کرنل حبیب کو را نے اغوا کیا ہے....

(prof. Dr. Shabbir Ahmed Khurshidd, Karachi)
ہندوستان کشمیر کے معاملے پر ساری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا جو ڈرٹی گیم جاری رکھے ہوئے ہے اس کا مقصد ایک جانب تو پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنا ہے دوسرے اپنی بدنامِ زمانہ ایجنسی RAW کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی اور انتشار پھیلاکر پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔تیسرے پاکستان کی ترقی کے تمام راستوں پر بند باندھنا ہے۔چوتھے سی پیک منصوبے کو نا کام بناناہے۔ان مقاصد کے لئے ہندوستان نے افغانستان کی انٹیلیجینس ایجنسیNDS اور ایران کی کی جاسوسی کی تنظیم VAJA اور بنگلہ دیش کی NSIکو اپنے چنگل میں لیکر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوششیں تیز کی ہوئی ہیں۔وہ ایران کی بندر گاہ چاہ بہار کی تعمیر میں ہر حوالے سے ایران کا مدد گار بن کر پاکستان کے خلاف ایران کو بھی مضبوط کر رہا ہے۔حالانکہ ایٹمی حوالے سے پاکستان ایران کا محسن ہے۔ مگر اس نے اپنے محسن پاکستان کے ایٹمی سائنس دان عبدلقدیرکومغرب کے ہاٹھوں کھڈے لائن لگوا دیا تھا۔آج ہم ایران کی دوستی پر بھروسہ نہیں کر سکتے ہیں! کیونکہ ہم محسوس کرتے ہیں ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ۔

ہندوستان کشمیر کے معاملے پر ساری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا جو ڈرٹی گیم جاری رکھے ہوئے ہے اس کا مقصد ایک جانب تو پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنا ہے دوسرے اپنی بدنامِ زمانہ ایجنسی RAW کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی اور انتشار پھیلاکر پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔تیسرے پاکستان کی ترقی کے تمام راستوں پر بند باندھنا ہے۔چوتھے سی پیک منصوبے کو نا کام بناناہے۔ان مقاصد کے لئے ہندوستان نے افغانستان کی انٹیلیجینس ایجنسیNDS اور ایران کی کی جاسوسی کی تنظیم VAJA اور بنگلہ دیش کی NSIکو اپنے چنگل میں لیکر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوششیں تیز کی ہوئی ہیں۔وہ ایران کی بندر گاہ چاہ بہار کی تعمیر میں ہر حوالے سے ایران کا مدد گار بن کر پاکستان کے خلاف ایران کو بھی مضبوط کر رہا ہے۔حالانکہ ایٹمی حوالے سے پاکستان ایران کا محسن ہے۔ مگر اس نے اپنے محسن پاکستان کے ایٹمی سائنس دان عبدلقدیرکومغرب کے ہاٹھوں کھڈے لائن لگوا دیا تھا۔آج ہم ایران کی دوستی پر بھروسہ نہیں کر سکتے ہیں! کیونکہ ہم محسوس کرتے ہیں ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ۔

کشمیر کے حریت پسندوں نے ہندوستان کے ظالم و جابر فوجیوں کی ناک میں نکیل ڈالی ہوئی ہے۔وہ اپنی آزادی کی خاطرسر وں پر کفن لپیٹ چکے ہیں۔کشمیر کی تحریکِ انتفادہ بے سرو سامانی کے عالم میں ہندوستانی استعمار کے خلاف جاری ہے جو ان کے خلاف بھاری ہتھیاروں کے ساتھ پیلٹ گنیں استعمال کر کے ایک بڑی آبادی کو معذور بنا چکے ہیں۔جو ہر نئے دن کئی کئی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کر رہے ہیں۔ان کی امیدیں پاکستان سے بندھی ہیں،یہ ہی وجہ ہے کہ وہ پاکستن کے جھنڈے کو سینوں سلگائے دلوں میں پاکستان کا قومی ترانہ بسائے موت سے بے پروہ ہو کر ہندوستانی استعمارکے خلاف سینہ سپر ہو کر اپنے مقصد کو آگے بڑھا رہے ہیں۔اسی بات کا نتیجہ ہے کہ ہندوستان بپھری ہوئی پگل کُتیا کی طرح سے پاکستان کو بھنبھوڑنے کی جدو جہدمیں دن رات سر گرداں ہے۔کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اسکی سزائے موت کی خبرنے ہندو ستان اور اس کے کرتا دھرتاؤں کے حواس اڑا کر کے رکھ دیئے ہیں۔

ہم سجھتے ہیں کہ ہندوستان کو کلبھوشن کی سزاکے اعلان سے کئی دن پہلے کلبھوشن کی پھانسی کی سزا کا علم ہوچکا تھا اس معاملے انٹینسی ٹی کو کم کرنے یا کلبھوشن کا فوری بدلہ چکانے کی غرض سے را نے حبیب ظاہر کے اغوا کا پلان مرتب کر کے انہیں ملازمت کا جھانسہ دے کر ایک برطانوی انگریزکے ذریعے ٹریپ کر کے نیپال کے شہر کھٹمنڈو،جو ہندوستان کی سرحد سے صرف پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے انٹرویو کے بہانے بلایا گیا۔ جہاں سے ہندوستان کی را کے ایجنٹوں نے انہیں بڑی ہوشیاری کے ساتھ اغوا کر لیا۔ پاکستان کے دفترِخارجہ نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ کرنل حبیب ظاہر کی گمشدگی میں دشمن ایجنسیوں کا کردار ہوسکتا ہے۔ہندوستانی قابض فوج نے کشمیر کی وادی کو خون سے نہلا دیا ہے۔ ہم ہندوستان کے انسانیت سوز جرائم عالمی فورمز پر اٹھاتے رہیں گے۔جعلی ای میل اکاؤنٹ کے بارے میں سامنے آنیولی معلومات کی بنیاد پر اس پہلو کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے ریٹائرڈ کرنل حبیب ظاہر کو مخصوص مقاصد کے لئے ملازمت کا جھانسہ دے کر نیپال بلایا گیا اور جہاں سے ان کو لا پتہ کر دیا گیا۔ حبیب ظاہر کی پر اسرار گمشدگی میں دشمن کی جاسوس ایجنسیز کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔اپنی بریفنگ میں ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حبیب ظاہر کی تلاش کے ضمن میں حکومت پاکستان نیپالی حکام سے رابطے میں ہے۔اس سلسلے میں نیپال ہر طرح کے تعاون کے لئے تیار ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کی جانب سے دو طرفہ تعلقات کو برباد کرنے میں را اس وقت پیش پیش ہے۔اس وقت پاکستان میں عام خیال یہ ہے کہ ہندوستان نے پاکستانی فوج کے سابق لیفٹننٹ کرنل کو اپنے جال میں پھنسا کرسازش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ تاکہ پاکستان کی آئی ایس آئی کا جاسوس پکڑنے کا دعویٰ کیا جاسکے۔ اور ہندوستان کے را کے دہشت گرد ایجنٹ کلبھوشن یا دیو کے معاملے سے لنک کیا جا سکے۔یہ بات ساری دنیا جانتی ہے کہ دونوں کے معاملات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

مگر پاکستان نے بھی بلوچستان اوراپنے شمالی علاقوں اور دیگر مقامات پر ہندوستانی ایجنٹو اور دہشت گردوں کے ذریعے جس جنگ کا آغاز کیا ہوا ہے۔ اس کے لئے پاکستان نے معقول بند باندھنے کی کوششیں توکی ہیں اوران علاقوں میں ہندوستان کو ماضی کا ڈرامہ دہرانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔آج مشرقی پاکستان جیسا ڈرامہ رچانا ہندوستان کے لئے کسی طرح بھی ممکن نہیں رہا ہے۔مودی حکومت نے ایک جانب پاکستان میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے تخریب کاری مچانے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں تو دوسری جانب ہماری سرحدوں پر اپنی جارحیت کو دوام بخشنے کی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔تیسرے اس نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں کے عوام کے ساتھ آفت اٹھائی ہوئی ہے۔جس پر جموں کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کو بھی یہ کہنا پڑ گیا کہ ہندوستان کو پاکستان سے بات چیت شروع کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے ورنہ کشمیر اس کے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔ہندستان کشمیر اور کلبھوشن کے معاملات میں گندا کھیل کھیلنا بند کر کے پاکستان کے مغوی کرنل کوفوری طور پر رہا کرے۔جس کو 6 ،اپریل 2017 کھٹمنڈو سے را کے ایجنٹوں نے دھوکہ دے کر اغوا برائے کلبھوشن تاوان کے لئے اغوا کیا ہوا ہے۔

ہندوستان اس ڈرامے بازی سے کیا کلبھوشن یادیو کوچھڑانے کے خواب دیکھ رہا ہے؟ جو اغویٰ برائے کلبھوشن تاوان کے لئے کرنل حبیب کا کیا ہوا ہے۔ کے ذریعے دہشت گرد ہندوستانی نیوی کے سرونگ آفیسر کو رہائی دلا سکے گا؟کرنل حبیب جو کسی ایجنسی یا دہشت گردی یا ایجنسی کا حصہ نہیں ہیں ۔ا ن کو اغوا کراکے کونسے مقاصد کا حل دنیا سے کروانا چاہتا ہے ۔ یہ بات ساری دنیا وثوق کے ساتھ کہہ رہی ہے کہ ’’ کرنل حبیب کا اغوا را نے کیا ہے‘‘

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: prof. Dr. Shabbir Ahmed Khurshidd

Read More Articles by prof. Dr. Shabbir Ahmed Khurshidd: 285 Articles with 119939 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Apr, 2017 Views: 301

Comments

آپ کی رائے