نظامِ سیاست اور سماج

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

عمران خان، طاہر القادری، جماعت اسلامی، ن لیگ، ق لیگ اور پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اُس کے ساتھ جے یو آئی یہ وہ قوتیں ہیں جو حکمران طبقے پر مشتمل ہیں۔ جماعت اسلامی اِس لیے کہا کہ اِس کے لوگ مختلف جماعتوں میں اہم پوزیشنز پر ہیں۔ق لیگ بھی ایسی جماعت ہے جو مختلف جماعتوں کو اپنے لوگ مہیا کرتی ہے۔ ایوب خان، بھٹو ، جنرل ضیاء نواز شریف ،بے نظیر، مشرف، زرداری ، الطاف حسین یہ لگ حکمرانی کے مزئے چکھ چکے ہیں یا چکھ رہے ہیں۔ شجاعت اور پرویز الہی انفرادی حثیت سے نواز شریف کی بدولت یا مشرف کی وجہ سے یا زرداری کی حمایت سے بڑے عہدوں پر براجمان رہے ہیں۔رہا اب یہ سوال کہ عوامی فلاح و بہبود کے حوالے کس حکومت کی کارکردگی بہتر رہی ہے۔ اِس حوالے سے کسی بحث کی ضرورت نہیں ہر شخص جانتا ہے کہ کون سے حکمران نے کیا کیا۔ملک کا بہت بڑا طبقہ جو سوادِ اعظم ہے اجو کسی دور میں شاہ احمد نورانی، عبدالستار نیازی، علامہ شا ہ فرید الحق جیسی نابضہ روزگار ہستیوں کی وجہ سے حکومت میں عمل دخل رکھتا رہا ہے۔ حاجی محمد حنیف طیب بھی سوادِ اعظم کے نمائندے سمجھے جاتے رہے ہیں لیکن اِس وقت سوادِ اعظم اہلسنت کی سیاسی جماعت کی طاقت کہیں نظر نہیں آتی۔ موجودہ نظام سیاست میں اشرافیہ نے ایسی حکمت عملی اپنا رکھی ہے کہ حکومت صر ف اِسی طبقے کے گھر کی باندھی بنی ہوئی ہے۔ عمران خان جو کہ تبدیلی کے دعوئے دار ہیں اُنھوں نے ق لیگ اور پیپلز پارٹی کے ہی سیاستدان اکھٹے کر رکھے ہیں۔ گویا وہی لوگ وہی چہرئے وہی نظام۔ پارٹیوں کا نام بدل جاتا ہے۔ چہرئے مہرئے وہی ہیں۔ ایسے میں جب کہ ایم پی اے اور ایم این اے کا الیکشن لڑنا اتنا مشکل بنادیا گیا ہے کہ اِس کے لیے کروڑوں روپے درکار ہیں۔ روایتی سیاستدان، جاگیردار، وڈیرئے ، روایتی پیر،سابق جرنیل، نوکر شاہی میں اعلیٰ افسران ہی وسائل رکھتے ہیں کہ وہ کروڑوں روپے لگا کر سیاست کریں۔جب ستر سال کا دور ہمارے سامنے ہے کہ حکومت کرنے کے لیے یہ ہی تین ہزار پانچ سو لگ دستیاب ہیں جنہوں نے بطور اشرافیہ عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔عمران خان تقریباً بیس سال سے زائد عرصے سے سیاست میں ہیں لیکن آخر کار وہ بھی ایسے ہی روایتی ساستدانوں کو اپنے ہاں بھرتی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں جو مروجہ نظام میں الیکشن لڑ سکتے ہیں اور جیت بھی سکتے ہیں۔ باصلاحیت، نیک لوگ وسائل نہ ہونے کے سبب کسی کونے کھدرئے میں اپنی عزت بچا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔کیا جو شخص ملازمت کے دوران اپنا کام درست طور پرنہیں کرتا اور عوام سے رشوت لیتا ہے یا دفتر جانے کی بجائے گھر میں سویا رہتا ہے اور اگلے دن دفتر جاکر حاضری لگا دیتا ہے۔ کیا اُسے معاشرئے کا ناسور نہیں کہا جائے گا؟کیا جو شخص اشیاء خوردونوش میں ملاوٹ کرتا ہے کیا وہ معاشرئے کا ناسور ہے یا نہیں۔؟کیا جو ڈاکڑ مریضوں کو اپنے میڈیکل سٹور سے اپنی ہی تیار کردہ ادویات اصل لاگت سے کئی گُنا تک منافع کے ساتھ فروخت کرتا ہے کیا وہ معاشرئے کا ناسور نہیں ۔ کیا ایسا ڈاکٹر جو ادویات کی کمپنیوں سے بطور رشوت گاڑیاں لیتا ہے بیرون ملک کی سیریں کرتا ہے کیا وہ معاشرئے کا ناسور نہیں؟۔کیا جو وکیل فیس لے کر بھی اپنے کلائنٹ کے ا مخالفین کے ساتھ مل جاتا ہے اور حرام کھاتا ہے کیا وہ معاشرئے کا ناسور نہیں ہے؟کیا ناجائز منافع خور معاشرئے کے ناسور نہیں ہیں؟کیا جو اُستاد ٹیوشن کے لالچ میں اپنے شاگردوں کو سرکاری ڈیوٹی میں درست کام نہیں کروتا کیا وہ معاشرئے کا ناسور نہیں ہے کیا یہ نام نہاد ڈبہ پیر، کالے پیلے جادو گرعوام کو مذہب اور روحانیت کے نام پر لوٹنے والے معاشرئے کے ناسور نہیں ہیں۔کیا وہ حکمران جن کی جائیدادیں بے شمار اور عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں ایسے حکمران معاشرئے کے ناسور نہیں ہیں۔؟کسی کی عظمت بڑی گاڑی میں ۔ کسی کی عظمت لمبے چوڑئے دستر خوان میں۔ کوئی حاکم وقت کے تلوئے چاٹ کر پھولے نہیں سما رہا ہوتا جیسے کہ اُسے کوئی گوہر نایاب مل گیا ہو۔کسی کی شان بنک بیلنس میں پنہاں۔ کوئی جھوٹی آن شان کے لیے بے غیرتی کی حد تک چلا جاتا ہے اور اپنے عزت کو نیلام ہوتے ہوئے بھی اُسے کچھ نہیں ہوتا بلکہ وہ بڑئے مرتبے کے حامل افراد کی پذیرائی میں فخر محسوس کرتا ہے۔کتنی زندگی ہے انسان کے پاس اوسطاً پچاس سال ایک سال میں تین سو پینسٹھ دن۔ کُل 18250اِس میں سے عام طور سکول کالج یونیورسٹی میں بائیس سال گذر جاتے ہیں۔اِس طرح پچاس سالوں میں سے اگر بائیس سال نکال دئیے جائیں تو پھر18250 میں سے8030 دن مائنس کرنا پڑیں گے۔باقی10220 دن بنتے ہیں۔اِس میں سے بیماری، سفر کاروباری ملازمت کی مصروفیات کو دیکھ لیں۔اتنی ٹھوڑی زندگی کے لیے۔ جھوٹ، عزت کی نیلامی،ایمان کا فروخت کرنا۔کیا یہ سب کچھ انسانیت ہے؟مقدس ترین مہینے رمضان المبارک میں حکومتی گڈ گورنس صرف میڈیا تک ہی محدود رہی۔ جو پھل پچاس روپے کا تھا اُسی کوالٹی کا پھل ایک سو بیس روپے تک پہنچا ہوا تھا۔جس سبزی کی قیمت تیس روپے تھی وہ سو روپے تک جا پہنچی تھی۔ لاہور میں ایسا محسوس ہورہا تھا کہ حکومت نام کی کوئی شے نہیں۔ اخبارات ٹی وی چینلز میں حکومتی مشینری تصاویرں بنو ا بنوا کر خوش ہورہی تھی اور خادم اعلیٰ تک نوکرشاہی کا یہ پیغام پہنچ رہا تھا کہ سب کچھ بہت اچھا ہے ۔ افراط زر کنٹرول ہوچکا ہے۔ لوگ چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ ہر گھر میں چولہا جل رہا ہے ۔ لیکن حقیقت حال اِس بیوروکریسی نے خادم اعلیٰ تک پہنچنے ہی نہیں دی۔ لاہور میں تجاوزات کی بھر مار قیمتوں کی حالت یہ کہ اُن کو کنٹرول کرنا تو درکنار دکانداروں کو کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ۔ مجسٹریٹ حضرات جرمانے کرنے کی خبریں اخبارارت میں لگواتے ہیں اور جن دکانداروں کو جرمانے ہوتے ہیں پولیس اُن کا ساتھ مک مُکا کر لیتی ہے اور اُن کو تھانے میں بند کرنے کی بجائے سیدھا مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرواکرضمانت کروادیتی ہے۔ گویا پولیس مستعد ی کے ساتھ منافع خوروں کو پشت پناہی کر رہی ہے۔طلب اور رسد کی بات نہیں ۔ بات خالص نیت کی ہے۔ قیمتوں کا تعین طلب و رسد کی بناء پر ہی ہوتا ہے لیکن سرمایہ درانہ نظام کے پجاری یہ سُن لیں کہ اشیائے خورد ونوش کے معاملے میں فری مارکیت اکانومی میں بھی حکومت مداخلت کرتی ہے تاکہ اشیائے خوردنوش سب کی پہنچ میں رہیں۔ لیکن ہمارئے ملک میں بیوروکریسی نے عوام کو بھرکس نکال دیا ہے خادم عالیٰ کو سب اچھا ہے کہ رپورٹ ۔ لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ قیمتوں میں ہوشروبا اضافہ۔ المیہ تو یہ ہے کہ رمضان جیسے مقدس مہینے میں اشیاء کی قیمتوں میں کمی کرنے کی بجائے اسے بطور کمائی کا سیزن بنادیا گیا ہے۔ ہمارئے نظام عدالت کی کاروائی کا حال اِس بات کی غمازی کرتا ہے کہ (1) مقدمہ بازی میں سب سے زیادہ لوگ جو پڑئے ہوئے ہیں وہ انتہائی غریب ہیں (2) دوسری بہت بڑی وجہ جو دیکھنے میں آتی ہے وہ ہے تعلیمی پسماندگی) (3 دین پر ایمان صرف زبانی کلامی، عمل نام کی کوئی شے نہیں (4) نتیجاتاً معاشرئے کا سماجی معاشی عمرانی نفسیاتی رویہ انتہائی ہوس زدہ۔مجھے کریمنل کورٹ میں امیر تو دور کی بات وسط درجے کے سائل بھی نظر نہیں آئے۔ معاشرئے میں تعلیم کی کمی بہت بڑا ظلم ہے اِس لیے ملک کے دانشور طبقے کو چاہیے کہ وہ حکمرانوں کو باور کروائیں کہ تعلیم عام کرنے سے معاشرہ بہت بہتر ہوسکتا ہے ورنہ آبادی کے پھیلاؤ سے غربت میں بہت تیزی سے مزید اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے اور امن امان کی صورتحال کا بہتر نہ ہونا۔ چوری ڈاکے لوٹ مار، اِن سب کے پیچھے ایک محرک بہت اہم جو ہے وہ توتعلیم کا نہ ہونا ہے۔اور محرکات بھی ہوسکتے ہیں اور ہیں لیکن تعلیم بہت ضروری ہے۔ملک کا بہت بڑا پرابلم یہ ہے کہ ہمارئے ہماشرئے میں گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کے رحجان نے بنیادی یونٹ گھر کو تباہ کردیا ہے۔ معاشرئے کے ناسوروں نے گھر جیسے امن و سکون کے دولت کدئے کو جہنم بنادیا ہے۔حلال امور کی ادئیگی میں سے صرف ایک واحد کام جو کہ طلاق ہے کو اﷲ پاک نے نا پسند فرمایا ہے۔ معاشرئے کا بنیادی یونٹ گھر ہے۔ جب گھر کو بسانے والے دونوں فریق خاوند اور بیوی کے درمیان سماجی کنٹریکٹ ہی نہ رہے تو پھر گھر کے سکون کی بربادی میں کوئی کسر نہیں رہ جاتی۔ سوشل میڈیا نے جہاں عوام کو بہت سے امور میں آگاہی دی ہے وہاں اِس کے منفی اثرات نے بھی معاشرئے کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے۔ انتہائی دکھ کا مقام ہے کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے استعمال کی بدولت معاشرئے میں شرم وحیا کو آگ لگ گئی ہے۔ گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کے رحجان نے معاشرئے کو اِس بُری طرح لپیٹ میں لے لیا ہے ایسا دیکھائی دیتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ مذہب کے بغیر ہے اور روحانی اقدار نام کی کوئی شے یہاں نہیں ہے۔فیس بک کی چیٹینگ سے شادیوں تک پہنچنے والے مراحل کے بعد جب نام نہاد محبت کی فینٹسی کا بخار رفو چکر ہوتا ہے اور زندگی کی حقیقتوں کی آشکاری ہوتی ہے تو پھر آٹے دال کو بھاؤ پتہ چلتا ہے کہ والدین کے گھر شہزادی بن کر رہنے والی نے اپنی مرضی سے گھر سے بھاگ کر جو معاشرئے میں نیک نامی کمائی ہے اُس میں غلطی پر کون ہے۔ یوں پھر خلع کی نوبت آجاتی ہے ۔ اگر لاہور میں فیملی عدالتوں میں صرف طلاق والے کیسوں کو دیکھا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ معاشرہ کس جانب جا چکا ہے۔ اِسی طلاق اور خلع کی وجہ سے پھر نان و نفقہ اور اگر بچے پیدا ہوچکے ہوں تو اُن کی حوالگی کے حوالے کے مسائل سر اُٹھاتے ہیں۔ گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والوں کی بڑی تعداد غلط لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہے جو اُنھیں جسم فروشی کے لیے استعا ل کرتے ہیں حالیہ مہینوں میں پرنٹ اور الیکٹرنک میں یہ رپورٹ ہوچکا ہے شادی کے جال میں پھنسا کر مشرق ِ وسطیٰ میں جسم فروشی کے لیے لڑکیوں کو سمگل کر دیا جاتا ہے۔ حوا کی بیٹی کے ساتھ جو سلوک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہورہا ہے۔اِس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارئے رہنماء ہمارئے حکمران فکری طور پر مکمل کھوکھلے ہوچکے ہیں اُن اِس کا بالکل ادراک نہیں کہ پاکستانی معاشری کس طرف پروز کر چکا ہے۔بے روزگاری بھی بہت بری وجہ ہے طلاقوں کی شرح میں اضافے۔موجود مشترکہ خاندانی نظام اور روپے پیسے کی ہوس نے رشتوں کو بھلادیا ہے اور بس اپنی جان کے لیے ہر کوئی فکر میں مصروف ہے۔یوں مشترکہ خاندانی نظام بُری طور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ موجودہ حالات میں ضرورت اِس امر کی ہے کہ پوری نظام کو تبدیل کیا جائے اور موجودہ جمہوری نظام کی بجائے متناسب نمائندگی کا نظام لایاجائے جو بہت سے ممالک میں چل رہا ہے جس سے ہر طبقے کی نمائندگی ہو جاتی ہے۔ دولت کی ریل پیل ختم کردی جائے۔ سیاست میں دولت کا عمل دخل ختم کرنے کے لیے انقلابی اقدامات کیے جائیں۔ سرکاری ٹی وی کے ذریعہ سے امیدواروں کا تعارف کروایا جائے۔ دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے سیاستدانوں ، جاگیرداروں، ودیروں ، سرمایہ داروں ، جسابق جرنیلوں، سابق ججوں ، جرنلسٹوں کا یک دفعہ بے لاگ احتساب کیا جائے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 225176 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
24 Jun, 2017 Views: 441

Comments

آپ کی رائے