مفتی محمود کی سیاسی زندگی

(Umair Ahmad, )

قائد ملت ِاسلامیہ و مفکر اسلام قایٔد جمعیت ۱۹۱۹؁ء کو پیدا ہوئے۔۱۹۳۳؁ء میں میٹرک پاس کرنے کے بعد اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کی لئے دارالعلوم دیوبند چلے گئے۔اپ نے اپنی سیاسی زندگی کا اغاز زمانہ طالب علمی ہی سے کیا ۔۱۹۳۷؁ء میں جمعیت علماء ہند اور مسلم لیگ کے مشترکہ انتخاب مہم مسلم یونین بورڈ جس کی سربراہی شیخ ا لعرب والعجم مو لانا حسین احمد مدنیؒ کر رہے تھے ،مفتی صاحب نے حضرت مدنی کی معیت میں سیاسی جدّو جہد کی ۔۱۹۴۱؁ءمیں جب آپ کی فراغت ہوئی توــ’’ہندوستان چھوڑدو تحریک ‘‘زور پر تھا ۔ آپ نے اس میں بھی بھر پور حصہ لیا ۔۱۹۴۲؁ءمیں اپنے وطن واپس ہو گئے۔بہت جلد ہی آپ اپنی سیاسی سرگرمیوں ،سیاسی جدّوجہد اور سیاسی بصیرت کی بدولت جمعیت علما ء اسلام خیبر پختون خواہ کے صوبائی عملہ کے رکن بنے۔۱۹۴۳؁ءمیں مدنیؒ کے ساتھ پورے خیبر پختون خواہ کا دورہ کیا ۔۱۹۴۶؁ءمیں آپ نے صوبہ خیبر پختون خواہ کی طرف سے آل انڈیا کانفرنس میں ترجمانی کی۔

آزادی پاکستان کے بعد جب سیاست اورمعیشت پر مخصوص مفادات کے حامل برطانوی اقتدار کا پیدا کردۃ طبقہ مسلّط ہو گیا اور اسلام، جمہوریت ،انسانی حقوقی معاشی آزادی ،اسلامی نظام کے حاکم اعلٰی صرف اﷲ اور خدا کی زمین پر خدا کا نظام کے حامی اشخاص پر اور جماعتوں پر زمین تنگ کی گئی اور ان علماء کرام جنہوں نے بر صغیر کی سیاست میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت سے کردار ادا کیا ۔ان کو مساجد، مدارس اور خانقاہوں تک محدود رکھا گیا ۔عین اسی نا مساعد حالت میں مفتی محمود صاحب نے اپنی علمی خدمات کو خیر باد کہہ کر سیاست کے میدان میں قدم رکھا ۔مفتی مولویوں میں سے پہلی شخصیت تھے جس نے حالا ت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سیاست کے میدان میں کھود پڑے۔ یہ وہ ایام تھے جس میں ملکی سیاست عدم استحکام اور افراتفری کا شکار ہو گئی تھی اور سکندر مرزا کے معاہدہ در معاہدہ کی وجہ سے ملکی سیاست ، معیشت ،معاشرت اور ثقافت امریکہ کا غلام بن چکی تھی ۔حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے ۱۹۵۶؁ءکو ملتان میں علماء کنونشن بلایا جس میں مفتی ؒ نے علماء کو سیاسی میدان میں اپنی استطاعت کے بقدر ملکی سیاست میں اپنا حصّہ ڈالنے پرتمام علماء نے مفتیؒ صاحب کی ندا پر لبّیک کہتے ہوئے شیخ التفسیر ولی کامل اور صاحب کرامات شخصیت مولانا احمد علی لاہوری صاحب کو اپنا امیر مقررکیا ،کیونکہ لاہوری صاحب وہ شخصیت تھے جو تحریک ریشمی رومال ،خلافت تحریک او ر تحریک ہجر ت وغیرہ جیسے تحریکات میں پیش پیش تھے۔یوں ہی پاکستان میں علماء کا سیاست میں عدم وجود کا خلا پیدا ہو گئی تھی وہ خلا بھی پر ہو گئی۔اور وہ لوگ جو آزادی کے بعد علماء کی سیاسی قیادت میسّر نہ ہونے پر روپوش ہوئے تھے تو انہوں نے بھی آکر مفتی صاحب کی قیادت کو تقویت بخش دی ۔یوں ہی پاکستان میں جمعیت علماء اسلام پاکستانی سیاست میں ایک ابھرتی ہوئی اسلامی اور مذہبی جماعت اور تنظیم سامنے آئی ۔

؁ٰٗؒ۹۵۶ا؁ ء میں جب پاکستان کا پہلا آئین ودستور بنا تواس میں چند جزئیات اسلامی وشرعی لحاظ سے محل نظر ہونے کی بنا پر مفتی صاحب نے اس کی نشان دہی کی جس میں ترمیم کے لئے مفتی صاحب کی سر براہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی ،جس میں مولانا شمس الحق افغانی جیسے حضرات مفتی صاحب کے شریک عمل تھے ۔مفتی صاحب نے ایک رپورٹ تیار کی جو ایک طرف سے جمعیت کی تاریخ میں ایک یادگار اور تاریخی کارنامہ ہے تو دوسری طرف مفتی صاحب کی سیاسی بصیرت اور شخصیت کو نمایاں کرنے میں ممد دمعاون ثابت ہوئی۔

۱۹۵۸؁ءمیں جب فیلڈ مارشل ایوب خان نے مارشل لاء کے آمرانہ حکومت بنائی تو مفتی صاحب نے آمرانہ حکومت کی توڑاسلامی نظام کی نفاذ اور ظالم اور حکومت پر عوام کا دباؤ ڈالنے کے لئے نظام العلماء تنظیم کی تشکیل دی۔

۱۹۶۲؁ءمیں مفتی صاحب پہلی مرتبہ ڈیرہ اسماعیل خان سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ مفتی صاحب اسمبلی کے پلیٹ فارم پر پہلے ہی دن تابناک اور جرت مندانہ انداز میں سامنے آئے ۔جب اسمبلی کے اراکین سے حلف لیتے ہوئے ایوب خان نے کہا کہ ۱۹۶۲؁ءکا دستور اور آئین قائم و باقی رکھوں گا تو مفتی صاحب نے کہا کہ نہیں اس میں اس بات کا اضافہ کیا جائے کہ آئین کا جو شق اسلام اور شرعی قوانین کے مخالف ہو اس کو ہر گز نافذ نہیں کیا جائے بلکہ اس میں ترمیم کی جائے گی تو مفتی صاحب کا یہ مقولہ آئین میں شامل کیا گیا۔

۱۹۶۳؁ءمیں مفتی صاحب نے عائلی قوانین کو اسلام اور شریعت کے متصادم ثابت کرنے کے لئے علماء دلائل و براہین کے ساتھ آراستہ کرتے ہوئے ایوان کے تمام اراکین پر اپنا موقف منوایا۔مفتی صاحب اسمبلی کے پلیٹ فار م پر مسلسل جد وجہد کرتے ہوئے قانون میں یہ بات کی گئی کہ تمام لوگوں کو مذ ہبی آزادی ہوگی تو مفتی صاحب نے اسکی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ قانون میں ان الفاظ کا اضافہ کیا جائے کہ مملکت خداداد میں کسی مسلمان کو مرتد ہونے اور اپنے ارتداد کی اشاعت کی اجازت نہیں ہوگی جو قانون کا بن حصہ گیا اسمبلی پلیٹ فارم مفتی صاحب عوامی مسائل ،فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی کے لئے مسلسل جدّوجہد کرکے تجاویز پیش کی۔

۱۹۶۸؁ءمیں ایوب خان آمرانہ قانون و دستور کی وجہ سے ملکی معیشت تباہ ہو چکی ، مہنگی ،انتظامی بدعنوانی ،غربت ،بھوک ،موت،لوٹ کھسوٹ اور رشوت کا بازار گرم تھا تو مفتی صاحب نے لاہور میں پانچ ہزار علماء پر مشتمل کانفرنس کرکے ملکی سیاست نے ایک نیا انقلابی رخ لیا ۔ جس کے ذریعے ملک کی مہنگائی ،غربت ،لوٹ کھسوٹ اور رشوت کا خاتمہ ،اسلامی نظام کی نفاذ،عدم مساوات قانون کا خاتمہ کیا جس سے عوام کی بے بسی اور بے ہمتی کو ایک نئی کرن پیدا کر دی ۔جو ایوب خان کے لئے زوال کی پہلی سیڑھی ثابت ہوئی ۔جس میں ملک کے ہر طبقہ کے لوگوں اس میں بھر پور حصہ لیا۔سٹوڈنٹس ،مزدور ،کسان،وکلاء ،علماء،تاجر،صحافی،سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین تمام لوگ ایوب خان کی آمریت کے خلاف سڑکوں پر نکلے اسی جوش وخروش اور جذبہ کو مفتی صاحب نے اسلامی رخ دینے کیلئے ۲۹ رمضان ۱۹۶۸؁ء کو جمعۃ الوداع کے روز پورے ملک میں یوم نظام اسلام منانے کا اعلا ن کر دیا۔ مفتی صاحب کی اس تحریک کو دبانے کیلئے حکومت نے جلسوں جلوسوں پر گولیاں چلائیں ،لاٹھیاں برسائیں،آنسوں گیس پھینکی اور کئی مقامات پر انتشار اور افراتفری پر قابو پانے کیلئے فوج طلب کی گئی اورکرفیو لگائی گئی لیکن یہ تمام منصوبے اور اقدامات نا کام ہو گئے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایوب خان کو گول میز کانفرنس بلانے پر مجبور کیا ۔ مفتی صاحب نے موقع کو غنیمت سمجھ کر اسلامی نکاتی دستور کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا جو تمام مکاتب فکر نے متفقہ طور پر مرتب کیا اور دستور میں صدر کو فقط مسلمان نہیں بلکہ مسلمان کی جامع مانع تعریف بھی شامل کیا گیا۔

۲۵مارچ ۱۹۶۹؁ ء کو کمانڈر ان چیف جنرل یحییٰ خان نے مارشل لا ء کا اعلان کیا، ایڈمنسٹریٹ کا عہدہ سنبھالتے ہوئے چند ہی دن بعد صدارت کے عہدہ پر براجمان ہوئے ،جس سے ملک میں نئی سیاسی جنگ کا آغاز ہوا ۔اسی کشمکش میں مفتی صاحب نے تمام سیاسی جماعتوں سے الگ موقف اختیار کرکے مفتی صاحب نے ملک میں قرآن و سنت پر مبنی قانون ودستور کا نفاذ اور ملک کے مزدور اور کسانوں کے معاشی اور سماجی مسائل حل کرنے اور ملک کو مکمل طورپر جمہوری بنیادوں پرتشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔
۱۹۷۰؁ءمیں یحیٰی خان نے ۲۲سال بعد آزادانہ الیکشن کا اعلان کرکے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک نئی جان وروح بخش دی ۔جے یو آئی کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں نے مختلف ذرائع سے اپنا پروپیگنڈا کیا ، صنعت کارون اور سرمایہ کاروں کی پشت پناہی حاصل کرکے دولت کے ذریعے اپنی مہم چلائی لیکن جے یو آئی کے ساتھ نہ پروپیگنڈے کے لئے ذرائع اور نہ ہی سرمایہ کار وصنعت کار میسر تھے لیکن پھر بھی جے یو آئی نے عوامی نیشل پارٹی کی شراکت سے صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مشترکہ حکومت بنائی ۔اقوام متحدہ کے اجلاس میں سردار سوہن سنگھ کو بھارتی کتا کہنے پر اور پاک چین دوستی نے بھٹو کو سندھ اور پنجاب کا ہیرو بنا یا تھا جسکی بناء پر وہ مغربی پاکستان (سندھ اور بلوچستان)میں کامیاب ہوئے۔سندھ و پنجاب میں ذاتی طور پر ۴ نشستیں جیت لی لیکن یہ ہیرو بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں مفتی صاحب کے ساتھ مقابلہ میں زیرو بن گیااور مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ پارٹی نے اکثریت حاصل کی۔

یحیٰی خان کے مارشل لاء کے بعد آزادانہ انتخابات میں مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمٰن کی اکثریت تھی اورمغربی پاکستان (سندھ اور پنجاب)میں پیپلز پارٹی کی اکثریت تھی۔شیخ مجیب نے اپنی اکثریت کے بل بوتے پرملک میں اپنی ذاتی حکومت کے حامی تھے۔جبکہ بھٹو اس کی حکومت بننے کیلئے رکاوٹ تھے ۔بھٹو صاحب نے صاف الفاظ میں کہہ دیا تھاکہ کوئی حکومت ہماری بغیر نہیں بنے گی ،جس سے ملک میں ایک نئی جنگ چھڑ گئی اور قوم کو ایک اور جال میں پھنسا یا گیا،جس کا نتیجہ سقوط ڈھاکہ کی صورت میں ہمیں ملا۔

سقوط ڈھاکہ کے بعد مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت بر سر اقتدار آئی ۔ پیپلز پارٹی کا یہ دور حکومت دہشت وبربریت،غنڈہ گردی،جمہوریت کشی ،اور فسطائیت سے کم نہ تھی،جس کی مثال ماضی کی تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔عین اسی وقت مفتی صاحب نے ملک میں جمہوریت کی شمع روشن رکھتے ہوئے ملک کے استحکام،مارشل لاء کے اثر و رسوخ کا خاتمہ،وفاقی ،صوبائی، پارلیمانی،اسلامی و جمہوری آئین کی تشکیل،صوبائی خود مختاری کے حصول اور صوبوں میں نمائندہ حکومتوں کے قیام کیلئے مسلسل جدوجہد کی اور صوبہ خیبر پختونخوا میں ساڑھے ۹ ماہ حکومت میں انہوں نے بے مثال اور انقلابی نتائج کی حامل اسلامی ،معاشرتی،معاشی،تعلیمی اور سماجی اصلاحات کیں اور عوام کی فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی کیلئے جو کارنامے سرانجام دیے وہ اپنی مثال آپ ہے لیکن بھٹو جیسے جابر حکمران نے بلوچستان کی ائینی ،جمہوری اور عوامی حکومت کی جبری برطرفی اورجمہوریت کشی کے اقدام پر مفتی صاحب کے وزارت علیاکو ٹھکرا کر حزب اختلاف کی شیرازہ بندی،جمہوریت کی پاسبانی،عوامی حقوق کی بازیابی اور جمہوری اداروں کی برتری کیلئے کمال ہنر مندی،قابلیت ،جرأت مندی اور ثابت قدمی کی جدوجہد شروع کر دی اور حزب اختلاف کی قیادت سنبھال لی۔

۱۹۷۴؁ء کے وسط میں ربوہ اسٹیشن میں نشتر میڈکل کالج ملتان کے طلباء پر قادیانی غنڈوں نے بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور ہوئے اور انہیں بلا وجہ تشدد کا نشانہ بنا دیا تو مسلمانوں میں غم اور غصہ کی لہر دوڑ گئی، مسلمانوں کے ایمانی جذباتی کی چنگاری بھڑک اٹھی،قادیانیو ں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تو مفتی صاحب نے انتہائی مؤثر اور جاندار طریقے سے ان کی سازنشیں بے نقاب کیں چنانچہ مفتی صاحب کی شبانہ روز محنت ، عالمانہ وحکیمانہ براہین سے مزین اور پرمغز گفتگو اور قران و سنت کے حوالوں سے ۷ستمبر ۱۹۷۴؁ء کو قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کیا ،یونہی مفتی صاحب نے اسمبلی کے پلیٹ فارم سے تیسری ترمیمی بل منظور کی ۔

۱۹۷۵؁ء کو جب پشاور یونیورسٹی کے دھماکے میں پیپلز پارٹی کے صوبائی سربرا ہ وسینئروزیر حیات محمد خان نشانہ بنے تو شیرپاؤخاندان نے اس قتل کا دعویٰ بابائے سیاست ولی خان اور اس کے خاندان پر کیا جس کے پاداش میں بابائے سیاست گرفتار کئے گئے ،تو ایک بار پھر مفتی صاحب نے حزب اختلاف کی ذمہ داری سنبھالی تو ان کی اپنی پانچ سالہ حکومت میں حزب اختلاف کے مابین اعصاب شکن مقابلہ جاری رہا ،جب حزب اختلاف نے اسمبلیء سے بائیکاٹ کیا تو حزب اقتدار نے موقع کو غنیمت سمجھ کر ترامیم کرتے رہے نومبر۱۹۷۵؁ء میں ترمیمی بل پاس کیا،جس کو ڈھال بنا کر قائد حزب اختلاٖف(مفتی محمود )اور تمام اراکین حزب اختلاف ایف ۔ایس۔ ایف کے ذریعے اسمبلی سے باہر رکھے گیئے لیکن تمام تر پابندیوں اور کشمکش کی صورت حال میں مفتی صاحب نے نہایت جرأت مندانہ انداز میں قائد حزب اختلاف ہونے کے ناطے اپنا کردار ادا بھی کیا اور حزب اقتد اپر منوایا بھی۔

مفتی صاحب اپنے کردار کی پختگی ،سیاسی بصیرت ،قابلیت اور سمجھ بوجھ سے اپوزیشن کی عمارت ایسی مظبوط بنیادوں پر اٹھائی کہ بڑے سے بڑے آمر بھی اسے منہدم نہ کرسکے پھر انکی شخصیت متحدہ محاذ کے پلیٹ فارم سے جس توازن وشائستگی اور بردباری کے حسین امتزاج کے ساتھ ابھری اسکا اعتراف دوست تودوست دشمن نے بھی کی ۔قومی اسمبلی میں مفتی صاحب نے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے جوجرأت مندانہ کردار اداکیا و ہ جے یو آئی کی پارلیمانی تاریخ کا ایک تابناک حصہ بن چکا ہے ۔

۱۹۷۷ ؁ء کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے ردعمل میں ایک نئی تحریک نے جنم لیا ۔جس میں عوام بھی شامل تھے جسے تحریک مصطفیٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس تحریک میں ۹جماعتوں نے ایک پلیٹ فارم بنائی جس کی قیادت مفتی صاحب کے سونپ دی گئی اور مفتی صاحب کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیابی کے قریب ہی تھے تو اقتدار کا بھوکا اور کرسی کا طالب جنرل کمانڈر انچیف ضیاء الحق ۵جولائی ۱۹۷۹؁ء کو مارشل لا نافذ کی جنرل ضیاء نے اپنے پہلے ہی خطاب میں قوم کے ساتھ ۹۰دن میں انتخابات کروانے کا وعدہ کیا جسے وہ بعد میں پورا نہ کر سکا ،اورتمام سیاسی جماعتوں پر سخت تر ین پابندیاں عائد کردیں ۔

ستمبر۱۹۸۰؁ء کو جے یو آئی کی مرکزی قیادت نے یہ فیصلہ دیا کیا کہ مفتی صاحب کواس بات کا کھل کر اختیار حاصل ہے کہ وہ قوم کے مفاد میں تمام سیاسی جماعتیں (بشمول پیپلز پارٹی)تشکیل دیں ۔ان ہی نامساعد حالات میں مفتی صاحب نے ملک کی وحدت ،سالمیت ترقی،استحکام،اورجمہورہت کی آزادی کے لئے تحریک بحالی جمہوریت شروع کی اسی ااتحاد کے مسودے پر دستخط کرنے سے قبل ۱۴اکتوبر۱۹۸۰؁ء کو مفتی صاحب جامعہ اسلامیہ بنوریہ ٹاون کراچی میں دن کے ایک بجے اپنی طویل وسخت ترین اور اعصاب شکن سیاسی زندگی کا اختتام کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umair Ahmad

Read More Articles by Umair Ahmad: 6 Articles with 3077 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 May, 2017 Views: 686

Comments

آپ کی رائے