ہم زوال پذیر کیوں ہیں؟

(Dr. Muhammad Javed, Karachi)

ہم دیگر دنیا سے پیچھے کیوں ہیں؟ کیا ہم میں صلاحیت کی کمی ہے؟کیا ہمارے پاس وسائل کم ہیں؟کیا ہم تعداد میں کم ہیں؟کیا ہمارے پاس ذہانت نہیں ہے؟ وہ کون سی ایسی کمی یا بیماری ہے جس کی وجہ سے ستر سالوں کے بعد بھی زندگی کے ہر شعبے میں روبہ زوال ہیں؟

انسانی تاریخ کا یہ کھلا سبق ہے کہ اقوام کی ترقی و عروج اس کا وقت کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ ہونے سے مشروط رہا ہے۔جو قومیں بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ چلنے سے قاصر رہتی ہیں وہ ترقی کا راستہ گم کر بیٹھتی ہیں، وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے سے کیا مراد ہے؟اس سے مراد علم اور عقل کے بدلتے ہوئے معیاروں کو اپنے تعلیمی نظام کے ذریعے معاشروں کو سمجھانا اور ان کی روشنی میں زندگی کے تمام شعبہ جات کو استوار کرتے جانا ہے۔ نظام تعلیم ہی قوموں کے مستقبل کا تعین کرتا ہے۔ فی زمانہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ارتقاء نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب وہی قوم مقابلے کا امتحان پاس کر سکتی ہے جس کے پاس ایک جاندار تعلیمی نظام ہو گا اور اسی کی بنیاد پہ وہ ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں سامراجی اجارہ داریوں کے استحصال سے اپنے آپ کو محفوظ بنا سکتی ہیں۔ لیکن سب سے اہم ترین سوال یہ ہے کہ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کس طرح سے قائم ہو سکتا ہے؟ کیا اس کے لئے صرف تقریروں، سیمیناروں اور زبانی بیان بازی یا تبصرے ہی کافی ہیں یا اس کے لئے کوئی اور لوازمات ضروری ہیں؟ اقوام کی تاریخ اور معاشرے اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ بغیر ایک منظم اور فعال اور قومی حب الوطنی کے جذبے اور عمل سے سرشار سیاسی ڈھانچے کے کوئی بھی شعبہ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کیا جا سکتا، ریاست کی تشکیل ہی سیاسی نظام سے ہوتی ہے،اور سیاسی نظام ہی قوموں کا مستقبل متعین کرتا ہے۔ اب ہم اپنی حالت زار پہ اگر غور وفکر کریں تو صورتحال انتہائی دگر گوں نظر آتی ہے، اس کی ایک ادنیٰ مثال کراچی یونیورسٹی کے بارے میں ایک خبر ہے جس میں بتایا گیا کہ یہ ادارہ کئی کروڑ خسارے کا شکار ہو کر اب اس قابل بھی نہیں کہ وہ اپنے ملازمین کو تنخواہ ادا کر سکے، افسوس ناک صو ر تحال یہ بھی سامنے آئی کہ یونیورسٹی کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں نیز لیبارٹریز و دیگر تحقیق کے نام پہ بنائے گئے شعبوں میں آلات یا تو ٹوٹے پھوٹے ہیں یا ان کی شدید کمی ہے۔۔۔۔۔یہ تو اس ملک کی ایک سرکاری بڑی یونیورسٹی کی حالت زار ہے۔۔۔۔۔دنیا بھر میں قوموں کی ترقی میں حقیقی کردار اعلٰی تعلیمی اداروں کا ہے، مگر ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم تو دور کی بات ہے بنیادی اور پرائمری تعلیم کا کوئی مئوثر نظام موجود نہیں۔ اس کی اصل وجہ ایک دیانتدار اور محب وطن سیاسی نظام کا نہ ہونا ہے۔

ستر سال سے سیاسی نظام کی فرسودگی، کرپشن، ناہلی اور عدم استحکام نے تعلیم،صحت، معیشت، صنعت و تجارت اور بحثیت مجموعی پورے معاشرے کو زوال اور تباہی کی طرف لے جانے میں اہم کردار ادا کیا اور مسلسل یہ کردار نبھایا جا رہا ہے۔۔۔۔بدیانت سیاسی نظام کے مرکزی ڈھانچے قوم کا خون چوسنے اور انہیں سوائے ذلت کے کچھ نہیں دے رہے۔۔۔۔اگر تعلیمی نظام کا کچھ کرنا ہے، اگر صنعت و معیشت میں انقلاب لانا ہے، تو سیاسی نظام کو چوروں ، ناہل اور کرپٹ مافیا سے نجات دلانی پڑے گی۔یہاں میری مراد ““سیاسی نظام““ سے وہ تمام ادارے ہیں جو ریاست کے امور سنبھالتے ہیں اور ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ قوم کو ترقی کے راستے پہ ڈالیں۔۔۔بغیر سیاسی انقلاب کے کرپٹ اور ناہل مافیا سے ملک کو نہیں چھڑایا جا سکتا۔۔۔۔اس کے لئے ملک کا وہ طبقہ جو کہ اگرچہ کہ تعداد میں کم لیکن باشعور اور پڑھا لکھا ہے اسے میدان عمل میں آنا چاہئے اور کرپٹ نظام کے خلاف جدو جہد کرنے چاہئے اور ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔۔۔۔۔وگرنہ اس ملک کے اکثریتی طبقات جو کہ بدقسمتی سے ان پڑھ ہیں اور جاہل، گنوار اور ناہل کرپٹ قیادت کو منتخب کر کے اس ملک کی بھاگ ڈور ان کے ہاتھوں میں تھما تے رہیں گے اور اسی طرح قومی اور بین الاقوامی سطح پہ ذلت اور زوال ہمارا مقدر رہے گا۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 70389 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
23 Jul, 2017 Views: 411

Comments

آپ کی رائے