مخالفت سے بچاؤ طریقے

(sana, Lahore)

ہم روز ہی اخبارات میں اس طرح کی خبریں بھی پڑھتے ہیں کہ فلاں نے فلاں سے، فلاں سیاسی جماعت کے حوالے سے خیالات سن کرطیش میں آکر فائر کرکے مخالف کو مار دیا۔
یا پھر ساس بہو کی ان بن میں تنگ آکر خاوند نے دونوں کو مار کر خود کشی کر لی۔
ہم خود دن بھر میں فیس بک پر کسی دوست کو ان فرینڈ اس وجہ سے کرتے ہیں کہ اس نے ہمارے سے اختلاف کیا۔
ہم پروگرامز دیکھتے ہوئے چینل اس لئے بدل دیتے ہیں کہ ہمیں پروگرام سے اختلاف ہوتا ہے۔
کیا آپ خود کو اختلافات سے بچانا چاہتے ہیں۔ اگر ہاں تو مکمل آرٹیکل پڑھ لیں
حقیقت ہضم کر لیں۔۔۔
ایک انسان کے لئے پانچ ہزار بھی بے حد اہم ہو سکتے ہیں جبکہ دوسرے انسان کے لئے پچاس ہزار بھی اس ہمیت کے حامل نہیں ہو سکتے۔ جس قسم کی اہمیت پانچ ہزار رکھنے والے کے لئے اُتنے پیسوں کی ہے۔
ایک انسان ہمارے معاشرے کے بنائے گئے معیار کے مطابق خوبصورت نہیں ہو سکتا مگر اپنی ماں کے لئے وہ دنیا کا سسب سے حسین فرد ہوگا۔
دنیا میں حقیقی یا غیر حقیقی انسان کے اپنے ذہن کی پیداوار ہوتا ہے کیونکہ ہر انسان کے لئے ہی حقیقت وہی ہے جو وہ سمجھ لیتا ہے سو اس بات کو یاد رکھیں کہ آپ چاہے حقیقت کو کتنا ہی حقیقت سمجھیں ۔ وہ ایک ددم ٹھوس اور یقینی حقیقت نہیں ہے۔
یہی حال زندگی میں دیگر معاملات کے اختلاف کا بھی ہے چاہے وہ اختلاف کرکٹ پر ہو یا سیاست پر ہو۔
اسی لئے اگر کوئی آپ سے اختلاف رکھے تو برا نہ مانیں۔
انسان یا اختلاف۔۔۔
اکثر ہم صبح گیارہ بجے کی خبروں میں یہ منظر ضرور دیکھتے ہیں کہ عدالت نے لڑکے لڑکی کو نکاح کے بعد اکٹھا جانے کی اجازت دے دی۔ مگر کمرہ عدالت سے باہر آکر دونوں کی ٹھکائی بھی ہوئی اور گھر والے لڑکی کو زبردستی لے گئے۔
اب اس طرح کے کیسز میں اختلاف اتنا شدید تھا کہ اس نے اول لڑکے لڑکی کو اس مقام تک لا کر اور پھر برادری کو احاطہ عدالت میں رُسوا کروا کر چھوڑا۔
ہیرو ہیروئن کے لئے اس معاملے میں انسان اہم تھا جبکہ دنیا والوں کے لئے اختلاف
اول تو یہ کہ آپ اختلاف دیکھیں کس موضوع پر ہے اگر تو وہ مختلف چیزوں (برگر پیزا شاپنگ پلیس سٹارز) کو پسند کرنے پر ہے تو وہ اختلاف اتنا بڑا نہیں آپ کچھ بھی پسند یا نا پسند کر سکتے ہیں اور کسی کی بھی پسند پر مخالفت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر وہ پسند آپکو تنگ نہ کرے آپکی زندگی یا آکسیجن پر پابندی نہ لگائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں کر سکتے۔
دوم اگر تو وہ اختلاف زندگی کے ذیادہ سیریس مسئلے کے حوالے سے ہے جیسا کہ کرئیر گھر شادی پر تو اس وقت ایمانداری سے جائزہ لیں کہ دونوں فریقین کے لئے کس حد تک جھکنا ممکن ہے اور ایک دوسرے کی کس حد تک ماننا ممکن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا جھکنا صرف ایک کو پڑ رہا ہے ۔ تو آپ جائزہ لے لیں کہ اس اختلاف پر ڈ ٹے رہنے پر ذیادہ نقصان کس کا ہے۔ آپکے بچوں کا آپکے کرئیر کا آپکی شادی شدہ زندگی کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نقصان کی صورت میں کس نقصان کو برداشت کر لیں گے اور کس نقصان سے بچنا چاہیں گے۔
صرف ایک چیز یاد رکھئے گا زندگی کے ایسے فیصلے کرتے وقت کسی انسان پر شادی کا فیصلہ کرئیر کا فیصلہ تھوپتے وقت کہ آپ انسان کو اندر سے مار دیتے ہیں۔
اب آپ نے انسان کا خیا ل کرنا ہے یا اپنے فیصلے کا۔
بحث بحث بحث۔۔۔
شام سات بجے کے بعد آپکو ہر چینل پر سوٹڈ بوٹڈ لوگ بال بنائے پین پکڑے آنکھیں گھما گھما کر ہاتھ نچا نچا کر چار چار مہمانوں کے ساتھ چیخ و پکار کرتے نظر آئیں گے۔ ظاہری طور پر تو یہ چیخ و پکار بری نہیں لگتی جب یہ سکرین کے پار ہو۔
مگر جب یہ بحث سکرین کے اس پار آجائے تو یہ شدید نقصان دہ ہے۔ بحث اور خیالات کے تبادلے میں فرق ہوتا ہے۔
آپ گھر میں رشتوں میں بحث کو لاکر حُسن و خوبصورتی خراب کر دیں گے۔ صرف تبادلہ خیالات کریں اور ایک دوسرے کی رائے کا احترام کریں اگر کوئی نہ مانے یا بحث پر اترنے لگے تو اس بات کو جانے دیں۔
میں نے جب سے بحث چھوڑی میرا تعلق واسطہ لوگوں سے مزید بہتر ہونے لگ گیا۔
شوقیہ مخالفت۔۔۔
کچھ انسان آپکو ملیں گے انھں نے زندگی بھر کام کیا ہوگا اور ایک اپنی رائے رکھتے ہوں گے۔
کچھ انسان آپکو ملیں گے انھوں نے کبھی کام نہیں کیا ہوگا اور رائے سنی سنائی پر بنائی ہو گی۔
کچھ انسان ہوں گے کام بھی نہیں کیا ہوگا رائے بھی نہیں ہو گی اور شوق ہو گا ہر ہر بات میں آپکو نہ کرنے کا۔
اول لوگوں سے رائے لیں انکے گیان سے فائدہ اٹھائیں۔
دوم لوگوں سے بچیں بات سنیں اور دوسرے کان سے نکال دیں۔
تیسرے لوگ وہ ہوں گے ان کے سامنے رائے دینے سے پرہیز کریں ورنہ انکے اندر کا کیڑا باہر آکر آُکو کاٹ لے گا۔ انکو رائے دینے پر اکسائیں اور بغلیں جھانکنے پر مجبور کریں۔
انا کی قربانی۔۔۔
ہماری ندگی میں مخالفت کپڑے ، برانڈ، جوتی، ریسٹورنٹ، مینیو، رشتہ داری، سیاسی یاری، وفاداری، دنیا داری، کاروباری، دلداری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی بھی معاملے میں ہو یہ آپ سے انا کی قربانی اکثر مانگتی ہے۔
کبھی کسی کو خوش کرنے کے لئے ، کبھی کسی کے ساتھ جڑنے کے لئے ، کبھی کسی کو منانے کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو انا کی قربانی دے دیتے ہیں وہ خوش بھی ہوتے ہیں جڑے بھی ہوتے ہیں اور سب کو منا بھی لیتے ہیں
آُ پ سوچ لیں آپ نے کونسا آپشن لینا ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: sana

Read More Articles by sana: 231 Articles with 178510 views »
An enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniques for living life livel.. View More
17 Mar, 2017 Views: 505

Comments

آپ کی رائے