سیاست بچاؤ

(Arshad Sulahri, )

میرے وطن کی جمہوریت کو اب تک صاحب اولاد ہونا چاہیے تھا مگر بد قسمتی سے شادی کے بعد بھی نابالغ اور کنواری ہے۔ آئے روز دیش نکالا ۔ اب پھر سے سر پر آن پڑی ہے۔ فضل رحمان ہی اچھے نکلے ۔ حساب کوئی بھی ہو۔ کم ازکم جمہوریت سے ہمدردی تو دکھائی ہے۔ برے وقت میں منہ تو نہیں موڑا ہے۔ اب اخیر ہو چکی ہے۔ جمہوریت کے خیرخواہ اگر آج آگے نہ بڑھے بلکہ الٹا سرالیوں کا ساتھ دیا تو پھر نوبت طلاق تک پہنچ سکتی ہے۔ تاتواں ، مظلوم اور بختاں ماری جمہوریت پر ہاتھ رکھنے کی ضرورت ہے۔ بیماری کا بہانہ اس سمے اچھا شگون نہیں ہے بلکہ کپتی ساس اور نک چڑھے سالوں کو کھلی چھٹی دینے کے مترادف ہے۔ نواز شریف کو کندھا نہ دیں۔ پچھے تو کھڑے رہیں۔کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔کیا یہ کھیل کوئی پہلی بار کھیلا جا رہا ہے۔ مگر یہ پہلی بار ہوا کہ چار سر پھروں نے نتائج کی پروا کیے بغیر خفیہ ہاتھ کو بے نقاب کرنے کی جرات کی ہے۔ یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ کھیل کی کاروائی عام کی جائے تاکہ عوام کو پتا چلے کیتا کی اے۔ ڈرامے کا مرکزی خیال کیا ہے۔ یہاں تک ساتھ بنتا ہے۔ سیاسی غیرت تقاضا کرتی ہے ۔ ریاست نہیں سیاست بچاؤ۔ ریاست بچانے والے تو ہیں ۔ سیاست بچانے والے بھاگ رہے ہیں۔ کئی اندر خانے ہاتھ ملا چکے ہیں اور باقی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ترکی کے عوام کو خراج تحسین پیش کرنے والوں اٹھو کہ وقت قیام آیا ہے۔مواقع بار بار نہیں ملتے ہیں۔ پھانسیاں ، کوڑے ، جلاوطنیاں اور شہادتوں کا مول کیا رہ جائے گا اگر جمہوریت اپنے ہی گھر میں پھر سے کسی چولہے کی بھینٹ چڑھ گئی۔ مصالحت ہی کرادو ۔ گھر تو بسے۔ گھر تو اجڑنے سے بچا سکتے ہیں۔ بعد میں جو صف ماتم بچھانی ہے۔ طعنے بازی کرنی ہے۔ آج عقل کو ہاتھ مارو ۔ سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرو۔ نواز شریف بمع خاندان کرپٹ ہی سہی ۔ نواز شریف کو اقتدار سے الگ کرنا درست سہی ۔ مگر کوئی خفیہ ہاتھ یہ کام کیوں کرے ۔ طاقت کا سرچشمہ عوام کی رائے اتنی غیر اہم کیوں کردی گئی ہے۔ یہ حق عوام کو کیوں نہیں دیا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ کہاں ہے۔ پارلیمنٹ کام کیا رہ جاتا ہے۔ پارلیمنٹ اور عوام کی سپر میسی کے کیا معانی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا کیا کردار ہے۔ باعث شرم ہے کہ آج سیاست یرغمال بنا لی گئی ہے۔ عوام نے کیا ایسا خواب دیکھا تھا کہ جن لوگوں نمائندے چن کر پارلیمان میں بھیجا ہے۔ وہ اپنی سیاست ۔ جمہوری اصول ، عوامی خواہشات کو ایک فیصلے کیلئے یرغمال بنا چپ چاپ دیکھتے رہینگے ۔ یہ کیسے سیاستدان ہیں۔ یہ کیسا ملک ہے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے۔ یہ کیسے عوام ہیں اور کیسے سیاستدان ہیں جو بار بار اپنی قسمت کے فیصلے دوسروں پر چھوڑ دیتے ہیں۔ سیاسی مفادات کے لئے متحد کیوں نہیں ہوتے ہیں۔ جیسا کہ نظر آتا ہے اگر تم متحد نہیں ہوں گے ۔ بلکہ اپنے ہاتھوں سے جمہوریت کا گلا گھونٹ دو گے۔ افسوس ہے۔ تمہارا ماضی ، تمہاری تاریخ یہی بتاتی ہے کہ تم نے ہمیشہ یہی سوچا ہے کہ کل ہم پر نہیں آنی ہے۔ نواز شریف بھی یہی سوچ کر کالا کوٹ پہن کر میدان سجانے چل نکلے تھے۔ آج وہ بھگت رہے ہیں۔ کچھ سبق سیکھ لو۔ کچھ تو سوچ لو ۔ آج تم ہس رہے ہو تو کل نواز لیگی تم پر ہس رہے ہوں گے ۔ چنگے پھسے نیں۔ کدھر گیا میثاق جمہوریت کا شربت ۔ دوا اور دعا دونوں کی ضرورت ہے۔ جمہوریت پھڑپھڑا رہی۔ چلا رہی ، بلبلا رہی ہے۔ کس بات نے روک رکھا ہے۔ پاوں میں بیڑیاں کون ڈالے ہوئے کہ تم آگے نہیں بڑھ رہے ہو۔ آگے بڑھو۔ بت توڑ دو۔ خدا را برائے فروخت کی تختیاں اتار پھینکو۔ تمہاری سیاست ، تمہاری جمہوریت اور عوام کے حقوق بچ سکتے ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arshad Sulahri

Read More Articles by Arshad Sulahri: 135 Articles with 44977 views »
I am Human Rights Activist ,writer,Journalist , columnist ,unionist ,Songwriter .Author .. View More
12 Jul, 2017 Views: 320

Comments

آپ کی رائے