جگر کی پیوند کاری

(Hafeez khattak, Karachi)
جگر کا کردار اہمیت کا حامل ہے، جگر کی پیوند کاری اک بڑا معاملہ ہے تاہم شہر قائد سمیت لاہور اور السلام آباد میں یہ عمل ہوتاہے۔ اسی حوالے سے لکھی گئی اک معلوماتی تحریر

جگر کی خرابی اور سلامتی کی تصاویر۔۔۔۔

انسانی جسم میں جگر خون بناتا ہے اور دل اس خون کو جسم کے تما م حصوں تک پہنچاتا ہے ۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانی جسم میں جگر کی حد درجہ اہمیت ہے۔ بیماریاں جہاں جسم کے دیگر خصوں میں کسی بھی وجہ سے لگ جاتی ہیں اسی طرح جگر بھی متعدد وجوہات کے سبب مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتاہے اور بروقت علاج نہ ہونے کے سبب جگر انسانی زندگی کے خاتمے کا سبب بھی بن جاتاہے۔ جسم کے کسی بھی حصے میں کسی بھی طرز کی بیماری یا انفیکشن ہوجائے تو معالج اس کا علاج کرتے ہیں اور کامیابی کی صورت میں مریض کو ہسپتال سے گھر جانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ تاہم اگر مریض جگر کے کسی بھی معاملے کی وجہ سے زیر علاج ہوتا ہے تو اسے معالجین خصوصی اہمیت کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر معالجے کے مختلف مراحل سے گذارتے ہیں۔معالجین کا ہی یہ بھی کہنا ہے کہ اگر جگر کا علاج بروقت نہیں کرایا جائے تو ایسی صورت میں جگر کی بیماری شدت اختیار کرتی ہے اور اس کا اختتام خون کے سرطان یا ہیپاٹائٹس بی پر ہوجاتا ہے جس سے مریض کی زندگی کم وقت میں ہی ختم ہوجاتی ہے ۔ اس کے ساتھ معالجین یہ بھی کہتے ہیں کہ جگر کے مسائل کی وجہ مریض بسا اوقات ذہنی مریض بن جاتے ہیںاور اس کے ساتھ ان کے ہاضمے کے مسائل بھی بتدریج خراب ہوجاتے ہیں۔لہذا ایسی صورتحال میں یہ معالجین کا کہنا ہے کہ کسی بھی بیماری کی صورت میں غفلت روا رکھنے کے بجائے فوری طور پر معالج سے رابطہ کیا جاناچاہئے اور جگر کے خوالے سے تو یہ احتیاط اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔

شہر قائد میں گردوں کی تبدیلی کی بازگشت رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی جب کوئی نیا مریض یا پرانا مرض ہی آجاتا ہے تو اس کی دھوم پورے شہر میں بچ جاتی ہے۔محکمہ صحت اپنی نوعیت کو مدنظر رکھتے پھر اقدامات کرتا ہے۔ جس کے بسا اوقات مثبت نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ گردوں کی تبدیلی کی بازگشت اک مدت جاری ہے اور شہر قائد میں یہ خدمات سرانجام دینے والے متعدد ادارے موجود ہیں۔ وہ علاج جو کہ کم مقدار میں ہوتے ہیں یا پھر جن کے لئے معالجے کے اداروں میں کمی واقع کوتی ہے تو ایسی صورت میں معالجے کیلئے مریض کو ملک سے باہر کے راستے بتادیئے جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں ان مریضوں کو تو کوئی تکلیف نہیں ہوتی جو کہ صاحب حیثیت ہوتے ہیں لیکن بدرجا تکلیف کا سامنا انہیں کرنا پڑتا ہے کہ جو صاحب حیثیت نہیں ہوتے ۔ایسی صورتحال میں مریضوں کی اموات تک واقع ہوجاتی ہے ۔

جگر کی پیوند کاری بھی اک ایسا ہی شعبہ ہے کہ جسے شہر قائد سمیت پورے ملک میں محدود پیمانے پر گذشتہ کئی برسوں سے شروع کر دیا گیا ہے۔یہ پیوندکاری جسے liver transplantationکہا جاتا ہے ، اس وقت شہر قائد سمیت اسلام آباد اور لاہور میں کی جاتی ہے ۔شہر قائد کے گلشن اقبال میں واقع ڈاﺅ ہسپتال میں جگر کی پیوند کاری کا آغاز ہوئے ایک برس سے زائد مدت ہوگئی ہے اور اب 10جگر کی پیوند کاری کے کامیاب آپریشن ہوچکے ہیں۔ ایک پیوند کاری پر 35سے 40لاکھ روپے کی لاگت آتی ہے اور یہاں یہ قابل تعریف اقدام ہے کہ اب تلک ڈاﺅ ہسپتال کے ڈاکٹرز نے یہ تمام بغیر کسی معاوضے کے سرانجام دیئے ہیں۔
10جگر کی ان پیوندکاریوں میں دو مریضوں کا بعد ازاں انتقال ہوا جبکہ دیگر 8تاحال صحتیابی کے مراحل سے گذرنے کے بعد اپنی زندگیوں کو پرمسرت انداز میں گذار رہے ہیں۔

جگر کے اس عمل کیلئے چند برس قبل تک مریض بھارت کا رخ کیا کرتے تھے ، بھارت میں جگر کی پیوند کاری کا عمل ہوا کرتا ہے ۔ تاہم یہاں یہ نقطہ قابل فکر ہے کہ وہ مریض جو اس معالجے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے،وہ بغیر علاج کے ہی موت کا انتظار کیا کرتے اور جو مریض صاحب حیثیت ہوتے انہیں بھارت جاکر اپنے جگر کی پیوندکرانے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوپاتی تھی۔ تاہم جب سے شہر قائد میں یہ عمل شروع ہوا ہے اس پر عوام میں مثبت رجحانات ہیں۔

جگر دینے اور لینے والے دونوں افراد کا متعدد ٹیسٹ ہوتے ہیں اور ان مراحل سے گذرنے جانے کے بعد 12سے 16گھنٹوں کا طویل آپریشن ہوا کرتا ہے ۔دونوں مریضوں کا یہ آپریشن بیک وقت ہوتا ہے ۔یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ بھارت سے سینئر معالجین آتے ہیں اور ان کی موجودگی میں ہی یہ عمل ہوتا ہے ۔ ابتداءمیں تو آپریشن بھارتی معالجین کرتے تھے اورہمارے ڈاکٹرز ان کو دیکھا کرتے تھے تاہم اب صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ بھارت کے معالجین دیکھتے اور ہمارے معالجین آپریشن کرتے ہیں ۔آپریشن کے بعد دونوں مریضوں کو کئی ایام تک ہسپتال میں رکھا جاتا ہے اور بعدازاں انہیں رخصت کیا جاتا ہے ۔گجر لینے والے مریض کو متعدد دوائیں بسا اوقات طویل دورانئے تک استعمال کرنا پڑتی ہیں جبکہ جگر دینے والے ایسے کسی بھی مرحلے سے نہیںگذرنا پڑتاہے۔

یہاں یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ جگر دینے والا مریض جب اپنا جگر ہدیہ کردیتا ہے تو ایسی صورت میںاس کی زندگی پر کیا منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے ہیں؟تو اس حوالے ڈاکٹرز کا یہ کہنا ہے کہ جگر کے دو حصے ہوتے ہیں اور کسی بھی مریض کو جگر کا دوسرا حصہ دیا جاتا ہے ۔وقت گذرنے کے ساتھ ہدیہ دینے والے کے جگر میں نشوونما ہوتی ہے اور اس طرح سے اس کے جسم میں جگر دینے سے کسی بھی طرح کا مسئلہ درپیش نہیں آتا ہے۔

جگر کی پیوند کاری 60سال سے زائد عمر کے مریضوں میں نہیں کی جاتی ہے ۔ اس سے کم عمر کے مریضوں میں جگر کی پیوندکاری کا عمل ہوتا ہے۔جگر دینے والے فرد سے پوری اور مکمل تفصیلات لئے جانے او ر مختلف خون کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں اور ان کے بعد ہی اس عمل کی جانب بڑھا جاتا ہے۔
2 کڑورسے زائد آبادی کے شہر قائد میں جگر کی پیوند کاری کاری کا ایک ہسپتال ہے ، ضروت اس امر کی ہے کہ اس عمل کے معالجین کی تعدا د کو بڑھایا جائے اور اس کے ساتھ مستحقین مریضوں کو علاج مفت فراہم کرنے کیلئے حکومت احسن انداز میں ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کریں۔اس کے ساتھ ہی دیگر صوبائی حکومتیں اور مرکزی حکومت بھی جگر کی پیوندکاری کے عمل پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کریں ۔ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھی جگر کی حفاظت اورعلاج معالجے کے حوالے سے تربیتی ترویج و رہنمائی فراہم کی جائے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafeez khattak

Read More Articles by Hafeez khattak: 190 Articles with 99505 views »
came to the journalism through an accident, now trying to become a journalist from last 12 years,
write to express and share me feeling as well taug
.. View More
27 Jul, 2017 Views: 1086

Comments

آپ کی رائے