ملکہ کے سالے

(Azhar Iqbal Mughal, )

 بھلے وقتوں کی بات ہے جب دُنیا نے بہت زیادہ ترقی نہیں کی تھی لوگ کھیتی باڑی کر کے اپنا گزارہ کرتے تھے کافی لوگوں کا گزر بسر زراعت پر ہی ہوتاتھا اسی دور میں ایک آدمی نے خربوزے بیج رکھے تھے جب خربوزے پک گئے تو اسے کسی نے بتایا کہ ساتھ کے مُلک میں اگر وہ اپنے خربوزے جا کر بیچے تو اُسے قیمت اچھی مل سکتی ہے اس دور میں دوسرے مُلک جانے کیلیے ویزہ کی ضرورت نہیں ہوتی تھی آسانی سے انسان دوسرے ملک جاسکتا تھا اُس آدمی نے خربوزے لیے اور دوسرے ملک کی طرف سفر شروع کر دیا جب وہ اس ملک میں پہنچا تو راستے میں اُسے کچھ لوگ ملے جنہوں نے اس آدمی سے محصول مانگا اس آدمی نے محصول دے دیا اسی طرح اسے اور لوگ بھی ملے جنہوں نے اس سے محصول مانگا سارے خربوزے اس نے محصول میں دے دیے اب وہ بیچارا جوپیسے کمانے کی غرض سے آیا تھا پریشان ہوگیا کہ آخر کرے تو کیا کرے کیوں کہ وہ اپنے سارے خربوزے تو محصول میں لُٹا چکا تھا اب وہ سوچ رہا تھا آخر کیا کرے وہ اس مُلک کے حالات تو جان چکا تھا کہ یہاں کوئی پوچھنے والا تو ہے نہیں آخر کار اسے ایک ترکیب سوجھی وہ قبرستان جا کر بیٹھ گیا جو بھی مردہ دفن کرنے آتا وہ اس سے کہتا کہ میں ملکہ کا سالا ہوں اور بادشاہ نے میری یہاں ڈیوٹی لگائی ہے وہ سب سے مردہ دفن کرنے کا ٹیکس لیتا سب چپ کر کے اسے پیسے دے جاتے کوئی بھی اس سے کچھ نہ پوچھتا کہ کیوں پیسے دیں نہ ہی کوئی بادشاہ کو جاکر شکایت کرتا اسی طرح اس نے بہت سارے پیسے جمع کرلیے ایک دن بادشاہ کا کوئی رشتہ دار مر گیا بادشاہ اُسے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دفنانے آیا اُس آدمی نے بادشاہ کو بھی بتایا کہ وہ ملکہ کا سالا ہے بادشاہ بھی اسے ٹیکس دے کرچلا گیا کچھ دنوں بعد بادشاہ اپنی ملکہ کے ساتھ اکیلے میں بیٹھا ہوا تھا کہ بادشاہ کو اچانک وہ آدمی یاد آیا اس نے ملکہ کو بتایا کہ کچھ دن پہلے آپ کا سالا مجھے ملا تھا اور اس آدمی کی ساری حالت بیان کی بادشاہ کی یہ بات سن کر ملکہ ہنس پڑی باشاہ نے جب ہنسی کی وجہ پوچھی تو ملکہ نے بتا بادشاہ سلامت سالے مردوں کے ہوتے ہیں عورتوں کے نہیں یہ سن کر بادشاہ کو اُس آدمی پر بہت غصہ آیا بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کو حکم دِیا کہ اس آدمی کو گرفتار کر کے لے آئیں سپاہی اس آدمی کو گرفتار کر کے لے آٖئے اور بادشاہ سلامت کی خدمت میں پیش کیا بادشاہ نے جب اُس آدمی سے پوچھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تو اس آدمی نے سارا واقعہ بیان کیا -

یہی حالت کچھ ہمارے ملک کی ہیں ادھر بھی کویی پوچھنے والا نہیں ہے ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم ہے ہرکویی اپنی مرضی کا مالک ہے دوکاندار اپنی مرضی کا ریٹ لاگاتے ہین لیکن کویی اُن کو نہیں پوچھتا کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے اسی طرح ہر طرف چوربازاری ہے سب اپنے آپ میں مگن ہیں اسی طرح ملکہ کے سالے بن کر ہر دوسرا بندہ ملک قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں لیکن کویی پوچھنے والا ہی نہیں جو اِن کو روک سکے موجودہ دور میں کوٖیی اس بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتا کویی ایسی جگہ نہیں جہاں رشوت نہ چلتی ہو اگر ہسپتالوں میں چلے جایں تو وہاں کا ملکہ کے سالے سر عام پیسے مانگتے ہیں حالانکہ سب کچھ سرکاری ہسپتالوں میں مفت ہے اور وہاں کے ملازمیں کو تنخواہ بھی دی جاتی ہے سب وہاں چپ چاپ پیسے دے کر آ جاتا اسی طرح دوسرے محکموں کا حال ہے بھی اسی طرح ہیں جب تک ہم خود ٹھیک نہیں ہوں گے اس طرح ہوتا رہے گا اس طرح کا بگاڑ پیدا کرنے میں کافی حدتک ہم لوگ خود بھی ملوث ہیں جب تک ہم خود اس بُرایی کو روکنے کی کوشش نہیں کریں گے اس کی روک تھام مشکل نہیں ناممکن ہے آج ہم لوگ اس طرح بے ضمیر ہو چکے ہیں کہ کچھ بھی ہو رہا ہے اپنی آنکھیں بند کیے ہویے ہیں اس طرح آنکھیں بند کر لینے سے سے مسایل میں دن بند اضافہ ہی ہو گا کمی نہیں واقعہ ہو سکتی ایسے واقعات تب کم ہو سکتے ہیں جب ہر پاکستانی محب وطن ہونے کا ثبوت دے اور اِن کالی بھیڑوں کو بے نقاب کرے آج کے دور میں کون ایسی چیز ہے جس میں ملاوٹ نہیں ہے لیکن ہم سب کچھ جانتے ہوییے خاموش ہیں کیوں کہ کویی بھی حقیت کا سامنا نہیں کرنا چاہتا ایک منشیات فروش اکیلا منشیات فروخت کرتا ہے لیکن پچاس لوگ بھی اس اکیلے کا کچھ نہین بگاڑ سکتے کیوں کہ کویی کچھ کرنا نہیں چاہتا سب نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں ہر دوسرا بندہ حقیقت سے منہ پھیرے ہویے ہے جب تک اس ملک میں مﷲ کے سالوں کا قبضہ ہے ملک ترقی نہیں کر سکتا اگر ملک کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں تو اِن ملکہ کے سالوں کو ختم کرنا ہوگا -
اظہر اقبال مُغل

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Azhar Iqbal Mughal

Read More Articles by Azhar Iqbal Mughal: 36 Articles with 20785 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Apr, 2017 Views: 477

Comments

آپ کی رائے