خواجہ سعد رفیق ......چنداہم مسائل آپ کی توجہ کے محتاج ہیں

(Aslam Lodhi, Lahore)

آپ (خواجہ سعد رفیق) عوامی مسائل میں دلچسپی رکھنے والے ایک اچھے اور متحرک انسان ہیں ۔ آپ نے جس مہارت سے اپنے حلقے میں کنکریٹ کی مضبوط دیوار ٗکراسنگ پوائنٹ اور ٹریک کے ساتھ ساتھ نئی سڑک بنوائی ۔اس کا کریڈٹ بلاشبہ آپ ہی کو جاتا ہے ۔ابھی والٹن روڈ سے ملحقہ آبادیوں کے بیشمار اہم مسائل آپ کی ذاتی توجہ کے محتاج ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں سے 2013ء کے الیکشن میں آپ کو سب سے زیادہ ووٹ ملے ۔اگر2018ء کے الیکشن میں کامیابی چاہتے ہیں تو پھر آپ کو ان مسائل کو حل کرنے کی جانب ذاتی توجہ دینا ہوگی ۔اس وقت آپ ریلوے کے وفاقی وزیر اورنواز شریف کے قریب ترین ساتھی ہیں ۔ والٹن روڈ کے ارد گرد آٹھ دس انسانی آبادیاں قائم ہیں جن میں پیر کالونی ٗ قادری کالونی اور مدینہ کالونی نمایاں ہیں۔ان میں سے کسی کے پاس بھی قبرستان نہیں ہے جب کہیں موت واقع ہوتی ہے تو سب سے پہلے لواحقین کو یہ تشویش لاحق ہوتی ہے کہ مرنے والے کو دفن کہاں کیاجائے ۔باب پاکستان کا وسیع رقبہ غیر آباد پڑا ہے پھر والٹن گریژن میں بھی کافی جگہ موجود ہے جہاں آسانی سے قبرستان کے لیے سو دو سو کینال جگہ مل سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے وزیر دفاع خواجہ آصف کا تعاون حاصل کرنا ہوگا ۔جن کی موجودگی میں وزارت دفاع سے یہ جگہ لینا آپ کے لیے مشکل نہیں ہے ۔ آپ نے اسی حلقے سے قومی اسمبلی کاالیکشن لڑنا ہے کہ اس لیے وقت ہاتھ سے نکلنے سے پہلے قبرستان کے لیے جگہ مخصوص کروائیں ۔یہ بھی بتادوں کہ مخالفین ووٹوں کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں ہے ۔ چند سو ووٹ بھی نتائج تبدیل کرسکتے ہیں۔ دوسرا بڑا مطالبہ باب پاکستان کمپلیکس کی از سرنو تعمیر ہے۔ شنید تھی کہ فروری 2017ء میں تعمیر شروع ہو جائے گی ۔مئی بھی آپہنچا ہے دور دور تک تعمیرکے آثارنظر نہیں آتے ۔ اس پروجیکٹ سے عوامی دلچسپی کے بے شمار منصوبے وابستہ ہیں۔ جس سے مقامی لوگوں کوفائدہ ہو سکتا ہے ۔ جتنی جلدی تعمیر شروع ہواتنا ہی بہتر ہے۔تیسرا مطالبہ والٹن روڈ پر ٹریفک کے بڑھتے ہوئے رش کو ختم کرنے کے لیے یہاں ایکسپریس وے کی تعمیر ہے جو ڈی ایچ اے اور قینچی جانے والوں کے لیے مخصوص ہو ۔والٹن روڈ صرف مقامی لوگوں کے لیے رہنے دی جائے ۔ اس شاہراہ پر سکولوں کی بہتات ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہی رہتی ہے ۔ سب سے بڑا مسئلہ صاف پانی کی عدم دستیابی ہے ۔ٹریٹ منٹ پلانٹ ان مسائل کا حل نہیں ۔ جو ٹریٹ منٹ پلانٹ نالے کے ساتھ ہے اس کا پانی کیسے پیا جاسکتا ہے ۔ پانی میں سیوریج کی آمیزش کہاں ہوتی ہے اس کو تلاش کرنا کنٹونمنٹ بورڈ کا کام ہے۔جب تک یہ کام نہیں ہوتا اس وقت تک قادری کالونی اور پیر کالونی کی مساجد سے ملحقہ ٹریٹ منٹ لگائے جاسکتے ہیں تاکہ آسانی سے مخلوق خدا پانی حاصل کرسکے ۔نکا ح رجسٹر کروانا ہو یا پیدائشی پرچی ٗ ہر کام کے لیے بورڈ کے دفتر جانا پڑتا ہے۔اگر ہر یونین کونسل میں دفتر قائم ہوجائیں تو یہ کام آسانی سے ممکن ہوسکتے ہیں پھر اپنے کونسلر حضرات کی زیارت بھی کبھی کبھار ہوسکتی ۔کونسلر صاحبان کس قدر عوام سے دور ہیں اس کا اندازہ یوں لگایاجاسکتا ہے کہ میں نے اپنے کونسلر کی زیارت اڑھائی سال بعد کی تھی اور وہ بھی کنٹونمنٹ بورڈ کے دفتر میں۔والٹن روڈ کے مشرقی جانب ایک گندہ نالہ بہتا ہے جو بدبو اور گندگی کی آمجگاہ بن چکا ہے ۔اس نالے پر چھت ڈالنا بہت ضروری ہے کیونکہ مشرقی کنارے پر واقع سکول اور دکانیں ٗ چھابڑی فروش اسی نالے کی دیوار کے ساتھ موجود ہوتے ہیں ۔کھانے پینے والی اشیاء میں جب نالے کی بدبو شامل ہوگئی تو اس کی غذائیت کس قدر متاثر ہوگی یہ بات فوڈ اتھارٹی سے پوچھ لیں ۔ گزارش ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہوسکے نالے پر چھت ڈال دیں۔ اسی طرح بیماریوں نے انسانی صحت پر یلغار کررکھی ہے شاید ہی کوئی شخص خودکوصحت مند کہہ سکے ۔ہر یونین کونسل میں ایک ایسی ماڈل ڈسپنسری قائم کی جائے جہاں ایم بی بی ایس کے ساتھ دیگر امراض کے سپیشلسٹ ڈاکٹر بھی بیٹھیں اور لیبارٹری کی سہولت بھی حاصل ہو۔ کمیونٹی سنٹر بھی اہم ضرورت ہے جسے غمی خوشی کے موقع پراستعمال کیاجاسکے۔ اسی کیمونٹی سنٹر میں بچیوں کے لیے سلائی کڑھائی ٗ درس قرآن ٗ اصلاح معاشرہ اور سول ڈیفنس کے دفاترقائم ہونے چاہیں ۔ان پروجیکٹوں کی نگرانی کے لیے والٹن کینٹ ویلفیئر سوسائٹی کے نام سے ایک فلاحی تنظیم قائم ہوچکی ہے ۔بچوں کے لیے پلینگ ایریا ٗ لائبریری اور فوڈ اتھارٹی کی ایک لیب کا اہتمام بھی علاقہ میں بہت ضروری ہے ۔ اگر کنٹونمنٹ بورڈ کے تعاون سے پیر کالونی میں ہی ایک پچاس بستروں پر مشتمل ہسپتال تعمیر ہوجائے تو آپ کا یہ کارنامہ مستقبل میں آپ اور خلق خدا کے لیے فائدے مند ہوگا ۔جس طرح والٹن روڈ گرلز اور بوائز کالج آپ کی نیک نامی کا باعث بن رہے ہیں ۔ بطور خاص کوڑے پنڈ کے قریب بہت بڑی تعداد میں دیہاڑی دار مزدور سارا دن بھوکے پیاسے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔اگر ان کے لیے مفت کھانے (دستر خوان) کا انتظام ہوجائے تومناسب رہے گا۔ یادرہے کہ دستر خوان بحریہ ٹاؤن کے تعاون سے بھی قائم کیا جاسکتاہے۔تمام تر کوشش کے باوجود ابھی تک ان علاقوں میں مسلسل صفائی کا خاطر خواہ انتظام نہیں ہے۔ گلی کوچوں میں جابجا کوڑا بکھرا ہوا دکھائی دیتاہے ۔چوھدری سجاد احمد وائس چیرمین والٹن کنٹونمنٹ بورڈ کی کاوشوں سے صورت حال میں کچھ بہتری آئی ہے لیکن ابھی بہت سارے کام کرنا باقی ہیں ۔میں سمجھتاہوں جس جذبے اور ولولے سے چوہدری سجاد کام کررہے ہیں اگر تمام کونسلر حضرات اسی جذبے سے عوام کے دکھ درد کے ساتھی بن جائیں تو آپ کو الیکشن مہم چلانے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی لیکن افسوس کہ عوام اور عوامی نمائندوں میں رابطوں کا مکمل فقدان پیدا ہوچکا ہے ۔ جس کی وجہ سے باہمی اعتمادمیں شدید کمی اور مسائل میں حد درجہ اضافہ ہوتاجارہا ہے ۔ سٹریٹ لائٹ سمیت کتنے ہی مسائل اپنے حل کے منتظر ہیں۔جب تک کونسلر اور ایم پی اے حضرات چہرے سے نقاب اتار کر عوام کے پاس نہیں آئیں گے اس وقت تک مثبت نتائج کا حاصل ہونا نہایت مشکل ہے ۔ 2018ء کے الیکشن زیادہ دور نہیں رہے اگر آپ ایک بار پھر جیتنا چاہتے ہیں تو مذکورہ بالا مسائل کا حل ہی آپ کی شاندار کامیابی کا راستہ ہموار کرسکتا ہے والٹن کینٹ ویلفیئر سوسائٹی عوامی مسائل کے حل کے لیے آپ کے راست اور جلد اقدامات کی منتظر ہے۔یہ بھی بتاتا چلوں کہ ووٹ صرف انہی آبادیوں کے غریب لوگ دیتے ہیں جہاں کے مسائل اپنے حل کے لیے آپ کی راہ دیکھ رہے ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 572 Articles with 290522 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 May, 2017 Views: 289

Comments

آپ کی رائے