دل دریا نہیں، دلِ حساب ہے، کوہستان سکینڈل، اربوں کا اثاثہ، اور نظام کے اندر چھپے ہوئے سوالات
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
کوہستان کرپشن سکینڈل اب صرف ایک مالی مقدمہ نہیں رہا۔ یہ ایک ایسا کیس بن چکا ہے جس نے خیبرپختونخوا کے انتظامی، مالی اور سماجی ڈھانچے پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جب ایک شخص کے گرد اربوں روپے کے اثاثے، بے نامی جائیدادیں، غیر ملکی کرنسی اور کاروباری نیٹ ورک سامنے آئیں تو معاملہ فرد سے نکل کر نظام تک چلا جاتا ہے۔قیصر اقبال، جو اس کیس کے مرکزی ملزم کے طور پر سامنے آئے ہیں، نے عدالت میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثوں سے دستبرداری اختیار کر لی۔ یہ عمل کسی عام عدالتی کارروائی کی طرح نہیں تھا بلکہ ایک بڑے مالیاتی ڈھانچے کے بکھرنے کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہیں احتساب عدالت کے جج محمد ظفر کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہوں نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
سماعت کے دوران عدالت نے نیب حکام کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کی ہدایت دی، جو خود اس کیس کے حساس ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ عدالت نے ملزم سے یہ بھی استفسار کیا کہ آیا وہ کسی دباو کے تحت اثاثوں سے دستبردار تو نہیں ہو رہے۔ اس سوال کا مطلب واضح تھا: کیا یہ رضامندی حقیقی ہے یا کسی بڑے نیٹ ورک کی حکمت عملی؟ملزم نے آخرکار اثاثوں سے دستبرداری کے دستاویزات پر دستخط کر دیے، مگر سوال وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے تھے۔ دستاویز پر دستخط مسئلے کو ختم نہیں کرتے، صرف ایک مرحلے کو بند کرتے ہیں۔
نیب حکام کے مطابق ملزم کے گھر سے جو برآمدگی ہوئی وہ کسی عام کیس کی سطح سے کہیں زیادہ تھی۔ ایک کلوگرام سے زائد سونا، 5 ارب 61 کروڑ روپے سے زائد پاکستانی کرنسی، 21 ہزار سعودی ریال، 8 ہزار امریکی ڈالر اور 9 ہزار 300 برطانوی پاو¿نڈ۔ اس کے ساتھ کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی گاڑیاں بھی برآمد ہوئیں۔یہ اعداد و شمار صرف مالی تفصیل نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کی جھلک ہیں جہاں نقدی، جائیداد اور کاروبار ایک ہی وقت میں چل رہے تھے۔ جب ایک گھر یا نیٹ ورک سے اس سطح کی رقم نکلے تو سوال صرف یہ نہیں ہوتا کہ یہ کہاں سے آئی، بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ چھپی کیسے رہی۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم کے بیرون ملک مقیم بھائی کے اکاونٹ میں ایک ارب روپے منتقل کیے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف بے نامی داروں کے اکاونٹس میں اربوں روپے کی منتقلی کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ یہ وہی کلاسیکل پیٹرن ہے جو بڑے مالیاتی کیسز میں سامنے آتا ہے: اصل مالک پیچھے، نام آگے، اور نظام خاموش۔مزید یہ کہ ملزم نے بے نامی داروں کے نام پر خریدی گئی جائیدادوں اور دیگر اثاثوں سے بھی دستبرداری اختیار کر لی۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ کیا دستبرداری سے اصل ملکیت بھی ختم ہو جاتی ہے یا صرف کاغذی صفائی ہو جاتی ہے؟
اب اس کیس کا ایک اور پہلو ایبٹ آباد اور قریبی علاقوں کے کاروباری حلقوں سے جڑا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق قیصر اقبال کی جانب سے موبائل فون کے کاروبار میں بھاری سرمایہ کاری کی گئی۔ شہر میں چھ سے زائد موبائل فون کی دکانیں ایسی ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا انتظام تو مقامی تاجروں کے پاس ہے لیکن سرمایہ کاری کے پیچھے بڑے مالی ذرائع موجود تھے۔اسی طرح ایک تاجر رہنما کے مرحوم بیٹے کے ساتھ پراپرٹی کے شعبے میں بھی مبینہ سرمایہ کاری کی بات سامنے آ رہی ہے، جبکہ وہ شخص کافی عرصے سے منظر سے غائب بتایا جاتا ہے۔ مسلم آباد، کھوکھر میرا کے قریب زمین کے بڑے رقبے کی خریداری بھی اسی نیٹ ورک سے جوڑی جا رہی ہے۔
یہ تمام تفصیلات ایک ہی سمت اشارہ کرتی ہیں: ایک ایسا مالی جال جو صرف ایک شخص تک محدود نہیں تھا بلکہ مختلف کاروباری، سماجی اور ممکنہ طور پر ادارہ جاتی سطحوں تک پھیلا ہوا تھا۔مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ اس کیس کے بعد ایبٹ آباد کے تاجر حلقوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ کچھ لوگ گرفتاریوں کے خوف کا اظہار کر رہے ہیں۔ دلچسپ اور اہم بات یہ ہے کہ انہی حلقوں میں کچھ افراد خود کو ایمانداری کے بڑے علمبردار کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں، مگر اب سوالات ان کے کاروباری ماڈل پر بھی اٹھ رہے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی تضاد سامنے آتا ہے۔ پاکستان میں اکثر وہ طبقات جو سب سے زیادہ اخلاقیات، دیانت اور شفافیت کی بات کرتے ہیں، انہی کے گرد مالی نیٹ ورک کے سب سے پیچیدہ سوالات گھومتے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں ہوتا، یہ ایک سماجی پیٹرن ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اب ایک اہم مگر کم زیر بحث نکتہ سامنے آتا ہے: ایک کلرک کا کردار، جس کا ذکر مختلف سطحوں پر غیر رسمی طور پر کیا جا رہا ہے کہ اس نے اچانک اپنی ذمہ داریوں اور معمولات سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ ایسے واقعات اکثر بڑے کیسز میں “چھوٹے کرداروں” کے طور پر سامنے آتے ہیں، لیکن یہی چھوٹے کردار بعض اوقات بڑے مالیاتی نظام کی کمزور کڑیاں ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ انفرادی فیصلہ تھا، یا کسی دباو¿، خوف یا پیش رفت کا نتیجہ؟
یہ پہلو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاملہ صرف ایک ملزم تک محدود نہیں۔ جب نیچے کی سطح پر بھی غیر معمولی حرکات شروع ہو جائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ نیٹ ورک صرف اوپر نہیں، نیچے تک فعال ہے۔اصل سوال اب یہ ہے کہ یہ کیس کہاں جا کر رکے گا۔ پاکستان میں ایسے کیسز کی تاریخ زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ اکثر بڑے مقدمات ابتدا میں بہت مضبوط نظر آتے ہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی شدت کم ہو جاتی ہے۔ پلی بارگین، معاہدے، سیاسی دباو یا ادارہ جاتی سست روی اکثر کیسز کو ایک محدود دائرے میں بند کر دیتی ہے۔
کوہستان سکینڈل بھی اسی امتحان سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف اربوں روپے کی برآمدگی اور دستاویزی شواہد ہیں، دوسری طرف ایک ایسا سماجی اور کاروباری نیٹ ورک ہے جو خود کو بچانے کے لیے مختلف سطحوں پر متحرک ہو سکتا ہے۔یہ کیس صرف قیصر اقبال کا نہیں۔ یہ ایک پورے طرزِ نظام کا امتحان ہے۔ وہ نظام جو بظاہر قوانین کے اندر چلتا ہے مگر اندر سے مالی مفادات، بے نامی ڈھانچوں اور غیر رسمی معیشت پر کھڑا ہوتا ہے۔
اگر اس کیس کو صرف ایک فرد تک محدود کر دیا گیا تو یہ ایک اور فائل بن جائے گی۔ لیکن اگر اس کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور مالی چینلز تک پہنچا گیا تو یہ واقعی ایک مثال بن سکتا ہے۔فی الحال حقیقت یہ ہے کہ کیس کھلا ہے، سوالات زیادہ ہیں، اور جواب کم۔ اور پاکستان میں یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں اصل کہانی شروع نہیں ہوتی، اکثر ختم ہو جاتی ہے۔ |