کشمیر میں بھارتی فوج کی ختم نہ ہونیوالی بربریت

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
تو کیا آج 70 سال گزرنے کے بعد بھارت کا احساس برتری ختم ہوگیا؟ اس کیساتھ کشمیر سمیت دیگر تمام تنازعات حل ہوگئے ہیں؟افسوس ناک صورتحال تو یہ ہے کہ مکار بھارت نے یہ تمام عرصہ امن مذاکرات کے نام پر وقت گزرانے،کشمیر پر تشدد اور انسانی حقوق کے بدترین عمل کے ذریعے نہ صرف پورے خطے کا امن تباہ کردیا ہے بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر پاکستان کو بنجر بنانے کی منصوبہ بندی بھی مکمل کرلی ہے۔

قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کیوں قرار دیا تھا؟ اس کا اندازہ آج کی صورتحال سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔جب کشمیر سے آنے والے دریاؤں کا پانی روکنے کے حوالے سے بھارتی عزائم سامنے آچکے ہیں۔بھارت جانتا ہے کہ پاکستانی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے اور زراعت پانی کے بغیر ممکن نہیں۔

دریاؤں میں پانی نہیں ہوگا تو کمزور معیشت کا حامل ملک بھارت کے مقابلے میں اپنی سلامتی کس طرح برقرار رکھ پائے گا۔قائداعظم بھارتی قیادت کے عزائم سے آگاہ تھے۔اور یہی وہ حقیقت ہے جس کا ادراک ہمارے عظیم قائد کو آج سے70 برس قبل ہوچکا تھا۔اگر پھر بھی کسی کو شک ہے تو قائد کی دور اندیشی سے آگاہی کیلئے 11 مارچ1948ء کوسوئٹزرلینڈ کے صحافی کو دئیے گئے ان کے ایک انٹرویو کا جائزہ لے جس میں قائد نے فرمایا تھا”بھارت اگر اپنا احساس برتری ختم کردے،پاکستان کو اپنا ہمسایہ اور برابر کا ملک تسلیم کرے۔

علاوہ ازیں اصل حقائق کا سامنا کرتے ہوئے پرامن طور پر تنازعات کے خاتمہ کی طرف بڑھے تو اس کیساتھ دوستانہ مراسم قائم ہوسکتے ہیں۔“مارچ 1948ء میں بھارت سے اختلافات کی بنیادی وجہ اس کا طاقت کے بل پر کشمیر پر قبضے کی کوشش ہی تو تھا۔جس نے نہ ختم ہونیوالے ایک ایسے تنازعے کو جنم دیا جس کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت کا یہی احساس برتری ہے۔

تو کیا آج 70 سال گزرنے کے بعد بھارت کا احساس برتری ختم ہوگیا؟ اس کیساتھ کشمیر سمیت دیگر تمام تنازعات حل ہوگئے ہیں؟افسوس ناک صورتحال تو یہ ہے کہ مکار بھارت نے یہ تمام عرصہ امن مذاکرات کے نام پر وقت گزرانے،کشمیر پر تشدد اور انسانی حقوق کے بدترین عمل کے ذریعے نہ صرف پورے خطے کا امن تباہ کردیا ہے بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر پاکستان کو بنجر بنانے کی منصوبہ بندی بھی مکمل کرلی ہے۔
اس کیخلاف پاکستانی احتجاج کو غیر مئوثر بنانے کیلئے بھارت کا عالمی میڈیا میں ایک پورا نیٹ ورک موجود ہے جو دن رات پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کرنے اور عالمی رائے عامہ کو پاکستان کیخلاف کرنے کیلئے مصروف عمل رہتا ہے۔اس حوالے سے بھارت نے چند برس قبل Secret Pakistan کے عنوان سے طویل دورانیہ کی ایک دستاویز فلم تیار کرائی جسے بی بی سیBacklash Weekنامی پروگرام میں ہفتہ وار سیریل کے طور پر دکھاچکا ہے۔

فلم کا مرکزی بیانیہ وہی تھا جسے بھارت پاکستان کیخلاف کئی دہائیوں سے بطور پروپیگنڈہ استعمال کرتا چلا آرہا ہے کہ”پاک فوج اور آئی ایس آئی نے دہشت گردی کی بنیاد رکھی اور اسے پروان چڑھایا“۔بھارت گزشتہ برس ترقی پذیر ممالک کے حوالے سے گوا میں منعقد ہونیوالی کانفرنس بعد ازاں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران اس بیانیے کی بنیاد پر پاکستان کیخلاف مشترکہ اعلامیہ حاصل کرنے کی ناکام کوشش کر چکا ہے۔
علاوہ ازیں بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کیخلاف اس پروپیگنڈے کی بنیاد پر سارک کانفرنس کے انعقادکو ناکام بنایا گیا تھا۔لیکن حیرانی ان پاکستانیوں پر ہوتی ہے جوبھارت کے اس پروپیگنڈے کی تقلید میں پاک فوج خو خطے میں بدامنی کا ذمہ دار قرار دینے میں لگے رہتے ہیں۔لیکن بھارت کے پاکستان آنیوالے دریاؤں کا پانی روکنے جیسے منصوبوں یا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے جاری ظلم و استبداد پر انکی زبان کا تالے پڑ جاتے ہیں۔

اور مقبوضہ کشمیر میں دریافت ہونیوالی گمنام و اجتماعی قبروں کی دریافت پر کچھ لکھنا ہوتو ان کے ہاتھوں پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔

بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں گمنام اجتماعی قبروں کی دریافت کا ذکر آیا ہے تو اس کا احوال بھی پڑھ لیجئے جو انتہائی اندوہناک ہی نہیں بھارت سے دوستی کیلئے ہلکان ہونیواے ہمارے ان طبقات کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے جو انسانیت کے قاتل بھارت کی مذمت کرنے کی بجائے اس کیساتھ دوستی و تجارت کیلئے ہر وقت پریشان رہتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی قبروں کا انکشاف سب سے پہلے اس وقت ہوا جب 70 سالہ گورگن عطا محمد نے جولائی 2009 ء میں نیودہلی سے آنیوالی چند این جی اوز کے نمائندوں کے سامنے اقرار کیا کہ اس نے سینکڑوں کشمیریوں کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے کیلئے بھارتی فوج کی مدد کی تھی۔نئی دہلی سے آئی مہمانوں میں انسانی حقوق کی تنظیم IPTHR کے نمائندوں کے علاوہ صحافی بھی شامل تھے۔

عطا محمد نے بتایا کہ وہ بے شُمار لاشوں کو دفن کو چکا ہے جن کی تعداد سینکڑوں میں ہوسکتی ہے۔اس کے علاوہ بھی بہت سے گورگن ہیں جو کشمیریوں کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے کیلئے بھارتی فوج کی مدد کرتے رہے ہیں۔اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ عطامحمد خاموشی سے نیو دہلی سے آئے مہمانوں کو مقبوضہ وادی میں ا س ویران مقام پر لے گیا جہاں وہ کشمیریوں کی لاشیں اجتماعی قبروں میں دفناتا رہا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیم”انٹرنیشنل ٹربیونل برائے انسانی حقوق“ نے فوری طور پر گورگن عطا محمد کی بتائی ہوئی جگہ پر کھدائی کا اہتمام کیا اور ہمت سے انسانی ڈھانچے باہر نکالنے میں کامیاب ہوگئے جس کے بعدساری اطلاع نیو دہلی میں اپنے مرکز میں دی گئی جہاں سے مزید نفری بلوانے کے بعد کھدائی کا یہ کام تین ماہ تک جاری رکھا گیا۔7 اکتوبر 2009ء کو IPTHR کی بھارت میں کنوینئر انگتا چیٹرجی نے نیودہلی میں پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا کہ انکی تنظیم بے شُمار اجتماعی قبروں سے 2600 گل سڑی انسانی لاشیں اور ڈھانچے نکال چکی ہے۔

یہ انکشاف دہلادینے والا تھا۔بھارت سرکار جو اس ساری صورتحال سے آگاہ تھی وہ میڈیا کو بھارت کی سلامتی کے نام پر پہلے ہی راضی کر چکی تھی کہ اول تو خبر کو دبا دیا جائیگا اور اگر کہیں خبر باہر آگئی تواجتماعی قبروں کا الزام کشمیری مجاہدین پر لگا دیا جائیگا۔کہ وہ مخالفین کو مار کر اجتماعی قبروں میں دفن کرتے رہے ہیں۔بھارتی میڈیا نے جب وعدہ کر کے خبر جاری کرنے سے گریز کیا تو IPTHR والوں نے ساری تفصیل انٹرنیٹ پر جاری کردی جہاں سے یہ خبر پوری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔
عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے دباؤ پر بھارت تحقیقاتی کمیشن بنانے پر راضی ہوگیا تاکہ خبر کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔ IPTHR کے نمائندوں نے تحقیقاتی کمیشن کے ساتھ مل کر گمنام قبروں کی تلاش کے کام کو آگے بڑھایا جو اتنا آسان نہیں تھا۔اول تو بعض علاقوں میں انہیں جانے کی اجازت ہی نہیں تھی ،کچھ علاقوں میں بھارتی فوج کے خوف سے مقامی آبادی ان کیساتھ تعاون کرنے سے انکار کردیتی تو کبھی موسم آڑے آجاتا۔

ابھی تلاش کا کام جاری تھا کہ اگست 2011ء میں بھارت سرکار نے گمنام قبروں کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کردی کہ گزشتہ چند برسوں میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کل 2730 لاشوں کو گمنام قبروں میں دفن کیا گیا جو تمام دہشت گرد تھے۔یہ سب مختلف مواقع پر سکیورٹی اداروں کیساتھ مقابلے میں مارے گئے تا ہم ان سے صرف 674 کی بطور کشمیری شہری شناخت ہوئی،باقی تمام دہشت گرد پاکستان سے آنیوالے گھس بیٹھیے تھے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کشمیری شناخت رکھنے والے دہشت گردوں کی لاشیں بھی کوئی وصول کرنے نہیں آیا۔جب وصولی کیلئے کوئی سامنے آنے کو تیار نہیں ہوا یو انہیں اسلامی طریقہ کار کے مطابق آخری رسومات ادا کرکے مسلمان گورگنوں کے ذریعے اجتماعی قبروں میں دفن کردیا گیا۔

انٹرنیشنل پیپلز ٹربیونل برائے انسانی حقوق کی تنظیم نے بھارتی رپورٹ کو دُنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ کشمیریوں کو اغواء یا بلاوجہ گرفتار کرنے کے بعد مختلف پرتشدد طریقوں سے قتل کرنے کے بعد گمنام قبروں میں دفن کرنے کا سلسلہ 1997ء سے جاری ہے اور یہ تعداد پچاس ہزار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

تنظیم نے انکشاف کیا کہ ستمبر 2009ء سے اگست 2011ء تک دو سال کے عرصہ میں انکی تنظیم مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں دو ہزار اجتماعی قبریں دریافت کر چکی ہے۔لیکن اتنی بڑی تعداد میں اجتماعی قبروں سے انسانی باقیات کا نکال کر محفوظ کرنے کیلئے ان کے پاس وسائل نہیں ہیں۔اس کیلئے عالمی سطح پر ایک برا کمیشن بنانے کی ضرورت ہے۔تاکہ دریافت شدہ قبروں سے انسانی باقیات کو نکال کر ان کے ورثاء تک پہنچانے کا کام سرانجام دینے کے علاوہ مزید قبروں کو تلاش کیا جاسکے۔

اس موقعہ پر انسانی حقوق کی تنظیم نے کشمیریوں کی گمنام قبروں کے حوالے سے عالمی میڈیا اور ترقی یافتہ مغربی جمہوری ممالک کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے اتنے بڑے انسانی المیے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔IPTHR کے نمائندوں نے میڈیا کو بتایا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ مزید اجتماعی قبروں کی تلاش ہی نہیں بلکہ پہلے سے تلاش شدہ قبروں سے ملنے والے انسانی باقیات کے DNA ٹیسٹ کا ہے تاکہ ان کے ورثاء کی نشاندہی ہوسکے تنظیم کی کنوینئر نے انکشاف کیا کہ اب تک ملنے والی لاشوں میں سے اکثریت کو قریب سے سر میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔

گمنام اجتماعی قبروں کی اتنی بڑی تعداد میں دریافت پر دنیا میں بھونچال آجانا چاہیے تھا کہ تاریخ میں اس سے قبل اتنے بڑے پیمانے پر انسانوں کی اس انداز سے نسل کشی نہیں کی گئی تھی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے قبروں کی دریافت کو بھارت کی مکمل اخلاقی شکست قراردیا ۔بھارتی نژاد امریکی شہری اور امریکہ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اعلیٰ عہدیدار برائے جنوبی ایشیا گوندا چاریہ نے اس موقع پر شدید احتجاج کیا او ر کہا کہ”بھارت چونکہ عالمی سطح پر ایک خاص مقام حاصل کرچکا ہے جس کے بعد اُمید تو نہیں کی عالمی برادری کشمیریوں کیخلاف اس بربریت پر بھارت کیخلاف کوئی مئوقف اختیار کرے یا اس پر کوئی دباؤ ڈال سکے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ خاموشی اختیار کر لی جائے۔

دنیابھر میں موجود انسانی حقوق کی تنظیموں کو فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ملکوں میں عوام کو کشمیریوں کی حالت زار ست آگاہ کریں تاکہ عالمی برادری بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں بالخصوص بے نام اجتماعی قبروں کی تحقیقات کے معاملے پر بھارتی رویہ صرف اس لیے انسانی اقدار کیخلاف ہے کہ اس مسئلے پر بڑی عالمی قوتوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

“ گوند آچاریہ کا مغربی قوتوں کے اجتماعی ضمیر سے متعلق مئوقف اور خدشات اس وقت درست ثابت ہوئے جب کسی سے بھی اس حوالے سے بھارت کی مذمت سامنے نہیں آئی،نہ ہی عالمی میڈیا نے اس مسئلے کو موضوع بنایا۔ہرطرف یوں خاموشی چھائی رہی جیسے مقبوضہ کشمیر میں پزاروں کشمیریوں کو نہیں بلکہ کیڑے مکوڑوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا تھا۔عالمی قوتوں اور میڈیا کا یہی رویہ ہے جس نے بھارت کو حوصلہ دیا ہے کہ وہ اپنے تسلط میں کشمیریوں کو مزید ظلم و بربریت کا نشانہ بنائے۔

تشدد کے لیے نئے نئے طریقے اختیار کرے۔گزشتہ چند ماہ میں بھارت نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کے لیے جس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے وہ بھی دنیا کے سامنے ہیں لیکن 2011 ء کے بعد اب ایک فلپائنی نیوز ایجنسی نے مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی قبروں کہ مسئلہ کو پھر دنیا کے سامنے لاکر عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے کہ بھارتی فوج جس طرح نوجوان کشمیریوں اور مردوں کو مار کر مقبوضہ کشمیر میں بیواؤں اور یتیم بچیوں کی تعداد میں اضافہ کر رہی ہے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اس پر دنیا کیوں خاموش ہے۔

کیوں بھارت کو مجبور نہیں کیا جاتا کہ وہ کشمیریوں کے جینے کا حق تسلیم کرے۔لیکن برا ہو عالمی سیاست کا جس میں بھارت آج کی استعماری قوتوں کی آنکھ کا تارا بنا ہوا ہے جو اپنے مفادات سے آگے کچھ بھی دیکھنے کو تیار نہیں کہ اس کی حد سے بڑھی ہوئی ہٹ دھرمی اور پاکستان کیخلاف سازشوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ پورے جنوبی ایشیا کیلئے مکمل تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔اس خدشے کا اظہار امریکی جرنیل بھی کرنے لگے ہیں کہ بھارت کی پاکستان کیخلاف پالیسی دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 83099 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 May, 2017 Views: 314

Comments

آپ کی رائے