الفاظ ۔۔۔

(Ayesha Mujeeb, Karachi)
آپکا ایک ایک لفظ محفوظ ہو رہا ہے ۔۔۔۔

باتوں اور لہجوں پرلکھا تو سوچا کے اگر الفاظ نہ ہوں تو باتیں نہ ہوں ۔باتیں نہ ہوں تو لہجے خاموش ۔۔اسلیئے الفاظ کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔الفاظ سچے،جھوٹے ،اچھے ،برے،چھوٹے ،بڑے ،کھٹے ،میٹھے ہر طرح کے ہوتے ہیں ۔ہر لفظ اپنے آپ میں کئی مطلب رکھتا ہے ۔کچھ لوگوں کے پاس الفاظ کاخزانہ ہوتا ہے ۔وہ جس طرح چاہیں ،جب چاہیں الفاظ استعمال کر سکتے ہیں ۔اسکے برعکس کچھ لوگوں کے پاس الفاظ تو مجود ہوتے ہیں پر انکے استعمال سے ناواقف ہوتے ہیں ۔
کچھ الفاظ زہر رکھتے ہیں اپنے اندر ۔کسی کو لڑ جائیں تو زہر رگوں تک اترتا ہے ۔
کچھ لوگ الفاظ کا جال بچھاتے ہیں ۔اور معصوم لوگ انکے جال میں پھنستے چلے جاتے ہیں ،دھنستے چلے جاتے ہیں ۔
کچھ الفاظ جادو ہوتے ہیں ۔انکا سحر ہم پر ایسا طاری ہوتا ہے کے کبھی اس سحر سے باہر نہیں آنا چاہتے ۔۔۔
تعریف کی صورت میں کچھ الفاظ سن کر ہم ہوا میں اڑنے لگتے ہیں ۔تو کچھ الفاظ ہمیں اونچائیوں سےلا کر پستیوں میں پھینک دیتے ہیں ۔
کچھ الفاظ ہمیں اندر ہی اندر کہیں دورتک ہمیں کھوکھلا کر دیتے ہیں ہمیں توڑ دیتے ہیں ۔کچھ نرم الفاظ ہمیں امید کی کرن دکھاتے ہیں ۔۔
ہمارے ذہن میں الفاظ کا ایک پورا سمندر مجود ہوتا ہے اسلئیے کچھ لوگ الفاظ کے چناؤ میں بڑے ماہر ہوتے ہیں ۔چن چن کر اپنے اندر سے الفاظ لاتے ہیں کہ سن کر یا تو دل خوشی سے پھٹ جائے یا غم سے ۔۔۔
مصنوعی الفاظ اپنا اثر کھو دیتے ہیں ۔
کچھ الفاظ کی اللہ کے ہاں سخت پکڑ ہے ۔کچھ لوگ سوشل میڈیا پر آکر اپنی اوقات بھول جاتے ہیں اور منچاہے الفاظ استعمال کرتے نظر آتے ہیں ۔۔۔کچھ کہے گئے الفاظ خشبو کی طرح ہوتے ہیں جن کی مہک کافی دیر تک ہمارے ساتھ رہتی ہے ۔
الفاظوں کے پیچھے کہانیاں ہوتی ہیں تو کہانیوں کے پیچھے زندگیاں ۔۔۔کچھ الفاظ ہم ساری عمر بھول نہیں پاتے جبکہ کچھ ایک کان سے سن کے دوسرے سے نکل جاتے ہیں ۔الفاظ ہمارے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں ۔ جہاں الفاظ زخمی کر سکتے ہیں وہاں مرہم بھی بنتے ہیں ۔
محبت بھرے الفاظ آپکو خوبصورت احساس دیتے ہیں ۔۔الفاظ آپکی سوچ کی زبان ہوتے ہیں آپکی پہچان آپکے الفاظ سے ہوتی ہے ۔ آپکے اپنے الفاظ آپکی عزت اور ذلّت کا سبب بنتے ہیں ۔۔۔
بحرحال آپکا کہا گیا ایک ایک لفظ محفوظ ہو رہا ہے جسکا آپکو آنے والے وقت میں حساب دینا ہی دینا ہے ۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ayesha Mujeeb

Read More Articles by Ayesha Mujeeb: 9 Articles with 10711 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 May, 2017 Views: 896

Comments

آپ کی رائے