جناب خادم الحرمین مسلمانوں پر رحم کریں!

(ڈاکٹر سید وسیم اختر, bahawalpur)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سب سے پہلے سعودی عرب کا دورہ کیا تو اس دورے کے دوران حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے جماعت کے عام کارکن سے لے کر قیادت میں ایک بے چینی کی لہر دوڑ گئی لیکن پھر بھی جماعت کی طرف سے خاموشی اختیار کی گئی تاکہ حالات کو مزید بدتر ہونے سے بچایا جائے لیکن اس کے بعد امریکی شہہ پر قطر کے خلاف کاروائی کا آغاز ہوا تو جماعت کے وہ کارکن جو دل ہی دل میں جل رہے تھے انہوں نے زبان اعتراض آہستہ آہستہ کھولنا شروع کر دی حتی نوبت یہاں تک آ پہنچی اخوان المسلمین مصرنے باقاعدہ طور پر امیر جماعت سے مطالبہ شروع کر دیا کہ خادم الحرمین کو مصری ڈکٹیٹر کی حمایت سے باز رکھا جائے یا پھر جماعت اسلامی پاکستان خادم الحرمین کے اس اقدام کی مذمت کرے پہلے مطالبے کےلئے جماعت نے اپنا پورا رسوخ استعمال کیا لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔

imame kaba meets ameere jammat islami

برادر اسلامی ملک سعودی عرب کو پورے خطہ ارض میں یہ فوقیت حاصل ہے کہ یہاں حرمین شریفین واقع ہیں اسی طرح پوری دنیا کے مسلمانوں کی عقیدت کا مرکز ہیں جب کبھی بھی مکہ اور مدینہ کو خطرے کی بات ہوتی ہے تو ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ حرمین شریفین کے دفاع کے لئے کٹ مرے۔
موجودہ صدی میں گو کہ حرمین شریفین کو کسی سے بھی کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اگر خطرہ ہے تو اپنوں سے ان لوگوں سے خطرہ ہے جنہوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے حرمین شریفین کو ڈھال کے طورپر استعمال کرنا شروع کیا ہوا ہے جماعت اسلامی بہت سے اسلامی ممالک میں دین اسلام کی سربلندی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے فعال ہے جب بھی خادم الحرمین شریفین نے جماعت سے حرمین کو خطرات سے آگاہ کیا تو جماعت نے پاکستان سمیت دوسرے اسلامی ممالک میں ناصرف بڑی بڑی ریلیوں کا انعقاد کیا بلکہ حرمین شریفین کی حفاظت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا.

اور شاید یہی وجہ ہے کہ حرمین شریفین کے کسی بھی اندرونی یا بیرونی دشمن کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ حرمین شریفین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے اسی طرح ۲۰۱۴ میں جب یمنی حوثی فتنے نے سراٹھایا تو جماعت کے پاس سعودی عرب کےاہم ذمہ دار یہی خدشات لے کر آئے کہ حوثی باغی حرمین شریفین کی بے حرمتی کا منصوبہ بنائے بیٹھے ہیں۔

اس نازک موقع پر سعودی وفد کی قیادت کرنے والے امام کعبہ کو یقین دلایا گیا کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین شریفین کے دفاع کے لئے کٹ مرنے پر تیار ہے اور دنیا نے دیکھا کہ جماعت نے پورے ملک میں ریلیوں اور جلسوں جلوسوں کے ذریعے خادم الحرمین کی حمایت کا اعلان کیا اسی طرح خادم الحرمین کی شخصیت کو جب جب خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو یہی جماعت اسلامی تھی جس نے خادم الحرمین کے دینی منصب کا خیال رکھتے ہوئے ان کا دفاع کیا۔

لیکن بدبختی کہیئے یا حالات کی ستم ظریفی ایک وقت وہ بھی آیا کہ جماعت کی تمام خدمات کو فراموش کرتے ہوِئے جماعت کے خلاف ہی ایک خاص فکر کے بعض سعودی لوگوں نے محاذ بنا لیا اسی طرح خادم الحرمین کے مقدس دینی منصب کے تقدس کو بھی پاؤں تلے روند دیا گیا -

خادم الحرمین نے اسلامی ممالک کے اتحاد کا اعلان کیا تو جماعت نے سب سے پہلے پاکستان کے بہادر جنرل پرویز مشرف کی اس اتحاد کی سربراہی کی حمایت کی اور اپنا رسوخ استعمال کرتے ہوئے پاک آرمی اور حکومت پاکستان کو اس بات پر قائل کیا کہ وہ جنرل راحیل شریف کو ضرور سعودی عرب بھیجیں لیکن جیسا کہ پہلے ذکر کیا بعض لوگوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے یہ اتحاد ناصرف مسلمانوں لے لئے سود مند ثابت نہ ہوا بلکہ اس سے امریکہ جیسے عالمی دہشت گرد کو فائدہ پہنچا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سب سے پہلے سعودی عرب کا دورہ کیا تو اس دورے کے دوران حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے جماعت کے عام کارکن سے لے کر قیادت میں ایک بے چینی کی لہر دوڑ گئی لیکن پھر بھی جماعت کی طرف سے خاموشی اختیار کی گئی تاکہ حالات کو مزید بدتر ہونے سے بچایا جائے لیکن اس کے بعد امریکی شہہ پر قطر کے خلاف کاروائی کا آغاز ہوا تو جماعت کے وہ کارکن جو دل ہی دل میں جل رہے تھے انہوں نے زبان اعتراض آہستہ آہستہ کھولنا شروع کر دی حتی نوبت یہاں تک آ پہنچی اخوان المسلمین مصرنے باقاعدہ طور پر امیر جماعت سے مطالبہ شروع کر دیا کہ خادم الحرمین کو مصری ڈکٹیٹر کی حمایت سے باز رکھا جائے یا پھر جماعت اسلامی پاکستان خادم الحرمین کے اس اقدام کی مذمت کرے پہلے مطالبے کےلئے جماعت نے اپنا پورا رسوخ استعمال کیا لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں کی غیرت کو للکارا گیا تو محمد بن قاسم جیسے جوان اسلام کی تلوار بن گئے اس وقت مصری اخوانی مسلمانوں کا جن مسائل کا سامنا اس کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اخوان المسلمین کے رھنماؤں کی خواتین کو مصری ڈکٹیٹر کی فوج ریپ کا نشانہ بنا رہی ہے اس بے چارگی کے عالم میں مصری اخوانی مسلمانوں کی مایوسی کے بعد اگر نظر اٹھتی ہے تو وہ ترکی اور قطر سے ہوتی ہوئی سیدھی جماعت اسلامی پاکستان پر آ کر ٹک جاتی ہے آج دنیا سمٹ چکی ہے کسی بھی ظلم کو بری دیر تک چھپایا نہیں جا سکتا میری جماعت اسلامی کے ایک ادنی کارکن کی حیثیت سے خادم الحرمین شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے درخواست ہے کہ مصر کے حوالے سے اپنی پالیسی پر تجدید نظر کریں اسی طرح قطرکے ساتھ بھی ٹینشن کو جتنا جلدی ہو سکے پر امن مذاکرات کے ذریعے ختم کریں اسی میں مسلمانوں کی بھلائی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ڈاکٹر سید وسیم اختر

Read More Articles by ڈاکٹر سید وسیم اختر: 26 Articles with 11405 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Jul, 2017 Views: 566

Comments

آپ کی رائے
آج دنیا بڑی تیزی کے ساتھ بدل رہی ہے لیکن ہم مسلمان وہیں کے وہیں کھڑے ہیں بھئی ایک کافر خاتون سے ہاتھ ملانے سے کون سی قیامت آ پڑی ہے خادم الحرمین سے زیادہ دین کو کون سمجھتا ہے جن کے خاندان میں ہزاروں مفتی موجود ہیں ایک سازش کے ذریعے خآدم الحرمین کی شخصیت کو خراب کیا جا رہا ہے جماعت اسلامی نے پہلے بھی منافقت کی پالیس کی اب بھی منافقت کرے گی جماعت اسلامی خادم الحرمین کی مخالفت کرے تو اللہ کے عذاب کا شکار ہو گی۔
By: معاویہ عثمان, bahawalpur on Jul, 15 2017
Reply Reply
0 Like
میں جماعت اسلامی کا ایک عام کارکن ہونے کے ناطے یہ سمھتا ہوں کہ جماعت کو مصر اور دوسرے ممالک میں دخل دینے کی بجائے پاکستان پر توجہ دینی چاہئے اس لئے کہ ہماری بے جا مداخلت کی وجہ سے بنگلہ دیش نے ضد میں آکر ہمیں کتنی شخصیات سے محروم کر دیا۔مجھے معلوم ہے کہ اخوان المسلمین جماعت اسلامی سے بہت متاثر ہے لیکن ان کے ملک کے حالات اور ہمارے حالات میں بہت فرق ہے ۔ڈاکٹر صاحب سے معذرت اگر میری بات بری لگی ہو تو۔
By: umar farooq, hasilpur on Jul, 10 2017
Reply Reply
0 Like