سوشل میڈیا نہیں، نوجوانوں کے شعور کا امتحان
(Muhammad Abdal, Sitamadhi)
|
موجودہ دور میں سوشل میڈیا محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ نوجوان نسل کے شعور، فکر اور شخصیت کی تشکیل کا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ یہ پلیٹ فارمز جہاں معلومات تک فوری رسائی فراہم کرتے ہیں، وہیں ذہنی انتشار، موازنہ، اور غیر حقیقی زندگی کے تصورات کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ آج کا نوجوان اس ڈیجیٹل دنیا میں صرف صارف نہیں، بلکہ ایک ایسا فرد بن چکا ہے جس کا ذہن ہر لمحہ کسی نہ کسی اثر کے زیرِ سایہ ہے۔
ہر صبح موبائل کی اسکرین سے آغاز اور رات اسی پر اختتام — یہ معمول اب عادت نہیں بلکہ انحصار بن چکا ہے۔ چند لمحوں کی ویڈیوز، تصاویر، اور لائکس کی دوڑ نے نوجوانوں کے صبر، توجہ اور خود اعتمادی کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایک عام نوجوان جب دوسروں کی مصنوعی خوشیوں کو دیکھتا ہے تو لاشعوری طور پر اپنی زندگی کو کمتر محسوس کرنے لگتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف وقت کے ضیاع تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک نفسیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ نوجوان اپنی اصل شناخت سے دور ہوتے جا رہے ہیں، اور ایک ایسی ڈیجیٹل شخصیت بنانے میں مصروف ہیں جو حقیقت سے کوسوں دور ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ترقی ہے یا خاموشی سے ہونے والی فکری زوال کی ابتدا؟
اصل مسئلہ سوشل میڈیا نہیں، بلکہ اس کا بے قابو اور غیر شعوری استعمال ہے۔ وہ الگورتھمز جو صارف کو زیادہ سے زیادہ وقت تک اسکرین پر رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں، دراصل اس کے خیالات اور ترجیحات کو بھی کنٹرول کر رہے ہیں۔ نتیجتًا نوجوان اپنی سوچ سے زیادہ وہی سوچنے لگتا ہے جو اسے دکھایا جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور عملی اقدامات کیے جائیں:
تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل شعور (Digital Literacy) کو نصاب کا حصہ بنایا جائے سوشل میڈیا کے استعمال کے اوقات اور طریقوں کے بارے میں آگاہی دی جائے نوجوانوں کو حقیقی زندگی کی سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے والدین اور اساتذہ کو اس حوالے سے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکنالوجی کو شعور کے ساتھ استعمال کرنے پر زور دیا جاتا ہے، تاکہ انسان اس کا غلام نہ بنے بلکہ اسے اپنی ترقی کے لیے استعمال کرے۔ لیکن ہمارے ہاں صورتحال مختلف ہے، جہاں سوشل میڈیا ایک ایسی طاقت بن چکا ہے جو ذہنوں کو تشکیل بھی دے رہا ہے اور بگاڑ بھی رہا ہے۔
ریاست اور معاشرے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اگر ان کا شعور غیر متوازن ہو جائے تو ترقی کا خواب محض ایک تصور بن کر رہ جاتا ہے۔ وقتی تفریح اور ڈیجیٹل مصروفیت اگر شعوری زوال کا سبب بن جائے تو اس کے نتائج پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
آخر میں ایک اہم سوال:
کیا ہم سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، یا سوشل میڈیا ہمیں استعمال کر رہا ہے؟
نتیجہ (Conclusion)
حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ مکمل طور پر نقصان دہ ہے اور نہ ہی مکمل طور پر فائدہ مند، بلکہ اس کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ اسے کس شعور اور توازن کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر نوجوان اس ٹیکنالوجی کو سیکھنے، ترقی اور مثبت اظہار کے لیے استعمال کریں تو یہی پلیٹ فارم ان کی کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اگر اس کا استعمال بغیر سوچے سمجھے کیا جائے تو یہ ذہنی الجھن، عدم اعتماد اور فکری زوال کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
لہٰذا وقت کی ضرورت ہے کہ ہم نوجوانوں کو صرف ٹیکنالوجی فراہم نہ کریں، بلکہ انہیں اس کے درست استعمال کا شعور بھی دیں۔ کیونکہ ایک باشعور نوجوان ہی ایک مضبوط معاشرے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
یہ صرف ایک مسئلہ نہیں، بلکہ ایک موقع بھی ہے— یا تو ہم اس سے فائدہ اٹھائیں، یا اس کے اثرات کا شکار ہو جائیں۔ |
|