چوروں کی تاج پوشی

(Shafqat Ullah, )

قرآنی آیات کا مفہوم ہے کہ’’ وہ لوگ کانوں سے بہرے ،آنکھوں سے اندھے ،زبان سے گونگے ہیں اور پس یہ صحیح راستے پر آنے والے نہیں ‘‘کیسے لوگ ؟ جن کا ذکر میں اپنی اس تحریر میں کرنے والا ہوں،ایسے لوگ جو چوروں کی تاج پوشی کرتے ہیں!یہ ایک ایسی رسم ہے جو اول دن سے جاری ہے جو لوگ استحصال کرتے ہیں غریبوں کے خون پسینے کی کمائی کو غصب کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں غلط طریقے سے کمائی ہوئی دولت کے ذریعے جھوٹی شان و شوکت حاصل کرتے ہیں ان کی طاقت کے سامنے ہمیشہ غریب سر جھکاتا ہے اور ان کی تاج پوشی کرتا نظر آتا ہے ۔جب تک زر کثیف عوام کے ہاتھوں میں رہا تب تک امیری اور غریبی کا تعصب نہیں تھا اور دولت کی خاطر اتنی زیادہ تگ و دو بھی نہیں تھی لیکن ہر دور میں ہر معاشرے میں جہاں مخلص اور معصوم لوگ موجود ہوتے ہیں وہیں لالچی بھی ہوتے ہیں ۔دو صدیاں پہلے کی بات ہے کہ جب بنیوں اور سونے کے بڑے تاجروں نے دیکھا کہ اگر زر کثیف عوام کے پاس رہے تو وہ کبھی بھی دولت مند نہیں بن سکتے اور دولت کے بغیر طاقت ممکن نہیں تو انہوں نے زر لطیف متعارف کروایا اورعوام الناس میں یہ ہوا چلا دی کہ ضروریات زندگی اور لین دین کیلئے یہ زر لطیف پاس ہونا ضروری ہے زر کثیف کے بدلے کوئی چیز نہیں ملے گی ۔عوام نے اپنا زر کثیف سونا ،چاندی وغیرہ سونے کے تاجروں کے پاس رکھ کر اس کے بدلے زر لطیف حاصل کر لیا جس کے بعد اس زر لطیف کو آہستہ آہستہ بے قیمت بنا کر عوام سے سارا زر کثیف لوٹ لیا گیا اور انہیں چند تاجروں اور بنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ۔روپیہ سنسکرت کے لفظ ’’روپا ‘‘سے ماخوذ ہے جس کے معنی چاندی کا سکہ ہیں اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ لوگوں کو زر کثیف کے بدلے اسکی قیمت کے مطابق چاندی کا سکہ دیا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا کاغذی کرنسی تو بالکل ہی واضح طور پر لوٹنے کے مترادف ہے اور جو سکے پاکستان میں رائج تھے وہ آزادی کے وقت تو سلور اور تانبے کے تھے اور بعد میں تانبے کے رہ گئے جن میں چاندی کی رائی بھی شامل نہیں ہوتی تھی اور اب تو بالکل ہی سلور کا وہ معیار استعمال کیا جا رہا ہے جو کوئی وزن اور قیمت نہیں رکھتا ۔بنیوں اور تاجروں کی اس پالیسی سے زیادہ عوام غربت کی لکیر سے بھی نیچے جا چکی ہے اور کچھ لوگ روزانہ امیر سے امیر تر ہو تے جا رہے ہیں ۔یہ سب سے بڑی وجہ ہے کہ غریب لٹیروں کی تاج پوشی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔پاکستان ستر برس کا ہوچکا ہے جو کہ اسلامی نظریے اور شریعت محمدی کے نفاذ کی غرض سے حاصل کیا گیا تھا لیکن افسوس کہ شریعت محمدی رائج نہ ہو سکی یہی ایک وجہ ہے کہ ہم آج تک ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں ،ہماری شہ رگ آج بھی دشمن کے ہاتھوں میں ہے اورہم چوروں کی تاج پوشی پر مجبور ہیں ۔پاکستان کی تاریخ میں ہر دہائی میں مختلف معموں اور تصفیہ طلب تنازعات نے جنم لیا اور حکمرانوں و رعایا کی کسمپرسی کی یہ حالت ہے کہ آج تک کسی معمے یا تنازعے کا حل نہیں نکا لا جا سکا ہم تاریخ کی ان باتوں کو نہیں دوہراتے کہ ایوب خان نے مارشل لاء کیوں لگایا ؟بانی وطن محمد علی جناح کی موت سازش تھی یا نہیں اس کو آئینہ کیوں نہیں کیا گیا ؟لیاقت علی خان کی موت کے پیچھے کیا راز پوشیدہ تھا ؟راشد منہاس کی شہادت کے بعد ذمہ داران کے ساتھ کیا کیا گیا؟بھٹو کی پھانسی اور اس کے بیٹے مرتضیٰ بھٹو ،بیٹی بے نظیر بھٹو کی موت کے ذمہ داران آج تک کیوں نہیں سامنے لائے گئے ؟جنرل یحیٰ خان کے مارشل لاء لگانے کے پیچھے کلیدی کردار کس نے ادا کیا ؟اکہتر کی جنگ میں جو پاک فوج کے جوانوں کی پیٹھ پر گولیوں سے چھلنی کیا گیا اس میں حکمرانوں کا کیا کردار تھا ؟جنرل ضیا ء الحق نے جب اسلامی شریعت کے نفاذ کیلئے واضح پالیسی مرتب کی تو انہیں عوام میں ذلیل کیوں کیا گیا ؟بلکہ ہم صرف ایک دہائی کی بات کرتے ہیں پرویز مشرف کی حکومت کے بعد کی بات کرتے ہیں !ہم حسین حقانی کی بات کرتے ہیں !کہ اگر اس کا کردار ملک دشمن عناصر کی حوصلہ افزائی کرتا رہا اگر وہ قوم کا مجرم تھا تو اس وقت کی وزارت داخلہ نے اسے ملک سے باہرجانے کی اجازت کیسے دی ؟ہم حج کرپشن سکینڈل کی بات کرتے ہیں جس میں کرپشن ثابت ہونے کے با وجود اچانک اتنے برس بعد ملزم کو بری کیوں کر دیا گیا ؟ہم راجہ رینٹل کی بات کرتے ہیں جس کے خلاف بڑے بڑے ثبوت اکٹھے ہونے کے با وجود ان سے قوم کے پیسے نہیں نکلوائے گئے۔ ملک میں توانائی کی پیدا وار کو بڑھانے کیلئے ذرائع بڑھانے کی بجائے کرائے کے بجلی گھر منگوائے گئے ؟قبروں کی جگہ کو بیچا گیا !ایفیڈرین کیس میں سوائے دو منٹ خاموش کھڑے رہنے کے کوئی سزا نہیں دی گئی اور آج تک قوم کا پیسہ واپس نہیں لایا جا سکا؟ڈاکٹر عاصم جس نے نہ صرف دہشتگردوں کی سہولت کاری کی بلکہ ساڑھے چار سو ارب روپے کی کرپشن کی اسے چھوڑ دیا گیا !اس کی جے آئی ٹی رپورٹ کیوں نہیں سامنے لائی گئی؟مشتاق رئیسانی جس نے کھربوں کی کرپشن کی اس سے اونٹ کی جگہ اونٹ کی لگام لے کر چھوڑ دیا گیا !قائد اعظم سولر پارک پر جو قوم کا پیسہ لگا کر اپنی عیش و عشرت کی جگہ بنائی گئی اس کا جواب کیوں نہیں دیا جا رہا؟میٹرو بس چلانے سے جو روزانہ کی بنیاد پر نقصان ہو رہا ہے اور نہلے پہ دہلا یہ کہ میڑو ٹرین کا منصوبہ شرع کر دیا گیا ہے جس کی کرپشن کے قصے آئے روز سننے میں آتے ہیں ان پر کوئی سوال کیوں نہیں ؟نیب میں تقرریاں اس ترتیب سے کی گئیں کہ کہ جو جتنا بڑا استحصال مافیا تھا اسکو اتنا ہی بڑا عہدہ عطا کیا گیا!ایان علی رنگے ہاتھوں پکڑی گئی لیکن وہ آج بھی عزت دار خاتون ہے!شرجیل میمن اربوں لوٹ کر بھی عزت دار شہری ہے جس پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا !یوں لگتا ہے جیسے سب کو کلین چٹ تھما دی گئی ہو جو جتنا بڑا چور اس کے سر اتنا بڑا تاج !پاناما کیس کا فیصلہ بھی محفوظ ہے جس پر پاکستان کا مستقبل ٹھہرا ہے کیوں کہ جتنا پیسہ آف شور کمپنیاں کھول کر لوٹا گیا اگر وہ واپس آ جائے تو پاکستان آئی ایم ایف کے قرض سے چھٹکارا پا سکتا ہے اور معاشی طور پر مستحکم اور خوشحال ہو سکتا ہے ۔پاناما فیصلہ اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کیلئے تشویش ناک بنا ہوا ہے خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف کیلئے اسی وجہ سے جیسے ہی پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو موقع ملا انہوں نے مبارکباد کے بہانے ہی سہی آرمی چیف سے ملاقات کی اور پاناما کیس کے فیصلے قبل عوامی و سیاسی حلقوں میں ایک عجب سے سناٹے پر تبادلہ خیال بھی کیا ہو گا اور اس کے بعد عمران خان کا یہ بیان کہ آرمی چیف ملک میں جمہوریت کو مضبوط بنانے کے حق میں ہیں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چاہے چوروں کی تاج پوشی ہو یا نہ ہودونوں صورت میں ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال سے نپٹنے اور ملک میں جمہوری نظام کو بحال رکھنے کیلئے پاک فوج ہمہ وقت تیار ہے ۔لیکن اگر یہاں دیکھا جائے تو ان چوروں کی تاج پوشی کی ذمہ دار عوام ہی ہے ؟جیسے علی بابا چالیس چور کی کہانی ،چور مچائے شور کہانی جس میں چوروں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے مطلب یہ سبق دیا جاتا ہے کہ چوری کرنا ایک اچھا عمل ہے لیکن اسلام میں اس کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے ۔عوام نے یہ معیار بنا رکھاہے کہ جو جتنا بڑا چور ہے اس کو اتنا ہی زیادہ عزت سے نوازتے ہیں اور اپنے مینڈیٹ کے ذریعے ان کی تاج پوشی کرتے ہیں اور پھر انہیں حکمرانوں کے جب بڑے بڑے سکینڈل خبروں میں انکی نظروں سے گزرتے ہیں تو پھر اس کے خلاف باتیں کرتے ہیں لیکن اس کے با وجود جب دوبارہ مینڈیٹ دینے کی باری آتی ہے تو دوبارہ ایسے ہی استحصالی بھیڑیوں کو ایوانوں میں تاج پہنا کر بیٹھا دیتے ہیں ۔عوام کی جب تک سوچ نہیں بدلے گی جب تک یہ گونگے ،بہرے اور اندھے پن سے باہر نہیں آئیں گے جب تک انہیں ہدایت نہیں آئے تب تک اس ملک میں چوروں کی تاج پوشی ہوتی رہے گی۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 212 Articles with 91013 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
04 Apr, 2017 Views: 606

Comments

آپ کی رائے