بھارتی جنرل بمقابلہ کشمیری ماں

(Ali Imran Shaheen, )

بھارتی فوجی سربراہ جنرل بِپِن راوت نے ایک بار پھر کشمیری مجاہدین کے دفاع میں فوج کے سامنے مظاہرے کرنے ،گولیاں کھانے اور گھر بار لٹانے والے مقامی عورتوں بچوں کو دھمکی لگائی ہے کہ وہ باز آجائیں ورنہ انہیں سنگین نتائج کا سامنا ہو سکتاہے۔بھارتی فوجی حکام نے قبل ازیں بتایا تھا کہ کشمیریوں کے طرز نو کے’’دفاع جہاد‘‘ سے بھارتی فوجی محاصروں میں پھنسے کم از کم 25مجاہدین نہ صرف بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے بلکہ انہوں نے ساتھ ہی کتنے ہی بھارتی فوجیوں کو بھی بھون ڈالا۔بھارت اور اس کی مایہ ناز افواج کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کے اس طرز عمل سے لشکر طیبہ کے کمانڈر ابودجانہ بھی کئی بار بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں جن کے سر کی قیمت 10لاکھ مقرر ہے۔اسی پر سابق بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم کو بھی کہنا پڑا کہ بھارت کشمیر کھو چکاہے۔

بھارت جن کشمیریوں کو ڈارنے دھمکانے کی بے تکی و فضول مشق میں مصروف ہے وہ توخوف کا شائبہ بھی دلوں سے کب کانکال کر دفن کر چکے ہیں۔یقین نہ آئے تو ہم آپ کو تحریک آزادی کے ایک بڑے مرکز اور شہید مقبول بٹ کے علاقے کپواڑہ لئے چلتے ہیں،جہاں وادی سیماب کہلانے والی وادی لولاب کی’ دل باغ‘ نامی بستی کی ’’جانہ ‘‘نامی خاتون نے تاریخ انسانی میں دلیری و استقامت کا ایک منفرد و لازوال باب رقم کیا ہے۔اس خاتون نے راہ آزادی میں یکے بعد دیگر ے گھرکے 6افراد قربان کر دیئے۔ آزادی کا متوالاجانہ کا سرتاج عبدالکریم وار جو مزدور تھا اورمحنت و مشقت سے اہل خانہ کی پرورش کرتا تھا۔ یہ 1996ء کی بات ہے جب جانہ کا 20سالہ بیٹا لطیف احمد وار اس وقت ظالم بھارتی فوج کی گولیوں کا نشانہ بنا جب وہ شام کے وقت گھر میں کھڑ کی کے نزدیک بیٹھا کلائی کی گھڑی درست کرنے میں مگن تھا۔لطیف کابھائی شریف احمد وار ٹیکسی لانے دوڑا لیکن لطیف اس سے پہلے ہی جام شہادت نوش کر چکا تھا۔لطیف احمد سرینگر کے ایک دینی مدرسہ میں زیر تعلیم تھا اورچھٹیاں گزارنے گھرآیا ہوا تھا۔ماں نے قتل کے دو روز بعد تھانے رپورٹ کی تو 18RRے قتل کو ایک’ مسلح مجاہدکی ہلاکت ‘ قرار دے کر جان چھڑا لی۔ اس درد ناک واقعہ کے کچھ عرصہ بعد جانہ کی بڑی بیٹی خا لدہ کی شادی انجام پائی تو ساتھ ہی گھر والے بڑے بیٹے شریف کی شادی کی تیاریوں میں بھی مگن ہو گئے۔ شادی سے کوئی ایک ہفتہ پہلے شریف نے خریداری کے لئے بھائی بختیار کے ساتھ سرینگر کا رخ کیا۔ بختیارسرینگر کے فتح کدل علاقے کی جامع مسجد میں امام تھا۔ ماں کو بیٹوں کی سلامتی کی فکر تھی ،سو وہ خود کپواڑہ تک جاکر انہیں رخصت کر کے آئی۔شادی کی تیاریاں اور گھر میں خوشیوں کا سماں تھا کہ علاقے میں ’’مہامہ‘‘ کی خونریز جھڑپ کی خبر پھیل گئی۔خبر سن کر جانہ تشویش میں مبتلا ہوئی۔ گھر کے لوگ دونوں بھائیوں کی تلاش میں کپواڑہ اور بعد میں سرینگر پہنچے لیکن کوئی اتہ پتہ نہ چل سکا۔ ماں باپ کی زندگی جہنم زار بن چکی تھی۔چھ روز بعد مقامی پولیس انسپکٹر ان کے گھر آیا جس کے ہاتھ میں خون میں لت پت دو لاشوں کی تصاویر تھیں۔ گولیوں اور بموں سے لاشوں کی حالت اس قدر بگڑ چکی تھی کہ ماں اپنے جگر پاشے بھی شناخت نہ کر پائی۔ باپ نے کسی نشانی سے بیٹے پہچانے ۔اس لمحے ماں پر کیا گزری ہو گی،شاید کوئی تصور بھی نہ کر سکے۔ ماں نے بعد میں بتایا کہ اس کے دونوں جگر پارے اسی روز مار ڈالے گئے تھے جس دن وہ سرینگر کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ ان کا جرم بس یہی تھا کہ ان کے چہرے پر داڑھی تھی اور ان کے پاس اسلامی کتابیں تھیں۔ ظلم پر ظلم یہ کہ عوام کے ردعمل سے بچنے کے لئے فوج نے دونوں بھائیوں کو گاؤں سے 30کلو میٹر دور ریکی پورہ میں دفن کرایا۔ ماں بتانے لگی کہ میرے شہید بچوں کے کپڑے جائے وار دات پر ایک درخت سے لٹک رہے تھے۔ ان کے قتل میں سرکار نواز اخوانی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ واقعہ کے چند دن بعد حکومت نے متاثر ہ خاندان کے لئے ایک لاکھ روپے کی امداد کا صرف اعلان کیا لیکن یہ ڈھونگ ان کے لئے ایک نیا عذاب لایا ۔ اسی رات پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس ٹیم نے گھر پر چھا پہ مار کر ان سے ایک لاکھ روپے دینے کا مطالبہ کر دیا۔ جب جانہ اور اس کے شوہر نے بتایا کہ امداد کا تو ابھی محض اعلان ہی ہوا ہے اورکوئی رقم نہیں ملی تو انھوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے ان کا ایک رشتہ دار زخمی کر ڈالا۔ ساتھ ہی گھر پر گن پاؤ ڈر چھڑک کر آگ لگا دی لیکن مقامی لوگوں نے گھر ادھ جلا بچا لیا۔ابھی یہ دکھ جاری تھا کہ ان کے گھر پھر چھاپہ مارا گیا اور فوج عبدالکریم وار کو اٹھا لے گئی ۔ جانہ نے شوہر کی گرفتاری کی مقامی تھانے میں رپورٹ درج کرائی۔ رہائی کا مطالبہ لئے مقامی لوگ جلوس کی شکل میں کیمپ پر گئے۔ یوں عبدالکریم کو رہائی تو ملی لیکن کیمپ میں گزرے چند روز میں وہ زندہ لاش بن چکا تھا۔ اس کے جسم سے خون بہہ رہا تھا اور وہ قدم اٹھانے سے بھی قاصر تھا۔ اس کے دانت توڑ دیئے گئے اور پوشیدہ اعضاء کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ چند روز بعد عبدالکریم زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔ بھارتی فوج نے عبدالکریم پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ گھر میں مجاہدین کو ٹھکانہ فراہم کرتا تھا ۔ اسی وجہ سے اسے اکثر وبیشتر کیمپ پر بلاکر ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا، یہاں تک کہ جانہ کو بھی کیمپ پر بلاکر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا۔جانہ بتانے لگی کہ میرے سامنے میرے شوہر کوسگریٹ سے داغا، بلیڈوں سے ٹانگوں، گردن اور دیگر اعضاء کوکاٹاجاتا تھا۔تشدد کے بعد فوجی ہمارے ہاتھوں میں 500روپے اس شرط پر تھما دیتے کہ ہم زبان بند رکھیں۔ تب سے جانہ کی بیٹی مکمل ذہنی مریضہ بن چکی ہے۔ دوبرس سے کم عرصے میں یہ ہنستا بستاگھر انہ ریزہ ریزہ ہو گیا۔ گھر کا واحد کفیل کھونے کے بعد اب پوری ذمہ داری اس کے سالہ بیٹے دیوبند سے فارغ التحصیل عالم حافظ شریف الدین کے معصوم کندھوں پر پڑی، جو ایک دینی مدرسہ میں تدریس کے فرائض انجام دیکر ماہانہ تین ہزارروپے کماتاتھا۔ اسی دوران میں شریف الدین کی شادی قریبی گاؤں میں ہوئی اور2011میں اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ۔ بیٹے کی پیدائش کے بعدشریف الدین سسرال جارہا تھا کہ راستے میں ہی فوجی اہلکاراور اخوانی بندوق بردار اسے گرفتار کرکے نزدیکی جنگل لے گئے۔ جانہ اور اس کے بیٹے شبیر احمد نے شریف کے لئے بسیار تلاش کی لیکن کوئی سراغ نہ مل سکا۔ تین دن بعد ایک گڈ ریے نے شریف الدین کا وہ شناختی کارڈ ان کے حوالے کیا جو اسے جنگل میں ملا تھا۔ تب سے اب تک جانہ کا لاڈلا اورآخری سہارا شریف الدین لاپتہ ہے۔ ماں کے لئے مصائب کا نیا باب شروع ہوااور اس نے لاپتہ بیٹے کی تلاش میں فوجی کیمپوں ، تھانوں ، ہیومن رائٹس کمشنزاور عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا ئے لیکن ہر جگہ نا امید ی کے سواکچھ ہاتھ نہیں آیا۔ زندگی کی سانسیں رواں رکھنے کے لئے اس نے سرینگر کی راہ لی تاکہ کہیں گھر یلو کام کاج مل سکے۔شومئی قسمت کہ اسے کسی بھی جگہ کوئی کام نہ ملا اور وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہوئی۔اس نے مختلف غیر سرکاری ادار وں اور سیاسی لیڈروں کے دروازے کھٹکھٹا ئے لیکن کہیں بھی شنوائی نہ ہوئی۔ جانہ کی دوسری بیٹی سلیمہ جو والد اور 4بھائیوں کی جدائی سے نیم پاگل ہوچکی تھی ،نے2005میں گھر کی چھت سے خود کولٹکا کر خودکشی کر لی۔ اب بچے کچھے خاندان کی دیکھ بھال شبیر احمداور چھو ٹا بھائی بلال احمد کرتے ہے۔ ستم رسیدہ ماں کے پاس مشکلات اور مصائب کی یادوں کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ اس حال میں جانہ ’’گمشدہ‘‘ بیٹے کی تصویر لئے کبھی سرینگر میں لاپتہ افراد کے لئے لگے کیمپ میں بیٹھتی ہے اور کبھی سرینگر تو کبھی کپواڑہ کے آزادی کے مظاہروں میں پرجوش انداز میں شریک ہوتی ہے۔کتنی دہائیاں بیت چکیں،بھارت جانہ اور اس جیسی لاتعداد ماؤں کو ہرانے کے لئے دن رات سر ٹکرانے میں مصروف ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ali Imran Shaheen

Read More Articles by Ali Imran Shaheen: 189 Articles with 81547 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Mar, 2017 Views: 594

Comments

آپ کی رائے