انٹر نیٹ ایک فساد

(Abrish anmol, Sargodha)

انٹر نیٹ اٹک فساد

(بچو اس فتنے سے کہیں‌دیر نہ ہوجائے! )

ایک سبق ایک کہانی اچھی لگے تو پلیز مجھے اپنی دعاؤں میں بس یاد رکھنا

طاہرہ کے بار بار تکرار کے بعد اس کا خاوند
سوچنے پر مجبور ہو گیا
ایک ہی بات تھی اس کہ میں بھی آپ کی طرح فیس بک پر کچھ اچھا کام کرنا چاہتی ہوں آصف یہی کہتا تھا کہ آپ گھر میں ہر آنے والی عورت کو دین کی دعوت دیا کرو یا پھر محلے کی چند خواتین اکٹھی کر کے اسلام سمجھائیں
دیکھیں یہ انٹرنیٹ کوئی اچھی چیز نہیں 95 فیصد لوگ اس کا غلط استعمال کرتے ہیں
بعض اوقات صحیح استعمال کرنے والے 5 فیصد بھی فتنوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں
لہذا آپ میری بات کو سمجھیں
طاہرہ بضد تھی خاوند سے دل ہی دل میں ناراض رہنے لگی
بات بات پر خفا ہونا ہر وقت چپقلش سی رہنے لگی
خاوند کو سوجھ گئی کہ اب کوئی چارہ نہیں
دراصل طاہرہ اپنی خالہ زاد بہن نفیسہ سے متاثر تھی کہ وہ فیس بک پر ہر وقت ایکٹو رہتی تھی اور اس کے بہت لوگ فالور تھے جن کو اچھی اچھی باتیں بتاتی لوگ جوق در جوق سٹیٹس پر شریک ہوتے
آصف نے بھی نیا موبائل لے کر دیا اور طاہرہ کے اسرار پر اسے فیس بک اکاؤنٹ بنا دیا
اب طاہرہ بہت خوش تھی
سب سے پہلے خاوند کو ایڈ کیا پھر خالہ زاد بہن کو ایسے دوست بنتے گئے ………
خاوند تنبیہ کرتا رہا فضول استعمال نہیں کرنا کام سے کام رکھنا کسی مرد کا انباکس میں جواب نہیں دینا آج کل بہت فتنہ ہے
طاہرہ ہر بات کی تصدیق کرتی رہی ٹھیک ہے بالکل ایسا ہی کروں گی
دن گزرتے گئے طاہرہ دن بدن تیز ہوتی جا رہی تھی
فیس بک کے متعلق سب سمجھ رہی تھی
اب وہ دینی پیغام لکھتی پوسٹ کرتی کمنٹس میں بہت حوصلہ افزائی ملتی ہر طرف سبحان اللہ ماشاء اللہ نائس گڈ زبردست کی برمار تھی
اسے بہت اچھا فیل ہوتا تھا
انباکس میں میسج آتے اور خاوند کی تنبیہ پر کسی مرد کا جواب نہ دیتی
لیکن دل ہی دل میں سلام کا جواب نہ دینا برا سمجھتی
طاہرہ کو کمنٹس میں کسی نے لکھا سلام کا جواب دینا فرض ہے
آپ فرض چھوڑ کر گناہ گار ہوتی ہیں
پلیز سسٹر طاہرہ سلام کا جواب تو دیا کریں
اب وہ سلام کا جواب دینے لگ گئی ساتھ ہی خیر و عافیت دریافت کرنے لگ جاتے کسی کا جواب دیتی کسی کا نہیں
طاہرہ دوسری لڑکیوں کو دیکھتی تو رہا نہ جاتا ان کے کمنٹس میں ریپلائی گپ شپ دیکھ کر اس کو بھی یہ خیال آیا
اب طاہرہ بھی کمنٹس میں بات کرتی دن بدن مزید آزادانہ ماحول میں جا رہی تھی اب تو انباکس میں بھی بات کر لیتی
طاہرہ کافی حد تک فتنے کا شکار ہو چکی تھی اب چیٹنگ کے مزے خاوند کی باتیں کہاں مزہ دیتیں
اپنے شوہر کی پہلی آواز پر اٹھنے کو جی نہ چاہتا
کتنی بار منع کیا چھوڑ دو اس فیسبک کی جان …. اچھا بس 1 منٹ
نفیسہ کو ریپلائی کر لوں
شازیہ کا میسج پڑھ لوں
ایک لڑکا بار بار میسج کرتا ہے اسے بلاک کر لوں
آصف نے کہا تم مردوں کو ایڈ ہی نہ کرو
طاہرہ نے فٹ کہا تم بھی خواتین کو ایڈ نہ کیا کرو
آصف تنگ آ چکا تھا غصے میں یہ کہا اس لئے یہ بنا کر دی تھی ؟
میرا وقت بھی فیسبک پردو
مجھے موبائل دکھاؤ
فیس بک آصف نے دیکھنا شروع کی تو غصے سے لال پیلا ہو گیا یہ کیا؟؟؟بچو اس فتنے سے کہیں‌ دیر نہ ہوجائے
انباکس میں مردوں کے اتنے میسج اور
طاہرہ کی چیٹنگ دیکھی تو آصف کا دماغ گھوم گیا
در حقیقت طاہرہ فیس بک کے ایک اچھے دینی لڑکے سے بات چیت کرتی تھی
اس دوست نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ چیٹنگ ڈیلیٹ ضرور کیا کریں
( آل کنورسیشن ڈلیٹ )
بس اس دن نہیں کی تھی اس لڑکے سے بات کرتے کرتے بہت آگے نکل چکی تھی اس کو اپنے گھر کے تمام حالات بتا چکی تھی اور اپنے خاوند کی وہ باتیں بھی جو اسے 3 سال سے جھیل رہی تھی کہ میرا شوہر کرخت مزاج ہے شکی اور وہمی ہے وغیرہ وغیرہ
کیونکہ خواتین اکثر اپنے خاوند کے گلے شکوے کرتی ہیں
بس آصف نے اس سے موبائل لے لیا فیس بک بند کر دی
اب طاہرہ سے اس کا اعتبار اعتماد اٹھ چکا تھا اس کو شک کی نگاہ سے دیکهتا
کتنا پیار بھرا رشتہ کتنا کمزور ہو چکا تھا صرف اس انٹرنیٹ کے فتنے کی وجہ سے ……
آصف نے اسے اپنے گھر بھیج دیا ماں نے وجہ پوچھی بات نہیں بتائی ٹال مٹول دی
آخر ماں ماں ہوتی ہے بھانپ گئی ضرور طاہرہ کی کوئی غلطی ہو گی
اس کو ماں نے سمجھایا کیوں ہنستہ بستہ گھر کو اجھاڑنا چاہتی ہو
اب وہ ماں کے گلے لگ کر رونے لگ گئی مجھ سے غلطی ہو گئی میں دھوکے میں آ گئی تھی
میری عقل وقتی طور پر نکل گئی تھی
آئندہ کبھی انٹرنیٹ پر نہیں جاؤں گی جس نے میری عزت پر داغ لگایا
آخر کار گھر کے بڑے افراد نے بیٹھ کر معاملہ سلجھایا معافی مانگی طاہرہ نے آصف کو رئیلی سوری کیا اور آئندہ کیلئے ان سب کاموں کو خیر باد کہا
اب پھر ہنسی خوشی طاہرہ اور آصف ایک اچھی خوشگوار ماحول میں زندگی گزارنے لگ گئے
انٹرنیٹ فیسبک ٹوئیٹر یہ سوشل میڈیا دیندار نیک پارسا خاتون کو بھی بدل سکتا ہے اس سے اپنی بہن بیوی اور بیٹی کو جتنا ہوسکے دور رکھیں
اس غلط فہمی میں مت رہیں کہ ہماری بیٹی بہت نیک ہے سمجھدار ہے کبھی غلط استعمال نہیں کر سکتی ہماری عزت کا خیال رکھتی ھے یہ بھول ھے آپ کی
ہر عورت حیاء والی ہی ہوتی ھے نیک ہی ہوتی ھے ماحول ہی اسے برائی کی طرف لے جاتا ہے

لہٰذا غلط ماحول سے بچائیں کہیں دیر نہ ہوجائے

Comments Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
15 Jun, 2017 Views: 4302

Comments

آپ کی رائے
kaash k khawateen is kahaani se sabaq hasil karain
By: ZEESHAN KHAN, Karachi on Aug, 27 2017
Reply Reply
0 Like
bht acha likha h apny lakin mai yai bt kehna chahta ho k 95% logh iska ghalat istamal krty h yai bt thk h kiya is k liyai mujhy prove chahyai mera mannaa h apny internet ko bht he ziyada negitive liya h mai khod aik IT student Software engineering kr raha mera mannaa yai h k insan ki aik achi pervarish hoi ho to woh aisi cheezo ki trf kabhi mail nhi hota jis larki ka apny zikar kiya manta ho bht shreef thi but us k shohar ko b chahyai tha k her roz us se dar yaft krta ya Id check krta bahar hal jo b h tahreeer achi h lakin internet itna b bura nhi Allah pak ham sab ko naik raah per chalny ki tofeeq ata fermye Ameen.
By: Abdul Ahad, Lahore on Jun, 20 2017
Reply Reply
0 Like
Boht acha likha hai ap ny..... khuda hifazat frmaye... stay blessed!!!
By: Faiza Umair, Lahore on Jun, 19 2017
Reply Reply
2 Like
Outstanding Story.......................
By: Abdul Kabeer, Okara on Jun, 17 2017
Reply Reply
1 Like
bohaaaaaaaat achi tehreer hai sis alfaz nai mil rahe kia kaho realy true ,,,, :)
By: Zeena, Lahore on Jun, 16 2017
Reply Reply
2 Like