وفاقی بجٹ ۔۔۔ناخواندہ عوام سے مذاق

(Syed Arif Saeed Bukhari, )

 وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے حسب روایت مالی سال2017-18ء کا47 کھرب 50ارب روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے ۔ہر سال حکومت عوام دوست بجٹ کے دعوے کے ساتھ قوم کو یہ کہہ کر بے وقوف بناتی ہے کہ ہم نے بے مثال بجٹ پیش کیا ہے ۔قوم جشن منائے کہ ہم نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا ،بس کچھ اشیاء پر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے ، بعض میں چھوٹ بھی دے دی گئی ہے ۔ بجٹ کی ہیرا پھیریوں کا غریبوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ سب اچھا ہی اچھا ہے ۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارنے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنا ہماری ترجیح ہے ،3سال کی بجائے 5سال کا میکرواکنامک روڈ میپ تجویز کیا گیا ہے 120ارب روپے کے ٹیکس لگائے ہیں جبکہ 33 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا ہے ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دیاہے کہ اگلا بجٹ بھی ہماری حکومت ہی پیش کرے گی ۔

کون جانے اگلے برسوں میں ملک کی کیا صورتحال ہو گی ۔اور اگلے برس کون بجٹ پیش کرے گا۔؟بظاہر توموجودہ حکومت کے جانے کے کوئی امکانات موجود نہیں۔لوڈ شیڈنگ بھی ختم ہونے والی نہیں ۔ عمران خان کا حکومت میں آنا اور ملک میں تبدیلی لانے کا عزم بھی خواب ہی ہے جو کبھی پورا نہیں ہونے والا ۔ عمرا ن خان نے غالباًغریبوں کی ہمدردی میں بجٹ اجلاس میں شرکت نہیں کی کیونکہ وہ غریبوں کے ساتھ ہونے والا ظلم برداشت نہیں کر سکتے ۔اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ اب’’ نان فائلرز ‘‘کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔۔واہ ! کیا کہنے ۔۔۔یہاں تو’’ فائلرز‘‘کی آمدن کا ہی حساب نہیں ہے ۔ کروڑوں کمانے والا اپنی آمدن کا عشر عشیر بھی خزانے میں جمع نہیں کراتا ،جبکہ غریب اور نان فائلرز کو یوٹیلٹی بلز کی مّد میں سالانہ لاکھوں روپے جمع کر انا پڑتے ہیں ، غریب کے بچے بھوکے سو جائیں مگر اسے تو یہ بلز بھی ادا کرناہیں ۔ چاہے ہر ماہ اسے ادھار لینا پڑے یا اپنی عزت ہی کیوں نہ بیچنا پڑے ۔حکومت نے ملازمین کی کم سے کم اجرت 15ہزار روپے ماہانہ مقرر کی ہے مگرملک بھر میں بیسیوں ادارے ایسے ہیں کہ جو اپنے ملازمین کو اس مقررہ اجرت کا نصف بھی ادا نہیں کرتے ،ہر دوسرا پرائیوٹ ادارہ عملاً’’بیگار کیمپ ‘‘ بنا ہوا ہے ۔ملازمین کی دن رات کی محنت شاقہ سے کارخانے لگانے والے اور بڑے بڑے محلات کے مالک امراء غریب کا بُری طرح استحصال کر رہے ہیں۔کسی ’’سفید پوش ‘‘سے حکومت کا کوئی ادارہ یا کوئی ایک فرد یہ پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ بھائی! آپ کی آمدنی تو 8ے15ہزارروپے ماہانہ ہے مگر آپ 5سے 6ہزار روپے ماہانہ کے یوٹیلٹی بلز کیسے ادا کرتے ہو ، بچوں کی تعلیمی ضروریات کہاں سے پوری کرتے ہو ۔؟مکان کا کرایہ کہاں سے دیتے ہو۔؟غربت کی وجہ سے خود کشی پر کیوں مجبور ہوتے ہو ،۔۔؟ کیوں غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو قتل کرتے ہو۔؟یوٹیلٹی بلز پر لاگو ٹیکسیز اس شخص کو بھی ادا کرنا پڑتے ہیں کہ جس کی آمدن اُس کے اخراجات سے کم ہے ۔ملک میں ہر پیدا ہونے والا بچہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے سالانہ کا مقروض ہے ،حکمرانوں کی کوتاہ اندیشوں کے باعث ہماری آئندہ نسلیں تک مستقل طور پر عالمی مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھی جا چکی ہیں ۔ پھر بھی ہمارا حکمران ٹولہ بڑی ڈھٹائی سے یہ دعویٰ کرنے میں عار محسوس نہیں کرتا کہ ہم نے ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر ڈال دیا ہے ۔ گذشتہ 5سالوں میں توانائی بحران سے نجات دلانے کے لیے بڑے بڑے دعوے کیے جا رہے ہیں مگرفی الحال عملاً وہی ڈھاک کے تین پات ۔۔والی بات ہے ۔ توانائی بحران نے معیشت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے ، ساہیوال کول پلانٹ کا آغاز کیا جا چکا ہے ،سولر انرجی سمیت دیگر منصوبوں پر بھی کام جاری ہے مگر ملک کو کب تک توانائی بحران سے نجات ملے گی اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے ۔

عوام تو بلواسطہ اور بلا واسطہ اپنی ضرورت کی ہر دوسری چیز پر جبری ٹیکس دے رہے ہیں ،پانی بجلی ، گیس ، پیڑولیم مصنوعات سمیت کھانے پینے کی بیسیوں اشیاء پر کئی کئی قسم کے ٹیکس نہ چاہتے ہوئے بھی عوام کو ہی ادا کرنا پڑتے ہیں ،اکثر ادارے اپنی مصنوعات پر عائد ہونے والا سیلز ٹیکس تو وصول کر لیتے ہیں مگر یہ رقم قومی خزانے میں جمع نہیں کرائی جاتی ،موبائل فون کے استعمال پر دوہرا ٹیکس لیا جاتا ہے ، موبائل کارڈ چارج کرنے پر تقریباً28فیصد ٹیکس کاٹا جاتا ہے اس کے بعد ہر کال پربھی 15فیصد ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے ، گویا صارف کی جیب پرکمپنیاں دودوبار ڈاکہ ڈالتی ہیں ، مگر کوئی پوچھنے والانہیں ۔

بجٹ میں ملازمین اور پنشنرز کوتنخواہوں اور پنشن کی مّد میں 10 فیصد اضافہ کی نوید سنا ئی گئی ہے ۔ جو مہنگائی میں ہونے والے کئی گنا اضافے کے مقابلے میں نا کافی ہے ۔حکومت ملازمین پر یہ احسان کرنے کی بجائے مہنگائی کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھاتی توزیادہ بہتر تھا ۔ 10 لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم سے بہرہ مند کرنے کا پروگرام لائق ستائش ہے مگر اس سے بھی زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت تھی ۔ بجٹ میں الفاظ کا گورکھ دھندہ سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنانے کے سوا کچھ نہیں ۔ غریب کیا جانے کہ ملک کے ذہین و فطین ماہرین معاشیات و اقتصادیات وطن عزیز اور یہاں کے عوام کے ساتھ ہر سال کیا کھلواڑ کرتے ہیں ۔حکمرانوں کو اوپن مارکیٹ سے کوئی چیز خریدنا نہیں پڑتی ،ان لوگوں کی تمام ضروریات اور عیاشیاں بغیر کسی رکاوٹ کے اُن کی دیلیز پر میّسر ہیں ۔ جبکہ غریب عوام کو سب کچھ اوپن مارکیٹ سے خریدنا پڑتا ہے ،جہاں بجٹ کی آڑ میں دکاندار اُن کی چمڑی تک ادھیڑ لیتے ہیں ۔حکومت کی شاندار پالیسیوں کی بدولت غریب زندہ درگور ہو چکے ہیں ۔آخر کب تک عوام یہ ظلم سہہ پائیں گے ۔المیہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران وطن عزیز کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر ڈالتے کے لیے خود انحصاری کی پالیسی پر عمل کرنے کی بجائے غیروں کی امداد کے سہارے نظام معیشت چلانے میں لگے ہوئے ہیں ، ہمارے حکمران عالمی اداروں سے اب تک لیا جانے والا قرض واپس کرنے کی کوئی تدبیر کرنے کی بجائے انہیں اداروں سے سود درسود قرض کی سابقہ قسطیں ادا کرکے مزید قرض لینے میں ہی اپنی کامیابی سمجھتے ہیں ۔ ملک میں وسائل کی کمی نہیں ہے مگر ہم عالمی اداروں اور سپر طاقتوں کے خوف سے ان سے استفادے کی کوئی راہ نہیں نکالتے ۔ ہمارے بڑے بڑے سیاسی قائدین کے پاس دولت کی کمی نہیں ہے ، ان لوگوں کی بیرون ملک جائیدادیں اور دیگر آثاثہ جات اس قدر ہیں کہ اگر اُن کو وطن واپس لایا جائے یا اس کے ذریعے ہم عالمی اداروں کو قرض کی ادائیگی کی تدبیر کریں تویقیناوطن عزیز انتہائی کم مدت میں عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے نکل سکتا ہے ۔ سیاسی قائدین کے پاس موجود ساری دولت چاہے وہ حرام ہے یا حلال۔۔ اسی وطن عزیز کے طفیل ہی ان لوگوں نے جمع کی ہے ۔ان میں سے کوئی ایک بھی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اُس نے یہ دولت پاکستان سے نہیں کمائی ۔ظاہر ہے کہ یہ تمام دولت من و سلویٰ کی طرح آسمان سے تو اُتری نہیں ،یہ پاکستان کے غریب عوام کے خون پسینہ کی کمائی ہے جس پر ریاست کے ایک ایک فرد کا حق ہے ۔بجٹ کے بعد ’’منی بجٹ ‘‘ کی صورت میں مختلف اشیاء اور بنیادی ضروریات زندگی ، پانی بجلی ، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی روایت بھی تکلیف دہ ہوتی ہے ۔خدا کرے کہ عوام دوست بجٹ پیش کرنے کے دعویدار ماہرین اقتصادیات و معاشیات سارا سال کسی قسم کا ’’منی بجٹ‘‘ پیش نہ کریں ۔ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال نے ہر شخص کو پریشان و مضطرب کر رکھا ہے،کروڑوں کمانے والا بھی بے چین ہے تو کم آمدنی والے کو بھی سکون حاصل نہیں ،اب بھی وقت ہے کہ حکمران ملکی معیشت کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر ڈالنے کی تدبیرکریں ، ’’عوام دوست‘‘ بجٹ کے نام پرقوم کو آئندہ روشن مستقبل کی نوید سنانے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے ،کیونکہ اگر عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو حکمرانوں کو دنیامیں کہیں پناہ نہیں ملے گی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: syed arif saeed bukhari

Read More Articles by syed arif saeed bukhari: 84 Articles with 42736 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jun, 2017 Views: 620

Comments

آپ کی رائے