سانس بند کر کے رہے گا

(Sami Ullah Malik, )

اقوام متحدہ کی تاریخ میں شائدیہ پہلااورمنفردواقعہ تھاکہ یکم دسمبر۲۰۱۶ء کوجنرل اسمبلی میں اقوام عالم کے نمائندوں کے سامنے کھڑے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے ندامت سے سر جھکائے ہیٹی کی حکومت اوراس کے عوام سے باقاعدہ معافی مانگی لیکن یہ واقعہ کیوں اورکیونکرہوا؟اس سوال کاجواب جاننا مختلف حوالوں سے بے حدضروری ہے۔یہ سن کریقیناً ہم سب انگشت بدنداں رہ جائیں گے کہ اس واقعے کی تمام ذمہ داری بھارتی ہندوماتاسرکارپرعائدہوتی ہے۔ بالواسطہ ذمہ داری کہاجا سکتاہے مگرذمہ داری بالواسطہ یابلاواسطہ بہرحال ذمہ داری ہے جس کااحساس اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ایسے منصب پرفائز شخصیت کونہیں ہوگاتوکس کوہوگا ؟

۲۰۱۰ء میں ہیٹی میں ہیضے کی وباء پھیل گئی اوردنوں میں دس ہزارسے زائد افرادکونگل گئی۔ایسے دردناک مناظرجس کودیکھ کراقوام عالم کی بے اختیار چیخیں نکل گئیں اورجسم پرلرزہ طاری ہوگیا۔سوکھی ہڈیوں اورلاچارجسموں کے حامل ہیٹی کے باشندے گلیوں،بازاروں اورسڑکوں پرلاشوں کی طرح بکھرے غم واندوہ کے ساتھ ساتھ عبرت کی علامت بنے سب نے دیکھے۔ہیٹی کی حکومت نے اپنے دس ہزارسے زائداہل وطن کی اموات کا ذمہ داراقوام متحدہ کوقراردیا۔ اس حکومت کاکہناتھاکہ عالمی ادارے کی غفلت ان وسیع ہلاکتوں کاسبب بنی ہے۔ ہیٹی میں ہیضے کی وباءکی تشخیص،تفتیش اورتحقیق کی گئی توپتہ چلاانہی دنوں بھارتی ریاست کیرالہ میں یہی وباءان گنت اموات کاباعث بنی تھی۔۲۰۱۰ء میں جو امن مشن ہیٹی پہنچاوہ اس بھارتی فوجی دست پرمشتمل تھاجوکیرالہ سے آیاتھا اوراس وقت بھارتی فوجیوں کیلئے جوویکسی نیشن سرٹیفکیٹس دیئے گئے وہ تمام جعلی تھے۔بانکی مون نے اس''ہلاکت خیزسہو''پرجنرل اسمبلی میں اقوام عالم کے سامنے ہیٹی کی حکومت سے معافی مانگی۔

اقوام متحدہ کے امن مشن کی طرف سے بھارت سے باقاعدہ احتجاج کیاگیا۔عالمی ادارہ اوردیگررکن ممالک کےعلم میں لاچکاہے لیکن اصل توجہ طلب حقیقت یہ ہے کہ جب وزارتِ دفاع (جسے وزارتِ جنگ کہنازیادہ موزوں ترہوگا)سے ان جعلی سرٹیفکیٹس کے بارے میں پوچھاگیاتواس کے پاس اس کے سواکوئی جواب نہیں تھا:انکوائری کے بعدہی کچھ بتایاجاسکے گااورطویل عرصے سے جو انکوائری ہورہی ہے وہ عذرگناہ بدترازگناہ سے بھی بدتر قرا ر پاتی ہے۔اب تک مودی سرکار کی وزارتِ داخلہ اوروزارتِ دفاع ایک دوسرے کواس شرمناک فعل کی ذمہ دارقراردینے کے مقابلے میں مصروف ہیں۔ معاملے کوطول دیاجارہاہے جس سے عالمی سطح پربھارت کی روسیاہی میں اضافہ ہورہاہے اورنادان بھارتی حکمران نہیں جانتے کہ ایک نہ ایک دن دس ہزارسے زائدانمول جانوں کے اتلاف کارازتوکھل کرہی رہے گا،اس وقت بھارتی حکمرانوں کوکس جگہ منہ چھپائے بنے گی؟

نریندرمودی اپنے مخالفین کوٹھکانے لگانے کیلئے برسوں سے جعلسازی کو بطورہتھیاراستعمال کرتاچلاآرہاہے۔جب گجرات میں اس نے مسلم کشی کی بہیمانہ مثالیں قائم کیں تواپنے تئیں طاقتورنیتابن بیٹھااورخودکواپنی جماعت ہی میں موجود اپنے مخالفین سے ٹکرلینے کااہل سمجھنے لگا۔اس کے مخالفین میں سنجے، جوشی،ہربن پانڈے اورگردھان زادفیانمایاتھے۔مودی کی حکومت میں بطوروزیر خزانہ کام کرنے والے ہرین پانڈے کو۲۰۰۳ء میں قتل کردیا گیا ۔اس قتل کے اسرار سے آج تک پردہ نہیں اٹھ سکا۔سنجے جوشی بی جے پی کاجنرل سیکرٹری تھا۔اس کے خلاف جعلسازی پرمبنی ایک سازش تیارکی گئی، برہنہ عورتوں کے ساتھ اس کی تصاویربنائی گئیں جنہیں عام کیاگیاتواسے مستعفی ہوناپڑا۔بعدمیں میڈیاکی تحقیق کے نتیجے میں یہ تصاویرجعلی ثابت ہوگئیں۔

جب نریندرمودی گجرات کے وزیراعلیٰ کے دوران میں بی جے پی کواپنی راہ سے ہٹانے میں ''کامیاب'' ہوگیاتوگجرات کی پولیس میں شامل مسلمانوں کوختم کرنے میں لگ گیا۔ مسلمان پولیس اہلکاروں کوجعلی مقابلوں میں شہیدکراتارہا۔ بعد ازاں یہ مسلمان دہشتگردآئی ایس آئی اورلشکرطیبہ کے ایجنٹ قرار پائے ۔مودی اوراس کے چیلے چپاٹے اپنی جعل سازی کواستحکام اوردوام بخشنے کے منصوبوں میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کی جعل سازی شایدمودی کارناموں میں سرفہرست قرارپاتی ہے۔ بھارت میں حال ہی میں ۶۸ویں یوم جمہوریہ کی پریڈکااہتمام کیاگیا،مہمان خصوصی کااعزازنریندر مودی کوعطاہوا،بعدمیں عقدہ کھلاکہ یہ ناٹک بھی ہلاکت آفرین جعلسازی کواصلی ثابت کرنے کی ایک کاوش تھی۔
بھارتی سیناکی پریڈختم ہوئی توپاکستان کے خلاف مبینہ سرجیکل اسٹرائیک کا ''کارنامہ''انجام دینے والی بھارتی فوج کے بہادر سپوتوں میں اعزازات اور اسناد تقسیم کرکے یہ ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش کی گئی کہ ان کامذکورہ ڈرامہ جعلی نہیں عین اصلی تھی۔حاضرین پر بھارتی فوج کے بہادرسولجرکا رعب بٹھاتے ہوئے کہاگیا''یہ ہیں ہمارے فوجی جنہوں نے لائن آف کنٹرول پرپاکستان کے خلاف کامیاب سرجیکل اسٹرائیک میں حصہ لیاتھا۔ خود بھارتی میڈیامیں یہ رپورٹیں شائع ہوچکی ہیں کہ نریندرمودی جب اپنی سیناکے جوانوں میں اسناد تقسیم کررہے تھے تواس تقریب میں شریک بیرونی ملکوں کے سفارتی نمائندے سرگوشیاں کررہے تھےجن کے چہروں پربڑی معنی خیزمسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی جیسے زبانِ حال سے کہہ رہے ہوں کہ مودی شایدبھول گئے ہیں کہ اس فوج کے''سورما''غیرمبہم اندازمیں اپنی بھوک اورفاقہ کشی کے حقائق بیان کرنے کی پاداش میں ان دنوں فریب کاراورجعل سازحکمرانوں کے عقوبت خانوں میں اپنے انجام کوپہنچ رہے ہیں۔۔۔۔۔جاری ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 227146 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Mar, 2017 Views: 405

Comments

آپ کی رائے