نازنین کی ڈائری کے سات دن ، سات صفحے ۔

(Ayesha Mujeeb, Karachi)
ہمارے معاشرے کی ایسی بہت سی نازنین ہیں جو اپنی معصومیت سے اپنی سمجھداری تک کی زندگی کو پل پل سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں ۔۔۔ ایک دن سمجھ ہی جاتی ہیں کہ بیٹیوں کے نصیبوں سے
کیوں ڈرتے ہیں ماں باپ ؟
ڈائری لکھنے سے اپنا آپ ہلکا محسوس ہوتا ہے ۔۔۔ اور دل کا بوجھ کم ۔۔۔ایسی ہی ایک نازنین کی ڈائری کے چند صفحات پر نظر ڈالتے ہیں ۔۔۔ جو لکھ کر بھول جاتی ہے ۔۔۔ اپنے سارے غم ۔۔۔

پہلا دن ، پہلا صفحہ ۔

کیوں ؟ کب ؟ کہاں ؟ کیسے ؟ کس لیے ؟
عورت مجبور ہوتی ہے ۔۔۔ ؟
میں نازنین ، جب سے ہوش سنبھالا ہے تب سے سنتی آ رہی ہوں کہ عورت مجبور ہوتی ہے ۔۔۔ لیکن کبھی بھی سمجھ نہیں سکی تھی کہ عورت کی مجبوری کے پیچھے کیا کیا حقیقتیں منہ چھپائے بیٹھی ہیں ۔۔۔
میں نازنین ، اب سمجھنے لگی ہوں کہ واقعی عورت مجبور ہوتی ہے ۔۔۔ اب اس لیے کیونکہ اب میں بھی شادی شدہ ،دو بچوں کی ماں ہوں ۔۔۔۔۔۔

دوسرا دن ، دوسرا صفحہ ۔

زندگی امتحان ہے ؟ سبق ہے ؟ آزمائش ہے ؟ کہانی ہے ؟ کیا ہے ؟
کب سمجھ آتی ہے اتنی آسانی سے ۔۔۔
کسی پہیلی کی طرح اپنے روپ بدل بدل کر کبھی روتے ہوئے کبھی مسکراتے ہوئے میرے سامنے روز ایک نیا دن رکھ جاتی ہے ۔۔۔اور اس ایک دن کی تھکن ۔۔۔ جیسے برسوں کی تھکن ۔۔۔ ہر رات اسی دن کو سوچتے ہوئے کب انکھ لگ جاتی ہے معلوم نہیں ۔۔۔ اور ہر رات کے بعد پھر سے ایک دن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیسرا دن ، تیسرا صفحہ ۔

کیا عورت کی اپنی مرضی ہوتی ہے ؟ اپنی پسند ؟اپنے شوق ؟ اپنی خواہشات ؟
کیا عورت مرد کی طرح انسان نہیں ؟
تو پھر ۔۔۔ تو پھر ہر قربانی ۔۔۔ ہر ایک قربانی عورت ہی کیوں دیتی ہے ؟
عورت ہی کو آہستہ آہستہ سب قربان کیوں کرنا پڑتا ہے ؟ ماں باپ کا گھر ۔۔ اپنے ماں باپ ، بہن بھائی ۔۔۔ پھر اپنی سہیلیاں ۔۔ پھر اپنے رشتے دار۔۔۔ پھر اپنا آپ بھی ۔۔۔ اپنے سب شوق ، سب ارمان ختم کر کے جب عورت کسی ایک کی ہو جاتی ہے ۔۔۔تو وہ کوئی ایک ۔۔۔ اس عورت کا نہیں بنتا ۔۔۔ آہ کتنا درد ہے ماں ۔۔۔
یہ درر کہاں ہے ؟ سمجھ نہیں آتا مگر ماں اتنا پتہ ہے جب آپ کی نرم گود سوچتی ہوں ۔ اور یہاں کی سختیاں تو میرے حلق میں کچھ چبھنے لگتا ہے ۔ اور پتہ نہیں کیوں آنکھیں خود بخود بھیگ جاتی ہیں ۔۔۔

چوتھا دن ، چوتھا صفحہ ۔

آج میں بہت تھک گئی سارا دن آج بہت کام تھا ۔۔۔ بچوں کے امتحان چل رہیں ہیں انکو پڑھانے کے ساتھ ساتھ گھر کے ہزاروں کام ۔
میاں کے لیے ناشتہ بنا کر انکو آفس بھیجنا ۔۔۔۔
ناشتہ بنا کر بچو کو سکول بھیجنا ، بچوں کے جانے کے بعد جھاڑو پوچا کرنا ، برتن دھونا ، کپڑے دھونا۔۔۔
پھر ناشتہ کرنا ساتھ میں 10 منٹ کے لیے ٹی وی لگا لیتی ہوں ۔۔۔ اگر میں ٹی وی دیکھنے بیٹھ گئی تو میرے بچے اسکول سے آ کر کھانا کیا کھائیں گے ۔۔۔ جلدی جلدی ناشتہ ختم کر کے میں کچن میں آتی ہوں ۔۔۔ آٹا گوندھ کر سبزی بناتی ہوں ۔۔۔ جب کھانا تیار ہو جاتا ہے تو نظر گھڑی کی طرف اٹھتی ہے ۔۔۔ چھٹی کا ٹائم ہو گیا ۔ بچوں کو سکول سے لینے جانا ہے ۔۔۔
بچوں کو لے کر گھر آتی ہوں ۔ نہلا دھلا کر کھانا دیتی ہوں 15 منٹ کارٹون دیکھا نے کے بعد انکو پڑھانے بیٹھ جاتی ہوں ۔۔۔ شام میں قرآن کا ٹائم ہوتا ہے ۔ قرآنی تعلیم سے فارغ ہو کر بچے تو کھیلنے لگ جاتے ہیں مگر میں کچن میں آ جاتی ہوں رات کے کھانے کی تیاری میں مگن اپنی تمام تر تھکاوٹ سے بے خبر میں کام ختم کر کے کچن سے نکلتی ہوں تو گھر کا نقشہ ہی بگڑا ہوتا ہے ۔۔۔ بچے تو بچے ہیں ۔۔۔ کھیل کود میں گھر تو پھیلے گا ہی ۔۔۔ کتنا بھی سمجھا لو مگر بچوں کا دماغ معصوم ہوتا ہے ۔۔۔
اتنے میں میاں گھر آجاتے ہیں ۔۔۔ اور آتے ہی برس پڑتے ہیں ۔۔۔۔ کہتے ہیں میں سارا دن ٹی وی دیکھتی رہتی ہوں یا سوتی رہتی ہوں ۔۔۔
ہاں شاید غلطی میری ہی ہے ۔۔۔ میں کھانا بناتے وقت مصروف ہی اتنی ہو گئی کے بچوں کو سختی سے منع ہی نہ کیا ۔۔۔
اب کھانا کھلا کر سب کو سلایا ہے نماز کے بعد اب لکھنے کا دل کیا تو اپنی یہ ڈائری لے کر بیٹھ گئی ۔۔۔
یہ ڈائری میری دوست، میری تھکن کو سمجھتی ہے ۔۔۔
بہت نیند آ رہی ہے لیکن ابھی کل کے لیے بچوں کے سکول کے کپڑے اور میاں کے لیے آفس کے کپڑے پریس کرنے ہیں ۔۔۔

پانچواں دن ، پانچواں صفحہ ۔

عورت کو چاہیے کے وہ صبر کرتی رہے ۔۔۔ ہر مشکل پر ۔۔۔ ہر امتحان کی گھڑی میں ۔۔۔ ہر آزمائش میں ۔۔۔ ہر مصیبت کے وقت ۔۔۔ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہی اللہ ہے ۔۔۔ قرآن کی اس آیت کا سوچ کر ٹھنڈک سی محسوس ہوتی ہے ۔۔۔ صبر اور عاجزی ہر عورت کے پاس ہونے چاہیے ۔۔۔
اسلام نے تو عورت کو بڑی عزت دی ہے میرے پیارے اللہ ۔۔۔ پھر یہ معاشرہ کہاں چلا جا رہا ہے ؟ اپنے سب حقوق جاننے والے مرد قیامت کے روز اللہ کو کیا جواب دیں گے جب جب وہ عورت کو ذلیل کرتے ہیں ۔۔۔ جب جب عورت کو مارتے ہیں ۔۔۔ گالیاں دینے کے ساتھ ساتھ لعن تان کرتے ہیں کیا سوچتے ہیں مر کر حاضر ہونا ہے رب کے سامنے ؟ عورت کی حقوق تلفی کرتے وقت بھی اپنی ناک اونچی رکھتے ہیں ۔۔۔
امی مجھے وہ وقت بہت یاد آ رہا ہے آج جب آپ کھانا بناتے وقت ہماری شرارتوں پر ڈوئی لے کر ہمارے پیچھے بھاگتی تھیں اور ہم سب بہن بھائی چھپ جاتے تھے ۔۔۔۔
لیکن آج ۔۔۔۔۔۔ ( ایک آنسو ڈائری کے صفحے پر گرتا ہے اور نازنین آخری جملہ لکھتی ہے )
لیکن اب تو میں چھپ بھی نہیں سکتی امی۔۔۔۔۔

چھٹہ دن ، چھٹہ صفحہ ۔

سنا تھا عورت سکون کا باعث ہوتی ہے۔۔۔ کیسے ہوتی ہے ؟ ہاں شاید ایسے کہ میاں کو جب بھی کوئی ٹینشن ہو بجلی کے بل کی تو چیخ چیخ کر بیوی پر نکال دیں ۔۔۔ گھر کے کرائے کی ٹینشن تو بیوی ہے چیخ چیخ کر نکال دیجئے ٹینشن ۔۔۔ آفس میں باس نے کچھ کہہ دیا تو گھر آ کر بیوی سے بدلہ لے لیں ۔۔بچوں کے تعلیمی اخراجات تو خوب سنائیے بیوی کو ۔۔۔ اور اگر بیوی نے غلطی سے کوئی جواب دے دیا تو ۔۔۔۔ بیوی کی خیر نہیں ۔۔۔ کیا مرد کو ایسے سکون ملتا ہے ؟
کتنا اچھا ہو اگر میاں گھر آ کر آج تسلی سے بیوی سے مشورہ کرے ۔۔۔ تجویز لے اور تجویز دے ۔۔۔
کچھ بھی ہے ۔۔۔عورت غصہ کہاں نکالے ؟
اندر ہی اندر یہ غصہ کسی دھوئیں کی طرح بھر رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اتنا دھواں کہ سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے ۔۔۔
تبھی کچھ عورتیں پھٹ پڑتی ہیں کچھ اپنی سانسیں بحال رکھنے کی کوشش میں ہی لگی رہتی ہیں ۔۔۔۔۔
امی میں نے بھی اپنی سانسیں بحال کرنا سیکھ لیا ہے ۔۔۔۔۔۔

ساتواں دن ، ساتواں صفحہ ۔

میں جب چھوٹی تھی تو سنا کرتی تھی کہ بیٹی کسے اچھی نہیں لگتی بس بیٹی کے نصیبوں سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔ سمجھ نہیں آتا تھا کہ بیٹی کی پیدائش پر لوگ غمزدہ ہیں یا خوش ؟
میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے ہمیشہ اپنے بابا اور امی کو میرے لاڈ اٹھاتے ہی دیکھا ہے ۔۔۔ میرے بابا ، مجھے کسی شہزادی کی طرح پیار کرتے تھے ۔۔۔اپنی گڑیا کہتے تھے ۔۔۔ رات میں گھر واپس آتے وقت میرے لیے لازمی کچھ نا کچھ لے کر آتے تھے ۔۔۔ ہمیں ڈانٹا کبھی نہیں ہمیشہ پیار سے سمجھایا اور جب امی مارتی تو کہتے انکو مت مارا کرو انہوں نے تو اپنے گھر چلے جانا ہے ۔۔۔۔
تب سمجھ نہیں آتی تھی باباجان کہ آپکی انکھوں میں کس بات نمی آجاتی ہے ؟
آج میں بھی ایک بیٹی کی ماں ہوں ۔۔۔ اپنی بیٹی کو اپنے سامنے اچھلتے کودتے ، کھیلتے دیکھ کر آنکھیں بھر جاتی ہیں دل رو رہا ہوتا ہے ۔۔۔ اندر ہی اندر اپنی بیٹی کے اچھے نصیبوں کے لیے اللہ سے دعائیں مانگ رہی ہوتی ہوں ۔ ۔۔ آج سمجھ آچکا ہے بابا - آپکی آنکھوں میں کس بات کی نمی آتی تھی ۔۔۔ ماں باپ بیٹی کو رخصت کرتے وقت اتنا روتے کیوں ہیں ؟ اب سمجھ آئی کے بیٹیوں کے نصیبوں سے لوگ کیوں ڈرتے ہیں ۔۔۔۔
بابا اب سب سمجھنے لگی ہوں ۔۔۔اب آپکی گڑیا بھی سمجھدار ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ayesha Mujeeb

Read More Articles by Ayesha Mujeeb: 9 Articles with 11029 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 May, 2017 Views: 666

Comments

آپ کی رائے