بھارت میں مسلم کشی کی تازہ لہر

(Ghulam Ullah Kiyani, )

یہ بھارتی وزیراعظم کے نام آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر کا کھلا مکتوب ہے۔ ای میل پر موصولہ اس خط میں بھارتی مسلمانوں کی حالت زار انتہائی محتاط انداز میں بیان کی گئی ہے۔جو کہ تشویشناک ہے۔

ڈیروزیراعظم شری نریندر مودی جی
میں یہ خط آپ سے بہت امید کے ساتھ کافی تکلیف اور مایوسی کی حالت میں لکھ رہا ہوں۔ ہمارے عظیم ملک میں بہت کچھ ایسا ہو رہا ہے جو مایوس کن اور افسوسناک ہے۔عید کے مبارک موقع پر ایک سولہ برس کے معصوم طالب علم جوچھٹیوں میں اپنے گھر آیا تھا اور عید کی خریداری کے بعد دہلی سے بلبھ گڑھ ای ایم یو ٹرین سے لوٹ رہا تھا، صرف اس لیے جنونی بھیڑ نے چلتی ہوئی ٹرین میں مار دیا چونکہ وہ ایک مسلمان تھااور اس طرح کا تشدد اس ملک میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

تمام ہندوستانیوں کے لیے اچھے دنوں کا نظریہ بے اعتمادی اورخوف کے اس ماحول میں گم ہوتا جارہا ہے جو ان تنظیموں نے پیدا کیا ہے، جن میں سے کچھ آپ کی پارٹی(بی جے پی) اور کچھ آر ایس ایس سے وابستہ ہیں۔ ان کا ایجنڈا تو واضح طور سے ملک کے لیے اعلان کردہ آپ کے راستے کے خلاف چل رہے ہیں، جس میں آپ نے ملک کی خوشخالی اورترقی پراپنی توجہ مرکوز کی تھی۔ یہ بات آپ کے لیے بھی پریشان کن ہوگی کہ ا ن حاشیہ کی تنظیموں اورعناصر کی حرکتوں سے ملک میں خوف اور نفرت کا جو ماحول بن گیا ہے اس نے صنعت اورتجارت کے لیے سازگار اورمستحکم ماحول پیدا کرنے کے کوششوں کو پٹری سے اتار دیا ہے۔میں آپ کو گوا (ساحل سمندر پر واقع شہر)میں منعقدہ ہندتوا کانکلیو میں طے شدہ ایجنڈے کے خطرات کی طرف متوجہ کرانا چاہوں گا جس کی وہاں سے تشہیر ہورہی ہے۔ ’گؤ رکھشا‘ کے نام پر جو لگاتار تشدد ہورہا ہے اس نے زرعی معیشت کے تباہ ہوجانے کے اندیشے پیدا کردیئے ہیں۔ اگرچہ گاؤ کشی کی روک تھام کا تعلق سرکار کی آئینی ذمہ داریوں سے ہے لیکن آپ کے اپنے بیان کے خلاف جو زیادتیاں کی جارہی ہیں اس کے نتیجے میں بھینس اوردیگرمویشیوں کے گوشت کی پیداوار کو بھی بری طرح متاثر کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے آدی واسیوں، دلتوں اوردیگرمحروم طبقوں اور اقلیتوں کو، جن کی عظیم اکثریت خط افلاس سے نیچے ہے، کم خرچ پر پروٹین کے ذرایع سے محروم کردیا ہے۔ المناک بات یہ ہے کہ مذبح خانوں کیخلا ف ضابطہ کے نام پر کاروائیوں نے جہاں چھوٹے اورمنجھولے میٹ تاجروں کے کاروبار کو بند کرادیا ہے وہیں نہ صرف کارپوریٹ گھرانوں کو گوشت ایکسپورٹ کے نفع بخش کاروبار کی طرف راغب کیا جارہا ہے بلکہ ان کارپوریٹ گھرانوں کو مارکیٹ میں فروزن پیکٹ میٹ مارکٹنگ کرنے کا بڑھاوا دیا جارہا ہے۔ مہاراشٹرا، جھارکھنڈ، یوپی اورہریانہ سمیت کئی ریاستی سرکاروں نے جہاں غریب اورچھوٹے کاروباریوں کے خلاف سخت قدم اٹھائے ہیں وہیں نام نہاد گؤ رکھشکوں کو فسادبرپا کرنے اورقانون کواپنے ہاتھ میں لیکرظلم اورزیادتیاں کرنے کی چھوٹ دی جارہی ہے۔ یہ صورت اس طرح کی غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف آپ کے بیان کی دیدہ دلیری سے پامالی ہے جو بیان آپ نے کچھ عرصہ قبل ان نام نہاد گؤرکھشکوں کے ذریعہ دلتوں کو زدوکوب کے بعد دیا تھا،جب کہ فتنہ کا درائرہ بڑھتا جارہا ہے، ضلع انتظامیہ نہ صرف بے بسی کے ساتھ تماشائی بنا ہوا ہے بلکہ خاموشی سے ایسے مخاصمہ کو بڑھاوادے رہا ہے کیونکہ ان عناصر کے خلاف کاروائی میں کوئی تندہی نہیں دکھا رہا ہے۔ جن ریاستوں میں بی جے پی کی سرکاریں ہیں ان میں ریاستی سرکاروں کی سرپرستی میں بجرنگ دل کھلے عام اسلحہ کی ٹریننگ دے رہا ہے۔ دوسری طرف جب بھی کوئی لیڈر یا سماجی کارکن ان سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اس کو فرضی الزامات میں دھردبوچا جاتا ہے۔محروم طبقات کے افراد کو خاص طور سے نشانہ بنایا جارہاہے۔ یوپی میں بھیم سینا کے چندرشیکھرکی گرفتاری، جو کہ دلتوں میں بیداری لانے کے لیے کوشاں تھے، اختلافی آواز کو دبانے اورڈرانے اوردھمکانے کی کوشش کی مثال ہے۔دوسری طرف کئی جگہ گؤ رکشکوں کی طرف سے ترشولوں کی تقسیم سے تشدد پر اکسانے کی کھلی کوشش ہورہی ہے۔ گؤ رکشکوں اور رومیو اسکوائڈ کے نام سے سینہ زوری کرنے والے گروہ ہفتہ وصولی اور امن و قانوں کو بگاڑنے میں لگے پڑے ہیں۔ کیونکہ اس طرح کے گروہ جو خلاف قانون سرگرمیوں میں لگے ہوئے ہیں، وہ سینئر وزیروں اوربڑے پارٹی لیڈروں کی سرپرستی میں سب کچھ کررہے ہیں جس سے پولیس فورس کے حوصلے بھی پست ہورہے ہیں۔ان خبروں میں ایک یہ خبراطمینان بخش ہے کہ آپ کی کابینہ کے وزیرداخلہ محترم راجناتھ سنگھ نے دوٹوک الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ ہندستانی مسلمان داعش(ISIS) یا دوسری دہشت گرد تنظیموں کے پروپگنڈے کے جال میں نہیں پھنسے ہیں۔ لیکن آپ یہ مانیں گے کہ ہمارے مایوس نوجوانوں کو اس طرح کے خطرات سے دوررکھنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ان کے خلاف متواتربے اعتمادی ، تعصب ، تشدد اور غیر جانبدارانہ ماحول ملک کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے جیسا کہ آپ نے بھی کئی بار کہا ہے کہ ان کے لیے یہ بات بہت اہم ہے کہ ہمارا ملک قانون کی عملداری کو یقینی بنائے۔ محسن شیخ کی بھیڑ کے ہاتھوں ہلاکت کے کیس میں سرکاری وکیل کا پیروی سے انکار اوراس کیس کی رولنگ تعصب اورتنگ نظری کا ایک بدبختانہ اعلان ہے۔

آخر میں یہ کہ محترم وزیر اعظم صاحب جنونی بھیڑ کے ذریعہ مسلمانوں کی ہلاکتوں کے واقعات میں اب تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ ڈی ایس پی ایوب پنڈت کی سری نگر میں ہلاکت بھی نہایت سفاکانہ اورانتہائی قابل مذمت حرکت ہے۔ ایسا ہی قومی راجدھانی خطہ میں ہورہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے کچھ افرادجن کی آپ اتباع(follow) کرتے ہیں وہ بھی اس طرح کی لاقانونیت کو جائز ٹھہراکر اس کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ روزافزوں اس بے اعتمادی اورلاقانونیت کے ماحول میں ہم ہندستانی باشندے آپ سے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ آپ جنونی بھیڑ کے ذریعہ بے قصور مارے جانے والے مسلمانوں کا ماہانہ کوٹا مقرر کردیں تا کہ ہم اس کو آپ کی حکومت کی ایک حقیقت کے طور پرقبول کرلیں گے اوراس گھنونی حقیقت کو مان لیں گے کہ ہم ’ہلاکتوں کی نئی جمہوریہ‘ کے باشندہ ہیں۔ ملک نے 2014 میں آپ کو جو اقتدار دسونپا تھا، اور ابھی حال میں2017 کے یوپی چناؤ نے آپ پر بڑی ذمہ داری ڈالی ہے۔آپ نے اس ملک اوراس کے تمام 125 کروڑ باشندوں کی خدمت کا جو وعدہ کیا تھا وہ وعدہ اپنی حفاظت کا طالب ہے۔ وہ آئین جس پر آپ نے تین سال قبل حلف لے کراقتدار سنبھالا تھا، اوراسی پر ہم سب مکمل یقین رکھتے ہیں اورامید کرتے ہیں آپ کی حکومت آنے والے دوبرسوں میں اس پر عمل کریگی۔
آپ کا مخلص
نوید حامد،
صدر کل ہند مسلم مجلس مشاورت

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 578 Articles with 222176 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
02 Jul, 2017 Views: 432

Comments

آپ کی رائے