خلیجی ممالک میں بڑھتی خلیج

(Muhammad Attique Ur Rehman, Faisalabad)

ایم اے طاہر ، کراچی
مشرق وسطیٰ میں چپقلش کا موضوع ہفتہ بھر سے میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے۔ پڑوسی ممالک کے سفارتی ، بری ، بحری اور فضائی بائیکاٹ کے بعد قطر کیلئے صورتحال انتہائی پریشان کن ہے اورکشیدگی اپنے نقطۂ عروج پر ہے۔ قطر اپنی غذائی و دیگر اہم ضروریات انہی ذرائع سے پوری کرتا ہے۔خدشہ ہے کہ طویل بائیکاٹ کے باعث صورتحال گھمبیرہوسکتی ہے۔ثقافتی و لسانی یکسانیت کی وجہ سے قطری شہری پڑوسی ممالک سے ازادواجی بندھن میں بھی بندھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بائیکاٹ اورقطری باشندوں کو بے دخلی کے احکامات کے بعد جو بڑے مسائل سامنے آئے ان میں منقسم خاندانوں کا مسئلہ بھی نہایت حساس نوعیت کا حامل ہے۔ افواہوں کا پرہجوم بازار نہایت گرم ہے اور نادیدہ قوتیں ایسی شرمناک بدگمانیاں پیدا کرنے میں مصروف ہیں جن کا گھاؤ بھرنے میں بہت وقت درکار ہوگا۔ اگرمنقسم خاندانوں کے مسائل کے حل اور قطری باشندوں کے حرمین میں داخلے پر پابندی کی افواہوں کا دم توڑنے کیلئے شاہ سلمان فوری اقدام نہ کرتے توخلیجی ممالک کے مابین نفرتوں کی یہ خلیج مزید گہری ہوسکتی تھی۔ خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو سامنے رکھتے ہوئے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہر ممکن طریقے سے معاملے کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کروایا جاتا لیکن پاکستان کے سوا کسی دوسرے ملک کی ایسی کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہ آسکی۔ قطرکے دیرینہ دوست ترکی نے تو ممکنہ سعودی جارحیت کو جواز بناتے ہوئے فوج بھیجنے کا اعلان بھی کر دیا۔ گوکہ ترکی اور قطر کے مابین کچھ عرصہ پہلے فوجی اڈے بابت معاہدہ ہوچکا تھا مگر اس پر فوری عمل درآمد کیلئے اس وقت کو کسی بھی طور مناسب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مزید برآں دستیاب اطلاعات کے مطابق امریکہ اورایران بھی اس کشمکش سے سیاسی و اسٹریٹیجک فوائد سمیٹتے کے علاوہ قیام امن کیلئے کوئی ٹھوس اقدام کرتے نظر نہیں آرہے ہیں ۔

ایک طبقہ فکر کا خیال ہے کہ قطر کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے اور قطر کے اس بیان کو تسلیم کیا جانا چاہیے کہ وہ بالکل بے گناہ ہے۔ جب کہ دیگر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، بحرین، یمن، متحدہ عرب امارات وغیرہ میں بادشاہت مخالف سرگرمیوں کی کھل کر سپورٹ اور ایران نواز ریاست مخالف عناصر کی عرصہ دراز سے سہولت کاری وہ قابل اعتراض جرائم ہیں جنہیں عرب اتحاد کی جانب سے ہضم نہ کیا جانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔کہا جارہا ہے کہ موجودہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب سخت گیر امریکی صدر نے اپنے پہلے سرکاری دورے کیلئے سعودی عرب کا رخ کیا اور 50 سے زائد ممالک کے سربراہان سے خطاب کیا، اس تقریب کے شرکاء میں پاکستان وزیر اعظم بھی نمایاں تھے۔ ناقدین کہتے مذکورہ دورے میں قطر کے خلاف سازش رچی گئی جس پر ڈونلڈ ٹرمپ کے جاتے ہی عمل درآمد شروع کیا گیا۔ اس سوچ کو مزید تقویت ملی جب ٹرمپ سرکار نے ٹویٹر پر قطر مخالف بائیکاٹ کا سہرا اپنے سرسجانا شروع کیا۔ جب کہ عرب اتحاد کے مطابق قطر کے ناپسندیدہ اقدامات طویل عرصہ سے سیکورٹی اداروں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک کی طرح سعودی عرب بھی اپنی داخلی اور خارجی ضروریات خاص کر اسلحے کے حصول کے پیش نظر امریکہ سے بہتر تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔ بہتر تعلقات کی یہ خواہش صرف سعودیہ ہی کی نہیں بلکہ دیگر ممالک بھی اس دوڑ میں پیش پیش رہے ہیں۔ یہ قطعاََحیران کن نہیں کہ قطر بھی امریکی نیاز مندوں کی فہرست میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔

امریکہ قطر مضبوط دوطرفہ تعلقات کی کہانی کئی عشروں پر محیط ہے۔ 1973ء میں باقاعدہ سفارتکاری کا آغاز دراصل اس ’’بے لوث ‘‘ دوستی کا نقطہ آغاز ثابت ہوئی۔ مشرق وسطیٰ کے علاقائی سیاسی معاملات پر دونوں کے درمیان ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ دونوں کے مابین وسیع البنیاد اقتصادی روابط میں قائم ہیں جن بالخصوص ہائیڈروکاربن سیکٹرقابل ذکر ہے۔ امریکہ ہزاروں قطری طلبہ کو ویزے جاری کرتا ہے۔ صرف یہی نہیں قطر مشرق وسطیٰ میں وہ واحد ملک ہے جہاں امریکہ کی بیشتر نامور جامعات (یونیورسٹیز) کی شاخیں موجود ہیں۔ان امریکی تعلیمی اداروں میں ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی ، ویل کرنل میڈیکل کالج، ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی، کارنیج میلن یونیورسٹی، جارج ٹاؤن یونیورسٹی ، نارتھ ویسٹ یونیورسٹی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔سفارتی تعلقات کے آغاز سے اب تک کئی اعلیٰ امریکی عہدیدار ساڑھے 11ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل اس چھوٹے سے جزیرہ ملک کی یاترا کر چکے ہیں۔ جن میں سب سیاہم دورہ مسلم ممالک پر عراق و افغانستان جنگ کے سرخیل جارج ڈبلیو بش کا 2003ء کا ہے جس میں انہوں نے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر تعینات امریکی افواج سے خطاب بھی کیا۔ یہاں یہ بات انتہائی قابل ذکر ہے کہ قطر ہی وہ ملک ہے جہاں مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا اور فعال امریکی فوجی اڈا ’’العبید‘‘ ہے جہاں کم از کم 10ہزار امریکی فوجی اپنے ’’فرائض‘‘ کی انجام دہی کیلئے موجود رہتے ہیں۔ ’’السیلیہ‘‘ نامی فوجی اڈہ اس کے علاوہ ہے جو 2000ء میں افغانستان اور عراق پر حملوں کیلئے بیس کیمپ کے طور پر قائم کیا گیا۔اس ضمن میں2014ء کو طے پانے والا قطر امریکہ تاریخی دفاعی معاہدہ قابلِ ذکر جس کے امریکہ اورقطر کے مابین 11ارب ڈالر کا جنگی اسلحہ، ہیلی کاپٹر اور جدید دفاعی نظام کی فروخت طے پائی۔ بطور اتحادی ملک عراق جنگ میں بھی قطر بمعہ سازوسامان دامے درمے سخنے شامل رہا۔

غرض سعودی عرب کو اس بات پرمورد الزام ٹہرانا سراسر نا انصافی کہلائے گا کہ وہ امریکہ کیمپ کا حصہ ہونے کے باعث قطر کے خلاف محاذ آرائی کر رہا ہے۔ زمینی حقائق کی روشنی میں اب یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ امریکہ بہادر سے بہتر تعلقات کی دوڑ میں قطر بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ یہ وہ حمام ہے جہاں شاید سب ہی بے لباس ملیں۔ مشرق وسطیٰ کے سیاہ سونے (Black Gold) کی دولت سے اپنی معیشت کو قوی کرنے والا منہ زور امریکہ کسی ایک اسلامی ملک سے بھی مخلص نہیں ، دنیا بالخصوصی مشرق وسطیٰ میں اس کا ایجنڈا صرف ایک ہے ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ سو وہ کر رہا ہے۔ امریکہ دو دھار ی تلوار کاوہ کردار ادا کر رہاہے جس کیلئے کہا گیا
؂ہوئے تم دوست جس کے
دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

مسلم حکمرانوں کو صدام حسین ثانی بننے کے بجائے استعمارکی چالوں کو سمجھنا چاہئے۔ یہ کشیدہ حالات مسلم حکمرانوں سے معاملہ فہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ کسی بھی طرح اس صورتحال کومعمول پر لایا جائے۔ وگرنہ طرفین کے ضد اور ہٹ دھرمی کی روش نہ چھوڑنے کے باعث ناقابل تلافی نقصان کا اندیشہ ہے۔ بیچ بچاؤ کے بجائے اگر کوئی نا عاقبت اندیش بن بلائے مہمان کی طرح لاؤ لشکر کے ہمراہ چلا آئے گا تو یہ دوراندیشی نہیں نادانی کہلائے گا۔ معاویہؓ کے بغض میں حب علیؓ کا دم بھرنے والوں کودنیا اچھی طرح پہچانتی ہے۔ ان تمام چشم کشا حقائق کے بعد بھی اگر کوئی طاقت کسی پر امن ملک میں افغانستان، عراق، لیبیا اور یمن کی طرح جمہوری نظام لانے کا خواہاں ہے تو اسے فقط نادان دوستی اور خودکشی سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

اس حوالے سے پاکستان مسلم دنیاکی واحد ایٹمی قوت اور بہترین پیشہ وارانہ فوج رکھنے والا وہ ملک ہے جو معاملے کے حل کیلئے نہایت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ کرغزستان کے شہر آستانہ میں شنگھائی تعاون کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کے بعد آرمی اسٹاف کے ہمراہ وزیراعظم کا دورۂ سعودی عرب اور شاہ سلیمان سے ملاقات مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر پاکستانی تشویش اور سنجیدگی کا مظہر ہے۔اس سے پیشتر وزیر ِ اعظم آستانہ میں روسی صدر پیوٹن سے بھی ملے جہاں خطے میں درپیش چیلنجز پربات کی گئی۔ اب رمضان کے اواخر میں وزیر اعظم اور صدر پاکستان کی سعودی عرب روانگی بھی یہی مقصد نظر آرہا ہے کہ کسی طرح یہ قضیہ اختتام پذیر ہوسکے ۔عالم اسلام فلسطین ،عراق ،شام، لیبیا اوریمن کے بعد مزید کسی بدامنی کا ہرگز متحمل نہیں ہوسکتا۔خلیجی ممالک میں بڑھتی خلیج کے حل کے لئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ کیونکہ نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش)کے پرچم تلے نشو نما پاتی خونخوار دہشت گردی کو کچلنے کیلئے مضبوط ، متحداور مستحکم مشرق وسطیٰ ناگزیر ہے۔ قیام امن کیلئے طرفین کی جانب سے ایک دوسرے کی خودمختاری کو تسلیم کرنا پہلا قدم ہوگا۔مزید برآں اعتماد کی بحالی کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ قطر پڑوسی ملک کی فراہم کردہ متنازعہ افراد کی فہرست کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین دیگر ممالک میں عدم استحکام کیلئے استعمال نہ ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Atiq Ur Rhman

Read More Articles by Muhammad Atiq Ur Rhman: 72 Articles with 36089 views »
Master in Islamic Studies... View More
24 Jun, 2017 Views: 299

Comments

آپ کی رائے