با ڈی بلڈ نگ کے مضر اثرات - کامران احمد سیال- کراچی

(Kamran Ahmed, karachi)
باڈی بلڈنگ آج کے نوجوانوں کا مشغول ترین مشغلا .

باڈی بلڈنگ آج کے نوجوانوں کا مشغول ترین مشغلا ھے.
باڈی بلڈنگ اگر مناسب طریقے سے انجام دی جائے تو اس کے برے اثرات نا ھونے کے برابر ھو تے ھیں. آج کل نوجوانوں میں تن سازی اور جسم کو خوبصورت بنانے کا شوق بہت زیادہ ہو گیا ہے۔اسی وجہ سے نوجوان اکثر جم کا رخ کرتے ھیں لیکن آج کل کے عطائ کوچز اور ٹرینر جنہیں اس تن سازی کے بارے میں کچھ معلوم ھی نھیں ھوتا وحی عطائ کوچز ان نوجوانوں کی رھنمائ کرتے ھیں جس کی بناء پر وہ مناسب غذا اور ورزش بتانے سے قاصر ھوتے ھیں۔جس وجہ وہ ان نوجوانوں کو جلدی جسم کو طاقتور بنانے کے لئے کچھ دوایاں استمال کرنے پر اصرار کیا جاتا ھے۔

باڈی بلڈنگ کے دوران بعض لوگ مختلف قسم کی ادویات ھارمونز اور فوڈ سپلیمنٹ استمعال کرتے ھیں جس سے وقتی طور پہ مسلز اًبھر آتے ھیں۔ لیکن باڈی بلڈنگ کے بعد جسم کو معمول کی ورزش نہ ملنے سے مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ھے۔ ان مے سے بعض باڈی بلڈرز جو ادویات کا سھارا لیتے ھیں ان کا جسم باڈی بلڈنگ چھوڑنے کے بعد موٹا ھوجاتا ھے اور وزن بھی بڑھ جاتا ھے وزن بڑھنے سے کئ طرح کے امراض جنم لیتے ھیں جس مے دل اور جوڑوں کے امراض سرفھرست ھیں .۔جسم کو جلدی خوبصورت بنانے کے چکر میں مختلف قسم کی ادویات استمعال کر کے نوجوان موت کو گلے لگا لیتے ھیں.خاص طور پے پاکستان میں اس طرف کوئ توجہ نھیں دی جاتی جس کی وجہ سے یہ نوجوان اس طرف معائل ہوجاتے ہیں۔یہ ادویات وقتی طور پہ تو جسم کو بہت طاقتور اور مضبوط ظاہر کرتا ہے۔ لیکن بظاہر نظر آنے والا جسم اندر سے کھوکھلا ہوتا ہے۔میڈیا کی رپورٹز کے مطابق گذ شتہ سال مختلف قسم کی ادویات (ہارمونز) استمعال کرنے سے تقریبآ 4 تن ساز اپنی جان کئ بازی ہار چکے ہیں.۔ہارمونز کے مثبت سے زیادہ منفی اثرات ہوتے ہیں جوکہ سماجی اور ازدواجی زندگی کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں.

ان نوجوانوں کی موت کے ذمےدار ان ادویات اور عطائ کوچز سے زیادہ ہماری حکومت ہے۔جو ان غیر تصدیق شدہ جمز کے خلاف کوئ کاروائ نھیں کرتے۔کیوں کیوں حکومت ان ادویات اور ہارمونز پر پابندی نہیں لگاتی؟یہ زہر پاکستان کے ہر شہر میں باآسانی دستیاب ہے۔حکومت کو چاہیے اس کھیل کے لیے بھی کوئ ادارہ بنایا جائے۔جو ان تن سازوں کو مزید ان خطرناک ادویات کے استمعال سے روکے تاکہ وہ صحت مند رہیں اور مزید نوجوان موت کے منہ میں جانے سے بچ جائیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kamran Ahmed
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Apr, 2017 Views: 2011

Comments

آپ کی رائے