قومی مردم شماری اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان!

(Tahir Ahemd Farooqi, muzaffarabad azad kashmir)
قومی مردم شماری اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان!!!!!!!!

پورے ملک کی طرح آزاد کشمیر گلگت بلتستان میں بھی انیس سال بعد چھٹی مردم شماری کا آغاز ہو گیا ہے۔ جو قوموں کی زندگیوں مستقبل کے حوالے سے بنیادی ستون کی حامل ہوتی ہے۔ جسکے تحت ملک کے بنیادی حقائق کی کھوج لگتی ہے جن کے مطابق آبادی وسائل ، ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مستقبل کی منصوبہ بندی کیجاتی ہے مردم شماری کے ذریعے ناصرف آبادی بلکہ اسمیں خواتین مرد بزرگ بچوں نوجوانوں کی شرح اور تعلیمی معاشی حالات کم و بیشی کے متعلق معلومات مہیا ہوتی ہیں۔جنکی بنیاد پر ناصرف قومی صوبائی مقامی اسمبلیوں میں نشستوں کے اضافے انتظامی یونٹوں کے حوالے سے پالیسی بلکہ( این ایف سی ایوارڈ) قومی اقتصادی کونسل بشمول فیصلہ ساز اداروں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کی جاتی ہے تعلیم صحت پانی بجلی سمیت بنیادی ضروریات کی فراہمی کیلئے تعمیر و ترقی کے منصوبہ جات ترتیب پاتے ہیں۔ اس بار بھی مردم شماری کا اگرچہ دور دور تک امکان نہیں تھا مگر یہ کریڈٹ سپریم کورٹ پاکستان کو جاتا ہے کہ حکومت اداروں کے تمام تر حیلے بہانے اور لیت و لعل دہشت گردی کے ایشوز کو بنیاد بناکر قومی فریضہ سے جان چھڑانے کے ہتھکنڈوں کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا اگر بروقت عام انتخابات ہو سکتے ہیں تو مردم شماری کیوں نہیں ہو سکتی۔ نیز پاک افواج بھی اس کریڈٹ کی برابر کی حقدار ہے جس سے متعلق موقف اختیار کیا جا رہا تھا کہ وہ مشرقی مغربی سرحدوں پر کشیدگی اور ملک میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے معاملات میں مصروف ہے ۔ مگر پاک فوج کی قیادت نے 2لاکھ فوج مردم شماری کیلئے مہیا کرتے ہوئے مردم شماری سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنادیاہے جو ملک قوم کے مستقبل سے وابستہ ہے کہ اس ملک کی وہ اشرافیہ جو تمام شعبہ جات بالخصوص فیصلہ ساز اداروں میں مختلف روپ دھارے بیٹھی ہے ۔ یہ چار سے چھ فیصد لوگ ای ۔ سی گاڑیوں،جاگےروں،حوےلیوں ، بنگلوں، دفاتر سے نکل کر شاپنگ مال ، کلبوں ، پلازوں میں داخل ہوتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے یہ ملک ترقی اور خوشحالی کے عروج پر ہے۔ مگر باہر کھیتوں کھلیانوں چوکوں ، چوراہوں ، سڑکوں فیکٹریوں میں پستے عوام کا کیا حال ہے ان کو اندازہ ہی نہیں ہے ایسے میں قوم کے ہر فرد کو معلوم ہو نا چاہیے کہ اس کی آبادی وسائل ضروریات جمع نفی کے معاملات کیا ہیں۔ یہ قوم جو مسلک ، نسل ، زبان، قومیت، علاقیت کے تفرقات کے باعث اشرافیہ کے ہاتھوں پستی چلی آرہی تھی ۔ بطور ایک (نیشن )قوم مردم شماری سے مردم شناسی تک بڑھنا ہو گا۔ جو دنیا کے ملکوں میں آبادی کے لحاظ سے چھٹے اعلانیہ جوہری طاقت اور فوجی قوت تعداد کے اعتبار سے ساتویں نمبر ہے۔ مگر اقوام متحدہ کی انسانی ترقی کی فہرست میں اس کا نام 140ممالک کے بعد کہیں دور جا کر آتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے کہ اشرافیہ کے ایک بچے کی سکول فیس نچلے طبقے کے خاندان کی آمدن دو سے چار گنا زیادہ ہے۔ تو کروڑوں خاندان بنیادی سہولیات سے محروم دو وقت کی روٹی کیلئے رلتے ہیں۔امام شاہ ولی محدث دہلوی نے فرمایا تھا کہ زےادہ خطرناک وہ طرز معاشرت ہے جو امیر اور غرےب مےں امتیاز قائم کر کے غرےب کے دل میں سرماےہ داروں کی ہوس اور شاہ پرستی کا شوق پیدا کرے ۔ خدا کرے کے اس بار مردم شماری کے حقائق سے قوم کا ہر فرد اچھے برے دوست دشمن یعنی خود اپنے اندر سے اپنی قیادت مسائل کے حل کیلئے مردم شناسی کی صلاحیت سے فیض یاب ہو جائیں۔ یہ بھی بہت نیک شگون ہے کہ مردم شماری ایسے وقت میں ہورہی ہے جب گلگت بلتستان کے عوام اپنے آئینی حقوق کے متعلق خوشخبریوں کےلئے عید کے چاند کی طرح بے تاب ہیں ۔اور اس حوالے سے مزےد مشےر خارجہ سرتاج عزےز کی سربراہی مےں کمیٹی کی رپورٹ پر اےک خاص وقت میں مراحل کا طے ہونا باقی ہے تو آزاد کشمیر کے ایشوز اور آئینی امور سے متعلق حکومت پاکستان اعلی سطحی کمیٹی بنا چکی ہے نیز آزاد کشمیر میں بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کےمطابق بلدیاتی انتخابات ہر حال میں ہونے ہیں۔ مردم شماری کے نتائج اور معلومات ان خطوں کے آئینی ایشوز حقوق، فرائض نیز بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بہت مفید ثابت ہوں گے۔ اسلئے کہ ضروری ہے کہ تمام جماعتوں کے لیڈر رہنما کارکن تمام شعبہ جاتی مکاتب فکر کے لوگ ہر شہری مردم شماری کی کامیابی کیلئے بھرپور کردار ادا کریں۔ اور شہری پہلی فرصت میں اپنے خاندان کا مردم شماری میں انداراج یقینی بنائے۔ جسکا پہلا مرحلا خانہ شماری 15اپریل تک جاری رہے گا جبکہ دوسرا مردم شماری کا مرحلہ 25اپریل سے شروع ہوکر25مئی تک جاری رہے گا ۔ لہٰذا کسی کے گھر مردم شماری کی ٹیم نہ پہنچ سکی ہو تو اس خاندان کے لوگ خود انتظامیہ سے رابطہ کر کے اپنا اندراج یقینی بنائے۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahemd Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahemd Farooqi: 204 Articles with 67754 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Mar, 2017 Views: 238

Comments

آپ کی رائے