مسیحا

(Azhar Iqbal Mughal, )

ڈاکٹر ایک مقدس پیشہ ہے جس کو بہت ہی عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے امیر غریب سب ہی ڈاکڑز کی بہت عزت کرتے ہیں کیونکہ ڈاکٹر ایک مسیحا کا کام کرتا ہے اﷲ کے بعد ڈاکٹر وں کا کسی کی زندگی بچانے میں بہت ہی بڑا عمل دخل ہے بے شمارر لوگ ہیں جو زندگی کی کشمکش میں ہوتے ہیں اور ڈاکٹر اپنی پوری کوشش کرتے ہیں انسان کو بچانے کیلیئے اور زیادہ تر کامیاب بھی ہوتے ہے ایک ڈاکٹر ہی ایسا پیشہ تھا جو کہ بدنام نہیں تھا لیکن اب ڈاکٹر کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا کیوں کہ آج کے یہ مسیحا بہت سے لوگوں کے قاتل ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ عرصہ سے جب ڈاکٹرز کا دل چاہتا ہے ہڑتال کر لیتے ہیں آئے دن ہڑتالوں کی سلسلہ جاری ہے اس با ر تو حد ہی کر دی ایمرجنسی بھی بند کر دی پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے بم دھماکوں سے لوگوں کی جانیں ضائع ہورہی ہیں ادھر آئے دن ڈاکٹرز کی ہڑتالوں کی وجہ سے لوگ کافی پریشان ہیں آئے دن ڈاکٹرز کی ہڑتالوں کی وجہ سے سینکڑوں جانیں ضائع ہوئی ہیں بروقت طیعی امداد نہ ملنے کی وجہ سے کافی لوگ موت کا شکار ہوئے ہیں ان کا موت کا ذمہ دار کون ہے آخر کب تک یہ ڈاکٹر موت کا کھیل کھیلیں گے جب انسان کا کوئی مریض بیمار ہو اس کا بروقت علاج نہ ہو تو کیا گزرتی ہے مریض کے لواحقین پر صرف وہی بہتر جانتے ہیں ہڑتال ہی کے دنوں میں ۔ایک دوست تھا اس کے والد بیمار تھے اچانک رات کو اس کے والد کی طبیعت خراب ہوت گئی ہم ان کو سرکاری ہسپتال لے گئے کیونکہ پرائیوئٹ وہ فیس نہیں دے سکتا تھا اس لیئے سرکاری ہسپتال لے جانا پڑا جس ہسپتال میں جائیں ہڑتال تقریبا سارے شہر کے بڑے بڑے ہسپتال گھوم لیے لیکن ہڑتال کی وجہ سے کسی نے اس کے والد کو داخل نہیں کیا اور نہ ہی چیک کیا بہت سارے ڈاکٹروں کی منت سماجت کی پاوں تک کو ہاتھ لگایا میرے دوست نے لیکن اس کی کسی نے ایک نہیں سنی خیر اس کے والد کی موت تو نہ واقع ہوئی لیکن طبیعت بہت بگڑ گئی اور مجبورا ایک پرائیویٹ ڈاکٹر کے پاس لے جانا پڑا اس نے بھی ہسپپتال جانے کا ہی کہا تنگ آکر وہ والد صاحب کو گھر لے آیا اور کچھ دنوں بعد وہ چل بسے سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اور کتنے ہی لوگ ہوں گے جو کہ ان ڈاکٹرز کی ہڑتال کا شکار ہوئے ہونگے کتنی ہی بچیاں یتیم ہوگئی کتنی ہی عورتیں بیوہ ہو گئی گئی جوان زندگی سے سے ہاتھ دھو بیٹھے بہت سارے لوگوں کو سسکیاں اور آہیں بھرتے دیکھ کر بہت دکھ ہوا آنکھ میں آنسو بھر آتے ہیں بہت دکھ ہوتا ہے جب ایک ماں کا جوان بیٹا ان ڈکٹرز کی وجہ سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے اور ماں جب جوان بیٹے کی لاش پر بین کر کے روتی ہے تو بڑے بڑے پتھر دِل انسانوں کے دِل دہل جاتے ہیں کیا ان ڈاکٹرز کو ان ماوں بہنوں پر ذارا بھی ترس نہیں آتا کیا ان لوگوں کا احساس مر چکا ہے یہ کیسے مسیحا ہیں جو جان لے رہے ہیں حالانکہ ان کا کام تو جان بچانا ہے اگر یہ غور کریں تو خود کو معاف کر سکیں گے جن لوگوں کو ہم مسیحا سمجھتے ہیں پتہ چلا وہ دراصل آج کے دور کے وہ سب سے بڑے تاجر ہیں جو کہ پیسہ نہ ملنے پر کچھ بھی کر سکتے ہیں چاہے وہ کام کسی کی جان لینا ہی کیوں نہ ہو آج انسان کی جان اس قدر سستی ہو چکی ہے کہ کسی کو انسانی جان کی پرواہ ہی نہیں سوائے ان لوگوں کیجن کا کوئی اپنا مرتا ہے ہماریآج کے مسیحا کی نظر میں پیسہ ہی سب کچھ ہے پیسہ نہ ملنے نہ پر یہ لوگ نہ جانے کتنی جانوں سے کھیل رہے ہیں کتنے لوگوں کی آس کو توڑ رہے ہیں۔اپنے مطالبات منوانے کے لیئے معصوم جانو ں سے کھیلنا ضروری ہے حکومت کو چاہیئے اس طرح کے قاتلوں کی ڈگڑیاں کینسل کرے جن ڈگڑیوں پر ان لوگوں کو مان ہے اور جب ان لوگوں کا دل کرتا ہے یہ لوگ موت کا کھیل کھیلنا شروع کردتیے ہے آج ان لوگوں کی حوس اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ان کے نزدیک انسانی جانوں کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے آج ان مسیحاوں نے تجارت شروع کردی ہے اپنے پرائیویٹ کلنک کھول رکھے ہیں جہاں یہ عوام کی کھال اتار رہے ہیں معمولی بخار کی دوائی جو کبھی ۵ ۰۱ روپے مین ملتی تھی آج عام ڈاکٹر وہی دوائی ۰۰۵ میں دیتا ہے اگر ڈاکٹر تھوڑا قابل ہو تو فیس ہزاروں میں ہوتی ہے ایک وزٹ کا کم ازکم 500 سے 1000 لگ جاتا ہییہ عام غریب لوگوں کی فیس بتا رہا ہوں اچھے علاقوں میں تو اور زیادہ لوٹ مار مچا رکھی ہے بہت سے غریب لوگ ہے جو کہ علاج نہیں کرا سکتے ہسپتالوں میں دھکے کھا رہے ہیں اور ہسپتالوں میں میں ڈاکٹروں کا سلوک مریضوں سے کے ساتھ ایسا ہے جیسے کوئی مریض پر بہت احسان کر رہے ہوں اوروہی ڈاکٹر اپنے پرائیویٹ مریضوں کو خوب اچھی طرح سے چیک کرتے ہیں کیا یہی ہے ان کی انسانیت اور میڈیکل ریپ سے مل کر ہے ایک مریض کو مہنگی ترین میڈیسن لکھ کر دیتے ہیں جو کہ ایک غریب کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں اور مریض کو تاکید کر کے بھیجتے ہیں کہ یہ میڈیسن فلاں میڈیکل سٹور ہی سے لینا کیا یہی ہیں ان مسیحاوں کی انسانیت آج کے مسیحاوں نے اس مقدس پیشے کو اس بُری طرح بدنام کر دیا ہے کہ آنے والے وقت میں پاکستانی ڈاکٹرز کو عزت کی نظر سے نہیں دیکھا جائے گا کیوں کہ ایک مریض کی یہ لوگ ہر طرف سے ہی چھیل اتارتے ہیں اگر دوائی ہے تو ڈاکٹرز کی مرضی کے سٹورز سے لو اگر ٹیسٹ ہیں تو ڈاکٹرز کی مرضی کی لیبارٹری کراو ایک غریب بندہ جس کے پاس پیسے نہیں ہیں وہ کس طرح اتنی مہنگی دوائی خرید سکتا ہے اور کہاں سے ڈاکٹر کی فیس دے سکتا ہے سرکاری ہسپتالوں میں بھی مریضوں کو مہنگی میڈیسن لکھ کر دی جاتی ہے جو کی ایک گریب بندے کے لیئے لینا کافی مشکل ہوتا ہے اور مریض کو مہنگے لیباٹری کروانے کو کہا جاتا ہے جو کہ ایک عام انسان کیلئے کروانا بہت مشکل ہوتے ہیں غریبوں کو مفت علاج کی سہولیات مہیا کرنے کے بجائے غریبوں کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ کافی حد تک ڈاکٹر ز بھی نظر آتے ہیں اگر یہ ڈاکٹرز غریبوں کا احساس کریں جہا ۰۰۱ یا ۰۵ مریض ہر روز چیک کرتے ہیں وہاں 5 مریض فری چیک کرلیں تو کتنا بھلا ہو سکتا ہے غریبوں کا لیکن یہ لوگ تو کھال اُتانے کیلئے بیٹھے ہیں ہ بھلا ایسا کیوں کریں اﷲ ہی ان لوگوں کو ہداہت دے اور یہ موت کا کھیل بند کر دیں -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Azhar Iqbal Mughal

Read More Articles by Azhar Iqbal Mughal: 36 Articles with 20909 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 May, 2017 Views: 825

Comments

آپ کی رائے