پانامہ کا سفر

(Shoukat Ullah, Banu)

جوں جوں سات جولائی کا دن قریب آتا جارہا ہے ، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اپنی حتمی رپورٹ کی تیاری کے لئے اپنا کام تیزی سے نمٹائے جارہی ہے۔گزشتہ دنوں انہوں نے عدالت کی جانب وضع کردہ احکامات پر عمل کرتے ہوئے اپنی دوسری پندرہ روزہ رپورٹبھی جمع کروادی ہے۔ جہاں تک تفتیشی عمل کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں وزیراعظم کے دونوں صاحبزادے حسن نواز اور حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے اپنے بیانات قلم بند کرواچکے ہیں جب کہ وزیراعظم اور صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف 15 جون اور 17 جون کو بالترتیب کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ اگلیکچھ دنوں میں اسحاق ڈار اور وزیر اعظم کے داماد رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) صفدر بھی جے آئی ٹی کے سامنے روبرو حاضرہوں گے۔یاد رہے کہ پانامہ لیکس کا سفرگزشتہ برس ماہِ اپریل کے اوائل میں شروع ہوا تھاجس میں نواز شریف کے خان دان سمیت ڈھائی سو کے قریب پاکستانیوں کے نام شامل تھے۔ابتدائی صفائی پیش کرتے وقت وزیراعظم نواز شریف اور اُس کے خان دان کے متضاد بیانات سامنے آئے اور یوں حکومتی جماعت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ٹھن گئی۔ تنازعہ اتنی شدت اختیار کرگیا کہ پی ٹی آئی نے دو نومبرکو اسلام آباد لاک ڈاؤن کی کال دے دی۔جس پر اسلام آباد انتظامیہ نے اسلام آباد کی حدود میں دفعہ 144 نافذ کی اور وزیرداخلہ چوہدری نثار نے حکومت کا مؤقف دو ٹوک الفاظ میں بیان کرتے ہوئے کہا ۔ ’’ اگر پی ٹی آئی کو دھرنے کی کھلی چھٹی دی گئی تو وہ اہم عمارتوں پر قابض ہوسکتے ہیں‘‘۔دو نومبر سے قبل اسلام آباد کا درجہ حرارت نقطہ عروج پر پہنچا چکا تھا اورطرح طرح کی قیاس آرئیوں جنم لے رہی تھیں جن میں ایک یہ بھی تھی کہ وزیراعظم اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔اس ساری گرما گرم سیاسی ہلچل کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں حکم دیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو اسلام آباد میں دھرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم 31 اکتوبر کو پانچ صفحات پر مشتمل نئے فیصلہ میں کہا کہ عمران خان کی تقاریر سے لگتا ہے کہ وہ محض احتجاج نہیں کرنا چاہتے بلکہ حکومت کو کام کرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔ فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر عمران خان ڈیمو کریسی پارک میں احتجاج کرنا چاہیں تو انہیں اجازت دی جائے ۔ حکومت ان کے لئے کوئی رکاؤٹ کھڑی کرے اور نہ ہی کنٹینر لگائے۔ جب کہ لاک ڈاؤن کی صورت میں ضلعی انتظامیہ قانون کے مطابق نمٹے۔علاوہ ازیں پانامہ لیکس کے حوالے سے دائردرخواستوں کی سماعت دھرنے سے ایک روز قبل یعنی یکم نومبر کو چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجربنچ نے کی۔جس میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس آصف سعید کھوسہ ، جسٹس امیر مسلم ، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الحسن شامل تھے۔ عدالت نے تمام فریقین کو ٹی اوآرز48 گھنٹوں میں پیش کرنے کے احکامات صادر کیے۔علاوہ ازیں تمام فریقین کی رضامندی پر عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں کمیشن بنایا جائے گاجو روزانہ کی بنیادوں پر پانامہ لیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت کر ے گا۔ عدالت کے ان احکامات کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی نے لاک ڈاؤن کی کال واپس لے کر پریڈ گراؤنڈ میں یومِ تشکر منایا۔ ایک ماہ اور چند روز بعد نو دسمبر کو فاضل عدالت نے نئے بنچکی تشکیل کے حوالہ سے مختصر حکم جاری کرتے ہوئیقرار پایا کہ ان درخواستوں کی اب تک کی سماعت کو ’سنا ہوا مقدمہ ‘ تصور نہ کیا جائے جس کی بناء پر نیا بنچ اس کیس کی از سر نو سماعت کر سکے گا اور کیس کی مزید سماعت نئے سال کے پہلے ہفتہ تک ملتوی کردی گئی۔یاد رہے کہ لارجربنچ کے سربراہ و چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی 31 دسمبر کو ریٹائرڈ ہورہے تھے ، 15 دسمبر کو اُن کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس دیا گیا اور موسم سرما کی تعطیلات کے بعدسپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس ثاقب نثارنے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیا۔ واضح رہے کہ پانامہ لیکس کیس کی از سر نو سماعت رواں برس چار جنوری سے شروع ہوئی تھی۔مقدمے کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ ،جسٹس اعجاز افضل خان ، جسٹس گلزار احمد ، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجازالحسن پر مشتمل 5 رکنی بنچ نے 26 روز تک کی اور درخواستوں پر فیصلہ 23 فروری کو محفوظ کر لیا تھا۔ٹھیک ستاون دن بعد یعنی 20 اپریل 2017 ء کو پانامہ لیکس پر محفوظ کیا جانے والا فیصلہ سنایا گیا۔جس میں عدالت عظمیٰ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم( جے آئی ٹی ) بنانے کا حکم دیاتو حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس فیصلے کو ردّ کر دیا اور کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانی ہے تو عدالتِ عظمیٰ کے تین یا چار ججوں پر مشتمل بنائی جائے۔ایک طرف عدالت کے فیصلے پر عدم اعتماد کیا جارہا تھا تو دوسری طرف اسی ادارے کو جے آئی ٹی بنانے کا کہا جا رہاتھا۔ حالاں کہ یہ ہر ذی شعور شہری جانتا ہے کہ عدالتوں کا کام تحقیقات کرنا نہیں ہوتا ہے۔ اور پانامہ کیس میں لگائے گئے الزامات کی نوعیت ہی ایسی ہے جو تحقیقاتی اداروں کے دائرہ کار میں آتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک الزام یہ لگایا گیا کہ 1992 ء اور 1994 ء میں برٹش ورجن آئیلینڈ میں آف شور کمپنیاں نیسکول لمیٹڈ اور نیلسن لمیٹڈ مریم نواز شریف کے نام پر بالترتیب قائم کی گئیں۔ جس کی مدعا علیہان نے مسترد کردیا۔اَب اس کی تحقیقات کا کام عدالت کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ اسی طرح دیگر الزامات کی نوعیت بھی ہے۔ لہٰذا عدالت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کے احکامات صادر فرمائے تا کہ وزیراعظم اور اُس کے خاندان کی لندن میں جائیداد ، دبئی میں گلف سٹیل مِل اور سعودی عرب اور قطر میں منتقل کئے گئے سرمائے سے متعلق تحقیقات کی جاسکیں۔ پاکستان تحریک انصاف ، عوامی تحریک اور جماعت اسلامی (جو اس مقدمے میں فریق ہیں) کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی عدلیہ کے اس فیصلے پر سیخ پا ہوئیں اور فیصلے پر سوشل میڈیا پر ایک طوفان بد تمیز اُمڈ پڑا تھا۔ عدلیہ کا وقار مجروح ہوتا دیکھ کر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ اختلافی نوٹ ساری دنیا میں آتے ہیں لیکن جتنا شور یہاں مچایا جارہا ہے وہ کہیں بھی نہیں ہوتا۔اَب جب کہ 45 دن ہونے والے ہیں اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اپنی تیسری رپورٹ جمع کرانے والی ہے۔بد قسمتی سے اس وقت حکومت اور اداروں کے درمیان کشیدگی اورتصادم کی فضا پیدا ہو گئی ہے جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور جس کے مضمرات انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ کیوں کہ اس وقت ملک کو اندرونی اور بیرونی سازشوں اور چیلنجوں کا سامنا ہے لہٰذا حکومت اور جے آئی ٹی دونوں کو باہمی محاز آرائی سے گریز کرکے اپنا کام آئینی و قانونی حدود کے اندر رہ کر مکمل کرنا چاہیئے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 125257 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Jun, 2017 Views: 428

Comments

آپ کی رائے