ایک خطہ ، ایک سڑک اور عالمی امن

(Shoukat Ullah, Banu)

گزشتہ ماہ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ون بیلٹ ، ون روڈ (ایک خطہ ، ایک سڑک ) منصوبے کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں وزیراعظم محمد نواز شریف اور خاتون ِ اول بیگم کلثوم نوازسمیت چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ ، اسحاق ڈار ، احسن اقبال ، سرتاج عزیز ، خرم دستگیر ، خواجہ سعد رفیق اور انوشہ رحمن نے شرکت کی۔اس اجلاس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں تیس ممالک کے سربراہانِ مملکت، بڑے عالمی اداروں ورلڈ بینک ، آئی ایم ایف کے صدور اور سو سے زائد ممالک کے مندوبین بھی شریک ہوئے۔اکیسویں صدی کے اس عظیم منصوبہ کا تصور چینی صدر ژی جن پنگ نے 2013 ء میں پیش کیا تھا۔جس کا مقصد مشرقی ایشیائی اور مشرقی وسطیٰ کی منڈیوں تک رسائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین تین براعظموں ایشیا ، یورپ اور افریقہ کو ملانے والے اس منصوبے میں اپنا معاشی اور سیاسی اثر ونفوذ بڑھانے کی کاوشوں میں ہمہ تن مصروف نظر آرہا ہے اور اس عالمی منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے چین نے پاکستان سمیت مختلف ممالک میں 124 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر چکا ہے جو کسی بھی ملک کی جانب سے اب تک ہونے والی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ یاد رہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری اس منصوبے کا حصہ ہے۔ جو صرف سڑکوں کی تعمیر اور گوادر بندرگاہ کو فعال بنانے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کی تاریخ میں سرمایہ کاری کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جس کا مجموعی حجم 46 ارب ڈالرز سے تجاوز کرکے 54 ارب ڈالرز ہوگیا ہے جب کہ مستقبل قریب میں اس کا حجم ساٹھ ارب ڈالرز ہوجائے گا۔ اس کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ ہر آنے والا دن پاکستان کی معاشی اہمیت میں بے پناہ اضافے کا سبب بنے گا۔ یہ منصوبہ راہداری کے علاوہ ریلوے ٹریکس ، بجلی گھروں کی تعمیر اور پہلے مرحلے میں دس ہزار میگا واٹ بجلی قومی نظام میں شامل کرنے ، انفارمیشن ٹیکنالوجی منصوبہ جات ، صنعتی زونز کی تعمیر ، آبی ذخائر اور ماس ٹرانزٹ جیسے منصوبوں پر عمل درآمد کا دوسرا نا م بھی ہے۔چین کی تجارت دو راستوں کے ذریعے فروغ پائے گی۔ ایک تو قدیم شاہراہ ریشم یا سلک روٹ ہے جو چین سے وسطی ایشیا اور مشرق ِ وسطیٰ سے گزرتی ہوئی یورپ پہنچے گی ، جس کے لئے بندرگاہوں ، شاہراہوں اور ریل کے راستوں کا جال پھیلایا جائے گا۔ اور دوسرا راستہ چین کو سمندر سے جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقی افریقہ سے ملائے گا۔ یوں چین تین براعظموں سے جڑ جائے گا۔ بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر ژی جن پنگ نے چین اور پاکستان کی اہمیت کا اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ 21 ویں صدی کا ایک عظیم منصوبہ ہے جس سے امیر و غریب ممالک کا فرق ختم ہوجائے گااور پچاس سے زائد ممالک اور بڑے بڑے ادارے ایک دوسرے کے قریب آجائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے سے جہاں 65 فیصد دنیا کی آبادی کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے تو دوسری جانب یہ منصوبہ دنیا کے مستقبل اور امن میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے دنیا کا مستقبل وابستہ ہے ۔ روس منصوبے میں سرمایہ کاری کے علاوہ چین اور ترکی سمیت تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے۔روسی صدر نے اقتصادی ترقی کے دیگر ناکام منصوبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ اکیسویں صدی کے چیلنجز سے نمٹنے کا اہم منصوبہ ہے۔وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری سرحدوں کی پابند نہیں ہے۔ انہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے انعقاد کو تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ تین براعظموں کو ملائے گا، اس سے خطے میں دہشت گردی اور انتہا پسندی پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور غربت کا بھی خاتمہ ہوگا۔ ہم اس وقت جیو اکنامک دور میں داخل ہورہے ہیں، ہم آج ون بیلٹ ون روڈ کی کامیابیوں کا اعتراف کر نے کے لئے جمع ہوئے ہیں اور اس منصوبے سے ایشیا ، یورپ اور افریقہ کو ملانے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چائنا ریلوے منصوبہ باہمی روابط کا پُل ہے ، منصوبے سے دنیا کے 65 ممالک استفادہ کریں گے۔ ممالک کے درمیان تنازعات کی بجائے تعاون اور عالمی امن کو فروغ ملے گا۔ اس منصوبے میں چین کی سنجیدگی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ جاپان سے اختلافات اور ویت نام سے علاقائی مسائل کے باوجود دونوں ممالک کوفورم میں شرکت کی دعوت دی گئی اور ان ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندگی کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ تجارتی و اقتصادی منصوبہ تمام علاقائی و سیاسی مسائل و تعصبات سے بالا تر ہے اور اس کا بنیادی مقصد امن وسلامتی کو یقینی بنا کر غربت و افلاس کا خاتمہ ہے۔ جس سے بلا شبہ دنیا کی آبادی کا ایک بڑا خطہ جنگوں اور باہمی تنازعات سے باہر نکل آئے گا۔ مستفید ممالک کے اندر ترقی کی سرگرمیاں تیز ہوجائیں گی اور بدعنوانی ، رشوت خوری اور جرائم کو قابو کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ایک ملک کو دوسرے ممالک سے لڑائی جھگڑوں کی نوبت نہیں آئے گی اور ممالک کا باہمی تعاون عالمی امن وآشتیکا سبب بنے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 124992 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Jun, 2017 Views: 337

Comments

آپ کی رائے