سیاسی دیوتا

(Ahwaz Siddiqi, karachi)

زمانہ جاہلیت کا اگر مطالبہ کیا جائے تو عرب جو کہ ایک ہی تھا۔ وہاں بسنے والے قبائل اپنی اپنی شناخت الگ رکھتے تھے اور ہر قبیلے نے اپنے دیوتا بنا رکھے تھے اور ہر قبیلہ اپنے دیوتا کی عبادت کرتا ، پوجتا، چٹرھاوے چٹرھاتا ۔ حالانکہ سب عربی تھے ان کے بت بھی ایک ہی جگہ رکھے ہوتے تھے۔

آج اگر ہم اپنے ملک پاکستان کی موجودہ تاریخ کا مطالبہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمارا ملک بھی اسی جاحلیت کے دور سے گزر رہا ہے اور ہر ایک سیاسی و مذہبی گروہ اور پاکستان کی اکائیوں نے اپنے اپنے دیوتا بنا رکھے ہیں اور ان اکائیوں نے قومی و مذہبی رہبروں کو بھلا دیا اور اپنے دیوتاؤں کا پرچار کرنے میں مصروف عمل ہیں ، ٹھیک ہے پرچار کےئجے ان کی فکر اور سوچ کو آگے بڑھائے یہ ہر ایک کا جمہوری حق ہے لیکن طاقت میں آنے کے بعد زبردستی کسی اور پر مت ٹھونسے، نہ جمہوریت اس کی اجازت دیتی ہے اور نہ ہی ہمارا آئین۔

جس طرح سندھ میں پیپلزپارٹی نے اپنا دیوتا متحرم زوالفقار علی بھٹو کو بنا رکھا ہے ۔ وہ پیپلزپارٹی اور اس کے کارکنوں کے قائد اور لیڈر تو ہوسکتے ہیں لیکن تمام پاکستانیوں کے لیڈر نہیں ۔ بھٹو صاحب میں کیا خوبیاں تھیں کے پوری قوم ان کو اپنا لیڈر یا پاکستان کا ہیرو کہے جب پیپلزپارٹی اقتدار میں ہو تو ۴ اپریل یوم پر پورے سندھ کی چھٹی کردی جائے، کاروبار زندگی معطل کردی جائے ۔ آخر بھٹو صاحب نے ایسا کونسا کارنامہ سرانجام دیا۔ سوائے ۱۹۷۱ میں ادھر تم ، ادھر ہم کا نعرہ لگانے پاکستان کو دولخت کرنے کے علاوہ کیا کیا۔ اپنی جائیداد میں اضافہ کے علاوہ کیا کیا۔ اپنی جائیداد کا کتنا حصہ پاکستان کو سنوار نے میں خرچ کیا۔

بھٹو صاحب ایک پارٹی لیڈر تھے بہت اچھے ، ان کی ذاہانت پر کسی کو شک نہیں ، البتہ ان کی جماعت پیپلزپارٹی ان کا عرس بھی منائیں اور سالگرہ بھی کریں ، لیکن پوری قوم پر اس طرح مسلط کرنا سراسر زیادتی ہے۔ دوسری جانب پاکستانی قوم تو سوال کرتی ہے قائد ملت لیاقت علی خان جوکہ اس ملک کے پہلےوزیر اعظم تھے، جنہوں نے پاکستان بنانے میں عملی جدوجہد کی اپنی نوابی کو ٹھوکر ماردی اور اپنی دولت پاکستان بنانے اور سنوانے میں لٹادی۔ جن کے مرنے کے بعد ان کے بدن پر پھٹی ہوئی بنیان تھی، باؤں میں پھٹے ہوئے موزے ، گھسے ہوئے جوتے اور بینک اکاؤنٹ میں صرف چند سو روپے موجود تھے۔

جو لیڈر پاکستان کا تھا (لیاقت علی خان) وہ پوری قوم اور ہر طبقہ کے لیڈر و ہیرو تھے۔ ان کی نہ وفات کی چھٹی ، نہ پیدائش کی بلکہ ان کی تو تاریخ و تعریف ہی مٹادی آخر یہ جہالت اور اقرہا پروری کب تک۔ ہمیں یاد رکھنا چاہے کہ جو قومیں اپنے محسنوں کو بھلاتی ہیں ، زمانہ انہیں بھلا دیتا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ahwaz Siddiqi
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Apr, 2017 Views: 273

Comments

آپ کی رائے