تبصرہ’’مقالات اویسیہ‘‘ ۔۔۔فکر و معیار کے آئینے میں

(Peer Owaisi, Narowal)

شاہد رشید شیخ۔۔۔۔معروف کالم نگار
(ضلع )نارووال وہ مردم خیز علاقہ ہے جہاں کئی نابغہ روزگار شخصیات نے جنم لیا ۔ جنہوں نے اپنے فکر و فن اور مساعی جمیلہ سے زمانے بھر میں نام کمایا اور معزز و محترم ٹھہرے۔ اگر شعر و سخن اور تصنیف و تالیف کے میدان پہ نظر ڈالی جائے تو حضرت پیر سید ہاشم شاہ تھرپالوی رحمۃ اﷲ علیہ (مصنف سسی) ،فیض احمد فیض ،افضل احسن رندھاوا، ڈاکٹر وحید عشرت، وارث سرہندی، یونس احقر، سرور ارمان سمیت کئی معتبر نام ہیں جنہوں نے علم و ادب کی آبیاری میں اپنا حصہ ڈالا ،شعبہ قانون کی بات کی جائے تو ایس ایم ظفر، جسٹس (ر) اعجاز چوہدری کے نام کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ یہ کریڈٹ بھی اسی سرزمین کو جاتا ہے کہ تحریک پاکستان کی سب سے قد آور شخصیت ولی کامل حضرت پیر سید حافظ جماعت علی شاہ محدث علی پوری رحمۃ اﷲ علیہ نے تحریک حصول پاکستان کی جدو جہد کا آغاز یہیں سے کیا اور آپ نے اس تحریک کو گلی گلی ،کوچہ کوچہ ،شہر شہر مقبول عام بنانے میں وہ کردار ادا کیا جو آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے ۔ اس سر زمین کے علمائے کرام نے ہمیشہ محراب و منبر کو آباد رکھا اور تحریک پاکستان تحریک ختم نبوت ﷺ، تحریک نظام مصطفےٰ ﷺسمیت تمام قومی، ملکی اور دینی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔آج بھی مسلک حق اہلسنت و جماعت کے علمائے ربانیین نہ صرف علوم قرآن و حدیث کی ترویج و اشاعت میں ہمہ تن مصروف ہیں بلکہ ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار اداکر رہے ہیں۔ انہی علمائے حق میں ایک نام حضرت علامہ مولانا پیر محمد تبسم بشیر اویسی دامت برکاتہم العالیہ کا ہے ۔

حضرت علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی مد ظلہ نے درسیات جامعہ حنفیہ غوثیہ شیرا کوٹ لاہور سے پڑھیں اوراَجید علمائے کرام کے دسترخوان علم سے خوشہ چینی کی۔علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی مد ظلہ کو میرے پیر و مرشد جامع معقول والمنقول حاوی الاصول والفروع کنز الکرامت جبل استقامت شیخ القرآن و الحدیث نائب محدث اعظم پاکستان ،پیر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا ابو محمد محمد عبد الرشید قادری رضوی رحمۃ اﷲ علیہ سے بھی شرف تلمذ ہے ۔ آپ رحمۃ اﷲ علیہ حضرت علامہ مولانا پیر محمد تبسم بشیر اویسی مد ظلہ سے بہت محبت فرماتے اور پیار سے کہا کرتے تھے۔
’’مولانا تبسم بشیر آپ اسم بامسمی تبسم ہیں‘‘

یہ ان بلند پایہ مقتدر علمائے کرام اور حضور بدرالمشائخ منبع فیوض و برکات ،قدوۃ السالکین ،راحت العاشقین ،حضرت پیر سائیں محمد اسلم اویسی رحمۃ اﷲ علیہ کی تربیت و فیضان ہے کہ آپ عقائد و معمولات اہلسنت و جماعت پر کاربند اور اصول و فروعات کے جملہ مسائل میں شیخ الاسلام والمسلمین اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدد دین ،ملت مجدد مائۃ حاضرہ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی قدس سرہ العزیز کی تحقیقات پر عمل پیرا ہیں۔ آپ نے ہمیشہ اعتدال اور محبت کا دامن تھامے رکھا ہے اور امن و آشتی کا پرچار کیا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کو تمام مکاتب فکر میں عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے آپ کو سلسلہ عالیہ اویسیہ میں آستانہ عالیہ اویسیہ علی پور چٹھہ شریف سے خلافت و اجازت حاصل ہے ۔اسی نسبت سے اگر آپ کو گلشن اویسیہ کا گل سرسبد کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔
بہت جی خوش ہوا حالی سے مل کر ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

ہمارے دیکھنے کی بات ہے کہ حضرت علامہ مولانا پیر محمد تبسم بشیر اویسی ایک نوجوان گل رعنا کی صورت نارووال کے گلدستہ علمائے کرام میں شامل ہوئے تو اہل سنت کے گلشن میں جیسے بہار آگئی ۔ آپ فاضل نوجوان کی حیثیت سے ہر محفل کی جان ہوتے ،تقریر کرتے تو مجمع پر چھا جاتے، دلائل دیتے تو کتب کثیرہ کے انبار لگا دیتے ،قرآن پڑھتے تو دلوں میں اتر جاتے ،عارف کھڑی شریف رحمۃ اﷲ علیہ کے اشعار سناتے تو لوگ راستہ بھول جاتے ، حضرت دحیہ قلبی رضی اﷲ عنہ کی بیٹی کا واقعہ سناتے تو رلا دیتے ،سرکار دو عالم ﷺ کے حسن و جمال کا تذکرہ کرتے تو گلاب کھلا دیتے ،گویا اپنی گفتگو سے دلوں کو گل و گلزار بنا دیتے ۔سر مستان باد ہ محبت ان کی محفل میں کشاں کشاں چلے آتے ۔
ترا انداز تکلم موسم گل کا نکھار!
ولولے نغمہ سراہیں بج رہے ہیں دل کے تار

انہیں گوناں گوں خوبیوں کے باعث اہل محبت نے آپ کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور سر آنکھوں پر بٹھایا آپ کومحبت رسول ﷺ کی خوشبو بکھیرنے کیلئے پاکستان کے کونے کونے میں بلایا جانے لگا۔

پھر آپ نے تحقیق و تدقیق اور تحریر و تالیف کے میدان میں قدم رکھا تو آپ کے قلم گہر بار سے منصہ شہود پہ آئے مضامین پاکستان بھر کے صفِ اول کے اخبارات کی زینت بننے لگے ،روز نامہ جنگ،روزنامہ خبریں،روزنامہ پاکستان ، روزنامہ نوائے وقت ،روزنامہ جناح،روزنامہ نئی بات، روزنامہ دنیا ، روزنامہ آفتاب کوئٹہ /اسلام آباد ،روزنامہ سماء ، روزنامہ وائس آف پاکستان ،روزنامہ اخبار خیبر پشاور ،روزنامہ کشمیر ٹائمزسمیت مؤقر اخبارات اورجرائد مثلاً ماہنامہ سنی ترجمان کراچی،ماہنامہ لاثانی انقلاب،ماہنامہ مناط الاسلام ساھو چک، ماہنامہ امیر ملت لاہور،ماہنامہ ضیاء حرم بھیرہ شریف،ماہنامہ ضیائے مصطفےٰ عارفوالہ،ہفت روزہ رہبر سرینگر مقبوضہ کشمیراور ہفت روزہ اصول معرفت نارووال میں چھپتے تو داد و تحسین کی دولت سمیٹ لیتے ۔ آپ کے مضامین پاکستان اور بیرون پاکستان بھی اہل علم و محبت کو متاثر کرتے ۔آج بھی اخبارت کے مذہبی ایڈیشن آپ کے مضامین سے مہک اٹھتے ہیں کیوں نہ ہو یہ محبت رسول ﷺ کی مہک ہے ۔
انہیں کی بو مایۂ سمن ہے انہیں کا جلوہ چمن چمن ہے
انہیں سے گلش مہک رہے ہیں انہیں کی رنگت گلاب میں ہے
اگر معیا ر کے آئینے میں دیکھا جائے تو آپ کے مضامین ارتکاز ، ایجاز اور بلاغت کا بہترین نمونہ نظر آتے ہیں ۔ آپ کے مضامین رطب و یابس ،حشو و زوائد سے مبرا موضوع کے عین مطابق مدلل مبرھن ہوتے ہیں ۔ علاوہ ازیں آپ کے مضامین کی درج ذیل خوبیاں ان کو دوسروں سے ممتازکرتی ہیں۔
1:۔آپ کے مضامین کا منفرد انداز ،دلکش طرز تحریراور علمی نقطے صرف قاری کو اپنی طر ف متوجہ ہی نہیں کرتے بلکہ قاری کو مکمل مضمون پڑھنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
2:۔آپ اپنے مضامین میں اشعار کا برمحل استعمال ،قرآن مجید فرقان حمید کی آیات و تفسیر ، احادیث مبارکہ اور ان کی شرح سے اپنے مقالہ جات /مضامین کو ثِقہ اور وقیع بنا دیتے ہیں۔
3:۔آپ مضامین میں تشبیحات ،استعاروں ،اور تلمیات کا استعمال اس خوبی سے کرتے ہیں کہ گویا کوزے میں دریا بند کر دیتے ہیں ۔ ہرہر لفظ ایک ایک مکمل واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔
4:۔آپ کی نثر اعلیٰ معیار کی ہوتی ہے اور بعض اوقات آپ کی نثر کا انداز اتنا پیارا اور دلکش ہو جاتا ہے کہ نثر میں نظم کا مزہ(تلازمات کے بر محل استعمال کی بنا پر) آنے لگتا ہے۔ آپ کا مقالہ /مضمون ’’حضرت بدرالمشائخ اور بنائے سلسلہ اویسیہ ‘‘اس کی مثال ہے ۔
5:۔آپ کے مقالہ جات /مضامین کے دلائل نہایت معتبر اور ثِقہ ہوتے ہیں اور اختلاف کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔
6:۔آپ کے مضامین کا ابتدائیہ تو پورے مضمون کا خلاصہ اور جان ہوتا ہے ۔ ابتدایہ کا ہر لفظ متعلقہ مضمون کے گوشوں کی تشریح و توضیح کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔

راقم الحروف کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ راقم نے سب سے پہلے حضرت علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی کو مطبوعہ مضامین کو یکجا کر کے ’’مقالات اویسیہ ‘‘ ترتیب دینے کا مشورہ دیا اور مقالات اویسیہ کا نام تجویز کیا ۔بلکہ راقم الحروف نے ایک کالم بعنوان ’’مقالات اویسیہ کی ضرورت ‘‘ لکھا جو کہ روزنامہ آپ لاہور نے اپنی اشاعت 23/07/2010اور روزنامہ آفتاب کوئٹہ /اسلام آباد نے اپنی اشاعت مورخہ25/07/2010میں شائع کیا ۔

یہ بات باعث مسرت ہے کہ حضرت علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی مد ظلہ کے مقالہ جات /مضامین کو یکجا کر کے ’’مقالات اویسیہ ‘‘جلد اول مرتب کی گئی ہے۔جو شائع ہو چکی ہے۔اس کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ یہ شائع ہونے کے فوری بعد مدینہ منورہ روضۂ رسول ﷺمواجہہ شریف کے سامنے بارگاہ رسول ﷺ کے سامنے قبولیت کیلئے پیش کی گئی۔اس کی ترتیب و تبویب بڑے احسن انداز سے کی گئی ہے ۔ترتیب کچھ یوں ہے ۔1۔کلمہ طیبہ کی عظمت ۔2۔ذکر اﷲ سکون قلب کا ذریعہ۔3۔ فرائض نماز اور روحانی فوائد۔4۔سجدہ جسے توں گراں سمجھتا ہے۔5۔نماز میں صف بندی کی فضیلت۔6۔روزہ تزکیہ نفس کا ذریعہ۔7۔نظام زکوٰۃ و عشر کی افادیت و اہمیت۔8۔حج کے احکام و مسائل۔9۔درود شریف ذریعہ سعادت دارین۔10۔نعت اور آداب نعت۔11۔ میرا پیغمبر ﷺ عظیم تر ہے۔ 12۔محافل میلاد مصطفےٰ ﷺ کے آداب۔13۔ عقیدۂ ختم نبوت اور جھوٹے مدعیان نبوت کا انجام۔14۔ تحفظ ناموس رسالت ﷺ ۔ 15۔رسو ل اﷲ ﷺ کی پسندیدہ غذائیں۔16۔ سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اﷲ عنہا۔17۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کے فضائل میں چالیس احادیث۔18۔ عقائد و نظریات سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ۔19۔ حیاء کے پیکر سیدنا عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ۔20۔فاتح خیبر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ۔21۔ سیدنا امام حسن المجتبیٰ رضی اﷲ عنہ۔22۔سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کا پیغام تسلیم و رضا ۔23۔ فضائل و ارشادات سیدنا خواجہ اویس قرنی رضی اﷲ عنہ ۔24اور ولایت محمد ی ﷺ کے حامل بدرالمشائخ پیر سائیں محمد اسلم اویسی رحمۃ اﷲ علیہ ۔یہ کتاب نوجوانوں اور آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک اہم دستاویز ہے۔اُمید واثق ہے کہ ’’مقالات اویسیہ‘‘ قارئین کو ضرور پسند آئیگی بلکہ علمی مضامین سے بھر پور استفادہ کا موقعہ فراہم کر ے گی ۔اﷲ رب العزت جل جلالہ سے دعا ہے کہ بطفیل حضور پر نو ر احمد مجتبیٰ حضرت سیدنا محمد مصطفی ﷺ کتاب کو قبول عامہ کا درجہ عطا فرمائے اور اسے توشۂ آخرت بنائے ۔ آمین یا مجیب السائلین
٭خوبصورت4کلر ٹائٹل ٭مضبوط جلد٭صفحات 300٭قیمت 300روپے ۔
ملنے کا پتہ :مرکز اویسیاں جامعہ اویسیہ کنز الایمان محلہ رسول نگر نارووال۔
موبائل نمبر0300-6491308

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Peer Owaisi

Read More Articles by Peer Owaisi: 40 Articles with 28024 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Apr, 2017 Views: 748

Comments

آپ کی رائے