مری میں برفباری کے حسین مناظر (سفر نامہ مری)

(Muhammad Shafiq Ahmed Khan, Kot Addu)
جب سے میڈیا ایڈوانس ہوا ہے تو تب سے لوگوں کی برفباری دیکھنے کی آتشِ شوق روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ مری میں ابھی پہلی برف کی بوند پڑی نہیں ہوتی کہ میڈیا والے مال روڑ پر گاڑیاں لیکر پہلے سے ڈیرہ ڈال دیتے ہیں کہ لائیو دکھانا ہے۔ ۔۔۔ اور پھر را گ بجنا شروع ہو جاتا ہے کہ جی ملکۂ کوہسار پر برف کی چادر تن گئی۔ یا یہ کہ برف باری دیکھنے کے شوقین اتنے آئے کہ مری ایکسپریس وے بلاک ہوگئی، یا کہ مری میں زیادہ گاڑیاں داخل، راستے بند۔ ہوٹل فل۔ کھانا شارٹ، ہوٹلوں والے گند مال کھلانے لگے ، لوگ بیمار ہو کر مری ہسپتال میں داخل۔ مریضوں کا سردی سے برا حال۔ مری میں گاڑیوں کا داخلہ بند۔ ہوٹلوں کے ریٹ آسمان پر۔کھانے پینے کی اشیاء ناپید۔ راستے بند ہونے پر سیاحوں نے برفیلی رات گاڑیوں میں گزاری۔ راستے بند ہونے سے کئی مریض اور سیاح بے ہوش، یا حالت خراب وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ اس طرح کی کئی خبریں اکثر میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں جنہیں لوگ خوب انجوائے کرتے ہیں۔

ہم ناچیز اور فیملی بھی عرصہ دراز سے اس کوشش میں تھے کہ زندگی میں ایک بار جیسے تیسے بار برف باری دیکھ لی جائے (گھر میں تو ویسے سب لوگ روز ہی دیکھتے ہیں)۔ اس سال ہمارا پکا ارادہ تھا کہ برف باری ضرور دیکھنی ہے۔ کچھ رقم میاں ناچیز نے جوڑی کچھ بچوں نے جیب خرچ دیا اور یوں اچھی خاصی اماؤنٹ جمع کر کے مری میں برف باری دیکھنے کے خواب دل میں بسا لیے۔ مری جانے سے پہلے کئی ایک خیالات دل میں مچل رہے تھے کہ مثلا: اس بڑھاپے میں اتنی سردی میں بچوں کے ساتھ آخر کیسے گزارا ہوگا؟ کہ چھوٹا بیٹا تو ویسے ہی نچلا نہیں بیٹھتا کہ اسے کون قابو کرے گا؟ ٹھنڈ لگ گئی تو کیا ہو گا؟ کیونکہ موصوف حال ہی میں ہاتھ لگے برنولے (بوجہ ٹائیفائڈ ) سے فارغ ہوئے تھے۔اور پھر بڑھاپے میں ٹھنڈ لگ جائے تو نمونیہ اور پھر خدا نخوستہ بڑے شیخوں کی طرح موت۔اور یہ بھی خیال کہ آٹھ دس روز پھر باہر کا کھانا پینا کہیں فیملی کی طبیعت میں مزید بگاڑ پیدا نہ کردے؟ خیر جناب ! کئی روز تک نیٹ پر موسم کا حال روزانہ دیکھتے رہے کہ اﷲ کرے ہمارے چھٹیاں اور برفباری کے ایک جیسے دن نکل آئیں۔تا ہم جس ویب سائٹ پر بھی موسم کا حال دیکھتے ، ہر ایک سائٹ کا نیا موسم ہوتا ۔جن دنوں میں ہم نے چھٹیاں پلان کی تھیں ا نہی دنوں میں بقول ایک ویب سائٹ کے برفباری کے چانس صرف ساٹھ فیصد تھے۔ خیر جیسے تسیے بیگم نے کی تیاری شروع اور کمبل کے علاوہ گھر کے تمام جرسی سویٹر جرابیں ٹوپے بیگوں میں بھر کر چار عدد بیگ تیار کر لیے کیونکہ پتہ تھا کہ وہاں کڑاکے کی سردی ہوگی۔اب جناب ارادہ تو کر لیا مری جانے کا پر مسئلہ یہ تھا کہ مری تک جایا کیسے جائے کہ کوئی کہتا تھا کہ ڈائیووسے جائیں ، کوئی کہتا تھا کہ ٹیکسی کرا لی جائے کسی نے کہا کہ ٹرین سے جایا جائے، کسی نے کہا کہ عام بس۔ بیگم کا کہا کیو نکہ ہر جگہ حرفِ آخر ہوتا ہے توا آخر کار ٹرین سے جانے کا قصد ہو ا ایک دور روز پہلے بکنگ کرا لی گئی۔ بچے خوشی سے نہا ل کہ برف دیکھنے مری جائیں گے اور راستے بھر کچھ نہ کچھ چرتے بھی جائیں گے کہ یہ ٹرین کاسفر اوپر سے کھانا پینا، سنیکس، کولڈ ڈرنک وغیرہ بچے خوب انجوائے کر تے ہیں ۔ پھر وہ دن بھی آ پہنچا کہ جس روز ٹرین سے روانہ ہونا تھا۔ بکنگ چو نکہ اے سی کلاس میں تھی تو گاڑی کے ڈبے میں داخل ہوتے ہی حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے کہ اتنی اچھی سروس ریلوے کی! کہ ٹرین کے اند ر فل ٹائم ہیٹر چل رہے تھے اور ایسا ماحول تھا کہ جیسے کسی تھری سٹار ہو ٹل کے کمرے میں آگئے ہوں۔ باہر جنوری کی شدید سردی اور اندر ہیٹر اتنے تیز چل رہے تھے ماسوائے بنیان کے سب کچھ اتار نے کو دل چاہ رہا تھا۔ٹرین کے ڈبے میں گھستے ہی ہمیں تو فکر تھی کی سامان کو لوڈ کر کے سیٹوں کے نیچے سیٹ کر لیا جائے مگر بچے تھے کہ فورا شیشے والی سائڈ وں پر بیٹھنے اور باہر کا نظارہ کرنے کے لیے تیر ہوگئے اور اپنی اپنی سیٹیں سنبھال کر پانی پت کی لڑائی شروع کر دی کہ جی میں پہلے آیا تو میں شیشے والی سائڈ پر میں بیٹھوں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں بیٹھوں گا۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور اس کیس کو پانامہ کیس بنا دیا جسے کہ بڑی مشکل سے حل کیا۔ تھوڑی دیر بعد ہی بچوں کی فرمائش شروع کہ جی ہمارا مال ہمارے حوالے کریں یعنی چپس، سلانٹی، بسکٹ ، نمکو وغیرہ جو کہ خاص طور پر صرف ہمارے لیے لایا گیا تھا۔ ۔ ۔۔۔ انکے منہ بند کرانے کو انہیں کچھ کھلایا پلایا تو تھوڑی دیر بعد پھر فر مائش آگئی کہ بھوک لگی ہے اورچار و ناچار پھر انہیں ایک ایک پیکٹ بسکٹ مزید تھمایا تو گھنٹے بعد پھر آواز آئی کہ اب کھانا دیا جائے۔ لیں جناب گھر کا پکا کھانا ٹیبل پر سجا دیا گیا اور سب نے کھانا ایسے کھایا کہ جیسے ولیمے میں ہوں۔ کھانے کے تھوڑی دیر بعد ہی رفع حاجات کی آوازیں آنے لگیں، پھر باری باری سب بچوں کو نیٹ، کلین واش روم کی سیر کرائی کہ جہاں اتفاق سے لوٹا بھی موجود تھا۔ اور پھر کچھ دیر مستی مذاق کے بعد بیگم سمیت سب نیند کی آغوش میں چلے گیے، ما سوائے شوہر نامدار کے کہ اس بیچارے نے تو سامان کی حفاظت کر نی تھی، ٹکٹ چیکروں کو بھگتانا تھا او ربچوں کا کبھی خیال رکھنا تھا کہ کوئی برتھ سے لڑھک نہ جائے۔ کبھی کسی کی ٹانگ سیدھی کی تو کبھی کسی کا ہا تھ اور یوں بچوں نے سوکر اور میاں صاحب نے جاگ کر یہ رات ٹرین میں گزاری اور پھر صبح اٹھتے ہی سب نے پھر واش روم سے فراغت حاصل کی اور صبح صبح راولپنڈی پہنچ گئے۔ اسٹیشن پر شدید سردی اور دھند تھی اور لگ پتا گیا کہ سردی کی ہوندی اے۔
 


جو سامان جرسی سویٹر اتارا تھا وہ سب دوبارہ سے سارا چڑھایااور کنگڑتے کنگڑتے سامان اٹھائے اسٹیشن سے باہر آگئے جہاں پر ایک دوست کے توسط سے مری لیجانے کے لیے ایک گاڑی اور ڈرائیور پہلے سے ہمارے منتظر تھے۔

ُٓٓآپ بھی سوچ رہے ہونگے کہ یار یہ کیا ٹرین کی رام کہانی آگئی تو جناب برداشت کریں برف آگے چل کر آئیگی۔۔

ڈرائیور بھائی نے ہمیں خوشدلی سے ویلکم کیا اورچو نکہ صبح صبح کا ٹائم تھا تو پوچھا کہ سر ناشتہ مری پہنچ کر یں گے یا راستے میں کہیں کرا دوں؟۔ تو سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ راستے میں۔ یوں جناب ہمیں اور سامان کو لاد کر ڈرائیور چلا بیچارہ ہم سب کو لیکر مری کی طرف۔ راولپنڈی شہر کی گھمن گھیریوں سے نکل کر فیض آباد کے گول چکر کراس کر کے جناب آگئے مری روڑ پھر راستے بھر خوبصورت نظارے دیکھتے کوئی ایک گھنٹہ کی ڈرائیو کے بعد گاڑی ایک روڈ سائڈ ہوٹل پر رکی اور ڈرائیور نے کہا کہ سر ناشتہ یہاں کر لیں تو پھر آگے چلتے ہیں۔ ناشتے کے لیے گاڑی سے اترے تو پہاڑوں کے بیچوں بیچ ایک بڑا سا ہوٹل تھا اور باہر اچھی خاصی ٹھنڈ تھی۔ سب سے پہلے چھوٹے صاحب نے جو گاڑی میں بندھے بیٹھے تھے گاڑی سے چھلانگ لگائی اور رفع حاجت کے لیے سیدھے ہوٹل کے گندے واش روم کی طرف دوڑے، لیکن ہوٹل کے دونوں باتھ روم پہلے سے ریزرو تھے۔ چھوٹومیاں لگے آئیں بائیں شائیں کرنے کہ شاید پریشر زیادہ تھا اور بر داشت سے باہرتھا، لیکن اندر موجود افراد بھی شاید اندر ہی نیند پوری کر رہے تھے اور نکلنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔جب معا ملہ برداشت سے باہر ہوا تو پھر چھوٹے صاحب بیچارے کو پاجامہ نیچے کر کے پچھلی سائڈ پر ایک کونے میں بٹھا کر فراغت دلانی پڑی اور خشکی کا کام ٹیشو پیپر سے لیا ۔ ناشتے کے لیے ہر کسی نے اپنی اپنی فرمائش نوٹ کرائی کسی نے انڈا فرائی، کسی نے آملیٹ، کسی نے بریڈ جام، کسی کو چنے پراٹھا پسند تھا تو کو ئی چائے بن کا شو قین۔آپ بھی سوچ رہے ہونگے کہ یار ابھی تک برف کا تو ذکر خیر ہی نہیں تو بھائی ذرا صبر کریں برف آگے چل کر آئیگی۔

لو جناب گندے سے ناشتے سے فراغت کے بعد مری کے لیے دوبارہ روانہ ہوئے اور دعا کرتے رہے کہ یا اﷲ برف باری راستے میں ہی مل جائے یا پھر مری پہنچتے ہی برف باری شروع ہو جائے۔مری جاتے راستے میں واپس آنے والی گاڑیوں پر نظر پڑی تو انکی چھتیں برف سے اٹی پڑی تھیں جنہیں دیکھ کر بہت خوشگوار حیرت ہوئی کہ شاید نئی نئے برف پڑی ہے جو گاڑیاں ایسے برف لوڈ کیے چلی آرہی ہیں۔ پر ڈرائیور بھائی نے بتایا کہ سر یہ وہ گاڑیاں ہیں جو برف میں پھنسی یا کھڑی ہوئی تھیں اور اب نکل کر آئی ہیں۔ لیں جناب کچھ فاصلہ طے کر کے مری سے کچھ پہلے مری کے پہاڑ نظر آنا شروع ہوئے تو آنکھیں کھل اٹھیں کہ یہی وہ منظر تھا جسے دیکھنے کے لیے آنکھیں سالوں سے منتظر تھیں۔ یہی ہو مناظر تھے جن کے لیے ہم سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے آئے تھے، یہی وہ حسین لمحات تھے جنہیں آنکھوں اور کیمرے میں قید کرنے کے لیے ہم بیتاب تھے۔ یہی وہ سین تھے جو آج تک صرف تصا ویر اور وڈیوز میں دیکھے تھے اور آج وہ سب کچھ حقیقت میں ہمارے سامنے تھا ۔اگر چہ ابھی مری ابھی دور تھا مگر ڈرائیور نے ہمیں بتا کر معلومات میں اضافہ کیا سر وہ سامنے جو پہاڑ ہیں وہ ایوبیہ کے ہیں، فلاں پہاڑ نتھیا گلی کے ہیں، فلاں پتریاٹہ کے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ جوں جوں ہم مری کی طرف بڑھتے جارہے تھے تو ہمارے چاروں طرف پڑی برف مزید گہری ہوتی جارہی تھی۔ چہار سو برف، پہاڑوں پر برف، درختوں پر برف، سڑکوں پر برف، مکانوں ، دکانوں پر برف غرضیکہ ہر طرف برف ہی برف، سفیدا ہی سفیدا تھا۔ ایک اچھی بات یہ تھی کہ گذشتہ رات کی شدید برف بار ی کے باوجود راستہ صاف کر دیا گیاتھا اور گاڑیاں آسانی سے مری آ جارہی تھیں۔ مری سے برف باری دیکھ کر آنے والے خوش خوش اور جانے والے ایکسائٹڈ کہ برف باری کے مناظر حقیقت میں دیکھیں۔راستے بھر برف گہری ہوتی دیکھ کر نظریں ان مناظر سے ہٹ نہ رہی تھیں، فورا بڑے بیٹے کو کہا کہ کیمر انکال کر ویڈیو بناؤ۔ اور یوں بچوں نے فلم بنانا شروع کردی جو کہ بعد میں دیکھی تو بہت خوبصورت لگی۔ جوں جوں گاڑی مری کی طرف رواں تھی دل مچلتا ہی جارہا تھا ۔ لیں جناب برف کے بیچوں بیچ سے گذرتے مری سے پہلے جھیکا گلی ایک جگہ ہے وہاں سے مال روڑ کی طرف راستہ جاتا ہے وہاں ہماری گاڑی ٹریفک کے اژدہام میں پھنس گئی۔ ارے ہاں ایک چیز تو بتانا یاد نہیں رہی کہ اس دوران آسمان پر سورج مکمل طور پر چمک رہاتھا جس سے برف کے مناظر اور بھی دلکش نظر آ رہے تھے۔ تاہم ہمیں تو انتظار اور شوق تھا برف باری دیکھنے کا تو ہم سب نے برف باری کے لیے دعائیں مانگنا شروع کر دیں۔کہ یا اﷲ سورج ہٹا اور بادل لا! گاڑی کے ڈرائیور نے بتا یا کہ سر برف باری سے پہلے بادل آتے ہیں پھر بارش ہوتی ہے اسکے بعد برف باری ہوتی ہے۔ نظریں اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا تو وہ بلکل صاف شفاف تھا اور بارش یا بادل کے دور دور تک کوئی آثار نہ تھے۔ خیر جناب یہی کچھ دیکھتے اور د عائیں مانگتے تقریبا چار گھنٹے میں مری مال روڑ پہنچ گئے جہاں پر شد ید سردی اور رش تھا۔ وہاں پہنچے تو ہر طرف آدم ہی آدم۔ چار چار ، چھ چھ کپڑے پہنے مرد ، خواتین، جوان، بوڑھے ، بچے سب ادھر سے ادھر آجا رہے تھے، کھا پی رہے تھے اور انجوائے کر رہے تھے۔ خاص طور پر جی پی او چوک پر تو کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔

اگر چہ پولیس، اور فوجی جوان چوکس کھڑے ٹریفک کمٹرول کر رہے تھے تا ہم رش کے باعث انکے لیے یہ کچھ مین ایج کرنا اتنا آسان نہ تھا۔؟؟؟؟؟

ُٓٓآپ بھی سوچ رہے ہونگے کہ یار ابھی تک برفباری تو آ ئی نہیں، تو بھائی ذرا صبر کریں آگے چل کر آئیگی برف۔

مری پہنچ کے آ پ کے لیے سب سے پہلا مرحلہ ہے کسی اچھے سے ہوٹل میں کسی سستے سے کمرے کی تلاش۔ جو کہ بہت ہی جان جوکھم کا کام ہے کہ اپنی فیملی کو کسی روذ سائڈ پر آپ دو تین گھنٹے کے لیے کھڑا کر دیں اور کریں ہوٹل تلاش۔ جن لوگوں کی اپنی گاڑیاں ہوتی ہیں وہ تو فیلمیز کو گاڑی میں بٹھا دیتے ہیں یا پھر سا تھ لیکر گھومتے رہتے ہیں۔ مگر ہم جیسے پیدل بیچارے فیملی کو روڑ سائڈ پرا ٹھہرا کر ہوٹل تلاش کر تے ہیں۔کبھی ایک ہوٹل تو کبھی دوسرا تو کبھی تیسرا۔ کسی کا کمرہ چھوٹا، کسی کا باتھ روم چھوٹا، کسی کا کارپٹ گندا تو کسی کا نل خراب، کسی کا ماحول خراب، کسی کے فلو ر زیادہ غرضیکہ کمرہ تلاش کرنا بھی ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ اگر چہ سسستا کمرہ لوور مری یعنی بس اسٹیند سائڈ پر مل جاتا ہے، تا ہم وہاں سے اپر مال روڑ کی رونقیں دیکھنے کے لیے آنے جانے میں آپکو اچھا خاصا ٹائم لگ جاتا ہے اور چڑھائی اور اترائی بھی بھگتانی پڑتی ہے۔ اس لیے ہر سیاح کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی سستا سا کمرہ مال روڑ پر ہی مل جائے تاکہ بہتر انجوائے ہو سکے۔اسی نیت سے ہم بھی سیدھے مال روڑ پر آئے اور ایک جگہ گاڑی پارک کرواکر لگے سسستا اور اچھا ہوٹل تلاش کرنے۔

ویسے تو گرمیوں کے موسم میں کئی بار مری جانے کا اتفاق ہو چکا تھا، تا ہم برفیلے موسم میں ہمارا یہ پہلا چانس تھا اور حسب توقع برفباری کی وجہ سے دو ہزار والا کمرہ پانچ ہزار اور پانچ والا دس ہزار روپے میں دستیاب تھا۔لیکن پھر بھی ہر کوئی برف باری دیکھنے کے چکر میں مری بھاگا چلا آر ہا تھا۔ خیر جناب !کارپٹ والے پٹھان بھائی کی طرح دس ہزار والا کمرہ ہم نے بھی ساڑھے تین ہزار میں لے ہی لیا۔ تھکے ہارے بیوی بچوں کو کمر ے میں ڈال کر چائے کا آرڈر دیا اور کچھ دیر آرا م کی غرض سے لیٹ گئے تا ہم بار بار کھڑکی سے باہر جھانکتے رہے کہ شاید کوئی موسم تبدیل ہو اور بارش یا برفباری کے آثار بن جائیں ، تا ہم شام تک ہماری یہ مراد بر نہ آئی۔ ایک بار پھر تمام بچوں کو کہا کہ برف باری کے لیے دعا کرو۔۔۔۔ چائے پینے اور کچھ دیر آرام کرنے کے بعد برف باری کی دعا کر تے ہوٹل سے نکل کر مال روڑ پر آگئے۔مال روڑ پر تو گرمیوں کے موسم میں پہلے بھی پھرتے رہے ہیں تا ہم سردی میں مال روڑ پر پھرنے کا اپنا مزہ ہے۔پورے کا پورا مال روڑ برف سے اٹا پڑاتھا اور مشینوں نے برف کو سائڈ پر کر کے درمیان سے گزرنے کا راستہ بنایا ہوا تھا۔ مال روڑ پر ہر کوئی اپنی ہی دھن میں مگن تھا۔ کوئی گانے گا رہاتھا، کوئی میوزک سن رہا تھا، کوئی سردی میں آئسکریم کھا رہا تھا تو کوئی چائے اور کافی سے لطف اندوز ہو رہا تھا تو کوئی کھانے کے لیے کوئی ہوٹل تلاش کر رہا تھا، تو کوئی بیگم یا گرل فرینڈ کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے ادھر سے ادھر جارہا ھا تھا، ڈر تھا کہ بیگم یا دوست کہیں ہاتھ چھڑا کر بھاگ نہ جائے۔مری میں ایسا ماحول ہوتا ہے کہ شاید پاکستان میں کہیں اور نہ ہوتا ہو۔ خیر جناب! طے یہ ہوا کہ پیدل کے ایف سی تک چلا جائے اور راستے میں اچھا سا مہورت یعنی ہوٹل دیکھ کر کھانا بھی کھالیں گے۔لیں جناب، برف پر چلتے ابھی تھوڑی ہی دو ر گئے ہو نگے تو جوتوں کے اندر پاؤں کی انگلیاں لگی ٹھنڈی برف ہونے۔ کچھ دور مزید آگے چلے تو جہاں پر کبھی ایک پارک ہو ا کر تا تھا اب وہ جگہ برف سے اٹی پڑی تھی اور پارک کا نا م و نشان تک نظر نہ آرہا تھا۔ مزید آگے چلے تو بچوں نے نعرہ لگا یا کہ پاؤں کی ا نگلیاں ٹھنڈ سے اکڑ رہی ہیں اور مزید آگے پیدل نہیں جایا جا سکتا۔لہذا واپس چلا جائے۔لیکن واپسی کا سفر تو اچھا خاصا لمبا تھا، سوچا کہ چائے پی لی جائے تاکہ کچھ گرمائش آجائے۔ لیں جناب! ایک سائڈ پر لگی مشینوں سے گرما گرم چائے اور کافی لی اور لگے پینے کی کوشش کرنے لیکن ٹھنڈی اور یخ بستہ ہواؤں نے حال خراب کر دیا کہ کپ ہونٹوں تک لیجاتے بھی ٹھنڈ کی وجہ سے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ حالآنکہ دستانے بھی چڑھائے ہوئے تھے، تین تین جرابیں اور چار چار جرسی سویٹر بھی تھے ، پر ٹھنڈ پھر بھی جسم میں گھسی جا رہی تھی۔ خیر جناب! جیسے کیسے چائے چڑھائی او رکھانے کی غرض سے ایک قریبی ہوٹل میں گھس گئے تاکہ کچھ کھانا بھی کھالیا جائے اور گر مائش بھی آ جائے۔ ہوٹل میں کافی رش تھا اور بچوں نے اپنی اپنی فرمائش نوٹ کرائی اور کھانے کی انتظار میں بیٹھ گئے۔ ابھی کھانے کے لیے بیٹھے ہی تھے کہ بچوں میں سے ایک نے رفع حاجت کے لیے واش روم کی آواز لگائی۔ ویٹر سے واش روم پوچھا تو اسنے بتایا کہ سر واش روم تو ہے مگر پانی نہیں ہوگا۔ یوں جناب اپنے پاس رکھی منرل واٹر کی بو تل سے انہیں فارغ کرایا ۔ قحط سالی (پانی کی) کی وجہ سے ہوٹل والوں نے بالٹی سے پانی لیکر مگ سے ہمارے ہاتھ دھلوائے اور پھر کھانا کھایا اور آگے جانے کے بجائے واپس اپنے کمرے کی طرف ہو لیے۔ راستے بھر آسمان کی طرف نظریں رہیں کہ شاید ابر کرم، یعنی برف باری شروع ہو پر ہماری یہ خواہش پہلے کی طرح پھر ناتمام ہی رہی۔ ٹھنڈ میں اچھا خاصا فاصلہ طے کر کے کمر ے میں پہنچے تو اچھی خاصی سردی تھی اور چار چار چیزیں اور دو دو جرابیں پہنے دو دو لہاف سر پوگرم ٹوپے لیے سب یو ں ہی سوگئے۔ تھکن زیادہ تھی اور جلد ہی سب نیند کی آغوش میں چلے گئے ، ماسوائے شوہر نامدار کہ اسنے سب پر نظر رکھنی تھی کہ رات بھر انکے کمبل اور تکیے ٹھیک کر نا تھے کہ کہیں سے ہوا لگ گئی تو بیمار نہ ہوجائیں اور لینے کے دینے پڑ جائیں۔ ساتھ ساتھ کھڑکی سے جھانکتا بھی رہا کہ شاید رات کے کسی پہر کوئی برف باری ہو جائے۔

لیکن یہ دن ااور رات بھی ناکام گئی بغیر برف باری کے ۔ صبح اﷲ کی مخلوق جاگی تو پھر پروگرام یہ بنا کہ آج ا یوبیہ اور نتھیا گلی جا کر قسمت آزمائی جائے شاید وہاں کچھ برف باری ہوتی نظر آجائے ورنہ برف پڑی ہوئی تو مل ہی جائیگی اور ساتھ میں ایک اور اٹریکشن یہ تھا راستے میں ایک جگہ بندر پوائنٹ آتی ہے جہاں پر کہ سینکڑوں بندر جنگل سے نکل کر سڑک کے کناے اٹھکیلیاں کر رہے ہوتے ہیں اور اور آنے جانے والے سیاح اور بچے انکے ساتھ فوٹو بناتے ہیں انہیں چھلیاں اور دیگر غذائی اشیاء خوردونوش کھلا کر خوش ہوتے ہیں۔
 


بند ر پوائنٹ سے یاد آیا کہ ایک بار گرمیوں کے موسم میں ایسے ہی ہم بند ر پوائنٹ پہنچے تو بندروں کے ساتھ مستی کر تے کرتے فوٹو بناتے ایک شرارتی بند ر نے بیٹے صاحب کے ہاتھ پر اچھا خاصا چک مار لیا تھا اور کئی روز تک اسکا نشان موجود رہا۔ اور ایک بار ایسا بھی ہوا کہ ہم نے چھلی والے سے چھلی لی کہ آدھی خود کھائیں گے اور باقی بند ر کو کھلائیں گے۔ ابھی ہم یہ سوچ ہی رہے تھے کہ ایک شرارتی بند ر نے خاموشی آکر جھپٹا مارا اور پوری کی پوری چھلی لے اڑا اور ہم ہاتھ ملتے رہ گئے۔ آس پاس موجود سیاحوں نے اس پر ہمارا خوب مذاق اڑایا اور انجوائے کیا تھا۔

خیر جناب !صبح ہی صبح ٹیکسی والے کو فون کیا کہ دس بجے ہوٹل تشریف لے آئیں کہ ایوبیہ ا ور نتھیا گلی جانا ہے۔ ڈرائیور نے ہمیں بدخبری سنائی کہ سر سارے تمام راستے فی الحال بند ہیں اور ایوبیہ نہیں جا سکتے۔بہر حال پھر بھی میں چیک کر کے بتا تا ہوں اور پھر کچھ دیر بعد فون پر بتا یا کہ سر جلد تیار ہو جائیں راستہ کھلا ہے۔ یہ سننے کی دیر تھی کہ سب نے جلدی جلدی نعرہ مارا او ر ایوبیہ جانے کی تیاری شروع کر دی اور لیٹرین کے باہر لائین بنالی کہ ایک نکلتا ور د وسرا جاتا اور زیادہ دیر ہونے پر پبلک ٹوائلٹ کی طرح آوازیں لگتیں تاکہ اند ر موجود بندہ جلد فارغ ہو کر باہر نکلے ۔ اس دوران باہر نظر ڈالی تو سورج اپنے پورے آ ب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھااور برف باری کے کوئی آثار دور دور تک نہ تھے۔تیاری کر کے پہلے سوچا کہ ناشتا راستے میں کر لیا جائے یا ایوبیہ پہنچ کر ، پر ڈیسائڈ ہوا کہ نا شتہ کر کے ایوبیہ کے لیے نکلا جا ئے۔ لیں جناب نا شتے میں اپنے پسندیدہ، نان چھولے، پا ئے، جام ڈبل روٹی، انڈا آملیٹ وغیرہ ڈکارنے کے بعد بارات گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے چھوٹے صاحب نے یاد کرایا کہ پاپا راستے کے لوازمات مثلا: چپس، سلانٹی ، نمکو، چاکلیٹ، پیپسی وغیرہ تو لیں ، کیونکہ ہر سفر میں ان اشیا ء خوردونو ش کے بغیر انکا سفر اچھا نہیں گزرتا۔ لیں جناب مطلوبہ اشیا کا شاپر بھروانے کے بعد سفر کا آغاز ہوا اور پروگرام بنا کہ پہلے بندر پوائنٹ پھر ایوبیہ اور پھر نتھیا گلی جائیں گے۔ سفر کے آغاز کو ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ بچوں کی سنیکس کے لیے آواز یں آنا شروع ہو گئیں ، کوئی چپس، کوئی پاپڑ، کوئی چاکلیٹ تو کوئی بسکٹ ایسے مانگ رہا تھا کہ جیسے کئی روز سے فاقے سے ہوں حال آنکہ ابھی کچھ دیر پہلے لی دو دو پراٹھے ڈکارے تھے سب نے۔ ماں نے بتایا کہ ابھی تو ناشتہ کیے گھنٹا بھی نہیں گزرا ور پھر مزید معدے پر ظلم کروگے تو الٹیاں نہ لگ جائیں ، مگر کوئی نہ مانا اور تمام مال و متاع منٹوں میں چٹ کر گئے۔ لیں جناب! گاڑی ایوببہ کی طرف رواں دوا ں تھی اور آ س پاس کے تما م پہاڑ ، درخت، گھر و غیرہ برف سے اٹے پڑے تھے اور دور ہی سے سفید بھالو سے نظر آ رہے تھے۔ ہر طرف برف ہی برف۔ آس پاس کے تمام مناظر اتنے خوبصورت تھے کہ دل چاہتا تھا کہ اتر کر بس یہیں برف میں کھیلنا شروع کر دیں۔ جگہ جگہ پر بچے سنو مین بنائے کھڑے تھے۔ کسی نے اسکے گلے میں ہار ڈالا ہوا تھا، تو کسی نے اسے سرما لگایا ہوا تھا۔ کسی نے ٹوپ پہنا کر آدمی بنایا ہوا تھا، تو کسی نے اس سنومین کو لڑ کی کی شکل دی ہوئی تھی۔ لوگ اپنی اپنی پسندیدہ جگہوں پر اتر اتر کر سنو مین کے ساتھ فوٹو بنواتے کچھ دیر برف میں کھیلتے ، موج مستی کرتے اور آگے بڑھ جاتے تھے۔ جہاں جتنی زیادہ برف یا میدان سا آتا ہر کوئی وہیں کھیلنے کے لیے لمبا ہو جا تھا۔ راستے میں مختلف میڈیا چینلز کی گاڑیاں بھی کوریج کرتی نظر آئیں جو لائیو مناظر دکھا کر لوگوں کو مری کے لیے مزید راغب کررہی تھیں۔ لیں جناب کوئی آدھا پونا گھنٹہ چلے ہونگے کہ اچا نک ہماری گاڑیوں کی رفتار سلو ہوگئی کہ آگے والی گاڑیاں بھی سلو سلو چل رہی تھیں ، ہم بھی سلوسلو چلتے رہے کہ جلد ایو بیہ پہنچ جائیں مگر کہاں جناب !کچھ دیر بعد پتہ چلا کہ آگے لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے راستہ بند ہے۔لینڈ سلائڈنک میں ہوتا یہ ہے کہ کسی پہاڑ کے اوپر سے کوئی برف کا بڑا سا تودہ یا ٹکڑا سڑک پر آگرتا ہے اور سڑک دونوں سائڈوں سے بند ہو جاتی ہے۔ (اس طرح کے ایک واقعہ ہمارے ساتھ گلگت بلتستان میں پیش آچکا ہے ۔ ہو ا یہ تھا کہ ہم لوگوں نے گلگت سے ایک کیری ڈبہ ہائیر کیا سکردو جانے کے لیے تو راستے میں پہاڑوں پر بارش کی وجہ سے لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے راستے جگہ جگہ بند ملے۔ ایک جگہ اپنی مدد آپ کے تحت پتھر ہٹا کر راستہ کلیئر کرتے تو کچھ میل دور جا کر پھر راستہ بند ملتا۔ آخر کار ایک جگہ پر ہم لوگ ایسے پھسے کہ ہمیں فیملی سمیت پوری رات (چھتیس گھنٹے) سکردو کے قریب پہاڑوں میں گزارنی پڑی۔ ہزاروں لوگ گاڑیوں سیمت راستے میں پھنسے رہے۔ نہ کھانا نہ پینا نہ واش روم نہ پانی۔ بڑے بڑے کروڑ پتی حضرات نے رات گاڑیوں میں گزاری تھی اور صبح اٹھ کر ٹیشو پیپر سے کام چلایا تھا۔ تا ہم قریب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک ہوٹل مل گیا کھانے پینے کا اور وہاں پر لوگوں نے تین ٹائم کا بے مزہ سے کھانا کھا نا کھایا اور گلگت سے سکردو ہم لوگ چھتیس گھنٹے بعد پہنچے تھے)۔ اب کچھ اسی طرح کی صورتحال یہاں تھی۔ پچھلا واقعہ سوچ کر ہم تو پریشان سے ہو گئے کہ اگر یہاں برف میں رات گزارنی پڑ گئی تو صبح سردی سے سب فوت ہو چکے ہونگے۔ آہستہ آہستہ تمام گاڑیاں واپس آ رہی تھیں اور ٹریفک پولیس بھی آ چکی تھی جس نے سب کو واپسی کے لیے نکالا۔

ہم نے ڈرائیور کی منت کی یار کسی اور چور راستے سے ا یوبیہ لے جاؤ کہ ہمیں آج ضرور جانا ہے کہ دن تھوڑے ہیں۔ پر ڈرائیور نے بتایا کہ سر اسکے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے او ر پھر آخر کار ہمیں واپس مری ہوٹل جانا ہوگا، کل دوبارہ ٹرائی کریں گے ایوبیہ پہنچنے کی۔ بڑی مایوسی ہوئی کہ یار ایوبیہ نہ پہنچ سکے ۔ خیر جناب ڈرائیور نے گاڑی واپس موڑی اور ادھر ادھر سے موڑ ماڑ کر گاڑی رش سے نکال لایا اور لینڈ سلائڈنگ میں پھنسنے کے آثار ختم ہو گئے۔آج ایوبیہ تو نہ جاسکے تا ہم واپسی کا سفر کرتے کرتے ایک جگہ دیکھ کر بچوں کا دل مچل گیا کہ یہاں سنو مین کے ساتھ فوٹو بنوائیں گے اور برف میں کھیلیں گے۔ لیں جناب سب اتر کر لگے برف میں مستی کرنے۔ کسی نے سنو مین کے ساتھ فوٹو بنوایا ، کسے نے ایک دوسرے پر برف اچھالی، کسی نے برف کے گولے بنائے۔ کسی نے سلائڈ لی، کسی نے برف میں فوٹو بنوائے اور یوں آدھا پونا گھنٹہ وہاں گزار کر ہاتھ پیر ٹھنڈ سے شل کر کے واپس گاڑی میں بیٹھے اور کوئی گھنٹے بعد واپس مال روڑ پر ہوٹل آگئے۔

گاڑی والے ڈرائیور بھائی نے جاتے ہوئے کہہ دیا تھا کہہ سر اگلے روز اگر راستہ کھلا ہوا تو وہ خود ہمیں لینے آجائگا۔ لیں جناب ڈرائیور کے جانے کے بعد اس روز شام کو بچوں نے مال روڑ پر شاپنگ اور نت نئے کھا بوں کا پروگرام بنا لیا۔ پھر جناب شاپنگ شروع ہو ئی تو بیگم صاحبہ اگر جیولیری کی دکان میں گھسی تو گھنٹوں نکلنے کا نام نہ لیا۔ اور گارمنٹس کی شاپ سے تو کھینچ کر نکالنا پڑا۔ کبھی ایک دکان تو کبھی دوسری دکان ، تو کبھی تیسری۔یونہی دکانیں ناپتے رات ہوگئی ، شوہر بیچار ا ہر دکان کے باہر پہرے دیتا رہا کہ بچے گم نہ ہو جائیں۔ بچے ایسے کہ جس دکان میں بھی گھسے کچھ نہ کچھ آلتو فالتو لیکر ہی نکلتے جو کہ شوہر نامدار کی طبیعت اور جیب دونوں پر بھاری گزرتا ۔ شاپنگ سے فراغت اور تھکنے ترٹنے کے بعد باری آئی کہ اج کی پکایا نہ بلکہ اج کی کھایا جائے؟ پھر حسب معمول سب کی مختلف فرمائشیں اور ساتھ یہ طعنہ بھی ہم کبھی کبھار تو ہوٹلوں کا کھانا کھاتے ہیں تو لہٰذا فرمائشیں جتنی بھی مہنگی ہوں پوری کی جائیں۔ پھر جناب سب کو خواہش اور منشا کے مطابق انکی پیٹ پوچا کرائی، چائے ، کافی پلوائی، آئسکریم کھلوائی اور میاں بیچارے نے صرف سگریٹ پر گزارا کیا اور کمرے میں واپس آگئے، مایوس سے ہوکر کیونکہ آج برفباری نہ ہوئی تھی۔ رات کوپھر یوں دعائیں کرتے سو گئے کہ اﷲ کرے صبح تو لازمی برف باری ہو جائے۔ایک بار تو بہت مایوسی بھی ہوئی کہ یار اگر برف باری نہیں ہور ہی تو نہ ہو واپس چلتے ہیں، پر واپس نہیں جا سکتے تھے کہ ہوٹل میں بکنگ چار روز کی تھی اور بکنگ کینسل پر رقم واپس نہ ملنی تھی۔ لہٰذا یہ خیال دماغ سے نکال دیا۔ پھر ایک خیال یہ بھی آیا کہ برف باری دیکھنے کی غرض سے ایک دو روز اور بڑھا د یے جائیں کیونکہ کچھ ہلکی پھلکی پیشنگوئی بھی تھی اور موسم بھی بن رہاتھا لیکن جیب اور بجٹ ایک مزید دن رہنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ بہرحال یہی سب کچھ سوچتے ہم سب اس آس پر سو گئے کہ شاید اﷲ پاک کو کچھ رحم آجائے اور رات میں برف باری دیکھنے کو مل جائے۔ لیکن یہ خواہش بھی پھر نا تمام رہی کہ ساری رات یونہی کھڑکیاں جھانکتے گزر گئی پر برف باری نہ ہوئی۔

صبح اٹھتے ہی گاڑی والے کو فون کیا تو اسنے خوشخبری سنائی کہ سر راستہ کھلا ہے جلد تیار ہو جائیں میں آ رہاہوں۔ یہ سننے کی دیر تھی کہ سب لوگ ہڑا ہڑی میں تیار ہو گئے اور فیصلہ ہوا کہ ناشتہ ایوبیہ جا کر کریں گے۔ کہ کہیں پھر سے راستہ بند نہ ہو جائے۔لیں جناب گاڑی والا آگیا اور سب لو گ بھاگم بھاگ گاڑی میں ہو ئے سوار اور لگا دیں نظریں آسمان پر کہ شاید آج اﷲ پاک کو کچھ رحم آجائے اور برفباری ہو جائے۔ تاہم آسمان پر سورج اپنی تمام آب و تاب کے ساتھ جگمگا کر ہمارا منہ چڑا رہا تھا۔لیکن دل کو پھر بھی یہ کہہ کر تسلی دی کہ شاید ایوبیہ میں برف باری ہو جائے۔لیں جناب ! ابھی گاڑی کچھ دو ر ہی چلی تھی کہ بیگم صاحبہ کی شکایت آئی کہ بے آرامی کی وجہ سے آ ج بلڈ پریشر کچھ ہائی ہو رہاہے، متلی اور الٹی کی سی کیفییت ہے۔یعنی ایک اور مسئلہ۔ جلدی جلدی ایک دکان سے جوس اور بسکٹ لیکے بی پی کی گولی کھلائی تا کہ خیریت سے ایوبیہ پہنچا جا سکے۔ لیں جناب آدھا راستہ خیریت سے گز گیا تو بندر پوائنٹ آگیا، لیکن سب نے ایک زبان ہو کر کہا کہ بندر پوائنٹ بعد میں پہلے ایوبیہ جائیں گے او ر یوں پھر چلے دیوانے برف کے ایوبیہ کو۔پورے راستے میں گاڑ یوں کاس ایک اژدہام ساتھ ساتھ چل رہا تھا، کہیں راستہ کھلا، کہیں بند، کہیں رش، کہیں کلیئر۔گاڑیوں کی میلوں لمبی لائنیں سڑکوں پر رواں دواں تھیں۔ راستے میں جہاں جہاں تک نظر جاتی برف ہی برف پڑی نظر آتی ، اور برف سے ڈھکے پہاڑ بہت اچھے لگ رہے تھے۔ لوگ مختلف جگہوں پر ٹولیوں کی صورت میں برف انجوائے کر رہے تھے۔ کوئی سنو مین بنا رہاتھا۔ کوئی برف کے گولے بنا رہا تھا۔ بچے برف میں گھر بنا رہے تھے۔ یا پھر ایک دوسرے پر برف پھینکی جا رہی تھی۔سڑک کے کناروں پر لگے درختوں پر لگی اور پڑی برف مختلف اشکال دے رہی تھیں اور دل چاہتا تھا کہ ان مناظر کی ہر انگل سے تصاویر اتار لی جائیں جو کہ بچے کر تے رہے۔آ س پاس موجود تمام گھر بھی برف سے اٹے پڑے تھے اور ہم حیران تھے کہ ان لوگوں کی لائف کیسے گزرتی ہوگی اور ایمرجنسی میں یہ لوگ کیسے نکلتے ہونگے۔یا یہ کہ یہ لوگ اپنے معمولاتِ زندگی کیسے گزارتے ہونگے، اتنی شدید ٹھنڈ اور برف باری میں۔۔ تاہم لوگوں کی زبانی جان کر حیرت ہوئی کہ یہاں برف باری کے موسم میں تمام معمولات زندگی معمول کے مطابق جاری رہتے ہیں۔ گھروں میں شدید سردی سے بچنے کے لیے کوئلے کی انگیٹھیاں استعمال کی جاتی ہیں۔

جس کے دھویں کی نکاسی کے لیے ایک پائپ چھت میں سوراخ کر کے یا سائڈ کی دیوار میں سوراخ کر کے باہر نکال دیا جاتا ہے تاکہ کمرے میں گھٹن اور دھواں نہ ہو۔ آنے جانے کے راستے اور گھر کی چھت صاف کرنے کے لیے ہر گھر میں ضروری سامان موجود ہوتا ہے۔ گھر والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ تازہ تازہ برف باری کے بعد برف کو ہٹا دیاجائے کیونکہ برف زیادہ پرانی ہو تو جم جانے سے وزن بڑھ جاتا ہے اور صاف کرنی بھی مشکل ہوجاتی ہے ۔ اس کے علاوہ سکول کے بچوں کی چھٹیاں بھی برف باری کے موسم میں ہوتی ہیں۔ مرد حضرات کچھ نہ کچھ کام دھندہ کرتے رہتے ہیں ۔ لکڑیاں جلانے کے لیے دو تین ماہ کے لیے سٹاک کر لی جا تی ہیں ۔ نہانا دھونا صبح کی بجائے شام کو ہوتا ہے ، کھانا پکانے کے لیے سلنڈر والی گیس یا لکڑیاں استعمال ہوتی ہے۔ لکڑیوں والے گیزر بھی کئی گھروں میں چلتے رہتے ہیں ، یوں زندگی رواں دواں رہتی ہے اور معمولات میں کوئی فرق نہیں آتا۔

انہی سوچوں اور خیالوں میں گم ہماری گاڑ ی ایوبیہ کی طرف رواں دواں تھی۔ بچے سب آس پاس کے مناظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے تا ہم ہمارا دماغ خرچے کا حساب کرنے میں لگا ہوا تھا کہ برف باری نہ ہوئی اور مزید ایک آدھ روز رکنا پڑ گیا تو پھر کیا ہو گا کہ جیب میں مال تو پورا سورا ہی ہے۔پھر اﷲ سے وہی دعا کہ اے اﷲ جلد برف باری دکھادے۔ کہ اے اﷲ ایوبیہ میں تو ضرور برف مل جائے تاکہ ہمارے اور بچوں کی من کی مراد پوری ہو سکے۔ پھر یکا یک دماغ میں ایک اور خیال آیا کہ اگر برف باری کی وجہ سے ایک روز مزید رکنا پڑتا ہے تو ہم پنڈی اسلام آباد کا وزٹ شارٹ کر دیں گے، شاپنگ کم کردیں کے، گھومنا پھرنا کم کر دیں گے، وغیرہ وغیرہ ۔تو خرچہ کم ہو جائیگا اور مری میں ایک دن مزید سٹے کیا جا سکتا ہے۔ انہی سوچوں میں گم آخر کار ہم لوگ ایوبیہ پہنچ گئے ۔جہاں پر حیرت انگیز طور پر سورج اپنے پورے جوبن پر آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا جس نے ہمارے برف باری دیکھنے کے ارمانوں پر فورا ہی اوس ، پانی اور مٹی سب کچھ ڈال دی۔ تاہم ایوبیہ کی ہر جگہ قابل دید تھی کی بہت زیادہ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے یہاں شدید برف باری ہوتی ہے اور ہر طرف کئی کئی فٹ برف پڑی تھی۔ موسم کافی ٹھنڈا تھا اور ٹھنڈی ہوا بھی چل رہی تھی۔ گاڑی رکتے ہی آس پاس کے ہوٹل والوں نے گھیر لیا کہ سر کھانا کھا لیں یا پھر آرڈر دے دیں واپسی پر کھانا تیار ملیگا۔پر ہم لوگ تو تھے ناشتے والے اور یہاں ایوبیہ میں ہوٹل والے دوپہر کے کھانے کی تیاری کر رہے تھے ۔ لہٰذا فرمائش ہوئی کہ پہلے نا شتا کر لیا جائے۔ ہو ٹل والوں سے پوچھا تو انہوں نے بتا یا کہ سر کیونکہ اب گیارہ بج رہے ہیں لہذا ناشتا ختم ہو چکا اب صرف کھانا ہی ملیگا۔ ہاں ایک اہم بات اور کہ ایوبیہ اور نتھیا گلی میں اگر آپ ہوں تو آپ صوبہ کے پی کے میں ہونگے اگر بھوربن اور مری میں ہوں تو پنجاب اور اگر نیلم جہلم سے آگے تلائی آبشار جائیں تو آپ آزاد کشمیر میں ہوتے ہیں۔ ہے نہ حیرت کی بات کہ صرف بیس ، تیس کلو مٹر میں آپ تین صوبوں کی سیر آسانی سے کر لیتے ہیں ۔ بہرحال۔ہوٹل والوں سے فرمائش کر کے مختلف ڈشیں تیار کرائیں ناشتے کے لیے اور بے کار سا ناشتہ کر کے روانہ ہوئے ایوبیہ کی اصل اونچی پہاڑی کی طرف اور اﷲ پاک سے پھر دعا کہ اﷲ پاک یہاں تو موسم پل پل میں تبدیل ہوتاہے تو د کھا دے برف ۔ پہاڑ پر جانے کے لیے کچھ اوپر گئے تو جرابیں بیچنے والے لڑکوں نے گھیر لیا کہ سر اوپر بہت برف ہے یہ جرابیں لے لیں اس سے آپ لوگ پھسلیں گے نہیں۔ پہلے تو ہم نے مذاق سمجھ کر نظر انداز کیا پر پھر ایک قریب سے گزرتے سیانے بابے نے کہا کہ بیٹا بچے ساتھ ہیں جرابیں لے لوبر ف پر سے سلپ نہیں ہونے دیں گی۔ اس طرح پانچ جوڑی جرابیں لیکر سب نے ایک ایک جراب جوتوں کے اوپر چڑھالی۔ لیں جناب! کچھ اور اوپر گئے تو ایک چھڑی والے صاحب مل گئے کہ سر چھڑی لے لیں ورنہ سلپ ہوکر آسمان سے زمین پر آ رہیں گے۔ انہیں تو خیر ہم نے نظر انداز کر دیا۔ کچھ اور آگے چلے تو دستانے بیچنے والے صاحب نے گھیر لیا کہ سر اوپر سردی بہت زیادہ ہے، ہاتھ سن ہو جائیں گے، دستانے لیتے جائیں۔ انہیں بھی نظر انداز کیا اور چلے مزید اوپر کی طرف، کیونکہ دستانے ہمارے پاس پہلے سے موجود تھے۔ پھر جناب کچھ دیر بعد چھتری والا پیچھے لگ گیا کی سر بارش ہو گئی تو کیا کریں گے؟ چھتری لے لیں۔ اس سے بھی جیسے تیسے جان چھڑائی اور مزید اوپر چڑھے تو لگا کہ شاید سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے۔ کچھ دیر کے لیے رکے سانس بحال کیا اور پھر مزید اوپر ایک اونچی پہاڑی پر برف کے اوپر سامان وغیرہ رکھ کر وہیں ڈیرہ ڈال دیا۔اچانک ساتھ والے درخت پر نظر پڑی تو بندروں کا شریر سا غول ہمیں دیکھ دیکھ کر ہماری نقلیں اتار ہا تھا۔ ہم بہت حیران ہوئے کہ اس شدید برف میں یہ مخلوق کہاں سے آگئی ، پر پھر پتہ چلا کہ ساتھ ہی نیچے جنگل آئے ہیں یہ بندر۔ خیر جناب! ہم نے فور ا بچوں کو کال کر کے بندراور انکی حرکات دکھانے کی کوشش کی تو انہوں نے لفٹ ہی نہ کرائی اور برف کو دیکھ کر ایسے دیوانے ہوئے کہ بس کئی گھنٹے وہیں کھیل کود میں گزار دیے۔ یہاں ہمارے آس پاس ہر کوئی برف میں اپنے طریقے سے انجوائے کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی ایک دوسرے پر گولے برسا رہاتھا، کوئی سنو مین بنا رہا تھا، کوئی برف میں گھر بنا رہا تھا، کوئی سلائڈ لے رہا تھا،کوئی فوٹو گرافی کر رہا تھا، کوئی سیلفیاں بنا رہا تھا، کوئی کچھ تو کوئی کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم لوگ بھی کئی گھنٹے اس برف میں مختلف طریقوں سے انجوائے کر تے رہے، فوٹو بناتے رہے، سلائڈ لیتے رہے،ایک دوسرے کو گولے مارتے رہے۔برف اٹھا اٹھا کر پھینکتے رہے، برف میں گھس کر بیٹھے رہے، بالخصوص بچوں نے اس موسم کو خوب انجوائے کیا اور چونکہ فزیکلی برف کو پہلی بار دیکھا تھا تو جی بھر کے اس برف میں کھیلے۔ تا ہم اس دوران ہمیں محسوس ہورہا تھا کہ ہمارے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں اندر سے سن سی ہو رہیں ٹھنڈ کی وجہ سے۔

جو کہ ہم کھیل کھیل میں نظر انداز کرتے رہے۔دستانے اتار کر ہاتھوں کا معائنہ کیا تو ہاتھ واقعی سب کے ٹھنڈ کی وجہ سے نیلے پڑ چکے تھے اور پھر انہیں بھی سگریٹ والے لائٹر کو جلاکر گرم کر کے دم کیا۔

برف میں کھیل کھیل کر تھک چکے تو فیصلہ ہوا کہ اب چیئر لفٹ کی سیر کی جائے۔ چیئر لفٹ کا راستہ بہت دور تھا اور وہاں تک جانا پہاڑ اور عذاب لگ رہا تھا کہ جگہ جگہ برف پر لوگوں کے پاؤں پڑ کر پھسلن پیدا ہو چکی تھی۔ ابھی ہم تھوڑا دور ہی چلے ہونگے کہ ہمارا پاؤں ایسا سلپ ہوا کہ ہم دھم سے چاروں شانے چت برف پر گر پڑے۔ اور ہمارے گرنے کی آواز اتنی تیز تھی کہ آس پاس کے تمام لوگ ہمیں دیکھ دیکھ کر مسکرا اور انجوائے کر رہے تھے اور پھر ہم پر ہوٹنگ شروع ہو گئی۔ ہم نے جلدی جلدی کپڑوں سے برف جھاڑھی اور اٹھ کھڑے ہوئے کہ جیسے ہوا ہی کچھ نہیں اور سوچا کہ پیدل جاکر گر کر بے عزتی کرانے سے بہتر ہے کہ سلائڈ لیکر نیچے جایا جائے۔ لیں جناب ہم نے پھر دھم سے خود کو نیچے برف پر گرایا اور سب بچوں کو بھی ایسا ہی کرنے کو کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر سب لوگ سلائڈ لیتے ہوئے چیئر لفٹ کے نزدیک ترین جگہ پر جا رکے۔چیئر لفٹ پر خاصا رش تھا اور ہم بھی ٹکٹ لیکر لائن میں لگ گئے اور دعا شروع کر دی کہ یا اﷲ دکھا دے برف۔لائن میں لگتے ہی دو بچوں کو رفع حاجت کے لیے لیجانے پڑا تو ایک بچہ ہاتھ چھڑا کر کہیں غائب ہو گیا۔ ہمیں تو لینے کے دینے پڑ گئے کہ بچوں کی اماں تو ابھی رو رو کر ہلکان ہو جائے گی اور کہے گی کہ میرے بچے پورے کر کے دو۔ ہم نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو کہیں ہمارا بچہ نظر نہ آیا اور شدید قسم کی پریشانی لاحق ہوگئی اور ادھر ادھر بھاگ دوڑ شروع کردی۔ خیر جناب تھوڑی دیر بعد اس بچے کو ڈھونڈ ا تو جان میں جان آئی لیکن۔۔۔۔ اس دوران رفع حاجت پیک پر آ چکی تھی اور پبلک باتھ روم میں رش تھا لہذا انہیں ایک کونے میں لیجا کر فراغت دلانا پڑی۔یہاں سے فارغ ہو کر دوبارہ لائن میں لگے تو اچانک آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو کچھ بادل سے آتے نظر آئے اور جھڑ سا ہو گیا اور ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی شروع ہوگئی۔بہت خوش ہوئے کہ اﷲ نے سن لی کہ کم از کم بارش تو شروع ہوگئی اور ٹھنڈی ہوائیں بھی چل پڑیں تو شاید برف باری بھی دیکھنے کو مل جائے۔مگر واہ رے حسرتِ نا تمام!
 


شام ہو چکی تھی اور چیئر لفٹ پر اچھا خاصا رش تھا ، تاہم کوئی ایک گھنٹہ لائن میں لگنے کے بعد ہماری باری بھی آ ہی گئی۔ جن لوگوں نے چیئر لفٹ کی سیر کی ہو وہ جانتے ہیں کہ چلتی چیئر لفٹ پر بیٹھنا اور اترنا بھی ایک جان جوکھم کا کام ہے۔لہٰذا چھوٹے بیٹے کو ہم نے گو د میں قابو کیا، بیٹی کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا اور چیئر بوائے نے زور سے دھکا د یکر ہمیں ایک ٹرالی نما لفٹ میں بٹھادیا۔ جسے بعد میں بند کر دیا جاتا ہے۔یاد رہے کہ اگر اس چیئر لفٹ پر ٹھیک طریقے سے بیٹھا یا اترا نہ جائے تو ہزاروں لوگوں کے سامنے بہت ہوٹنگ اور بے عزتی ہو تی ہے اسلیے اس لفٹ میں بیٹھتے ہر بندہ کنفیوز ہو تا ہے ۔ خیر جناب خیر خیریت سے لفٹ میں بیٹھ گئے۔لفٹ کچھ دور چلی تو راستے میں نیچے کھڑے لوگوں نے اوپر ہماری چئیر لفٹ پر برف کے گولے برسانے شروع کر دیے اور لوگ ایسا کر کے خوب انجوائے کر رہے تھے۔ کچھ لوگ لفٹ میں بیٹھے سیلفیاں بنا رہے تھے، کچھ چیٹ کر رہے تھے، کچھ وڈیو بنانے میں مصروف تھے۔ایوبیہ میں چیئر لفٖ میں بیٹھ کر ا وپر نظارہ اور بھی خوبصورت ہو جاتا ہے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا، ہلکی ہلکی بارش سر د موسم کو اور بھی رومانٹک اور خوبصورت بنا رہی تھی۔ آ س پاس کے مناظر لفٹ سے اور بھی خوبصورت نظر آ رہے تھے، لمبے لمبے ، گھنے درخت برف سے اٹے پڑے تھے۔ انکی لمبائی تو نظر آ رہی تھی پر یہ پتہ نہ تھا کہ انکی جڑیں کہاں اور کتنی نیچے ہیں۔نیچے برف پر لوگ مختلف طریقوں سے انجوائے کر رہے تھے ، دل چاہتا تھا کہ یہ جرنی اور بھی لمبی ہو جائے تا ہم ہاتھ اور پاؤں سردی سے شل ہو رہے تھے اور ناک مسلسل بہہ رہی تھی۔ ہمیں بچوں کو فکر لگ گئی یار اگر انہیں ٹھنڈ لگ گئی تو لینے کے دینے نہ پڑجائیں ۔ یہی سوچتے اور خوبصورت مناظر دیکھتے دوسرے پوائنٹ یعنی اونچی پہاڑی پر اترنے کا ٹائم آگیا اور ہم دونوں بچوں کو سنبھالے، بھاگتے بھاگتے خیر خیریت سے وہاں لینڈ کر کئے۔ پیچھے والی لفٹ پر بقیہ مخلوق بھی تشریف لا چکی تھی۔ دوسری پہاڑی پر اترے تو وہاں الگ ہی ماحول تھا۔ شدید سردی ، یخ بستہ ہوائیں، بادل، بارش، لیکن چھپنے کی کوئی جگہ نہیں۔ چند ہوٹل اور دکانیں جہاں پر ٹین کے ڈبوں میں لکڑیاں ڈال کر آگ لگا کر ہاتھ سینکنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ گرم گرم چائے، پکوڑے، چپس، کافی، کباب وغیرہ البتہ سب کچھ دستیاب تھا مگر ڈبل قیمت پر۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس یخ بستہ جگہ پر دکانیں اور کھوکے دیکھ کر خیال آیا کہ یار یہ سب سامان یہاں لایا کیسے گیا ہوگا؟ کہ لفٹ میں تو صرف دو بندوں کی جگہ ہوتی ہے اور یہاں پر تو پوری کی پوری دکانیں سجی ہوئی ہیں۔ ؟خیر جناب !یہاں کا اپنا ایک خوبصورت نظارہ تھا کہ ہر طرف برف ہی برف، سفیدہ ہی سفیدہ لیکن سردی ، ہوا اور بارش زیادہ دیر رکنے نہیں دے رہی تھی اور تھوڑی دیر بعد ہم لوگ واپسی کے لیے لائن میں لگ گئے۔ یہاں کی سردی دیکھ اچانک خیال آیا کہ یار یہ اتنی سی برف میں ہماری جان نکلی جارہی ہے اور ہمارے وطن کے سجیلے نوجوان ، ہماری حفاظت کے لیے سیاچن گلیشئر کی برف پوش پہاڑیوں پر چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ خیال آتے ہیں ایک جھر جھری سی آئی اور خیالات کا تسلسل اسوقت ٹوٹا جب چھوٹے صاحبزادے نے کہاکہ پاپا سردی لگ رہی ہے گرم گرم چپس کھلوائیں۔

لیں جناب لائین میں لگے لگے سردی سے کانپتے ٹھٹھرتے ہاتھوں کے ساتھ گرم گرم چپس اور پکوڑے کھائے لائٹر سے ہاتھ سیکے جو کہ شل ہونے کے قریب تھے اور دعا کرنے لگے کہ اے اﷲ یہاں سے جلد نکال اور برسا دے برف۔کچھ دور کچھ لوگ بیٹھے ایک پیپے میں لکڑیاں بالے ہاتھ سینک رہے تھے، ہم بھی قریب گئے کہ کچھ ہاتھ سینک کر گرم کر لیے لیے جائیں، پر ہاتھ تو نہ سینک سکے البتہ دس کلو دھواں ضرور پی آئے۔کچھ دیر بعد چیئر لفٹ میں بیٹھنے کی ہماری بھی باری آگئی واپسی اسی طرح لوگوں سے برف کے گولے کھاتے، چاروں طرف کے حسین مناظر دیکھتے، ٹھنڈی یخ بستہ ہوائیں کھاتے، ناک بہاتے نچلی پہاڑی پر پہنچے تو سکھ کا سانس لیا کہ شدید ٹھنڈ سے واپس آگئے اور جلدی جلدی گاڑی میں گھس گئے کہ ہاتھوں اور پیروں کو کچھ گرمائش مل جائے۔تا ہم جناب برف باری یہاں بھی نہ مل سکی تھی۔

اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ یار تو برف آخر ہے کہاں۔ تو بھائی صبر کریں برف باری آگے آئے گی۔

یہاں ایوبیہ سے فارغ ہو کر فیصلہ ہوا کہ نتھیا گلی جایا جائے۔ لیں جناب گاڑی ہو گئی رواں دواں نتھیا گلی کی طرف۔ راستے بھر پھر وہی برف پوش پہاڑ، وادیاں، برف سے ڈھکے درخت، سڑکوں پر برف، مکانوں پر برف، دکانوں پر برف، گاڑیوں پر برف، مساجد پر برف، ہوٹلوں پر برف، غرضیکہ ہر طرف برف ہی برف۔ راستے میں اچھی خاصی ٹریفک تھی اور کئی جگہ پر سڑکیں رش کی وجہ سے بلاک نظر آئیں۔یوں چلتے چلتے نتھیا گلی سے چند کلومیٹر دور پھر ہم بھی ایسے ٹریفک بلاک میں پھنسے کہ مزید آگے نہ جا سکے کہ رش کہ وجہ سے نتھیا گلی کا راستہ بند تھا۔ تفصیلی مشورہ کے بعد فیصلہ ہوا کہ بجائے اسکے کے کہ اس ٹریفک بلاک میں پھنس کر رات یہاں گزاریں واپس مری ہوٹل ہی میں چلا جائے۔ یوں گاڑی واپس مری کی طرف موڑی اور شدید رش کی وجہ سے مری ہوٹل واپسی کا ایک گھنٹے کا سفر تین گھنٹے میں طے ہوا کہ جگہ جگہ ٹریفک بلاک تھی۔ ہر جگہ گاڑیوں کی میلوں لمبی لائنیں لگی ہوئی تھیں۔ پاکستان بھر سے مختلف رنگ، ماڈل اور قیمت کی گاڑیا سڑکوں پر عجیب سی بہار پیش کر رہی تھیں۔ ان گاڑیوں میں سوار، بچے، بوڑھے ، جوان، مرد ، خواتین ہر کوئی برف میں ٹھٹرا اپنے اپنے طریقے سے انجوائے کر رہا تھا۔کچھ منچلے ڈانس کر رہے تھے۔ کوئی سلنڈر پرہاتھ سینک رہا تھا، کوئی سلنڈر پر چائے بنا رہاتھا۔کوئی انڈے ابال رہا تھا، کوئی گاڑی میں ہیٹر جلائے نیند پوری کر رہا تھا، کوئی سگریٹیں پھونک رہا تھا، کوئی خشک میوہ جات سے لطف اندوز ہو رہا تھا، کوئی اس شدیر سردی میں کولڈ ڈرنک پی رہا تھا، تو کوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔

مری جانے والے راستے پر ٹریفک کا اتنا رش تھا کہ لگتا تھا کہ ہم رات بارہ بجے تک ہی ہوٹل پہنچ پائیں گے۔وہ تو بھلا ہو ہمارے ڈرائیور کاکہ جس نے کنجر کٹ مار مار کر گاڑی کو مری مال روڑ کے اتنا قریب لے آیا کہ بندہ پیدل بھی مال روڑ پرجا سکتا تھا۔ تا ہم دن بھر کی تھکاوٹ کے بعد پیدل جانے کی ہمت نہ تھی۔ ڈرائیور بھائی نے ہمیں لوور مری میں بس سٹیند والی سڑک سے لے جاکر کے ایف سی کے نیچے اتار دیا کہ سر یہاں سے پیدل اوپر چلے جائیں۔ یہاں سے ہوٹل کا راستہ تقریبا آدھے گھنٹے پیدل کا تھا۔ مرتے کیا نہ کرتے اتر گئے اور تھکے ترٹے لمبی سی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر مال روڑ پر آگئے۔مال روڑ پر آ کر نت نئے کھانوں کی خوشوئیں سونگھ کر بچوں کی بھی بھوک جاگ اٹھی اور فر مائش آئی کہ کسی اچھے سے ہوٹل میں کھانا کھا کر ایک ہی بار کمرے میں جائیں گے۔ لیں جناب ڈھونڈ لیا اچھا سا ہوٹل اور گھس گئے باپ کی جیب کا کباڑا کرنے۔ہوٹل میں اپنی اپنی پسند کے مختلف النوع لوازمات ڈکار کر ہوٹل سے ہاہر آکر ، چائے ، کافی، آئسکریم کی فرمائش شروع ہو گئی ، جو کہ پوری کی گئی۔شدید سردی کی وجہ سے ہاتھ کانپ رہے تھے اور کپ ہونٹوں سے پہلے ہی کپکپاہٹ کی وجہ سے لرز رہے تھے پر فرمائش تھی کہ جو پوری تو کر نی ہی تھی۔ چائے آدھی گرائی آدھی پی اور کام تمام۔ساتھ ساتھ یہ فیصلہ صادر ہوا کہ دکانوں میں گھس کر کچھ شاپنگ کر لی جائے تاکہ کچھ گرما ئش بھی آجائے، ٹائم بھی پاس ہوجائے اور کھانا بھی ہضم ہو جائے۔

لیں جناب ہو گئی شاپنگ شروع۔ مرد حضرات جانتے ہیں کہ خواتین اگر ایک دکان میں گھس جائیں تو راج مستری کی طرح انہیں بھی پکڑ کر نکالا جاتا ہے، خود سے نہیں نکلتیں۔ یہی حال یہاں ہوا کہ بیگم صاحبہ ایک دکان سے دوسری دکان، دوسری تیسری، تیسری سے چوتھی۔ کبھی چادریں، کبھی جیولری، کبھی کپڑے، کبھی میک اپ کا سامان وغیرہ وغیرہ اور رات کے گیارہ بجا دیے۔ بچوں کا اور ہمارا تھکن سے برا حال۔ پھر آخر تنگ آکر ہم نے تڑی لگائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ایک دکان سے خاتون بر آمد ہوئیں اور پھر اپنے ہوٹل کی راہ لی۔ راستے میں پھر بارش شروع ہو چکی تھی اور ہم نے پھر اﷲ پاک کے حضور دعائیں شروع کر دیں کہ یا اﷲ دکھا دے برف۔ مگر شاید ابھی بھی اوپر سے برف باری کی منظوری نہ آئی تھی اور تمام بچے بڑے بارش کی دعائیں مانگتے سو گئے۔ شوہر صاحب پھر اٹھ اٹھ کر کھڑکیاں جھانکتے رہے رات بھر کہ شاید رات کے کسی پہر بارش ہو جائے، پر نہ بارش نہ برف۔


ایک بار ہوٹل میں رات کے کسی آخری پہر کچھ شور شرابا سے ہوا، ہڑبڑا کر آنکھ کھولی کہ شاید برف باری شروع ہو گئی ہو، یونہی بغیر چشمے باہر دیکھنے کے لیے جو اٹھے تو اندھیرے میں ڈسٹ بن اور ٹیبل سے جا ٹکرائے اور اس پر رکھا تمام سامان دھڑام سے نیچے۔ بری مشکل سے بغیر چشمے دوبارہ سامان سیٹ کیا، وجہ ٹکرانے کی کچھ دیر بعد سمجھ آئی کہ جناب چشمہ تو لگایا ہی نہیں تھا۔ خیر جناب بستر پر سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر چشمہ ڈھونڈ کر لگا یا اور حسرت سے باہر نکلے کہ شاید برف باری کا شور شرابہ ہو۔ پر پتہ چلا کہ برف باری شاری کچھ نہیں ہو رہی ایک گروپ رات کے پچھلے پہر ہوٹل میں رہنے کے لیے آیا ہے یہ انکا شور شرابہ تھا۔ خیر جناب پھر بڑی مایوسی ہوئی اور ہمیں بہت فکر تھی کی کل آخری روز ہے ، پرسوں واپسی ہے اور اگر برف باری اب بھی دیکھنے کو نہ ملی تو ایک روز مزید نہ بڑھانا پڑ جائے کہ جیب اجازت نہیں دے رہی۔

لیں جناب صبح اٹھے تو وہی ہوا ، بچوں نے بتایا کہ جی ٹی وی پر بتایا گیا ہے کہ ایک دوروز میں مری میں برف باری کے چانسسز ہیں لہذا ایک دن بڑھایا جائے اور آج دریائے نیلم، تلائی آبشار جو کہ مظفر آباد آزاد کشمیر سے کچھ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور شیخو پڑیاں، یا اوسیاہ ایک جگہ کا نام ہے وہاں جائیں گے جہاں پر کہ ہمار ا ایک دوست رہتا ہے۔ لیں جناب دوست سے ٹائم سیٹ ہوا کہ پہلے تلائی آبشار، پھر دریائے نیلم پھر اوسیاہ ، پھر رات گئے واپسی مری ہوگی۔ صبح صبح َََََ
گاڑی بلا ئی، ناشتہ کیا، سفر کا سامان ساتھ باندھا اور چل دیے تلائی آبشار ، آزاد کشمیر۔ مری سے تقریبا تین گھنٹے کی خوبصورت ڈرائیو کے بعد ہم لوگ تلائی آبشار پہنچے جو کہ بہت ہی اچھی جگہ تھی ۔ اس آبشار تک جانے کے لیے ایک جھولا نما چیئر لفٹٖ میں بیٹھ کر جانا پڑتا ہے جسے دوسرے اینڈ پر بیٹھا ایک شخص لوہے کی موٹی سی رسی سے کھینچ رہا ہوتا ہے اور اس لفٹ نما جھولے میں ایک ٹائم میں صرف چار لوگ بیٹھ سکتے ہیں۔ اس کو چلانے کا انداز ایسا ہی تھا جیسے کہ پچھلے زمانے میں چرخہ چلایا جاتا تھا۔اسی طرح کی ایک لفٹ ہم نے اڑن کیل،وادئی نیلم، کشمیر میں بھی دیکھی تھی ، پر وہ بجلی سے چلتی تھی۔ تو جناب ہماری فیملی نے دو گھنٹے یہاں گزارے ، اچھی جگہ تھی۔ چپس ، پکوڑے کھائے، فوٹو گرافی کی، پھر وہاں سے پہنچے جناب دریائے نیلم کہ جہاں سے پاکستان اور آزاد کشمیر الگ الگ ہوتے ہیں۔ یہاں پر فوٹو سیشن، سیرو تفریح، کھانا پینا کیا اور پھر روانہ ہوئے عزیز دوست کے گھر اوسیاہ یا شیخو پڑیاں۔ اس مقام پر ہم لوگ پہلے بھی دو بار آچکے تھے تا ہم اس وقت یہاں پر ماحول کافی حد تک تبدیل ہو چکاتھا۔ یہاں پہنچتے پہنچے ہمیں رات ہو چکی تھی اور ابھی ہمیں یہاں رکنا بھی تھا ، کھانا بھی کھانا تھا اور واپس مری بھی جانا تھا۔ یہاں پہنچے تو عزیز دوست اور اسکی فیملی ہمارے استقبال کے لیے موجود تھی۔ پہاڑوں کے بیچوں بیچ ایک وادی میں انکے ہٹ ٹائپ گھر بنے بہت خوبصورت لگ رہے تھے۔ انکے گھر تک جانے کے راستے میں بالکل اندھیرا تھا اور ہمیں ٹارچ کی روشنی میں راستہ دکھا دکھا کر گھر میں لا یا گیا۔کئی جگہ تو ہم سلپ ہوتے ہوتے رہ گئے پر آخر کار پہنچ ھی گئے انکے گھر۔ دوست کی فیملی اور سب لوگوں نے نہایت خوشدلی سے ہمارے استقبال کیا اور ایک کمرے میں لے گئے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی جیسے ہمارے ہاتھ پاؤں کو نئی جان مل گئی کہ شدید سردی سے اندر گرم کمرے میں جو داخل ہو گئے تھے اور اندر آگ جل رہی تھی اور کوئی احساس نہ تھا کہ باہر اس قدر شدید سردی ہوگی کہ ہاتھ برف سے شل ہورہے تھے۔ اس کمرے میں بیٹھ کر تھوڑی ہی دیر میں ہمیں پسینے آنے لگ گئے اور ایک ایک جیکٹ اتار کر الگ رکھ دی۔ چھوٹے صاحب نے اپنے سائز کے بچے دیکھ کر مستی شروع کر دی کبھی بیڈ کے اوپر چھلانگ تو کبھی نیچے۔ کبھی یہاں تو کبھی وہاں اور خوب خر مستیاں شروع۔ اسکے بعد جناب یہ بچہ پارٹی کمرے سے نکل کر باہر سردی میں پہاڑوں میں گم ہوگئی ۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے باہر آئے تو دیکھا کہ سردی سے بے نیاز، بہتی ناک، کھلے ہاتھ پاؤں، شرٹیں اوپر کیے پکڑم پکڑائی کھیلی جارہی تھی۔ بڑی مشکل سے ہانک کر اس ریوڑ کو کمرے کے اند ر کیا کہ میزبانوں نے کھانے کی آواز لگا دی تھی۔

کھانا بہت اچھا تھا جو کہ میزبانوں نے بہت محنت سے بہت ہی شارٹ نوٹس پر تیار کیا تھا۔کھانا کھا کر مزہ آگیا۔ اسکے بعد چائے کا دور چلا جو اور بھی بہت مزے دار تھی اور کھانے کے ساتھ سویٹ ڈش تو بہت ہی مزے کی تھی ۔ اس وقت سب لوگوں کا تھکن سے برا حال تھا، سب نے واپس ہوٹل چلنے کا نعرہ لگایا۔ لیکن میزبانوں نے اصرار کیا کہ آج رات یہیں رک جائیں ہم آپ کو ایک الگ کمرہ دے دیتے ہیں۔ لیکن ہم نے وہاں رکنا مناسب خیال نہ کیا اور میزبانوں کے پر زور اصرار کے باوجود ہوٹل کے لیے روانہ ہو گئے۔باہر نکل کر آس پاس نظر دوڑائی تو بہت ہی خوبصورت منظر تھا۔ رات کا ٹائم پہاڑوں کے بیچوں بیچ ایک خوبصورت سا گاؤں، دور ہر طرف پہاڑوں پر ٹم ٹم سے کرتے دیے یعنی روشنیاں، بظاہر ہر طرف ہر سہولت موجود۔ ہوٹل پہنچے تو اچھی خاصی رات ہو چکی تھی اور ٹھنڈ بھی تھی اور ہلکی ہلکی بارش دوبارہ شروع ہو چکی تھی۔ سب چونکہ تھکے ترٹے تھے لہذا سونے کا نعرہ لگایا اور یہ دعا کرتے سوگئے اے اﷲ برف باری دکھادے کہ کل مری میں ہمارا آخری دن ہے ۔ صبح اٹھ کر نماز پڑھ کر پھر اﷲ سے دعا مانگی کہ یا اﷲ برف دکھا دے کہ آج لاسٹ ڈے ہوگا مری میں ہمارا۔
 


اگلے روز صبح اٹھ کر سب لوگوں نے اپنی اپنی پسند کا ناشتہ کیا اور ڈیسائڈ ہوا کہ آج پیدل کشمیر پوائنٹ جائیں گے اور پیدل آئیں گے، سفاری ٹرین کی سیر کریں گے ، پارک میں جھولے لیں گے اور نواز شریف کا گھر دیکھیں گے۔ لیں جناب سب ہوئے پیدل روانہ کشمیر پوائنٹ کی طرف۔ ہماری طرح ہزاروں لوگ اسی طرف رواں دواں تھے۔ کوئی پیدل، کوئی گاڑی پر، کوئی ہاتھ گاڑی پر، کسی کا بچہ گود میں، کسی کا بچہ بیک پر، کسی کا پیدل، سب اپنی دھن اور مستی میں رواں دواں تھے کشمیر پوائینٹ کی طرف۔ پیدل چلتے تھوڑی دور جاکر ہمارے چھوٹے صاحب ناٹ گئے کہ میں آگے پیدل نہیں جاسکتا ، یا مجھے گود میں اٹھائیں یا پھر کار کرائیں، یا بچہ گاڑی۔ ہم نے انکی دو فرمائشیں رد کر کے اسے گود میں اٹھا لیا اور پھر چلے پیدل کشمیر پوائنٹ کو بچہ کمر پر لاد کر۔ مری مال روڑ سے کشمیر پوائنٹ تک کا پورا راستہ برف سے ڈھکا ہوا تھا۔ سڑک پر برف، مکانوں پر برف، دکانوں پر برف، ہر طرف برف ہی برف۔ اور سیاح اسی برف میں آ جا رہے تھے۔ ہر کسی نے سردی سے بچنے کے لیے ۔۔۔ مختلف لوازمات پہن رکھے تھے۔ کوئی کوٹ میں تھا، کوئی جیکٹ میں، کو ئی جرسی سویٹر میں، کوئی اوور کوٹ میں ، کسی نے چادر لی ہوئی تھی، کو ئی ڈبل ٹوپے چڑھا ئے ہوئے تھا، کسی نے لانگ کوٹ پہنا ہوا تھا، کسی نے لانگ شوز، کسی نے شارٹ شوز، کوئی چشمے میں تھا تو کوئی بغیر چشمے کے۔ کوئی دستانوں کے بغیر، کوئی دستانوں کے ساتھ، کسی نے کاٹن کے دستانے پہنے ہوئے تھے تو کسی نے چمڑے کے۔ کوئی چھتری کے ساتھ تو کوئی بغیر چھتری کے رواں دواں تھا۔ کسی نے ہماری طرح چھوٹے بچوں کو گود میں لیا ہوا تھا، کسی کا بچہ پیدل چل رہا تھا، کسی کا بچہ گاڑی میں، کسی نے اپنے گھر سے ساتھ لائی گاڑی میں بچہ بٹھایا ہوا تھا۔ کوئی بیلٹ باندھ کر بچے کو کمر پر یا آگے لٹکائے ہوئے تھا۔ غرضیکہ ہر کوئی اپنی مستی میں مگن اپنے حال میں آ جارہا تھا۔ یہاں کوئی اس چیز کا خیال نہیں کرتا کہ کسی نے کیا پہنا ہوا ہے, ، کیا کھا رہا ہے، کیا کر رہا ہے ۔ ہر کوئی اپنے حال میں دم مست قلند ر مست، بس چلا جا رہا تھا۔

جگہ جگہ لوگ مختلف پوائنٹ پر رک کرمختلف طریقوں سے برف سے کھیلنے میں مصروف تھے اور مختلف زاویوں سے فوٹو سیشن کرا رہے تھے۔ایک بڑے سے میدان میں پہنچ کر دور دور تک برف دیکھی تو ہمیں بھی اس بڑھاپے میں شوق سمایا کہ سلائڈ لی جائے۔ جگہ بہت اچھی تھی۔ چھوٹی سی پہاڑی سے نیچے کی طرف ڈھلوان اور پھر نیچے ہی نیچے گہری کھائی۔ اور پھر میدان اور پھر وہاں پر بہت سے دوسرے لوگ بھی برف میں کھیل کر انجوائے کر رہے تھے۔ ہم نے بھی پینٹ ٹونگی اور بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے بغیر کسی چھڑی یا سلائڈر کے ایسے ہی برف پر چھلانگ لگا دی جیسے کہ نہر میں نہانے کے لیے چھلانگ لگائی جاتی ہے۔ پھر کیا تھا ۔ جناب لڑھکتے، پھسلتے کئی فٹ نیچے گہرائی میں جاگرے۔ اوپر نظر دوڑائی تو بیگم ، بچے اور سینکڑوں سیاح ہمیں عجیب نظروں سے دیکھ کر ہنس رہے تھے کہ ان بڑے میاں کو کیا سوجھی جو اس بڑھاپے میں کمر تڑوانے کو انہوں نے برف پر چھلانگ لگادی۔ یا یہ کہ جیسے ہم کے ٹو پر پہنچ گئے ہوں۔ ہہر حال ! ہم سلائڈ لیکر نیچے تو آ چکے تھے پر اوپر واپس نظر دوڑائی تو ہمیں واپس جانا ایک پل صراط نظر آیا کہ اوپر پہنچنا بہت ہی جان جوکھم کا کام لگ رہا تھا۔ ہم نے واپسی کے لیے برف پر قدم بڑھا ئے تو چکرا کروہیں گر پڑے۔ پھر اٹھے ۔ چند قدم اوپر چلے تو پھر سلپ ہو کر پہلی والی جگہ پر آگئے ۔ یعنی بار ہا کوشش کی کہ اوپر اپنی فیملی کے پاس پہنچ جاؤں پر ہر بار لڈو کی گیم کی طرح سانپ ہمیں ننا نوے سے نیچے زیرو پر لا پٹختا۔ بار بار کوشش کی لیکن ناکام۔ ہماری یہ حالت دیکھ کر بیگم صاحبہ کو بھی جوش آیا کہ میں بھی سلائڈ لیکر آپکے پاس آجاتی ہوں اور پھر دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھا م کر واپس اوپر آ جائیں گے۔ ہم نے بہت سمجھایا کہ محترمہ یہ غلطی آپ نہ کیجئے گا۔ میں تو پھنسا ہوا ہوں پھر جناب کو اتنے بھاری بھرکم جسم کے ساتھ کون نکالے گا اور کہیں آپ کو نکالنے کے لیے کہیں قربانی والی عید کی طرح جیسے چھت پر اٹکی بھینس کو اتارا جاتا ہے، کی طرح کرین نہ منگانی پڑجائے۔پر عورت ذات ہے نہ ۔ نہ مانی اور دیسی طریقے سے سلائڈ لیکر ہم سے ایسے زور سے دھم سے ٹکرائی کہ ہم مزید کئی فٹ برف میں نیچے چلتے چلے گئے۔ تھکن اور چکروں سے برا حال اور ہم دونوں برف میں تقریبا پچاس فٹ نیچے۔بچے الگ تماشا دیکھیں کہ تھوڑی دیر پہلے تو والد صاحب پھنسے تھے اور والد اور والدہ دونوں برف میں پھنسے کیسے نکلیں گے بغیر کسی ڈنڈے سوٹے کے؟خیر جناب موڈ تبدیل کرنے کو دونوں میاں بیوی تھوڑی دیر برف میں کھیلے اور پھر کوشش کی اوپر آنے کی لیکن چند قدم چلتے ہی پھر دھڑام سے نیچے۔ایک بار پھر بیگم کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر دوبارہ اوپر چڑھنے کی کوشش کی تو پھر بیگم صاحبہ کا ایسا پاؤں پھسلا کہ بھاری بھرکم جسم میاں ناتواں پر آن پڑا او ر پھر لڑھک کے دونوں نیچے جارہے۔ اس بھن تروڑ میں ہماری اچھی خاصی ورزش ہو چکی تھی اور بیگم صاحبہ جو کہ پہلے ہی دمے کی مریض ہیں، انہیں سانس کی تنگی شروع ہوگئی۔ بڑی پریشانی ہوئی کہ اگر اسکا سانس یہاں بند ہوگیا تو اسے تو اوپر لیجانے کے لیے ۱۱۲۲ کو بلانا پڑیگا۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ سوچ کر ہی جھر جھری سی آ گئی۔ خیر ! ایک با ر پھر ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر دوبارہ اوپر چڑھنے کی کوشش کی تو بیس فٹ اوپر گئے ہونگے پھر دونوں لڑھکتے ایک دوسرے کے اوپر ہوتے پھر نیچے جاگرے۔ اوپر کھڑے بچوں نے یہ حال دیکھا تو انہیں پریشانی شروع ہوگئی۔ زیادہ دیر برف میں رہنے کی وجہ سے اور کچھ خوف کی وجہ سے ہم دونوں کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے برف ہو چکے تھے کیونکہ دستانے بھی اوپر چڑھنے کی کوشش میں گیلے ہو چکے تھے۔ جیب سے لائٹر نکال کر دوبارہ ہاتھ پاؤں گرم کیے دونوں کے اور پھر دوبارہ تیتر بٹیر کی طرح برف سے لڑائی کے لیے تیار ہو گئے۔


اچانک ایک صاحب جو ہمیں کافی دیر سے پریشان دیکھ رہے تھے نے ہمیں اشارہ کیا کہ جناب دوسرے راستے سے آئیں کہ جو لمبا ضرور تھا مگر آسان تھا اور چڑھائی بھی کم تھی اور اس راستے میں جھاڑیاں بھی تھیں، جنہیں پکڑ پکڑ کر اوپر چڑھا جاسکتا تھا۔ لیں جناب اس راستے سے اوپر کا سفر شروع کیا تو آدھا راستہ خیریت سے گزر گیا تو پھر پاؤں سلپ۔ لیکن خیر رہی کہ ہم نے ساتھ گزرتی جھاڑی کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور نیچے جانے سے بچ رہے۔ اور پھر چوتھی ٹرائی میں اﷲ اﷲ کر کے خیر خیریت سے ہم دونوں اوپر پہنچ گئے ، اور بچوں نے اﷲ پاک کا شکر ادا کیا کہ ماں باپ خیر یت سے واپس آگئے۔خاص طور پر چھوٹا بیٹا تو رونے والا ہو رہا تھا بلکل ہی۔ اوپر پہنچے تو سردی سے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے، قریب کے ہوٹل میں جاکر پکوڑے پکانے والی انگیٹھی پر ہاتھ اور پاؤں سیکے اور پھر کشمیر پوائنٹ کی طرف دوبارہ پیدل مارچ شروع کر دیا۔اور جہاں اچھی جگہ لگی وہاں رک رک کر بچوں نے برف میں خوب انجوائے کیا اور فوٹو گرافی بھی کی۔

کشمیر پوائنٹ پہنچے تو وہاں اچھا خاصا رش تھا۔ سردی اور تیز ہوائیں اتنی شدید تھیں کہ کسی کو ٹھہرنے نہیں دے رہی تھیں۔ ہر کوئی شیلٹر کی تلاش میں تھا یا پھر ہوٹلوں اور کیفے ٹیریاز میں بیٹھ کر اشیاء خوردونوش ، نوش فرما رہے تھے۔ ہم لوگ کچھ دیر وہاں ٹہل پھر کر سفاری ٹرین کے ٹکٹ لیکر لائن میں لگ گئے۔ کچھ دیر بعد سفاری ٹرین واپس آئی اور ہمں لیکر کشمیر پوائنٹ کے جنگل کی طرف چل پڑی۔اس سفاری ٹرین میں ہم لوگ پہلے بھی کئی بار سفر کر چکے ہیں لیکن سردیوں میں اسکے سفر کا اپنا ہی مزہ تھا۔ اس سفاری ٹرین کی کہانی یہ ہے کہ یہ کشمیر پوائنٹ سے چل کر آگے پہاڑوں اور وادیوں میں مسافروں یا سیاحوں کو بیس منٹ کی سیر کراتی ہے اور پھر واپس لاکر کشمیر پوائنٹ پر چھوڑ دیتی ہے۔ دورانِ سفر ڈرائیور بھائی آس پاس کے راستوں ، پہاڑوں اور گھروں کے بارے میں بھی معلومات دیتا رہتا ہے کہ یہ جو سامنے پہاڑ نظر آ رہے ہیں یہ کشمیر کے پہاڑ ہیں، دائیں طرف والے ایوبیہ کے ہیں، بائیں طرف پتریاٹہ ہے۔فلاں گھر فلاں کا ہے، فلاں فلاں کا ہے، سامنے والا روڑ کشمیر کو جا رہا ہے، فلاں عمارت فلاں کی ہے۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ سفر بہت یادگار تھا۔ ہر طرف صاف شفاف برف ہی برف۔ جیسے کسی نے آسمان سے روئی لاکر زمین پر رکھ دی ہو۔ہر طرف خوبصورتی ہی خوبصورتی۔ خاص طور سے اس پر سکون جگہ پر اکا دکا مکان یا ہٹ ایک عجیب سی سنسناہٹ پھیلا رہے تھے کہ یار کو ن لوگ اس سناٹے میں ، اس برف باری میں، اس شدید سردی میں یہاں رہتا ہوگا؟ اس سفر کو بچوں نے بہت انجوائے کیا ، فوٹو اور مووی بنائی اور ابھی تک مری کی برف انہیں اکثر یاد آتی رہتی ہے

سفاری ٹرین کی سیر سے واپس آکر بچوں کی پھر فرمائش کہ جی کچھ کھلایا پلایا جائے۔ سب کھانے پینے کے لیے ایسے پسر گئے کہ جیسے چاند کی سیر کر کے آ رہے ہوں اور پھر سب کی الگ الگ فرمائش کہ جی: دہی بھلے، گول گپے، آئسکریم، برگر، چاٹ، کافی ، چائے، بوتل، شدید سردی میں اور پھر ریفریشمنٹ کا بل ہی ہزاروں میں بنوا دیا کہ ایک چا ئے ہی چالیس روپے کی تھی، یا جیسے کہ مرغ مسلم روسٹ نوش فر مائے ہوں۔ویٹر سے تفصیل پوچھی تو اگلے نے پہلے تو ناراضگی کا اظہار کیا پھر ہرچیز کے ڈبل ریٹ بتا کر ہماری بولتی بند کرا دی۔ لیں جناب! اب باری تھی کہ جی نواز شریف صاحب کے گھر کو د یکھنا ہے۔ یہ راستہ چونکہ لمبا تھا تو چھوٹے بیٹے صاحب نے ایگزیکٹو آرڈر جاری کیے کہ جی میں پیدل نہیں چل سکتا مجھے گود میں اٹھا یا جائے اور پھر انکے حکم کی تعمیل ہوئی اور یہ قافلہ چلا واپس مری مال روڑ، براستہ گھر نواز شریف صاحب۔شادی شدہ حضرات جانتے ہیں کہ باہر نکل کر بچوں کو اٹھانے کی ذمہ داری بیگمات اکثر نہیں لیتیں(بوجوہ) اور والد صاحبان سے ہی گھوڑے، تانگے وغیرہ کا کام لیا جاتا ہے۔ پھر بس جناب والد صاحب چلے چھوٹے کو گود میں اٹھائے مری مال روڑ براستہ ہاؤس نواز شریف۔وزیر اعظم صاحب کے گھر کے قریب پہنچے تو پولیس نے گھر کو گھیرا ہوا تھا پر شکر ہے کہ لاہور کی طرح یہاں نہ ہی روڑ بند تھا، نہ ہی آنے جانے پر پابندی تھی ، نہ فوٹو گرافی پر۔ سیاح لوگ گھر کو دیکھ دیکھ کر گزرتے جا رہے تھے، شاید اس لیے بھی کہ مکان کے مکین اندر نہ تھے اور کبھی کبھی ہی آتے ہیں۔ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی اور اور یہ قافلہ بارش میں ہی مری کی طرف رواں دواں تھا۔بارش دیکھتے ہی پھر اﷲ پاک سے دعا کہ اے اﷲ آج آخری دن ہے ، کل روانگی ہے مری میں دکھا دے برف باری!۔
 


قریبا چالیس منٹ کی پیدل مار کے بعد ہمارا یہ قافلہ مال روڑ پر پہنچا اور فیصلہ ہوا کہ پہلے کھانا کھا لیتے ہیں پھر آخری شاپنگ کریں گے او ر پھر کمرے میں جاکر واپسی کے سامان کی پیکنگ بھی کرنی ہے۔ بڑے بحث و مباحثے کے بعد ایک ہوٹل ڈیسائڈ ہوا او ر پھر بھاری بھرکم طعام کے بعد شاپنگ شروع ہوئی ۔ ایک دکان سے دوسری دکان ، دوسری سے تیسری، تیسری سے چوتھی، چوتھی سے پانچویں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میاں صاحب دکانوں کے باہر پہرے داری پر مامور۔ خاص طور پر چھوٹے صاحب کا ڈر رہتا کہ جو ہر منٹ کے بعد اچھل کود کر ایک جگہ یا دکان سے دوسری دکان میں اٹھکیلیاں کر رہے تھے۔بارش مستقل ہو رہی تھی اور شاپنگ بھی اسی بارش میں جاری تھی۔ کبھی کبھار بارش کے قطرے موٹے یا بھاری ہوجاتے تو مال روڑ پر ایک شور سا مچ جاتا کہ شاید برف گرنے والی ہے۔

پر یہ سب اﷲ میاں کی طرف سے جھاکا تھا، برف باری نہ تھی۔خد ا خدا کرکے بیگم اور بچوں لی لیٹ نائٹ شاپنگ مکمل ہوئی اور ہوٹل کے کمرے میں پہنچ گئے۔

کمرے میں پہنچ کر بیگم صاحبہ نے آرڈر جاری کیے کہ سب مل کر پیکنگ کرائیں۔ لیں جناب سب مل کر لگے پیکنگ کرنے پر چھوٹے صاحب نے اپنے آلاتِ حرب یعنی کھیل کود کا سامان جو ابھی تازہ تازہ خرید کر لائے تھے، نکال کر کھیلنا اور توڑنا شروع کر دیا۔ باہر ہلکی ہلکی بارش ابھی جاری تھی۔ رات گئے اچانک ٹی وی پر خبریں لگائیں تو بتایا گیا کہ مری میں برف باری کا امکان۔ یہ سننا تھا کہ پھر سب کی باچھیں کھل گئیں کہ شاید آج رات برف باری ہو جائے۔ سامان کی پیکنگ سے فارغ ہو کر سب لو گ سو گئے پر ہماری آنکھوں سے نیند ایک بار پھر کوسوں دور تھی۔ کیونکہ صبح جانا تھا اور ہزاروں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی برف باری دیکھنے کو نہ مل سکی تھی۔ خیر جیسے تیسے کھڑکیاں جھانکتے ، سوتے جاکتے رات گزاری، صبح جلد اٹھ کر نماز وغیرہ سے فارغ ہو کر پھر اﷲ پاک سے دعا کی کہ اے اﷲ آج تو کوئی معجزہ دکھا دے برف کا کہ اب تو جانا ہے واپس!

صبح سب کو جلد اٹھا دیا، منہ ہاتھ دھوکر بوجھل قدموں کے ساتھ ناشتے کے لیے نکل پڑے اور گاڑی والے کو فون کر دیا کہ بارہ بجے ہمیں ہوٹل لینے آ جانا۔ باہر ہلکی ہلکی بارش جاری تھی پورا ماحول گیلا، ہر طرف کیچڑ، چھپ چھپ کرتے ایک ہوٹل میں ناشتے کے لیے گھس گئے۔ آخری ناشتہ سمجھ کر سب نے اپنے من پسند آرڈر دیے اور خوب سیر ہو کر ناشتہ کیا کہ پتہ نہیں شام کو راولپنڈی میں کب کہاں سٹے ہو اور کھانا ملے نہ ملے۔ ناشتے سے فارغ ہو کر پروگرام بنا کہ کچھ دیر مال روڑ پر ٹہل لیا جائے۔ ہوٹل کا بل ادا کرکے باہر نکلے اور جی پی او چوک پر آکر کھڑھے ہوئے تو اچانک بڑے بیٹے نے خوشی اور چیخنے کے انداز میں کہا کہ پاپا برف۔ ہمیں یقین نہ آیا۔ چند لمحوں بعد نظریں اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا تو واقعی ہلکے ہلکے اولے سے لگے اور پھر چند منٹ میں یہ اولے برف بن گئے اور پھر برف باری واقعی شروع ہو گئی۔ شکر الحمد ﷲ، شکر الحمد ﷲ، شکر الحمد ﷲ۔ اﷲ پاک کی رحمت کو آ خر کار جوش آ ہی ٓگیا۔ ہماری محنت وصول ہو ہی گئی۔ اور پھر اگلے ہی منٹ میں ہر طرف شور ہی شور، ہا ہاہاہاہا، ہی ہی ہی ہی ہی۔ لڑکے بالے، بچے، جوان ، بوڑھے سب نے ناچنا ، گانا شروع کر دیا۔گاڑیوں میں لگے ڈیک فل آواز میں کھول دیے گئے۔ گاڑیوں کے ہارن پر ہاتھ لگا تو نہ اٹھا۔ پھر برف باری میں سیلفیاں بننی شروع ہو گئیں، کچھ منچلوں نے اپنے آپ اور برف باری کو ٹچ موبائل کے ذریعے دنیا بھر میں لائیو دکھانا شروع کردیا۔ ٹی وی چینلز کی وین وہاں پہلے سے موجود تھیں، برف باری لائیو دکھانے کے لیے۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ آہستہ آہستہ ہلکی برف سے برف باری تیز اور تیز تر ہوتی چلی گئی۔ اور پھر تو جیسے برف باری کی جھڑی سی لگ گئی آسمان پر جس طرف نظر جاتی برف سی آتی اور برستی نظر آتی۔ قدرت کی اس شاہکاری پر داد دینے کو دل چاہ رہا تھا۔ اتنا حسین منظر، اتنا حسین نظارہ وہ بھی لائیو زندگی میں پہلی بار دیکھنے کو ملا تھا۔اوپر آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھیں تو حیرانگی ہوتی کہ آخر یہ برف آ کہاں سے رہی ہے؟ یہی وہ مناظر تھے جو آ ج سے پہلے ہم صرف ٹی و ی پر دیکھا کرتے تھے ، یہی وہ مناظر تھے کہ جن کے بارے میں صرف پڑھا تھا، صرف سنا تھا اور آج حقیقت میں مری کی جان مال روڑ پر کھڑے لائیو دیکھ رہے تھے۔ یہی وہ لمحات اور حسین مناظر ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے لوگ پاکستان بھر سے ہزاروں ، لاکھوں روپے خرچ کر کے یہاں آتے ہیں۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک سے بھی لوگ ان حسین لمحات کو دیکھنے کے لیے امڈ آتے ہیں اور ان دنوں میں یہاں ایک سٹار تو کیا کسی فائیو سٹار ہوٹلوں میں بھی جگہ نہیں ملتی۔ انہیں حسین مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہمارے ملک کے صدر ، وزیرِاعظم، وزرا اور دو سرے وی آئی پی حضرات اپنی شدید مصروفیات میں سے ایک آدھ روز یہاں ضرور گزارنے آتے ہیں۔اس وقت مال روڑ اور جی پی او چوک بلاک ہو چکا تھا۔۔۔ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ لوگوں کا رش، اوپر سے شور شرابا، ہا ہا ہا ہا ہی ہی ہی ہی۔ گاڑیوں کے ہارن، ٹریفک پولیس کی سیٹیاں، منچلوں کی منہ سے بجائی گئی سیٹیاں، ناچ گانے، شور شرابا، ہلا گلا ، بس ایک عجیب سا خوشگوار ماحول سا تھا۔برف باری کے یہ حسین لمحات اتنے خوبصورت تھے کہ دل چاہتا تھا کہ بس یہ لمحات ٹھہر جائیں اور کبھی ختم نہ ہوں اور ہم انہیں یونہی دیکھتے رہیں۔ہم لوگ مین جی پی او کی سیڑھیوں پر کھڑے ان لمحات سے مکمل طور پر لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ برف کبھی تیز تو کبھی ہلکی ، کبھی چھوٹے روئی کے گالے تو کبھی بڑےَ کبھی رم جھم پھوار کی طرح برف تو کبھی ایسے جیسے جھڑی لگی ہو، سڑک کے دونوں طرف ہوٹل ہی ہوٹل اور درمیان میں گرتی برف ایسا خوبصورت نظار ہ زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے سڑک کے درمیان برف کی مالاؤں کی لڑیوں سے کسی نے جال سے بن دیا ہو۔ مال روڑ اور جی پی اور چوک پر ہر طرف لوگ ہی لوگ ، کچھ چھتریوں کے ساتھ تو کچھ بغیر چھتریوں کے برف کو انجوائے کر رہے تھے۔ ہم ان حسین لمحات میں ایسے کھوئے تھے کہ ہمیں یاد ہی نہ رہا کہ آج بارہ بجے سے پہلے ہم نے ہوٹل کا کمرہ بھی خالی کر نا اور واپس جانا ہے ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ اتنے میں ڈرائیو ر کا فون آگیا کہ سر جلدی نکلیں ورنہ برف باری شدید ہوتے ہیں پندی اسلام آباد جانے والے تمام راستے بند ہو جائیں گے اور پھر آپ پنڈی اسلام آباد نہ جاسکیں گے۔ یہ سننا تھا کہ ہمارے ہوش اڑ گئے کہ جیب میں مزید اتنے پیسے نہ تھے یہاں مزید ایک دو روز رکا جائے کہ یہاں فیملی کے ساتھ ایک دن رکنے کا مطلب آٹھ سے دس ہزار خرچہ ہے۔۔۔۔ بہرحال ڈرائیور کو کہا کہ ابھی کچھ دیر آپ انتظار کر یں اور ہمیں مزید انجوائے کرنے دیں۔ لیں جناب برف باری اسوقت فل جوبن پر تھی۔

اب ہر چیزدوبارہ سے برف سے سفید ہو کر ڈھکنا شروع ہو چکی تھی۔جدھر نظر جاتی برف ہی برف اترتی نظر آتی۔ ہلکی، گہری اور مزید گہری ہو تی جاتی برف اور ہم لوگ کھلے آسمان تلے ، اوپر تلے کئی گرم گرم کپڑے پہنے یہ موسم انجوائے کر رہے تھے۔ کوئی دو ۔ تین گھنٹے بعد احساس ہوا کہ اب ہمارے ہاتھ اور پاؤں اس برف باری میں شل ہونا شروع ہو گئے ہیں اور مزید اوپن ایئرمیں ٹھہرنا مشکل تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیب سے لائٹر نکال کر کچھ ہاتھ پاؤں گر م کیے مگر تھوڑی دیر بعد پھر شدید ٹھنڈ لگنی شروع ہو گئی۔ چھوٹے بچوں کا ساتھ تھا۔اور نہ چا ہتے ہوئے بھی ہم لوگوں نے برف باری کے ان حسین لمحات کو چھوڑ کر واپس جانے کا فیصلہ کر لیا ۔زندگی کے ان حسین لمحات کو چھوڑنے کو دل تو نہیں چا ہ رہا تھا، اور نہ ہی بچے جانا چاہ رہے تھے کہ مزید برف دیکھیں پر جیب اجازت نہیں دے رہی تھی، لہٰذا ہمیں پنڈی اسلام آباد جانے کے لیے تیار ہو نا پڑا۔جلدی جلدی تمام حسین مناظر کیمرے میں محفوظ کیے اور ہوٹل کی طرف چل دیے۔ برف باری مستقل جا ری تھی۔ ہوٹل پہنچ کر چیک آؤٹ کیا، ویٹرز کو ٹپ دی سامان گاڑی میں ڈالا اور اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگئے اور وہاں کا شیڈول یہ تھا کہ پہلے: حضرت بری امام کے مزار پر حاضری، پھر فیصل مسجد پھر راولپنڈی ہوٹل سٹے۔

مری کے یہ حسین لمحات یعنی برف باری راستے میں بھی آدھا گھنٹہ ہما رے ساتھ ساتھ چلتی رہی۔گاڑی میں بیٹھ کر ٹریول کرتے برف باری دیکھنے کا بھی اپنا مزہ ہے۔ تا ہم قدرتی بات ہے کہ جو ں جوں ہم نیچے یعنی پنڈی اسلام آباد کی طرف آ رہے تھے تو یہی برف باری بارش میں تبدیل ہوتی گئی اور ہم لوگ خیر خیریت سے اسی بارش میں اسلام آباد حضرت بری امام کے مزار پر پہنچ گئے۔اسلام آباد میں بھی شدید بارش اور سردی تھی۔ بہر حال اسی سردی میں مزار پر پہنچ کر وضو کی، ظہر کی نماز اداکی، فاتحہ پڑھی، بیگم صاحبہ نے باہر نکل کر کچھ شاپنگ کی اس کے بعد اسی شدید بارش میں فیصل مسجد روانہ ہو ئے اور پھر وہاں بھی دو گھنٹے گزار پنڈی روانہ ہوگئے اور وہاں پہنچ کر ہوٹل میں کمرہ لیا ااور سامان اور بچوں کو وہاں ڈھیر کر دیا۔

راولپنڈی پہنچ کر بچوں نے بارش میں ہی ایوب پارک دیکھا، بارش میں ہی ڈھیر ساری شاپنگ کی، بارش میں ہی مختلف جگہوں پر کھانے کھائے، بارش میں ہی ریلوے کی ایڈوانس بکنگ کرائی، شدید بارش میں ہی ہوٹل چھوڑا، بارش میں ہی گاڑی میں سوار ہوئے اور اگلی صبح شدید سردی اور دھند میں خیر خیرت سے اپنے گھر واپس پہنچ گئے۔ شکر الحمد ﷲ۔

آخر میں ایک بار پھر وہی نصیحت کہ ہمیشہ ہنستے مسکراتے رہیں کہ ہنسنا ہی زندگی ہے۔اس ناچیز کو اپنی روزمرہ دعاؤں میں یاد رکھیں اور ساتھ ساتھ اپنے کمینٹس ضرور دیں،جوکہ مزید بہتر لکھنے میں میرے معاون ثابت ہوتے ہیں-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mohammad Shafiq Ahmed Khan-0333-6017660

Read More Articles by Mohammad Shafiq Ahmed Khan-0333-6017660: 93 Articles with 169045 views »
self motivated, self made persons.. View More
28 Apr, 2017 Views: 1979

Comments

آپ کی رائے