شرمی کو فروغ حاصل ہورہا ہے جسے کم سے کم ایک مسلم معاشرے میں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔عورت کے لفظی معنیٰ بھی’’ چھپانے والی چیز‘‘ کے ہیں لہذا اس کو غیرضروری طورپر نمایاں کرنا کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں،نہ کہ اسے ولگر یٹی کے ساتھ عریاں کرکے پیش کیا جائے ۔حکومت کو بھی اس حوالے سے قانون سازی کرنی چاہیے اور اگر پہلے سے کوئی قانون میڈیا میں خواتین کی نمائش کے حوالے سے موجود ہے تو اس پر عمل کروانا بھی حکومت کی ہی ذمہ داری بنتی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 111 Articles with 71720 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More
08 Mar, 2017 Views: 408

Comments

آپ کی رائے