عرب خطے میں ایرانی مداخلت امن کے لیے خطرہ

(Tanveer Awan, Islamabad)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
عرب خطے میں ایرانی مداخلت امن کے لیے خطرہ اور تباہ کن ثابت ہو رہی ہے،سلامتی کونسل میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے پرزور انداز میں کہا کہ مشرق وسطی میں جاری تنازعات کا بنیادی سبب ایران ہے، امریکی سفیر نے کہا کہ ایران کھلم کھلا شام میں بشار الاسد ،یمن میں حوثی باغیوں ،عراق میں شیعہ ملیشیا اور لبنان میں حزب اﷲ کی مدد کررہا ہے، یہی امداد عر ب خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش اور بنیاد ہے،انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل ایران کی مشرق وسطی میں سرگرمیوں کی روک تھام کو اولین ترجیح بنائے۔جب کہ حال ہی میں امریکی وزیر دفاع جیمزمیٹس اپنے ایک بیان میں کہا کہ خطے میں ایرانی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی،خطے میں جہاں کہیں مسائل ہیں ،ان مسائل کے پیچھے ایرانی مداخلت کار فرما ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اردن میں منعقد کئے گئے عرب سربراہی اجلاس میں یمن ،شام اور لیبیا کے بحرانوں کے سیاسی حل اور خطے میں ایرانی مداخلت کو سختی کے ساتھ مسترد کیا گیا تھا،جب کہ فروری میں سعودی وزیر خارجہ عادل الحییر،اور ترکی کے وزیر خارجہ مولود جاویس اوغلو سمیت کئی راہنماؤں نے انقرہ میں منعقدہ " میونخ سیکورٹی کانفرنس" میں خطے میں ایران کی وجہ سے عدم استحکام پر شدد ردعمل کا اظہار کیا تھا،اسی طرح منامہ میں 37ویں خلیجی سربراہی اجلاس میں بحرین سمیت خطے کے ممالک میں دہشت گردی کی حمایت کرنے دہشت گردوں کو تربیت دینے ،ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کی سمگلنگ اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کے ذریعے ان کے اندرونی معاملات میں ایرانی مداخلت کے تسلسل کی پر زور مذمت کی گئی ہے۔

یقینا ایران اور اس کے معاونین کا مکروہ کردار اقوام عالم کے سامنے آشکارہ ہو چکا ہے، تقیہ کی چادر میں لپٹی صیہونی ریاست ہمیشہ کی طرح ان حقائق کو الزامات کہہ کر مسترد کر دیتی ہے ، مگر شام و عراق کے معصوم بچوں کی آہیں اور سسکیاں ، مظلوموں کا کرب و الم ظالموں کو اپنی لپیٹ میں ضرور لے کر رہے گا، وقت آن پہنچا ہے کہ اقوام متحدہ اپنا مؤثر کردارادا کرتے ہوئے شام و عراق کے قضیہ کے پرامن حل اور یمن ،عراق و سوریا میں ایرانی مداخلت کی روک تھام میں فیصلہ کن کردار اداکرے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 140623 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
31 May, 2017 Views: 550

Comments

آپ کی رائے
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکہ عرب اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد مسلمان ممالک کے میڈیا میں ایک خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ہر کہیں اس کے مختلف پہلوؤں پر چرچا ہو رہاہے اور ہر لحاظ سے اس کی اہمیت کو اجاگر کیا جارہا ہے۔ عالم اسلام کے لیے اس کی اہمیت ہو نہ ہو لیکن ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں اس کی اہمیت ضرور ہے اس لیے کہ یہ کانفرنس امریکی آشیر باد کی حامل تھی اور امریکی مفادات سے ہم آہنگ بھی۔ سو جس کا کھانا اس کا گانا میڈیا کا ہی تو وطیرہ ہے۔ چنانچہ بتایا یہ جاتا ہے کہ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد انتہا پسندی اور عالمی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل طے کرنا تھا ، نیز اس موقع پر امریکہ اور اسلامی ممالک کے درمیان تجارت ، دفاع اور ’’ ثقافتی شعبوں میں تعاون‘‘ پر بھی بات ہوئی۔ کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خطاب اصل اہمیت کا حامل تھا جس میں خاص طور پر ایران کے خلاف اشتعال انگیزی کی گئی۔دراصل یہی اس کانفرنس کا اصل مقصد تھا اور اسی مقصد کے لیے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان 380ارب ڈالرز کے معاہدے ہوئے ۔ کانفرنس میں 54اسلامی ممالک نے شرکت کی۔ ہمارے وزیر اعظیم صاحب خصوصی طور پر چارٹرڈ طیارے کے ذریعے 60افراد کا وفد لے کر پہنچے۔ مگر نہ تو جس طرح پاکستانی وزیر اعظم کو تقریر کا کوئی موقع ہی ملا اور نہ اس کانفرنس میں پاکستان کو کوئی اہمیت ہی دی گئی اسی طرح سعودی عرب سمیت باقی 53اسلامی ممالک کے حصے میں حقیقتاًصرف خوش فہمیاں ہی آئیں۔ یعنی اسلامی سربراہی کانفرنس صرف نام کی تھی اصل میں مقاصد سارے کے سارے پورے ہوئے امریکہ اور ٹرمپ کے۔ جس نے ایک طرف چائنہ کے عالمی اقتصادی منصوبہ OBORکا بھر پور جواب 380ارب ڈالر کے معاہدے کر کے دیا تو دوسری طرف مڈل ایسٹ میں امریکی مفادات یعنی صیہونی عزائم کی تکمیل کی راہ ہموار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ جبکہ اسلامی ممالک کے حصے میں آئے صرف کچھ امریکی دلاسے ، سراب اور فریب۔ یعنی ہمیشہ کی طرح ایک مرتبہ پھر اسلامی سربراہوں کا اکٹھ یہودیوں کے کٹھ پتلی امریکی صدر کے فریب میں آگیا اور یہی وہ امریکی فریب اور اسلامی سربراہوں کی خوش فہمی ہے جس نے عراق ، شام ، مصر ، لیبیا اور افغانستان کو اس حال تک پہنچا دیا ہے۔ اسلامی دنیا اس حال تک کیوں نہ پہنچتی جب اﷲ تعالیٰ کا قرآن پاک میں فرمان ہے کہ’’ اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ(تو) ایک دوسرے کے دوست ہیں ‘‘۔ یعنی ان کا ازلی مشن صرف مسلمانوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ مگر قرآن سے روگردانی یعنی اصلی ہدایت سے محرومی نے ہمارے لیڈروں کو اس قدر اندھا ، بہرہ اور گونگا کر دیا ہے کہ انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔

یہی وہ ڈونلڈ ٹرمپ ہے جو اپنی الیکشن مہم میں اسلام اور مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن بن کر اُبھرا اور صدر بن جانے کے بعد بھی باقاعدہ اس نے امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کا حکم جاری کیا۔ اگرچہ اس میں اسے ناکامی ہوئی مگر اس کے عزائم اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہ تھے۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے اسلامی لیڈروں کی آنکھوں پر پٹی بندھ گئی ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ہی بحیثیت امریکی صدر اپنا داتا اور مشکل کشا مان رہے ہیں۔ حالانکہ بات بہت واضح ہے کہ اسرائیل کے استحکام اور عزائم کی تکمیل کے لیے جو کام ایران سے عراق ، شام ،یمن اور دیگر اسلامی خطوں میں لیا جانا مقصود تھا وہ لیا جا چکا۔ اب انتظار صرف ایک ایسی جنگ عظیم کا ہے جو مسلم ممالک کے درمیان ہو ، جس میں تباہی صرف مسلمانوں کی ہو ،وسائل مسلمانوں کے خرچ ہوں ، اسرائیل کے اہداف کی تکمیل ہو اور اس پر الزام بھی کوئی نہ آئے۔

چنانچہ اس جنگ کی تیاری کے لیے پچھلی کئی دہائیوں نہیں ، کئی سالوں بھی نہیں بلکہ کئی صدیوں سے پلاننگ جاری تھی۔خاص طور پر جب اکیلے صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں پورے یورپ کو ذلت آمیز شکست ہوئی تھی تو عیسائیوں اور یہودیوں کے بڑے دماغوں نے مل کر یہی نتیجہ نکالا تھا کہ جب تک مسلمان متحد ہیں اور دنیا میں مسلمانوں کے اتحاد اور ان کی طاقت کا واحد سرچشمہ نظام خلافت قائم ہے تب تک نہ تو یہودیوں کے مقاصد پورے ہو سکتے ہیں اور نہ دنیا پر عیسائی غلبے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس کے بعد سے ہی مستشرقین مغرب نے مسلمانوں میں نسلی ، لسانی، علاقائی اور فرقہ وارانہ کدورتوں اور نفرتوں کے بیج بونا شروع کیے۔ عربوں کو خلافت عثمانیہ کے خلاف اُٹھانے کے لیے لارنس آف عریبیہ کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، شام کا علوی قبیلہ بھی نظام خلافت کے خلاف فرانس کے ہاتھوں میں کھیلا۔ایرانیوں کو خلافت عثمانیہ کے خلاف بھڑکانے کے لیے قدیم ایرانی بادشاہتوں کی عظمتوں کو بھی اُجاگر کیا گیا اور اس طرح اُمت مسلمہ کے حصے بخرے کرکے اس کے قلب میں اس اسرائیل کی بنیاد رکھی گئی جس کے استحکام اور توسیع کے لیے اُمت مسلمہ کا امن و امان گروی رکھ دیا گیا۔ صدام حسین جیسی مضبوط حکومتیں بھی اسی کی بھینٹ چڑھ گئیں اور اس کو ختم کرنے کے لیے بھی سارا خرچہ سعودی عرب اور کویت سے لیا گیا۔ حالانکہ سعودی عرب ، کویت اور عراق کا آپس میں بنیادی جھگڑا کوئی نہیں تھا مگر یہ جھگڑا پیدا کیا گیا بالکل اسی طرح جس طرح آج ایران کے خلاف سعودی حکومت کو کھڑا کیا جارہاہے۔ اسلامی سربراہی کانفرنس سے ذرا کچھ پہلے ایران کا سخت بیان آیا تھا کہ ہم مکہ اور مدینہ کو چھوڑ کر پورے عرب کو جب چاہیں تباہ کر سکتے ہیں۔ بعض لوگ اس کو محض اتفاق ہی کہیں گے کہ مگر یہ اتفاق نہیں۔ امریکہ عراق اور افغانستان میں کثیر سرمایہ اور وسائل جھونک کے دینے باجود بھی مطلوبہ اہداف نہیں حاصل کر پایا۔ یہاں تک کہ اسلحہ سازی پر پلتی بڑھتی اس کی معیشت ڈانواڈول ہو رہی تھی۔ لہٰذا ایک طرف اس کی معیشت کو سہارے کی ضرورت تھی اور دوسری طرف اسرائیل کے اگلے اہداف تک پہنچنے کے لیے کسی نئی جنگ میں براہ راست کود جانے کی بجائے دو مسلمان قوتوں کو ہی لڑانا مقصود تھا۔ اسی مقصد کے لیے مسلمان ممالک کا مشترکہ فوجی اتحاد قائم کیا گیا تھا جو امریکہ کی ایما پر اور اس کے اہداف کے حصول کی اگلی ہی کوشش تھی۔ اب اس کوشش کو کسی منطقی نتیجے تک پہنچانا بھی تو ہے۔ لہٰذا اس فوجی اتحاد کو سامان حرب و ضرب سے لیس کرنا بھی توامریکہ کی ذمہ داری ہے۔ 380ارب ڈالرز کی رقم جس کا بیشتر حصہ فوجی ہتھیاروں کی خریداری پر صرف ہو گا کی ادائیگی سعودی عرب کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے مگر افسوس یہ ہے کہ یہ کثیر رقم اسلام اور مسلمانوں کے دفاع میں نہیں بلکہ اُمت مسلمہ کی مزید تباہی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ لارنس آف عریبیہ نے تو عربوں کو صرف اُمت مسلمہ کے قومی دھارے سے نکال کر عرب بادشاہتوں کا راستہ دکھایا تھا مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں وہاں لاکھڑا کیا ہے جہاں تباہی و بربادی کے علاوہ ان کا کوئی انجام نظر نہیں آتا۔ لارنس آف عریبیہ سے ڈونلڈ ٹرمپ تک کا یہ سفر عربوں کے لیے چاہے کتنا ہی شاندار اور ترقی پر مبنی کیوں نہ ہو اسلامی تاریخ میں اسے مسلمانوں کی بدترین شکست ، پسپائی اور نامعقولیت سے تعبیر کیا جائے گا۔ اسے عالم اسلام کی ترقی ، تعمیراور راہنمائی کبھی نہیں کہا جا سکتاچاہے جتنے بھی بڑے معاہدے کر لیے جائے اورجنتے بھی ڈالرز خرچ کر لیے جائیں۔ یہ ترقی ، تعمیراورعالم اسلامی کی راہنمائی تو تب ہوتی جب یہ سرمایہ اور وسائل اُمت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کے لیے اور عالم اسلام کے مشترکہ دشمنوں کے خلاف لڑنے میں خرچ ہوتے۔ تب شاید پورا عالم اسلام بھی عربوں کے پیچھے کھڑا ہوتا اور مسلمانوں کو دنیا کی کوئی سپر پاور بھی شکست نہ دے پاتی۔ آئیے ہم سب مل کر دعا کریں کہ اﷲ تعالیٰ عالم اسلام میں ایک دو ہی سہی مگر ایسے لیڈرز پیدا کر دے جو اُمت کو سرابوں سے نکال کر حقیقت کی دنیا میں لے آئیں۔
By: rafiq chohri, islamabad on Jul, 04 2017
Reply Reply
0 Like
waqi Saoudi Amarican ittehad HAQ Per ha, Iran he tha jiss ne Iraq per hamle k lye apne adde dye the, aur afganistan per hamle ke lye bhe Iran ne apne adde dye the, aur akhwn ul muslemmen ke missar me hakumat bhe Iran ne khatam ki thi, Aur hamas he mazlum israili ko mar rhe ha.
By: huma awan, Islamabad on Jul, 03 2017
Reply Reply
1 Like