تحفوں کی برسات

(Prof Jamil Chohdury, Lahore)

مہمان نوازی کی روایات تو صدیوں پرانی ہیں۔جب ایک حکمران دوسرے ملک میں جاتا ہے۔تو اسکی خصوصی پذیرائی ہوتے ہم دہائیوں سے دیکھتے چلے آرہے ہیں۔تحفے تحائف کا ذکر بھی میڈیا میں آتا رہتا ہے۔ریاض میں ٹرمپ کی غیرمعمولی پذیرائی کا جو منظر گزشتہ مئی میں دیکھا گیا اسکی نہ ماضی میں مثال ہے اور مستقبل میں بھی کوئی خوش نصیب اس منظر سے لطف اندوز ہوتا نظر نہیں آتا۔اگرچہ کئی دن گزر چکے ہیں لیکن منظرذہن سے غائب ہونے میں نہیں آتا۔اس سے پہلے سعودی عرب کے کسی بھی بادشاہ کو خاتون اول سے ہاتھ ملاتے اور امریکی جھنڈا چومتے نہیں دیکھا گیا۔آج تحفوں کی برسات کا ذکر کرتے ہیں۔اشیاء کے نام تو دوست و احباب کو میڈیا کے ذریعے معلوم ہوچکے ہیں۔تمام تحفوں کی مالیت کا تخمینہ 1.2۔ارب ڈالر لگایاگیا ہے۔آسانی کے لئے اس رقم کو ہم100سے ضرب دے لیتے ہیں۔صرف اور صرف1200۔ارب روپے۔ پاکستان جیسے ملک کی بڑی فوج کا سالانہ بجٹ920۔ارب روپے نئے سال میں طے ہوا ہے۔اگر ہم فوجی پنشنرز کا180۔ارب روپے کا خرچہ اس میں شامل کرلیں تو بھی1100۔ارب روپے بنتے ہیں۔یہ اخراجات تحفوں کی مالیت سے پھر بھی کم ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ یہ غیر معمولی فیاضی کیوں کی گئی؟۔صدر اوباما کچھ ہی عرصہ پہلے ریاض آئے تھے اور شاہ سلمان اس کے استقبال کے لئے ائیر پورٹ گئے۔ابھی صدر اوباما ہوائی اڈے پر ہی تھے کہ شاہ کے کان میں اذان کی آواز پڑگئی۔ اوباما کو وہیں چھوڑکرتمام شاہی کارواں شاہ کے ساتھ روانہ ہوگیا۔ اوباما چونکہ غریب تھا۔لہذا اس کے ساتھ سلوک بھی اسی معیار کا ضروری سمجھا گیا۔ان کے بارے تحفے تحائف کی خبریں کسی نے بھی میڈیا میں نہیں دیکھیں۔ٹرمپ کی حیثیت اوباما سے بالکل برعکس ہے۔وہ نہ صرف امریکہ میں بلکہ امریکہ سے باہر بھی رئیل اسٹیٹ کے ٹائیکون ہیں۔ٹرمپ کے پلازے اور بلڈنگز استنبول سے لیکر ممبئی تک پھیلے ہوئے ہیں۔دولت کو دولت کھینچتی ہے کا محاورہ شاید اسی موقع کے لئے بنا ہے۔امریکہ کی مسلمانوں پر نوازشات آپ سب کو یاد ہونگی۔انہیں اس لئے دہرا لیتے ہیں شاید کوئی خفیہ پہلوابھی تک معلوم نہ ہواہو۔موجودہ جائزے میں ہوسکتا ہے۔امریکی مہربانیاں واضح ہوتی چلی جائیں۔ 1991ء کی پہلی خلیجی جنگ اب بھی کئی دوستوں کے ذہن میں ہوگی۔امریکہ نے سعودی عرب کے دفاع کی آڑ میں عراقی افواج کو ادھ مو اکردیاتھا۔اور پھر عراق پر بے شمارپابندیاں ،بچے دودھ اور ادویات سے محروم ہوکر مر گئے تھے۔کیا شاہ سلمان نے صدر امریکہ پر اب تحفوں کی برسات کے ذریعے اس وقت کی مہربانیوں کا بدلہ دیا ہے؟۔9/11 کا واقعہ تو ہرکسی کویاد ہے۔پاکستان جس کا ایک بھی شخص اس کاروائی میں شامل نہ تھا۔لیکن اسے ایسی دھمکیاں دی گئیں کہ مشرف اپنی وردی سمیت امریکہ کے آگے لیٹ گیا۔بندر گاہیں اور ہوائی اڈے افغانستان پر بمباری کے لئے پیش کردیئے گئے۔پاکستانی اڈوں سے 52ہزار اڑانوں کے ذریعے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجاد ی گئی۔لاکھوں مارے گئے ۔افغانستان پر امریکی قبضہ اب تک جاری ہے۔کیا امریکی صدر کو قیمتی تحفوں سے نوازنا افغانستان کی تباہی کا معاوضہ ہے؟۔اور اس ساری صورت حال سے پاکستان کے حالات اتنے خراب ہوئے کہ ٹھیک ہونے میں نہیں آرہے۔60ہزار انسان اور150۔ارب ڈالر کی معیشت کی تباہی۔کیا یہ قیمتی تحفے اس تباہی کا معاوضہ ہے؟۔اور2سال بعد ہی امریکہ بہادر عراق پر چڑھ دوڑا۔جھوٹے الزامات جسکی بعد میں معافی بھی مانگی۔لیکن عراق کی تباہی ایسی ہوئی کہ ہلاکو خان نے بھی نہ کی ہوگی۔مسلم تہذیب کا قدیم مرکز کھنڈر بن گیا۔صدیوں سے قائم لائبریریاں اور عجائب گھر بکھر گئے۔جل گئے اور لوگوں نے لوٹ لئے۔اور ایک تصویر تو اب تک ذہن سے محونہیں ہوتی کہ ایک امریکی خاتون فوجی نے ایک عراقی قیدی کے گلے میں رسی ڈالی ہوئی ہے۔اور وہ اسے گھسیٹ رہی ہے۔کیا امریکی صدر کو بے شمار قیمتی انعامات عراقی کاروائیوں کے بدلے دیئے گئے؟۔14سال ہوگئے ہیں عراق کی آبادی کا بڑا حصہ تباہ وبرباد ہوچکا ہے۔عراق اب ایک نہیں 3حصوں میں تقسیم ہے۔اور پھر فوری بعد لیبیا میں کاروائی۔نیٹو کے حملوں میں امریکہ برابر کا شریک تھا۔قذافی نے لیبیا کو ایک رکھا ہواتھا۔لیکن اب لیبیا نامی ریاست کا وجود ختم ہوگیا ہے۔مختلف قبائل سالہا سال سے آپس میں لڑ رہے ہیں۔لیبیا کی تباہی میں صرف اور صرف امریکہ شامل ہے۔کیا امریکی صدر کو سونے اور جواہرات سے لادنا،لیبیاء کی تباہی کا معاوضہ ہے؟۔اورپھر گزشتہ 3سال سے پیدا شدہ نیا فتنہ داعش۔اسے نام نہاد اسلامی خلافت بھی کہا جاتا ہے۔اس نئی ریاست نے تمام مسلم ملکوں کو غیر مستحکم کردیا ہے۔یہاں شیعہ بھی ٹارگٹ ہیں اور سنی بھی۔ماضی میں ایسی سفاک ریاست کی مثال دیکھنے میں نہیں آئی۔جتنے بھی تجزیے اس نام نہاد خلافت کے قیام کے متعلق ہوئے ہیں۔نتیجہ واضح طورپر امریکہ ہی نکلتا ہے۔اس بات کو سابق سیکٹری آف اسٹیٹ آف امریکہ ہیلیری کلنٹن تسلیم بھی کرچکی ہیں۔پہلے یہ فتنہ امریکہ نے پیدا کیا اور اب اس فتنے کے خاتمہ کے بہانے امریکی افواج دوبارہ عراق اور شام میں آچکی ہیں۔دنیا کا سب سے بڑا بم ابھی چند دن پہلے امریکہ نے اسی شام میں استعمال کیا اور بے شمار لوگ لقمہ اجل بنے۔کیا یہ سارے تحفے داعش کی تخلیق کا معاوضہ ہیں؟۔مسلمانوں کے خلاف سازشوں کی امریکہ ایک لمبی تاریخ رکھتا ہے۔اب صورت نئی پیدا ہورہی ہے۔شاہ سلمان اور صدرامریکہ ریاض میں کھڑے ہوکر ایران کو تنہا کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔دہشت گردی کا مرکز ایران کو بتایا جارہا ہے کیا سنی اب شیعوں سے لڑنے کے لئے عیسائیوں اور یہودیوں سے مدد لیں گے؟۔کیا امریکہ کوتحفے دینے کا مقصد یہ ہے کہ شیعہ ایران سے لڑنے کے لئے ہمارا ساتھ دو؟۔ایک اﷲ ایک قرآن اور ایک رسول تو شیعوں اور سنیوں دونوں میں مشترک ہے۔ابھی چند سال پہلے ہی کی بات ہے کہ سعودی کراؤن پرنس تہران میں او۔آئی۔سی کے اجلاس میں شریک تھے اور ایرانی صدر احمد نژاد ریاض ائیر پورٹ پر اتر رہے تھے۔اور سعودی شاہی کاروان احمدی نژاد کا استقبال بطور ایک مسلم حکمران کے کررہے تھے۔اور اب امریکی صدر کی حمایت ایران کے خلاف حاصل کی جارہی ہے۔بے شک ایران نے شام اور یمن میں مداخلت کرکے اچھا کام نہیں کیا۔لیکن مسلمانوں کو آپس کے جھگڑے آپس میں بیٹھ کر حل کرنے چاہئے۔اب کعبے کی حفاظت کے لئے پھر امریکی حمایت ہمیں تو سعودی پالیسیاں سمجھ نہیں آتیں۔50۔مسلم ممالک جہاں اکٹھے ہوں کیا وہ ایران سے معاملات حل کرنے کے لئے خود کچھ نہیں کرسکتے۔سعودی علماء اور دیگر بھی ہمیں یہ آیات باربار سناتے ہیں کہ یہودی اور عیسائی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے۔کیا ان آیات کا اثر اب ختم ہوگیا ہے۔ماشاء اﷲ ایک ہی ٹرمپ خاندان میں دونوں مذاہب کے ماننے والے لوگ موجود ہیں۔لیکن انکی پذیرائی تمام مسلم حکمرانوں سے بھی زیادہ۔اور یہ ٹرمپ تو وہی ہیں جس نے عہد ہ صدارت سنبھالنے کے بعد 6۔مسلم ممالک کے باشندوں پر امریکہ آنے پر پابندی لگادی تھی۔اور یہ پابندیاں ابھی بھی موجود ہیں۔کیا ان پابندیوں کا معاوفہ ان قیمتی تحفوں کی شکل میں دیاجارہا ہے؟۔مسلم امہ کو بتایا جائے کہ بے شمار قیمتی تحائف امریکا کی کس خدمت کامعاوضہ ہیں۔یہ وضاحت صحیح طریقے سے صرف اور صرف ریاض ہی کرسکتا ہے۔کیا آئندہ امریکہ نے مسلمانوں کی کسی خدمت کا وعدہ کیا ہے؟۔چلئے یہی بتا دیں کہ کیا شام میں امن قائم ہوجائے گا؟۔برباد شام بحال ہوجائے گا؟۔یمن میں لڑائی ختم ہوجائے گی اور تمام گروہ اپنی ریاست میں سکون سے رہنا شروع کردیں گے؟۔ سعودیہ والے جب تک بات واضح نہیں کرتے تو تحفے تحائف کی غیر معمولی برسات سمجھ میں نہیں آئے گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Jamil Chohdury

Read More Articles by Prof Jamil Chohdury: 72 Articles with 32706 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Jun, 2017 Views: 530

Comments

آپ کی رائے