مچھر سے پیدا ہونے والی چیکنگنیا وائرس

(Shamsuddin Khoso, Karachi)

مچھر سے پیدا ہونے والی چیکنگنیا وائرس

ایک مچھر سے پیدا ہونے والی بیماری جس نے 60 ممالک کو متا ثر کیا ہے اور آج اس کی لپیٹ میں کراچی کے کچھ علاقے جس میں ملیر ، سعود آباد، شاہ فیصل اور لیاری ہیں جس نے ہزاروں لوگوں کو متاثر کیا ہے ، عالمی ادارہ صحت (WHO) کا کہنا ہے کے چیکنگنیا وائرس مزید بھی پھیل سکتا ہے۔

کلیدی حقائق
چیکنگنیا متاثرہ مچھروں کی وجہ سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے یہ ایک وائرل بیماری ہے جس میں بخار کا شدیدہونا ، جوڑو ں کا درد، پٹھوں میں درد ، سر میں درد، متلی اور تھکاوٹ شامل ہیں، جوڑوں کا درد اکثر جسم کو کمزور کرتا ہے اورکچھ مدت تک چلنے پھرنے ے بھی بٹھا دیتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کے آدمی لنگڑا ہو گیا ہے اور اس وائرس میں ڈینگی کی بھی کچھ علامات ہوتی ہیں اگر سفید خون کی کمی شدت اختیار کرے تو ڈینگی کی علامات عام ہو سکتی ہیں ایسے علاقوں میں جہاں پر misdiagnosed ہو رہا ہو ۔ چیکنگنیا جس کا کوئی خاص علاج نہیں ہے غلط علاج اور پیسہ کمانے والے کچھ ڈاکٹرز جن کو انسانیت اور اپنے پیشے سے محبت نہیں اور وہ صرف پیسہ کمانے کے چکر میں ہیں تو ایسے ڈاکٹرز کی وجہ سے یہ کئی گناہ پھیل سکتا ہے اور اس سے ڈینگی جیسا مرض بھی ہو سکتا ہے،
چیکنگنیا وائرس افریقہ، ایشیا اور برِصغیر ہندوستان میں پائی جاتی ہے، حالیہ دہائیوں میں چیکنگنیا کے مچھر ویکٹر یورپ اورامریکہ میں پھیل گئی ہے، 2007 میں اس بیماری کی شمال مشرق اٹلی میں پھیلنے کی رپوٹ کی گئی تھی اور اس کے پھیلنے کے بعد فرانس اور کروشیا میں ریکارڈ کی گئی ہے۔

پس منظر
یہ بیماری 1952 میں جنوبی تنزانیہ میں پھیلنے کے دوران اور بیان کردہ یہ خاندان Togaviridae کےalphavirus سے تعلق رکھتا ہے اوریہ ایک RNA وائرس ہے اور مچھر سے پیدا ہونے والی وائرل بیماری ہے جس کا نام "چیکنگنیا"، Kimakonde زبان میں ایک لفظ سے جس کا مطلب "rtedconto" ہے، اور جوڑوں کے درد(arthralgia) کے ساتھ کئی علامات کو ظاہر کرتا ہے۔

نشانیاں اور علامات
چیکنگنیا اکثر جوڑوں کے درد کے ہمراہ اور بخار سے اچانک شروع ہوتی ہے اور دیگر عام نشانیاں بھی ہیں جس میں پٹہوں میں درد، سر درد، متلی، تہکاوٹ آنکھوں کا سوج جانا یا لال ہو جانا اور پورے جسم یا پاؤں سے ہلکی خارش کا شروع ہوجانا اس بیماری کی علامات ہیں، جوڑوں کا درد اکثر بہت کمزور کر دیتا ہے، لیکن عام طور پر چند دنوں کے لئے یا ہفتوں کے لئے شدید درد رہتا ہے، لہذا وائرس شدید subacute یا دائمی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔ اس بخار سے زیادہ تر مریض مکمل طور پر ٹھیک تو ہو جاتے ہیں لیکن جوڑوں کا درد کئی مہینوں تک چلتا ہے یا اس سے بھی زیادہ سال کے لئے بھی برقرار رہ سکتا ہے ، آنکھ، اعصابی اور دل کی پیچیدگیوں کی بھی شکایت ہو سکتی ہے اور معدے کی تکلیف بھی ہو سکتی ہے کیوں کہ جن علاقوں میں misdiagnosed ہوتی ہے وہاں تو اس کے علاوہ کئی اور بیماریاں بھی عام ہو جاتی ہیں، اور زیادہ تر بڑی عمر کے لوگوں میں یے بیماری موت کا سبب بھی بن سکتی ہے ۔

ٹرانسمیشن
چیکنگنیا ایشیا،افریقہ، یورپ اور امریکہ سمیت 60 سے زائد ممالک میں شناخت کی گئی ہے۔ وائرس مچھروں کے کاٹنے کی وجہ سے انسان میں منتقل ہوتی ہے اور کئی خاندانوں کو ہو جاتی ہے، سب سے زیادہ عام، ملوث مچھروں ایڈیس ایجپٹی اور ایڈیسalbopictus، دو پرجاتیوں بھی ڈینگی سمیت دیگر مچھروں سے پیدا ہونے والے وائرس منتقل کر سکتے ہیں جس میں سے ان مچھروں کو دن کی روشنی میں گھنٹوں کاٹتے پایا جا سکتا ہے سرگرمیوں کی چوٹیوں صبح اور دوپہر میں ہو سکتی ہیں ایک متاثرہ مچھر کے کاٹنے کے بعد بیماری کے شروع ہونے اور عام طور پر ۴ اور ۸ دنوں کے درمیان شروعات ہوتی ہے اور ۲ سے ۱۲ دن تک اس بیماری کا دورانیہ چلتا ہے۔

تشخیص
کئی طریقوں سے اس کی تشخیص کی جا سکتی ہے immunosorbent assys کے (ایلسا) سیرم سائنسی تجربوں، آئجییم اور آئجیجی مخالف چیکنگنیا مائپنڈون کی موجودگی کی تصدیق ہو سکتی ہے، آئجییم مائپنڈ سطحوں پر بیماری کی شروع ہونے کے بعد سب سے زیادہ ۳ سے ۵ ہفتے اور تقریبـآ ۲ ماہ کے لئے برقرار رہتی ہے، علامات کے آغاز کے بعد پہلے ہفتے کے دوران جمع نمونے دونوں سیرم سائنسی اور virological طریقوں (RT-PCR) جیسی ٹیسٹ کروانی چاہیے۔ وائرس سے ہونے والے انفیکشن یا علامات کے پہلے چند دنون کے دوران خون سے الگ تھلک کیا جا سکتا ے، جس میں مختلف ریورس transcriptaseپالی میریز چین ری ایکشن (RT-PCR) کے طریقے دستیاب ہیں لیکن متغیر حساسیت سے ہیں ، طبی نمونے (RT-PCR) مصنوعات بھی مختلف جغرافیائی ذرائع سے وائرس کے نمونوں کے ساتھ موازنہ کی اجازت دی گئی ہے، وائرس کی genotyping کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

علاج
چیکنگنیا کے لئے ایسی کوئی بھی مخصوص اینٹی وائرل دوائی نہیں ہے جس میں اس مرض کا جلدی علاج ہو سکے یا مریض کو اس مرض سے بچایا جا سکے پیسے کمانے کے چکروں میں ہمارے ڈاکٹرز جو غریب مریضوں کو پریشان کرتے ہیں اور ڈرا تے رہتے ہیں، مریضوں سے کئی گنا زیادہ پیسہ لیتے ہیں ، مختلف دوائی یا انجیکشن کا کہتے ہیں یا کورس کرواتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ ایمانداری کے ساتھ تمام مریضوں کی تربیت کریں اس کے ساتھ ساتھ اپنے اسپتال میں اس مرض کے حوالے سے اور اس کے علاج کے طریقے یا چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے تدابیر سے آگاہی دیں تا کہ مریض بیچارہ پریشان نہ ہو اور اس مرض سے چھٹکارہ حاصل کر سکے اور چیکنگنیا وائرس کے شکار مریضوں کو سمجھائیں اور دلاسا دیں اور نہ ڈرائیں خوف نہ پھیلائیں بلکہ علاج کرنا چاہیے مہنگی فیس لے کر اپنے پیشے کو بدنام نہ کریں اور (WHO) جیسے ادارے کی رپورٹس پڑھنی چاہیے کہ وہ کیا کہتے ہیں اور کوئی بھی ایسی دوا نہ دیں جس میں نقصان نہ ہو اور اس کی کوئی بھی ایسی انجیکشن یا دوا نہیں ہے جس میں مریض کودی جائے جو مریض جلدی ٹھیک ہو جائے اور عام علاج ہے اس کا ۔

روک تھام اور کنٹرول
رہائشی علاقوں کے لئے مچھر ویکٹ عمل سائٹس کی قربت چیکنگنیا کے طور پر اور ساتھ ساتھ دیگر کئی بیماریوں کی ترسیل کے لئے ایک اہم عنصر ہے، روک تھام اور کنٹرول اور مچھروں کی افزائش مصنوئی پانی سے بھرے گٹر نالے جو کئی بیماریوں کی علامت بن سکتی ہیں جس کو صاف ستھرا رکھنا ایک تو شہریوں کا بھی کام ہے اور لوکل گورنمینٹ کے ایسے ادارے جن کو سفائی ستھرائی کا کام دیا گیا ہے جو ایک ڈیپارٹمینٹ کی صورت میں ان سے مل کر اپنی گلیاں اور اپنا ماحال صاف رکھنا چاہیے، اور بچاؤ کرنے والی مصنوعات کہ لئے ہدایات کی جائے کہ اپنی جلد کو اچھے طریقے سے بچاؤکے رکھو کے کوئی ایسا مچھر کاٹ نہ سکے ۔ بچاؤ کرنے 3535IR, (methy lbenzamide-3-diethyl-N,N) DEET پر مشتمل ہونا چاہیے N-acetyl-N]-3) بیوٹائل aminopropionic- [ایسڈ یتل یسٹر)یا icaridin(piperidinecarboxylic-lایسڈ، -2(2 ہائڈروکسی ایتھل)(methylpropylester-1- ، دن کے وقت، خاص طور پر چھوٹے بچوں، یا بیمار بوڑھے لوگوں یا دوران سوتے وقت کیٹناشک کا علاج مچھر دانیاں اچھا تحفظ ہیں، مچھر کنڈلی یا دوسرے کیٹناشک کہ vaporizersبھی ان کا کاٹنا کم کر سکتی ہے۔

ٹاؤن ہیلتھ آفیسرز (THOs)کو چاہیے کہ وہ اپنے علائقے میں صاف ماحول پیدا کرنے میں عوامی مہم چلائیں اور لوگوں کوبہتریں تدابیر بتائیں تاکہ وہ اس بیماری سے بچنے کی کوشش کریں او ر غلط پریکٹس کرنے والے اور زیادہ پیسہ کمانے والے ڈاکٹرز کو بتائیں جو ان کے فرض میں شامل ہے اور بڑے بڑے پوسٹر ز یا پمفلیٹ چھپوا کر دیواروں میں لگوائیں تا کہ اس چیکنگنیا وائرس سے لوگوں کو بچایا جا سکے جس کی وجہ نقصانات بھی ہو سکتے ہیں اور دوسری بیماریاں بھی پھیل سکتی ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shamsuddin Khoso
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Apr, 2017 Views: 1013

Comments

آپ کی رائے