محسوس تو کیجیۓ کربِ بے زباں

ابتدائیہ:
کاش کہ میرا رَب دیتا مُجھ کو بھی زباں
اے انساں پھر سناتا تجھ کو اپنے کرب کی داستاں
خطا بھی تو کچھ نہ تھی مِری
میں بھی تو تخلیقِ ربِ کائنات ہی تھا

تعارف و تمہید:
یہ دنیا میرے رب تعالٰی نے صرف انسانوں کے لۓ نہیں دیگر ہر طرح کی چھوٹی بڑی مخلوق کے لۓ تخلیق کی۔ مگر ہم انسان 'اشرف المخلوقات' کا خطاب پا کر اس زُعم میں ہیں کہ اِس دنیا اور ساری کائنات میں جینے اور زندگی گزارنے کا حق ہم ہی رکھتے ہیں۔ انسان نہیں بلکہ مسلمان (معذرت کے ساتھ) خاص کر برصغیر کے مسلمان اپنے دین سے اس حد تک دور ہو چکے ہیں کہ انہیں اپنے علاوہ کسی اور مخلوق (جانوروں و پرندوں) کے حقوق نظرہی نہیں آتے۔ ہم اخلاقی پستی کی اس نہج کو چُھو رہے ہیں جہاں بے زبان جانوروں سے حُسنِ سلوک تو درکنار، ہم تو اُن سے اُن کے جینے کا حق تک چھین رہے ہیں۔ وہ بھی اتنی بے رحمی اور دیدہ دلیری سے کہ انسانیت بھی شرما جاۓ۔ ہم نے اپنے بچپن کی اُن نصیحت آمیز کہانیوں کا بھی پاس نہ رکھا جو ہم رحمتہ العالمین حضرت محمدﷺ کے جانوروں/پرندوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کے حوالے سے پڑھتے تھے۔ حضرت محمدﷺ نے جانوروں کے حقوق کے بارے میں فرمایا "ہر حساس جانور جس کو بھوک، پیاس کی تکلیف ہوتی ہو اس کے کھلانے پلانے میں ثواب ہے۔ "(بخاری ومسلم) کیا ہی خوبصوت حدیثِ مبارکہ ہے کاش ہر مسلماں کے دل میں اُترجاۓ۔

مسئلہ:
اب میرے قارئین یقیناً بھانپ گۓ ہونگے کہ میری تحریر کِس اہم مسئلے کی طرف عوام الناس کی تّوجہ مبذول کرانا چاہ رہی ہے۔ جی ہاں! میری اِس تحریر کا مقصد اُن بے زبانوں (آوارہ کّتوں) کے دُکھ، تکلیف، کرب و اذّیت کے لۓ لب کشائ کرنا ہے جنہیں آج کل حکومتی عہدیداران کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوۓ زہر کے انجکشن لگا کر تڑپا تڑپا کر موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے۔ آپ سوشل میڈیا پر دیکھیں تو سہی کس بے رحمی سے اُن کتوں کو زہر دے کر تڑپنے کے لۓ چھوڑ دیا جاتا ہے۔ میں پوچھتی ہوں کہ اگر آپ مسلمان ہیں تو کیا آپ نے کبھی عید الاضحٰی پر قربانی نہیں کی؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جانور کو اس طور قربان/ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں اسے کم سے کم تکلیف پہنچے؟ تو پھر آپ کیسے اتنے سنگدل ہو گۓ کہ ان بے زبانوں کو زہر دے کر یوں ہی تڑپنے کے لۓ چھوڑ دیتے ہیں۔ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئ تعداد کے اس مسئلے کو کسی دوسرے بہترین طریقے سے بھی تو حل کیا جا سکتا ہے۔ مجھ ناچیز، کم علم سی ذات کے پاس چند تجاویز ہیں، ممکن ہے کسی باشعور انساں کی عقل کو چُھو جائیں تو شاید اُن بے زبانوں کے حق میں کچھ بہتر ہو سکے۔

حل/تجاویز:
1) آوارہ کتوں کی اعلٰی سطح پر فارمنگ کی جا سکتی ہے۔ جہاں انہیں اچھا ماحول، بہترین خوراک اور ویکسینیشن جیسی سہولیات مہیا کر کے پالا جاۓ۔ پھر اُنہیں اُن ممالک میں اچھے داموں فروخت کیا جا سکتا ہے جہاں کتے کا گوشت بہت شوق سے کھایا جاتا ہے اور اس سے کئ طرح کی ڈشز تیار کی جاتی ہیں۔ آپ سوچیں اِس طرح ہمارے ملک کو کافی مالی فائدہ پہنچ سکتا ہے بغیر کسی نقصان اور کسی کی جان لۓ بِنا۔ یہ ایک بہترین بلکہ منافع بخش عمل بھی ہو ثابت ہو گا۔ اب کچھ لوگ شاید یہ سوچ رہے ہونگے کہ ایسے ذرِمبادلہ کو کس مصرف میں لایا جاۓ گا؟ تواِس کا آسان جواب ہے کہ اِسی کاروبار کی مزید توسیع کے لۓ اِسی رقم کو استعمال کیا جاۓ اور یہ کام حکومتی سطح پر ہو تو اور بھی اچھا ہو۔
2) اگر اتنے جھنجھٹ میں نہ پڑا جاۓ تو بھی ایک آسان حل ہے کہ ان کتوں کو ذبح کر کے صرف اِن کا گوشت یا کھال وغیرہ بھی کتے کا گوشت کھانے والے ممالک کو فروخت کیے جا سکتے ہیں۔
3) اگر مارنا ہی مقصود ہو تو ان آوارہ کتوں کو گولی سے یا کسی ایسے طریقے سے مارا جاۓ جس سے انہیں کم سے کم تکلیف ہو اور موت جلدی واقع ہو جاۓ۔
(اہم نوٹ)
چونکہ میں صرف تجاویز دے پائ ہوں، پہلی دو تجاویزکے بارے میں مفتیانِ کرام سے راۓ لی جا سکتی ہے اگر یہ قابلِ عمل ہو تو ان پر کام کیا جا سکتا ہے۔

عمل و کردار:
اب اگر ایک عام شہری کے طور پر آپ کو اس سلسلے میں کوئ عمل کرنا ہو تو آپ کیا کرینگے یا آپ کو کیا کرنا چاہیۓ؟ ہمارے ملک میں بہت سے ہمدرد لوگ اب بھی موجود ہیں جنہوں نے مختلف شہروں میں Animal Rescue and Shelter Homes بنا رکھیں ہیں۔ اگر آپ کو کہیں پر کوئ بھی جانور خاص کر کتا زخمی یا بیمار یا زہرخوردہ ملے آپ فوراً ان اداروں سے رابطہ کر کے بروقت مطلع کریں تاکہ انہیں طبّی امداد اور علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا سکیں اور ان کی زندگیاں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جا سکے۔ دوسرا کام جو آپ اور ہم با آسانی کر سکتے ہیں وہ ان اداروں کو donation دینا ہے۔ خطیر رقم نہ سہی ماہانہ بنیادوں پر آپ کے جمع کراۓ گۓ چند سو روپے بھی کسی بے زبان کی صحت، خوراک اور علاج معالجے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس امر کے لۓ اپنے دل کو تھوڑا بڑا کرنا ہو گا، ان شاء اللہ آپ کو اِس کارِ خیر کا اجرِ عظیم ضرور ملے گا۔
(ہوشیار خبردار!)
آپ انسٹاگرام یا دیگرسوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ان اداروں کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر کوشش کریں کہ اپنے ہی شہر کے ان اداروں سے آپ رابطے میں رہیں جن کی تصدیق آپ خود جا کے کر سکیں یا کسی کے reference سے آپ کو معلوم ہو کہ یہ genuine اور قابل اعتبار ادارہ ہے تاکہ آپ کسی بھی فراڈ یا scam سے بچ سکیں۔
اپنے قارئین کی آسانی کے لۓ میں چند قابلِ اعتماد اداروں کے نام آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہوں جن کی آپ خود بھی تصدیق کر سکتے ہیں:
CAWO
paws_rescue.pk
wheelchair strays
strays home
The Pawsome.Pk
Tales of Second Chances
hopeanpaw00

اختتامیہ:
ُظلم کے خلاف چُپ سادھ رکھنا، کوئ آواز نہ اٹھانا، کسی ردِ عمل کا اظہار نہ کرنا بھی ظلم کرنے کے مترادف ہے بلکہ ظالم کا ساتھ دینا ہی تصور کیا جاتا ہے۔ میری آپ سب سے التماس ہے کہ خدارا اپنے سوۓ ضمیروں کو جنجھوڑیں، صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ رکھیں قبل اِس کے کہ خدانخواستہ اللہ پاک کا عذاب ہم سب پرآجاۓ اور تب ہمارے پاس کہنے کو یہ ایک جملہ بھی نہ بچے کہ ہم تو بے گناہ ولاعلم تھے۔

دعاۓ آخر:
خدا تعالٰی سے دعا گو ہوں وہ ہم سب کو دین ِ اسلام کی تعلیمات کا شعور عطا فرماتے ہوۓ عمل کی توفیق عطا فرماۓ خاص کر جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کے معاملے میں۔ (آمین ثم آمین یا رب العالمین) 
Asma Ahmed
About the Author: Asma Ahmed Read More Articles by Asma Ahmed: 54 Articles with 70012 views Writing is my passion whether it is about writing articles on various topics or stories that teach moral in one way or the other. My work is 100% orig.. View More