بھارت کے ساتھ سرحد بند کی جائے

(Ali Imran Shaheen, Lahore)

بلوچستان کے شہر چمن کے افغان سرحدی علاقے پر افغان فوج کے حملے اور جوابی کارروائی کے بعد بند ہونے والی سرحد کو بالآخر 22 دن بعد کھول دیا گیا۔ افغان فوج کی اس کارروائی میں 10 پاکستانی شہری شہید ہوئے تھے جبکہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں بڑی تعداد میں افغان فوجی نشانہ بنے تھے۔ سرحد بند کر دینے کے عمل سے پاکستان میں مقیم افغان اور پشتون لوگ شدید مشکلات سے دوچار تھے کیونکہ چمن کی سرحد سے روزانہ ہزاروں لوگ آر پار آتے جاتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں برآمدات کے بڑے راستوں میں سے ایک یہ چمن کا سرحدی دروازہ بھی ہے۔ سرحد بند کر دینے سے لاکھوں پاکستانی اور افغان دونوں طرف متاثر ہو رہے تھے کیونکہ دونوں کے ہر طرح کے معاملات و تعلقات باہم وابستہ ہیں۔ افغانستان کے پھلوں کی سب سے زیادہ کھپت پاکستان میں ہے تو پاکستان کی سب سے زیادہ برآمدات بھی محض افغانستان کو بھیجی جاتی ہیں جن میں عالمی سطح پر گزشتہ سالوں سے اربوں ڈالر کی کمی آ چکی ہے۔ افغانستان کے ساتھ ہماری تجارت اب محض 20فیصد اور حجم 1ارب ڈالررہ گیا ہے۔افغانستان کو پاکستان سے برآمد ہونے والی اشیاء میں سب سے زیادہ زرعی اجناس ہیں۔ پاکستان چونکہ ایک زرعی ملک ہے تو اس کی اجناس کی نزدیک ترین برآمدات افغانستان میں ہی ہو سکتی ہیں جنہیں روکنے بلکہ ختم کرنے کیلئے بھارت انتہائی سرگرم ہے۔ افغانستان کو پاکستان کیخلاف ہر الٹی پٹی بھارت پڑھا رہا ہے اور اس نے طویل منصوبہ بندی سے ایران کے راستے خصوصی سبسڈی کے ذریعے گندم بھیجنا شروع کر رکھی ہے یوں ہمارے گودام گزشتہ تین سال کی پیداوار سے بھرے پڑے ہیں کہ افغانستان کی جانب سے برآمدانتہائی کم ہو چکی ہے۔ یہی حال چینی کا ہے۔حالات گواہ ہیں، جب بھی ہم افغان سرحد بند کرتے ہیں تو سراسر فائدہ بھارت کو پہنچتا ہے ۔ہمارے دشمنوں کی کوشش ہی یہی ہے کہ ہم افغانستان سے سینگ پھنسا لیں اور ہماری سرحد کا وہ محفوظ ترین علاقہ جہاں چند سال پہلے تک ہمیں ایک فوجی کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، اسے دنیا کا غیر محفوظ ترین اور پاکستان کیلئے خطرناک ترین حصہ بنا دیا جائے اور بھارت کا سارا کام آسان ہو جائے۔ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ پاک افغان سرحد پر دونوں طرف ایک ہی قوم، ایک ہی بودوباش و مذہب رکھنے والے ایک جیسے لوگ آباد ہیں جن کی باہم صدیوں سے رشتہ داریاں اور تعلقات ہیں اور ہم انہیں جدا نہیں کر سکتے۔ ہمیں افغانستان کے ساتھ اس سرپھٹول کا اصل سر کاٹنا ہو گا جو سیدھا نئی دہلی میں جا نکلتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اور پاکستانی قیادت دنیا کے ہر عالمی فورم پر کھڑی ہے، افغان کٹھ پتلی صدر آخر کیوں اور کیسے کہہ اٹھا ہے کہ پاکستان عالمی تنہائی کا شکار ہے، لہٰذا اس کا دورہ نہیں ہو سکتا۔ بھارت اب یہ کوشش کر رہا ہے کہ وہ افغانوں کو اپنے ملک میں زیادہ سے زیادہ داخلہ دے جو ظاہر ہے کہ پاکستان کے بغیر ممکن نہیں۔ اس نے اس کا توڑ کرتے ہوئے کابل سے دہلی کے فضائی سفر کادو طرفہ ٹکٹ چند ہزار روپے کر دیا ہے ۔ وہ ہوائی سروس پاکستان سے ہو کر گزرتی ہے کہ دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں۔ ہمیں افغانستان جیسے ملک سے، جس کے ہم اول تا آخر محسن ہی محسن ہیں ،لڑانے والا یہ بھارت ہے تو ہم آخراس کا صحیح معنوں میں تدارک کیوں نہیں کرتے۔ اگر افغانستان کے ساتھ ہماری تجارت کا یہ عالم ہے جس کا ذکر ہوا تو بھارت کے ساتھ تجارت کی حالت زار ہے کہ ہم ہر ماہ اس کے ساتھ تجارت میں کروڑوں ڈالر کا خسارہ اٹھا رہے ہیں۔بھارت ہمارے ملک کی معیشت کو تباہ کرنے کیلئے پورا زور لگا رہا ہے اور ہماری آنکھیں اس جانب کھلنے کو تیار ہی نہیں۔ وہی ملک جو دنیا میں زرعی پیداوار میں پہلے چند نمبروں پر ہے آج بھارت کی زرعی یلغار سے اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اس کے شہروں میں بھارت سے آیا ٹماٹر ، پیاز اور آلو فروخت ہو رہا ہے۔ اگر بھارت ہمارے لئے یہ برآمدات بند کر دے تو ہمارے ہاں ان کی قیمت اچانک کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور ہاں ہا ہا کار شروع ہو جاتی ہے لیکن اس کا اصل حل تلاش کرنے کو کوئی تیار نہیں۔ہمیں بھارت کے ساتھ اگر کسی تجارت کا کچھ فائدہ ہے تو وہ صرف مقبوضہ و آزاد کشمیر کے آر پار تجارت کا ہے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کشمیر کے بغیر ہم کٹے دھڑ کی طرح ہی ہیں۔دوسری طرف بھارتی وزیراعظم صاف اور واضح لفظوں میں بار بار کہہ چکا کہ ہم پاکستان کا پانی مکمل ہی بند کر دیں گے۔ انہوں نے عالمی سطح پر سازشیں کر کے سندھ طاس معاہدے کے واحد ضامن عالمی بینک کو بھی ساتھ ملا لیا ہے اور ہمارے ہاں بیٹھے کچھوے بلوں سے سر نکالنے کو بھی تیار ہی نہیں ۔ بھارت ہماری سرحدی چوکیوں کی تباہی کا ببانگ دہل اعلان کر کے ہمارے فوجی شہید کرنے کے دعویٰ کرتا اور سبق سکھانے کی باتیں ہی نہیں کرتا، ہر قدم اٹھاتا ہے لیکن ہم اس کے ساتھ کبھی سرحد مستقل تو کجا عارضی بنیادوں پر بھی بند کرنے کیلئے تیار نہیں ہو پاتے۔ جس گولی اور بدمعاشی کی وجہ سے ہم افغانستان کے ساتھ سرحد بند کر دیتے ہیں کیا وہ سب کچھ بلکہ اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہر دوسرے روز بھارت کی جانب سے روز نہیں ہوتا۔ پھر بھارت کے ساتھ ہمارا رویہ وہ کیوں نہیں جو افغانستان کے ساتھ ہو چکا ہے۔ اس وقت بھارت نے کشمیری قوم کا بڑے پیمانے پر خون بہانا شروع کر رکھا ہے۔ صرف اس لئے کہ انہوں نے گزشتہ سال 8 جولائی کو نوجوان مجاہد رہنما برہان وانی کی شہادت کے بعد جاری تحریک میں اپنا سب کچھ پاکستان کے نام کر دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی وادی ہی نہیں خطہ جموں اور لداخ و کارگل تک میں پاکستان کے پرچم لہرائے جا رہے ہیں۔ پاکستان سے محبت کے نغمے ہر گھر، ہر بستی میں ہر فرد کی جانب سے گائے جا رہے ہیں۔ ہر بوڑھا اور جوان پاکستانی پرچموں کے سائے میں پاکستانی پرچم میں لپٹ کر قبر میں اتر رہا ہے۔ کشمیریوں نے سارے خطے کو پاکستانی رنگ میں رنگ دیا ہے۔یہ عمل کوئی آسان نہیں تھا، اس کے لئے انہوں نے خون کے دریا پار کئے۔ ہر گھر سے جنازے اٹھے ہیں اور اٹھ رہے ہیں۔ ہزاروں کشمیری گزشتہ 11 ماہ میں جیلوں میں پہنچ چکے ہیں۔ ہزاروں آنکھوں کی بینائی اور اعضا سے محروم ہو چکے۔ ان کی ایک سال سے اقتصادی حالت انتہائی خراب اور دگرگوں ہو چکی لیکن وہ آزادی اور پاکستان سے محبت کے اس مشن میں ہر روز پہلے سے زیادہ سرگرم ہیں۔ بھارت نے کشمیریوں کی تحریک کو دبانے کیلئے صرف ایک ہی حربہ اپنا رکھا ہے کہ کچھ بھی ہو کشمیریوں کو ہر طرح سے مار مار کر فنا اور ملیا میٹ کر دیا جائے۔ اس کے اس سارے مشن میں عالمی طاقتوں اور عالمی اداروں کی کھلی مدد و حمایت شامل ہے تو آخر ہم کہاں ہیں، ہم بھارت کے ساتھ وہ سلوک اور رویہ رکھنے کے کیوں روادار نہیں ہو پا رہے جس کا ہمیں فوری اور بھرپور مظاہرہ کرنا چاہئے تھا اور جس میں ہماری بقاء اور دفاع کی ضمانت ہے۔ مقبوضہ و آزادکشمیر کے آر پار کے باسی پاکستان کا ہی دم بھرتے ہیں اور رہیں گے۔ آزادی کشمیر کے لوگوں کو بھارت نے کتنا ورغلانے اور بہکانے کی کوشش کی لیکن اسے یہاں سے کوئی ایک کشمیری بھی ایسا نہیں ملا کہ جو پاکستان کے خلاف اس کے ساتھ کھڑا ہونے کو تیار ہو جاتا۔ مسئلہ کشمیر پر ہماری یہ سب سے بڑی کامیابی تھی لیکن ہم اس کا کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم بھارت کو پہچان ہی لیں۔ اس سلسلے میں ہمیں سب سے پہلے دہشت گرد کلبھوشن کو پھانسی کے پھندے پر لٹکانا ہو گا اور عالمی فراڈ بازی کو جوتے کی نوک پر رکھنا ہو گا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اب اس معاملے میں پاکستان کا موقف مضبوط ہوا ہے اور اب وہ بھارت کے خلاف عالمی اداروں میں جانے کے قابل ہو چکا ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ دنیا میں طاقت اور حصول حق کے ذرائع اور راستے وہ نہیں ہیں جو ہم سمجھے بیٹھے ہیں۔ اگر ہم بھارت کو صحیح معنوں میں دشمن سمجھ لیں اور اس کے ساتھ تھوڑا سا ہی دشمنوں جیسا سلوک اور تعلق روا رکھ لیں تو ہمارے بے شمار مسائل حل ہو جائیں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ali Imran Shaheen

Read More Articles by Ali Imran Shaheen: 189 Articles with 83507 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jun, 2017 Views: 514

Comments

آپ کی رائے