قطر کے عالمی دنیا سے تعلقات

(Shoukat Ullah, Banu)

5 جون 2017 ء کو سعودی عرب اور مصر سمیت چھ عرب ممالک نے قطر پر خطے میں دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بظاہر قطع تعلقی کا سبب قطر کی جانب سے داعش (دولت اسلامیہ ) ، القاعدہ ، اخوان المسلمون اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی حمایت کرنا بتایا جارہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی نے قطر کی وزارت خارجہ کے حوالے سے کہا ہے کہ سفارتی تعلقات توڑنے کے اقدامات بلا جواز ہیں اور ایسے دعوؤں اور الزامات کی بنیاد حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ بہر کیف انقطاع کے اصل محرکات مستقبل قریب میں واضح ہو جائیں گے۔ ابھی قطر کے عالمی دنیا سے تعلقات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔قطر خلیجی ممالک کی ایک ایسی ریاست ہے جس نے ہمیشہ اپنی آزادانہ رائے کو مقدم رکھا اور اپنے مفادات کی بنیادوں پر عالمی دنیا سے تعلقات استوار رکھے۔ اپنے مفادات اور اہم معاملات میں کسی بھی دوسرے ملک کی ڈکٹیشن کو قبول نہیں کیا۔عراق نے جب کویت پر فوجی چڑھائی کی تو قطر کے ذرائع ابلاغ نے دیگر عرب ملکوں کے برعکس حقیقت پر مبنی تجزیے اور رپورٹس پیش کیں۔فلسطین میں حماس حکومت کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا اور جب اسرائیل نے حماس کی منتخب حکومت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو قطر نے نہ صرف حمایت کا اعلان کیا بلکہ اُن کے رہنماؤں کے لئے اپنے ملک کے دروازے وا کئے۔آج بھی حماس کے رہنما خالد مشعل قطر کے دارلخلافہ دوحہ میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ پچھلے کئی برس سے حماس کی مالی معاونت بھی کررہا ہے۔ یہ فیصلہ 2012 ء اور 2013 ء میں ایران اور مصر کی جانب سے بالترتیب مالی امداد بند کرنے کے بعد سے کیا۔2013 ء میں جب مصری افواج کے جنرل السیسی نے منتخب صدر محمد مرسی کو جبراً معزول کیا تو خلیجی ریاستوں میں قطر ہی وہ واحد ملک تھا جس نے ڈکٹیٹر کے اس اقدام کی شدید مذمت کی اور اخوان المسلمون نامی تنظیم کو پناہ دی۔ گزشتہ ماہ سعودی عرب کے دارالخلافہ ریاض میں منعقد ہونے والی امریکہ عرب اسلامی کانفرنس میں ایران کو مدعو نہ کرنے پر قطر نے یہ نقطہ اعتراض اُٹھایا تھا کہ ایران کی عدم شرکت سے سنی اور شیعہ فرقہ واریت کو تقویت ملے گی جس پر عرب ممالک نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ اس کانفرنس میں امریکہ اور سعودی عرب سمیت 55 اسلامی ملکوں کے سربراہوں اور مندوبین نے شرکت کی تھی۔قطر اور ایران کے مشترکہ حدود کی حفاظت کے حوالے سے گہرے دفاعی مراسم پائے جاتے ہیں۔ جن میں دونوں ممالک کے درمیان 2010 ء اور2015 ء کے دفاعی معاہدے قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ تعلقات کی ایک اور وجہ دونوں ممالک کی حدود میں واقع طبعی گیس کے کنویں ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ امیر قطر نے ایرانی صدر روحانی کی دوسری بار منتخب ہونے پر اپنا تہنیتی پیغام بھیجاجو دیگر خلیجی ممالک کے متفقہ منشور کے برعکس تھا۔ کیوں کہ وہ خلیجی تعاون کونسل کا ممبر ملک ہے جو ایران کے خلاف اتحاد کا حصہ ہے۔ قطر کی امریکہ کے ساتھ سٹریٹجیک تعلقات کی نوعیت یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ کا مرکزی دفتر قطر کے العدید ائیر بیس پر قائم ہے۔ یہ امریکہ کا متحدہ عرب امارات میں سب سے بڑا ائیر بیس ہے ، جہاں سے امریکی طیارے دہشت گردی کے خلاف عراق ، افغانستان ، لیبیا اور شام کے ملکوں میں کاروائیاں کرتے ہیں، یعنی مشرقی وسطی میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا مضبوط اتحادی ہے۔ جاپان کے ساتھ ایل این جی کے شعبہ میں تعلقات وابسطہ ہیں اور اس وقت جاپان کی کمپنیاں ایل این جی کی سب سے بڑی خریدار ہیں۔ عرب ممالک کی جانب سے سفارتی تعلقات منقطع کئے جانے پر سب سے زیادہ نقصان قطر ائیر ویز کو ہوگا کیوں کہ تیل و گیس کی برآمدات کے لئے متبادل روٹس استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق قطر ائیر ویز کی تیس فیصد آمدن متاثرہوسکتی ہے۔ تاہم قطر حکومت کا کہنا ہے کہ وہ 1996 ء اور 2014 ء میں بھی متعدد بحرانوں سے گزرچکا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 128527 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Jun, 2017 Views: 683

Comments

آپ کی رائے