عالم اسلام میں ’’دراڑ‘‘

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)
عرب ممالک کی طاقت ختم کرنے کی سازشوں میں ’’مغرب‘‘ کامیاب؟

اسلامی اتحاد دشمنانِ اسلام کی سازشوں کا شکار۔؟
عالمِ اسلام کے مضبوط و مستحکم اتحادی ممالک کے درمیان اختلافات کا ذمہ دار کون۔؟
ماہِ صیام کے دوران دشمن کو بھی گلے لگانے والوں کے درمیان دوری کیسی۔؟
اسلامی اتحاد کو نقصان پہنچانے والوں کا عبرتناک انجام کیوں نہیں۔؟

ایسے کئی سوالات ہیں جو فطری طور پر انسانی دماغوں میں گردش کررہے ہیں۔ صرف چند الفاظ نے عالمِ اسلام کے مضبوط اور مستحکم اتحاد کو پارہ پارہ کردیا۔ چند منٹوں میں سب کچھ بدل دیا گیا ۔ آخر اس کے پیچھے کون ہے جو مضبوط اسلامی اتحاد کو نذر بد سے دوچار کردیا۔ سعودی عرب ، بحرین، عرب امارات ، مصر سمیت چھ اسلامی ممالک نے دنیا کے امیر ترین ملک کی فہرست میں شامل قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرلئے اور دیکھتے ہی دیکھتے قطر اور ان ممالک کے درمیان فضائی، بحری ، بری تمام راستے مسدود ہوگئے۔ قطر کے شہری ان چھ ممالک میں اور ان چھ ممالک کے شہری قطر میں کسی نہ کسی مقصد کے تحت موجود ہیں اور انہیں جب یہ خبر ملی ہوگی تو حیران و پریشان کن صورتحال سے دوچار ہونا لازمی بات ہے۔

قطر پر الزام ہیکہ وہ دہشت گردی کی پشت پناہی کررہا ہے اگر اس میں حقیقت ہے تو ان اسلامی ممالک کو چاہیے تھا کہ وہ قطر سے پوچھ گوچھ کرے اور مطمئن نہ ہونے کی صورت میں اس سے تعلقات منقطع کرلینے کا اشارہ دیتے۔ عالمِ اسلام کے اس عظیم اتحاد میں دراڑکوئی معمولی بات نہیں۔ یہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑا سانحہ ہے اور اس سانحہ کو فوراً حل کرنا ان تمام خلیجی عرب واسلامی ممالک کے لئے ضروری ہے۔ یوں تو پاکستان کے اوپر بھی کئی مرتبہ دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے اور مستقبل میں بھی ایسے الزامات پاکستان اور دوسرے ممالک پر لگائے جاتے رہینگے۔ پاکستان نے جس طرح دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے ضربِ عضب کے نام سے شدت پسندی یا دہشت گردی کو ختم کرنے کا بیڑہ اٹھایا تھا اور اس میں اس نے بڑی حد تک کامیابی کا دعوی کیا تھا۔ ان کارروائیوں کے باوجودپاکستان میں خود خطرناک دہشت گرد حملے ہوتے رہے ہیں، پاکستانی فوج اور حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ۔ اس کے باوجود پاکستانی حکومت اور فوج اپنے مشن کو جاری رکھتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے آج بھی اسی طرح ڈٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے جس طرح ضربِ عضب سے قبل تھی۔پاکستان پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام عائد ہونے کے باوجود اسکے خلاف سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک نے سفارتی تعلقات منعقطع نہیں کئے بلکہ ایک سابق ریٹائرڈ فوجی سربراہ کو عالم اسلام کی اتحادی فورس کا سربراہ بنایا گیا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان پر عالمی سطح سے دہشت گردی کی پشت پناہی کے لئے الزامات کا سلسلہ آج بھی جاری ہے لیکن پاکستانی حکومت اپنے موقوف پر قائم رہتے ہوئے کامیابی کی سمت رواں دواں نظر آتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پڑوسی ملک ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کبھی مذاکرات کے ذریعہ بہتر ہوتے دکھائی دیتے ہیں تو کبھی بات چیت کے دوران ہی کوئی دہشت گردی کا معاملہ پیش آجاتا ہے اور پھر دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں شدت پیدا ہوجاتی ہے اس طرح ہند و پاک کے درمیان دوستی و دشمنی کا سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا ۔ عوام کو دونوں ممالک کی حکومتیں بیوقوف بناتی رہینگی ، ہند و پاک کے عوام کبھی مایوسی کا شکار تو کبھی انکے دلوں میں خوشی کی امید کا دیا جلتا رہے گا اور اسی طرح دن ہفتوں میں اور ہفتے ماہ و سال میں گزر جائیں گے اور دونوں ممالک کے درمیان وہی پرانی روش جاری رہے گی اس طرح دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرتے رہیں گے۔ یہ صورتحال تو ہند و پاک کے درمیان ہے لیکن اﷲ نہ کرے کہ ایسی صورتحال عالم اسلام کے اتحاد کے درمیان بھی پیش آئے۔خیر ۰۰۰ سعودی عرب، عرب امارات، بحرین اور قطر کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہونے کا اثر نہ صرف ان ممالک کے عوام پر پڑے گا بلکہ یہ دنیا کے اوپر بھی پڑے گا۔ قطر تیل سے مالامال ملک ہے اور یہاں پر ہندوستان کے کم و بیش 7لاکھ شہری روزگار و مختلف سلسلہ کی بناء سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اسی طرح پاکستان و دیگر ممالک کے بھی لاکھوں شہری قطر میں روزگار و دیگر سلسلہ میں مقیم ہیں۔ جبکہ قطر کے ہزاروں شہری مشرقِ وسطی کے ممالک میں مقیم ہیں ۔ ان شہریوں کے لئے سفارتی تعلقات کا منقطع ہونا بہت بڑے صدمہ کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ’’ہم قطر کے خلاف پیدا ہونے والے حیران کن تنازعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اس بحران کے پیچھے حقیقی وجوہات کے بارے میں نہیں جانتے‘‘۔ انکا کہنا ہے کہ تمام ممالک کو بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعہ اپنے اختلافات کو دور کرنا چاہیے۔محمد بن عبدالرحمان الثانی کا کہنا تھا کہ اس بحران کے پیچھے جو بھی وجوہات تھیں تو ان پر گذشتہ ہفتے جی سی سی کے ہونے والے اجلاس میں بات چیت یا بحث کی جاسکتی تھی تاہم اس اجلاس میں کوئی بات چیت یا بحث نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ریاض میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کے موقع پر امریکی اسلامی عرب سمٹ میں بھی اس حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کچھ بھی تھاتو ان اجلاسوں میں کہا جاسکتا تھا اس طرح اس بحران کے پیدا ہونے کا کوئی بھی اشارہ نہیں تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی سعودی عرب آمد کے بعد عالم اسلام کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہونا عجیب بات سمجھی جارہی ہے۔ شیخ محمد کا مزید کہنا ہے کہ قطر کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات غیر معمولی اور یکطرفہ ہیں ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جی سی سی میں شامل کچھ افراد قطر پر اپنی مرضی نافذ کرنا چاہتے ہیں یا اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنا خیال ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے جی سی سی کے کردار پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ وزیرخارجہ نے اس عزم مصمم کا اظہار کیا کہ قطر اپنے شہریوں کو معمول کی زندگی فراہم کرنے کے لئے خود پر انحصار کرے گا ، قطر کے پاس ایسے پروگرامز ہیں جس کے ذریعہ ہم زندگی کے تسلسل اور عام طور پر اہم عمارت کے منصوبوں کو یقینی بنائیں گے۔ قطر اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے سلسلہ میں وزیر خارجہ قطر کا کہنا تھا کہ قطر کے امریکہ کے ساتھ تعلقات سرکاری اداروں کے ذریعے بنائے جاتے ہیں جو کہ مضبوط ہیں، قطر اور امریکہ کے تعلقات مارجینل گروپس نہیں بناتے بلکہ امریکہ حکومت کے سرکاری ادارے یہ تعلقات بناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قطر کے امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجیک تعلقات ہیں اور قطر مشرقِ وسطی میں جاری دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اسکے مضبوط اتحادی ہیں۔

قطر اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی کی اہم وجوہات
عرب ممالک اور قطر کے درمیان کشیدگی کی وجوہ سب سے پہلے بہارِ عرب کے نام سے آنے والی انقلابی تحریک کے بعد وقوع پذیر حالات سمجھے جارہے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ میں انقلابی لہر کے بعد سیاسی تبدیلیوں کے دوران قطر پر الزام ہیکہ وہ مختلف عناصر کی حمایت کی تھی۔ 2013میں جب مصر کے جمہوری طور پر منتخبہ صدر محمد مرسی کو اُس وقت کے فوجی سربراہ و موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی نے فوجی بغاوت کے ذریعہ معزول کیا تو قطر پر الزام ہے کہ وہ محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمون کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ مصر کی عبدالفتاح السیسی حکومت نے اخوان المسلمون پر پابندی لگا رکھی ہے جب عالمِ اسلامی کی عظیم جامعہ جامعہ ازہر کے شیخ و ممتازاسکالر یوسف القرضاوی کو دوہری شہریت یعنی مصر اور قطر کی شہریت کی وجہ سے بھی تعلقات میں بگاڑ سمجھا جاتا ہے کیونکہ عبدالفتاح السیسی حکومت کے خلاف شیخ یوسف القرضاوی نے لب کشائی کی تھی ۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم مانتے ہیں۔ سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے بیان کے مطابق قطر پر اخوان المسلمین، داعش، اور القاعدہ سمیت مختلف دہشت گرد اور فرقہ وارانہ گرہوں کی حمایت کرنا ہے جن کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ قطر نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہا ہے اسی لئے ان الزامات کو بلا جواز اور بلاوجہ قرار دیا ہے۔دوسری وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ پیر کو قطر پر الزام عائد کیا کہ وہ میڈیا اداروں کو استعمال کرکے سرکشی کے جذبات ابھاررہا ہے ، قطری میڈیا نے اخوان المسلمین کے ممبران کو پلیٹ فارم مہیا کیا ہے جبکہ قطر نے شکایت کی ہے کہ اکسانے کی تحریک کے جو الزامات ہیں وہ مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔قطر کے وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اس سلسلہ میں کہا گیا ہے کہ میڈیا پر جو مہم چل رہی ہے (قطر کے خلاف) وہ خطے میں عوام کے خیالات بدلنے میں ناکام ہوئی ہے خاص طور پر خلیج کے ممالک میں اور یہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجوہات بیان کرتا ہے۔ تیسرا الزام قطر پر لیبیا میں جاری تنازعہ بتایا جارہا ہے ۔ لیبیا اس وقت سے عدم استحکام کاک شکار ہے جب سے سابق رہنما کرنل معمر قذافی کو 2011میں اقتدار سے بے دخل کرنے کے بعد انہیں ہلاک کردیا گیا تھا۔ لیبیا کی فوج میں طاقتور حیثیت رکھتے والے خلیفہ ہفتار جنہیں مصر اور متحدہ عرب امارات کی پشت پناہی حاصل ہے قطر پر دہشت گردگروہوں کی مدد کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ ہفتار ملک کے مشرقی شہر تبروک میں قائم حکومت کے حامی ہیں جبکہ قطر ترابلس میں قائم حکومت کی حمایت کرتا ہے ۔ ان وجوہات کے علاوہ سب سے اہم وجہ قطر پر جو لگائی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ: ایک نیا بحران اُس وقت شروع ہوا جب قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کے ایک مبینہ بیان پر رپورٹ شائع ہوئی جس میں امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جارحانہ موقف پر تنقید کی گئی تھی۔ قطر کے مطابق ملک کی سرکاری خبررساں ایجنسی پر شائع ہونے والے بیان کے پیچھے ہیکرز کا ہاتھ تھا۔ ایران کے حریف سعودی عرب کو ایک عرصے سے تہران کے موقف اور خطے میں اس کے عزائم پر تشویش رہی ہے۔ سعودی بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے شیعہ اکثریت والے علاقے میں دوحہ ، قطیف میں ایران کی پشت پناہی حاصل رکھنے والے گروہوں کی شدت پسندی کی کارروائیوں میں مدد کررہا ہے۔ قطر پر یمن میں حوثی باغیوں کی پشت پناہی کرنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے ۔ دوحہ جس نے سعودی اتحاد کے ہمراہ یمن میں کارروائیوں میں حصہ لیا ہے مسر ہے کہ وہ دوسرے ممالک کی خود مختاری کا احترام کرتاہے اور کسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ان الزامات کے تحت چھ ممالک نے قطر پر سفارتی پابندیاں عائد کردی ہیں اب دیکھنا ہے سفارتی تعلقات کی بحالی کے لئے کون آگے بڑھتے ہیں ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کویت کے امیر الشیخ صباح الاحمد الجابر الصباح نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد ال ثانی کو جو قطری عوام سے خطاب کرنے والے تھے روک دیا اور انہیں اس بحران کو حل کرنے کا یقین دلایا۔موجودہ امیر قطر حمد بن خلیفہ الثانی کے چوتھے بیٹے ہیں جو 25؍ جون 2013کو اپنے والد کے امیر قطر کے عہدہ سے دستبردار ہونے کے بعد قطر کے امیر منتخب ہوئے ۔ اس سے قبل وہ ملک میں مختلف عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں شیخ تمیم دنیا کے کم عمر ترین بادشاہ ہیں وہ ۳؍ جون 1980ء میں دوحہ قطر میں پیدا ہوئے۔قطر مشرقِ وسطیٰ کا ایک آزاد ملک ہے جومحل وقوع کے اعتبار سے اپنی علحدہ شناخت رکھتا ہے یہ تین طرف سے پانی سے گھرا ہوا ہے اور اس کی سرحدیں سعودی عرب سے ملتی ہیں ۔دنیا کی امیر ترین معیشت ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر قطر کو اہمیت حاصل ہے قطر عرب لیگ، اقوام متحدہ ، تنظیم تعاون اسلامی اور مجلس تعاون برائے خلیجی عرب ممالک کا حصہ ہے قطر کے یوروپی ممالک کے ساتھ بھی اچھے تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ قطر میں اسلامی قوانین کا نفاذ ہے یعنی تمام جرائم کی سزائیں اسلامی قوانین کے مطابق دی جاتی ہیں۔ قطر میں تمام اختیارات امیر کے پاس ہیں جو ملک کا سربراہ ہے مجلس شوری کے پاس قوانین بنانے کا محدود اختیار ہے مگر تمام معاملات میں آخری فیصلہ امیر کا ہوتا ہے ۔ قطری قانون سیاسی جماعتوں کے قیام کی اجازت نہیں دیتا نہ ہی کوئی ایسی تنظیم موجود ہے جس کا کام شہری حقوق یا حکومتی معلومات کو منظر عام پر لاتی ہے۔ قطر اپنا سالانہ بجٹ منظرعام پر نہیں آنے دیتا۔ قطر میں اس وقت تعمیراتی سرگرمیاں زوروں پر ہیں اور ملک میں ایک نئی بندرگاہ ، ایک طبی زون ، میٹرو کا منصوبہ اور 2022کے ورلڈ کپ کے حوالے سے آٹھ اسٹڈیم تعمیر کئے جارہے ہیں۔قطر کے فوڈ سیکیوریٹی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اس کی واحد زمینی سرحد سعودی عرب سے ہی ملتی ہے اس سرحد پر روزانہ ہزاروں ٹرک چلتے ہیں جن پر اشیائے خورد و نوش لدی ہوتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق قطر میں استعمال ہونے والی 40فیصد خوراک اسی راستے سے آتی ہے۔ سعودی عرب قطر کی اس واحد زمینی سرحد کو بند کردیا اور فضائی حد بندی بھی کردی جس کے بعد قطر میں خوراک لانے کے لئے صرف بحری راستے بچیں گے۔ کئی قطری شہری اپنی روزمرہ کی خریداری کے لئے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں اشیائے خوردو نوش و دیگراشیاء سستی ہیں اور اب یہ بھی ان کے لئے ممکن نہیں رہے گا۔ سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد قطر کی معیشت پر بُرا اثر پڑے گا ۔ اس سرحد کی بندش کا نتیجہ جہاں سامان کی آمد میں تاخیر کی شکل میں نکلے گا وہیں اخراجات میں اضافہ بھی ہوگا ۔ عالم اسلام کے ان چھ ممالک نے ایک ایسے وقت قطر پر سفارتی پابندیاں عائد کردیں جبکہ مسلمان ماہِ صیام کی نعمتوں ، برکتوں ،رحمتوں و سعادتوں سے فیضیاب ہورہے ہیں۔ قطر کے مقامی شہریوں کے علاوہ قطر میں مقیم ہندوستانی، بنگلہ دیشی، پاکستانی و دیگر ممالک کے شہریوں کے لئے سعودی عرب اور دیگر پانچ اسلامی ممالک کی جانب سے سفارتی پابندیاں عائد کئے جانے کے بعد اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوسکتا ہے اور ماہ رمضان المبارک میں لاکھوں قطر میں مقیم افراد پریشان کن صورتحال سے دوچار ہونگے۔ کاش سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک ماہِ صیام میں قطر پر سفارتی پابندی عائد کرنے سے اجتناب کرتے ۔ مغرب اپنی سازش میں کامیاب تو ہوگیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ سعودی عرب کتنا کارگر ثابت ہوا یہ باشعور افراد جانتے ہیں ۔عالمِ اسلام میں دراڑپڑگئی۔ آج دشمنانِ اسلام کو یہ کہنے کی جرأت ہوگی اور موقع ملے گا کہ عالمِ اسلام کا ایک مرکزی حیثیت رکھنے والا ملک سعودی عرب چند اسلامی ممالک کے ساتھ مل کرماہ مبارک میں دوسرے اسلامی ملک قطر پرسفارتی تعلقات منقطع کرکے پریشان کن صورتحال سے دوچار کردیا ہے ۔کاش سعودی عرب ، عرب امارات اور بحرین عظیم اسلامی اتحاد کی خاطر قطر سے منقطع کئے گئے سفارتی تعلقات کو بحال کرلیں اور ماہِ صیام کی عظیم نعمتوں و برکتوں سے فیضیاب ہوتے ہوئے دوسروں کو موقع فراہم کریں۰۰۰
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 260 Articles with 100426 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Jun, 2017 Views: 314

Comments

آپ کی رائے