تاریخ لکھے گی

(Haidar Asmari, southampton)

جس کو دیکھو ٹویٹر ہو کے فیس بک یہ لائن "تاریخ لکھے گی" اور اس کے بعد کوئی سی بھی بےتکی بات. آجکل اندر کی خبر رکھنے والے صحافی اپنی پیشن گوئی پورا نہ ہونے پر تاریخ لکھے گی والی لائن بہت استعمال کر رہے ہیں. شاید ان کو معلوم نہیں کہ تاریخ کا سینہ بہت تنگ ہوتا ہے. تاریخ شریفوں کے پانامے زرداریوں کے سویز اکاونٹس اور مشرفوں کی "پراسرار بیماریوں" پر اپنی محدود صفحے ضائع نہیں کرتی. تاریخ جاہل کاہل اور بیمار ذہنیت کے حامل قوموں کیلئے ادھا لائن لکھتی ہیں. تاریخ کاسترو اور چی گویرا جیسے لوگوں کو یاد رکھتی ہے. تاریخ ویتنام جیسے ملکوں کے بہادری اور عظمت کو سلام کرتی ہے. ہمارے پاس ہے کیا تاریخ کو دینے کیلئے؟ تاریخ دیکھو تو ہم نے ہر اس ظالم کی مدد کی ہے جس نے کام لینے کی بعد اجرت کا وعدہ کیا ہو. ہمارے کمانڈو جنرل ایک فون کی مار ہوتے ہیں پھر ان کا بہانے دیکھو آگر نہ مانتے تو پتھر کے زمانے میں پہنچا دیتے جیسا کے ہم مان کر ترقی یافتہ ملکوں کے امام بن گئے. کیوبا کو دیکھو امریکہ کا پڑوسی ہے امریکہ اگر کسی کو پتھر کے زمانے پہنچا سکتا تو کیوبا اب تک "بیگ بینگ" کے جھٹکے محسوس کر رہا ہوتا. یقین کرو تاریخ ہمارے بارے میں کچھ نہیں لکھے گی لکھنے کیلئے ہزاروں لاکھوں موضوعات موجود ہے جو دلچسپ بھی ہیں اور عجیب وغریب بھی. تاریخ کو لکھنا ہوا تو لکھے گی کہ انیس سو سینتالیس میں دو ملک بنے مسلمانوں کا پاکستان اور ہندؤں کا ہندوستان وہاں غربت راج کرتی تھی. "انسانیت عزت صحت کپڑا اور مکان جیسے سینکڑوں خوشنما الفاظ اردو اور سنکسرت کے ڈکشنری میں موجود تھے لوگ اسے پڑھ پڑھ کر بیزار ہوگئے ان لفظوں سے پھر کسی نے سمجھا دیا کے یہ سب مغربی ملکوں کے خرافات ہیں اسکے لئے یہاں کی آب و ہوا مناسب نہیں. تاریخ کو آگر ہمارے باری میں لکھنا ہوا تو لکھا جائے گا کہ عجیب قوم تھی جس ایٹم بم کیلئے گھاس کھا لی تھی اٌسی ایٹم بم کو دشمن سے بچانے کیلئے رات کے اندھیروں کے ساتھ ساتھ دن کے اجالوں پر بھی پابندی لگا دے تھی.

تاریخ کو آگر لکھنا ہوا تو لکھے گی کہ ایٹمی ملک نے ایک سفیر کو اس ملک کے سفارت خانے سے اٌٹھا کر دشمن کے حوالے کیا. اپنے ہی بیٹیوں کو دشمن کے ہاتھوں چند ڈالر کے عوض بھیجا. اپنے ہی ملک کو بار بار فتح کیا اپنے لوگ وہاں غدار* ٹہرے. تاریخ لکھے گی کے جب پڑوسی ملک ترقی کے برق رفتار گھوڑے پر سوار تھی تو اس ملک کے باسی گدھوں کی دوڑ دیکھنے میں مصروف تھے. یہاں سڑکوں پر تیرا جہنم رسید میرا شہید کی بحث چل رہی تھی. تاریخ لکھے گی کہ اس ملک میں ایران سے* شرانگیز لٹریچر آرہی تھی. انڈیا سے ملک مخالف فلمیں سپلائی ہو رہی تھی. افغانستان میں یہود و ہنود ایران کے ساتھ مل کر اس ملک کے بنیادوں کو اڑا رہی تھی لیکن نہیں تاریخ ایسا کچھ نہیں لکھے گی تاریخ کا سینہ بہت تنگ ہوتا ہیں. تاریخ لکھے گی کہ یہ بڑی جنگجو قوم ہے تھوڑے سے پیسے دو آپ کی جنگ لڑ کر خود ہی شہید اور غازی ہو جائیگی کفن دفن بھی خود کرلے گی. بس اس کے آگے کچھ نہیں **** **** *

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haidar Asmari
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Apr, 2017 Views: 397

Comments

آپ کی رائے