تحریک آزادی اورسید علی گیلانی

(Muhammad Saghir Qamar, )

کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام محمد شاہ سے ایک مرتبہ پنڈت نہرو نے پوچھا ‘آپ کو کتنے کشمیریوں کی حمایت حاصل ہے ؟اس نے کہا’’چالیس لاکھ کشمیری میرے ساتھ ہیں‘‘۔ شیخ عبداﷲ کے ساتھ کتنے لوگ ہیں؟ نہرو نے پھر پوچھا’’ اس کے ساتھ بھی چالیس لاکھ۔ ‘‘نہرو نے حیرانی سے تیسرا سوال کیا۔ کشمیر کی کل آبادی کتنی ہے ؟تو غلام محمد شاہ نے جھٹ کہا ’’چالیس لاکھ ‘‘…… نہرو کی طرف سے حیرانی ظاہر کرنے پر اس نے کہا…… ’’جتنے لوگ میرے جلسے میں ہوتے ہیں ‘اتنے ہی شیخ عبداﷲ کے جلسے میں بھی ہوتے ہیں۔‘‘ حد یہ ہے کہ آج بھی دورنگی اور منافقت سے کام لینے والے لیڈر اہل کشمیر کی نظروں کے لیے کشش رکھتے ہیں۔ریاست جموں و کشمیر کے غیور و جسور عوام گزشتہ دو صدیوں سے غلامی کے اندھیروں میں کیوں بھٹک رہے ہیں ؟……کائنات کا یہ حسین ترین خطہ جسے جنت ارضی کہا جاتا ہے ‘مسلسل جبر و استبداد کا شکار کیوں ہے؟ یہ طویل رات کب سحر ہوگی؟ ……اس سوال کا جواب ہر کشمیری کو معلوم ہے اور آپ جس کسی سے بھی دریافت کریں وہ یہی کہتا ہے کہ سر زمین کشمیر کی طویل غلامی کا سب سے بڑا سبب مخلص اور دیانت دار قیادت سے محرومی ہے ۔قدرت نے بار بار کشمیریوں کو موقع دیا کہ وہ حق و باطل میں امتیاز کریں مگر اس میں ناکام رہے‘ نیک نہاد رہنماؤں کو نظر انداز کرتے رہے اور وطن فروشوں کا ساتھ دیتے رہے۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔آج اس قوم کو قدرت نے پھر ایک موقع دیا ہے کہ غداروں ‘ بے وفاؤں اور استعماری ایجنٹوں کے ہجوم میں مخلص اور دیانت دار قیادت کو پہچانے اور اس کا ساتھ دے ‘تا کہ اس مظلوم ملت پر آزادی کا سورج طلوع ہو سکے ۔اﷲ تعالیٰ نے قوموں کی زندگی میں مثبت انقلاب کے لیے جہدو عمل کی لازمی شرط عاید کی ہے۔ ’’بے شک اﷲ تعالیٰ کسی قوم کے حال کو تبدیل نہیں کرتاجب تک کہ وہ خود اپنے اوصاف کو تبدیل نہ کرے۔‘‘اہل کشمیر اس شرط پر پورے اترنے میں بار بار ناکامی سے دوچار ہوئے ۔سب سے بڑی نامرادی یہ رہی کہ راہزنوں کو رہنما سمجھتے رہے ‘مکاروں اور جھوٹوں کی تقلید کرکے اندھے راستوں پر بھٹکتے رہے ۔غداروں اور بے وفاؤں کو ’’بابائے قوم ‘‘اور’’ شیر کشمیر‘‘ قرار دیتے رہے ۔ جس قوم کے عقائدو نظریات امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ کے سچے افکار پر استوار ہوئے‘ وہ ملت کہ جس کی روح میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم کی محبت اتنی گہری پیوست ہے کہ آپ ؐ سے منسوب موئے مبارک پر بھی سو جان سے فدا ہو جاتی ہے‘ غدارقیادت نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا ۔شیخ عبداﷲ سے لے کر مفتی سعید تک بھارتی ایجنٹوں کا ٹولہ ہمیشہ کشمیری عوام کی توجہ کا مرکز رہا ۔یہاں تک کہ کو کا پرے جیسے غداروں کو کندھوں پر بٹھایا جاتا رہا ۔

حالیہ قربانیوں کے بعد اس قوم کی آنکھیں کھل رہی ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ کشمیری عوام مخلص قیادت کو پہچان بھی رہے ہیں اور اس کی پکار پر لبیک بھی کہہ رہے ہیں۔ اس قیادت میں سید علی گیلانی کی پوری زندگی جہدو عمل سے عبارت رہی ہے ۔ وہ اپنی قوم کے لیے ایک کسوٹی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔اگر قوم نے ان کی قربانیوں کا اعتراف کرلیا ہے تو اس بات کی امید کی جانی چاہیے کہ اس کا دور الم گزرنے والا ہے ۔سید علی گیلانی نے ہمیشہ کشمیری عوام کو واضح الفاظ میں پہ پیغام دیا کہ ان کا مستقبل اسلام اور پاکستان سے وابستہ ہے ۔جو لوگ انہیں اس نصب العین سے دور کرنا چاہتے ہیں وہ ان کے دوست نہیں ‘دشمن ہیں ۔کل جماعتی حریت کانفرنس کو اہل کشمیر نے ایک ایسے وقت میں اپنی مکمل نمائندگی کا حق دیا تھا کہ جب تحریک آزادی اپنے عروج پر تھی ‘ حریت کے رہنماؤں نے بھی تحریک کا پرچم اٹھا کر گھاٹے کا سودا نہیں کیا تھا ‘اپنے لیے عزت و سرفرازی کا انتخاب کیا تھا ۔لیکن کبھی کبھی ایسا لگتا ہے ان رہنماؤں میں سے کچھ چند قدم چل کر ہی تھکن کا شکا رہو گئے ۔وہی روایتی مفاد پرستی ‘جاہ پسندی اور خود سری ان کا وطیرہ بن گئی جو ان کے پیش روؤں کا خاصہ تھی ۔ گزشتہ چندبرس سے یوں لگتا تھا کہ ان کے سامنے کوئی مقصد ہی نہیں رہا ۔اعلیٰ نصب العین کے بغیرفرد کی سعی بھی اسی طرح لا حاصل رہتی ہے جس طرح قوموں کی اجتماعی جدوجہد بے سود ثابت ہوتی ہے۔حریت کانفرنس کو عوام الناس نے اپنا نجات دہندہ سمجھ کر کوئی جرم نہیں کیا تھا‘ مگر وہ یہ تو نہیں چاہتے تھے کہ یہ لوگ اپنا نصب العین چھوڑ کر زندہ لاشیں بن جائیں ۔ حریت کانفرنس کے سابق چیئرمینوں نے جہاد کو ختم کرنے‘ پاکستان کے بغیر بھارت سے مذاکرات کرنے اور کشمیر کی خود مختاری وغیرہ جیسے نظریات پر مبنی ایسے مجہول بیانات دیے ‘جس سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی کہ وہ یکسوئی کے بجائے تذبذب کا شکار ہیں اور انہیں تحریک آزادی کی کامیابی کا یقین نہیں رہا۔وہ ان سے وفا کی امید وابستہ کر بیٹھے ہیں جو نہیں جانتے وفا کیا ہے ‘جن قاتلوں کے خونی ہاتھوں سے گزشتہ۲۷ برس میں ہزار وں کشمیری شہید ہو چکے ہیں ‘یہ ان ہی سے ہاتھ ملانے کے متمنی رہے ۔ وہ مسلسل دہلی کے چکر لگا رہے تھے ‘ قوم کی عزت اور وقار کو خاک میں ملا کر کوئے ملامت کا طواف کر رہے تھے ۔انہیں اﷲ تعالیٰ سے زیادہ امریکہ کی امداد اور تعاون پر بھروسہ تھا ۔حصول مقصد کے لیے اپنے دستور کی خلاف ورزی کرنے میں بھی کوئی عار نہیں رہی۔ ان کے رویے سے ایسا لگتا تھا کہ مشکل وقت میں اسلام اور پاکستان سے ناطہ توڑنے میں بھی دیر نہیں لگائیں گے ۔ان کی روش سے پتہ چلتا تھاکہ ان پر بھارتی کشمیر کمیٹی کے ’’دانش وروں ‘‘کا جادو چل چکا ہے۔ وہ اپنی نجی مجلسوں میں کئی بار کہہ چکے ہیں کہ جب تک اسلام اور پاکستان سے وابستہ رہیں گے منزل نہیں ملے گی ‘چونکہ امریکہ اسلام اور جہاد کو برداشت نہیں کر سکتا ۔امریکی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے سیکولر اورلبرل ہونا ضروری ہے ۔کشمیری عوام کھلی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ رہے تھے اور یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ حریت کانفرنس کی اس متذبذب قیادت کے برعکس سید علی گیلانی نے مشکلات کے طوفانوں میں بھی اپنا مبنی بر حق موقف ترک نہیں کیا۔ وہ آج بھی واضح الفاظ میں اسلام اور پاکستان کو ریاست جموں و کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ انسانوں کا مستقبل قرار دے رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے اسلام سے پختہ وابستگی کے بغیرتحریک آزادی کامیاب ہو سکتی ہے نہ ہی آزادی حاصل کرنے کے بعد بر قرار رکھی جا سکتی ہے ۔یہ صرف سید علی گیلانی کی سوچ نہیں ‘کشمیر کے عوام کی غالب اکثریت یہی سوچ رکھتی ہے ۔ اسلام اہل کشمیر کی زندگی میں ایسی حقیقت ہے جس کے بغیرانہیں کسی تحریک پر ابھارنا تو کجا‘ ان کو دھوکہ بھی نہیں دیا جا سکتا ۔کون نہیں جانتا کہ شیخ عبداﷲ نے کشمیریوں کو اپنے سحر میں گرفتار کرنے کے لیے اسلام کو استعمال کیا تھا۔ وہ خوش الحانی سے تلاوت قرآن پاک کر کے لوگوں کے دل موم کیا کرتا تھا ۔ دوسری طرف وہ اجتماعات میں اپنی تقاریر کے دوران درپردہ پاکستان سے محبت کا اظہار کرتا تھا‘ اس مقصد کے لیے اپنی جیب میں نمک کی ڈلی اور سبز رومال رکھتا تھا ۔کشمیر میں سبز رنگ اور نمک پاکستان کی علامتیں ہیں ۔دوران تقریر وہ بار بار نمک چکھتا اور سبز رومال کو چومتا اور پھر جیب میں رکھ لیتا ۔سادہ لوح کشمیری اس پر خوشی سے جھوم اٹھتے تھے لیکن جب کشمیریوں نے جان لیا کہ شیخ عبداﷲ غدار ہے ‘پاکستان اور اسلام کا دشمن ہے ‘تو اس کی قبر کو عوام کے غم و غصے سے بچانے کے لیے بھارت کو وہاں پہرا بٹھانا پڑا ۔اس کے باوجود اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان اور اسلام سے کاٹ کر کشمیری عوام کو تحریک آزادی سے وابستہ رکھا جا سکتا ہے ‘تو وہ سخت غلطی پر ہے۔ اسلام اور پاکستان آج بھی ہر کشمیری کو مال و جان سے زیادہ عزیز ہیں ۔ وقت آ گیا ہے کہ کشمیر کے عوام اپنی قیادت کے بارے میں ابہام کو چھوڑ دیں اور دھوکے بازوں سے الگ ہونے کا واضح انداز میں فیصلہ کر لیں ۔کشمیری عوام نے سید علی گیلانی کی جو پذیرائی کی ہے اور حریت کانفرنس کی اجتماعی قیادت نے جس طرح انہیں اپنا نظریاتی قائد تسلیم کیا ہے ‘وہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ مگر اہل کشمیر کو جان لینا چاہیے کہ منافقت اور دو رنگی کے اس ہجوم میں اﷲ تعالیٰ نے انہیں ایک سچے اور کھرے قائد کی قیادت عطاکر کے سنہرا موقع فراہم کیا ہے۔یہ موقع بار بار ہاتھ نہیں آئے گا ۔بر صغیر پاک و ہند کے مسلمان حضرت قائد اعظم ؒ کی قیادت پر یکسو ہو گئے تو اﷲ نے انہیں ایک آزاد پاکستان عطا کر دیا ۔آج اگر ہر کشمیری معرکہ حق و باطل میں اپنا کردار پہچان لے گا اور اپنے ایمان اور ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے سید علی گیلانی کا ساتھ دے گا‘ تو اﷲ کا قانون تغیر بروئے کار آئے گا اور کشمیر آزاد ہو جائے گا…… غلامی کی دو سو سالہ طویل شب کی سحر طلوع ہونے کا روح پرور منظردیکھنا ہے تو سید علی گیلانی کا ساتھ دینا ہوگا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Saghir Qamar

Read More Articles by Muhammad Saghir Qamar: 51 Articles with 21403 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Apr, 2017 Views: 273

Comments

آپ کی رائے