قیام امن مگر کیسے؟

(Tanveer Awan, Islamabad)

آپریشن رد الفساد کے نتیجہ میں ملک دشمن عناصر کی سرگرمیاں دم توڑ رہی ہیں،وطن عزیز میں قیام امن کے لیے دی جانے والی قربانیاں رنگ لا رہی ہیں، لیکن وقفے وقفے سے غیرریاستی عناصر ایسی بزدلانہ کاروائیاں کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جو نہ صرف ریاستی اداروں کے لیے چیلنج ہوتی ہیں بلکہ قیام امن کے لیے جاری پالیسیوں پر از سر نو جائزہ لینے کا بھی متقٰضی ہوتی ہیں۔حالیہ دنوں تربت اور مہمند ایجنسی میں رونما ہونے والے دو واقعات جن میں مجموعی طور پر پانچ ایف سی اہلکار اور ایک خاصہ دارشہید اورایک زخمی ہوا ہے، یادرہے کہ یہ واقعات اس وقت پیش آ رہے ہیں جب کوئٹہ میں 500فراریوں نے سیکورٹی اداروں اور انتظامیہ کے سامنے ہتھیار ڈال کر بھارت سمیت خطے کی تمام پاکستان دشمن طاقتوں کی سازشوں کو واضح طور پر مسترد کردیا تھا،اور قیام من کے لیے سپہ سالار پاکستان جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے پیغام میں کہا تھاکہ ہر پاکستانی آپریشن رد الفساد کا سپاہی ہے،اور ہم سب نے مل کر ملک کو فسادیوں سے پاک کرنا ہے۔

جب کہ اس بزدلانہ کاروائی کی ذمہ داری BLAنے قبول کرکے سیکورٹی اداروں کو پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ پاکستانی سلامتی کو کمزور کرنے کے ایجنڈے پر بھارتی و ایرانی ایجنٹ اب بھی سرگرم ہیں ،اور اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان دشمن قوتیں پاکستانی ترقی کے لیے بلوچستان کی حیثیت سے بخوبی واقف ہیں ،اور یہ غیر معمولی اہمیت گوادر پورٹ اور اقتصادی راہداری کی وجہ سے کئی گناہ بڑھ چکی ہے،امر واقع یہ ہے کہ پاکستان دشمن قوتیں اپنے ایجنڈے کی تکمیل پر عمل پیرا ہیں ،اور آئے روز دہشت گردی کے واقعات کے ذریعے اقوام عالم کے سامنے پاکستان کے غیر مستحکم ہونے کا تاثر دینے کی کوشش کررہی ہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کسی بھی معاملے میں خارجی عناصر اس وقت تک نہیں اثر انداز ہو سکتے جب تک داخلی عناصر خارج کے موافق نہ ہو جائیں ،بیرونی قوتیں اپنے ایجنڈے میں اس وقت تک کامیابی نہیں حاصل کر سکتی ہیں جب تک اس سرزمین کے ناعاقبت اندیش ان کے آلہ کارنہ بن جائیں ،یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے علیحدگی پسند ہو ں،کراچی کے گینگ وار یاریاستی جبر کی وجہ سے ناراض طبقات ملک دشمن عناصر کے ایجنڈے پر عمل پیرا رہے ،اس بگاڑ کی اصلاح کے لیے قانونی تقاضے پورے کرنے کے سا تھ ساتھ، ان کی محرومیوں کے ازالے کے لیے جامع،ٹھوس اور مؤثر پالیسیوں کا اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے،بلاشبہ سی پیک خطے میں ترقی وخوشحالی کا ضامن ہے مگر ناراض بلوچوں کو میز پر لا کر، ان کے تحفظات کو دور کرنے اور انہیں مطمئن کرنے کی وجہ سے ہی امن قائم ہو سکتا ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 141098 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
18 May, 2017 Views: 382

Comments

آپ کی رائے