میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں۔۔۔؟

(Malik Muhammad Salman, )

وزیر اعلیٰ پنجاب کے پر امن ،خوشحال اور ترقی یافتہ پنجاب کے خواب کی تکمیل کیلئے لاہور میں فیروزپور روڈ پر ارفع کریم آئی ٹی ٹاور کے قریب سبزی منڈی کے علاقے میں پولیس اور مقامی انتظامیہ تجاوزات کے خلاف آپریشن میں مصروف تھی جب کہ ارفع کریم ٹاور کے قریب پرانی اور مخدوش عمارتوں کو بھی گرایا جارہا تھا۔زندگی کی چہل پہل پوری آب و تاب سے جاری تھی ۔آنے والی گھڑی سے بے خبر لوگ سودا سلف کی خریداری میں مصروف تھے۔شدید گرمی کے باوجود پولیس کے بہادر جوان اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے۔جوانوں کی ہمت باندھنے کیلئے بہادر کمانڈرسی سی پی او لاہور امین وینس کیمپ کا دورہ کرکے ابھی گئے ہی تھے کہ سہ پہر 3 بج کر 55 منٹ پرخودکش بمبارنے سبزی منڈی میں آپریشن کے لیے قائم کیمپ میں تعینات پولیس اہلکاروں کے درمیان پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ 9 پولیس اہلکاورں سمیت 28 افراد شہید اور 58 زخمی ہوگئے۔20 کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

اچانک زور داردھماکے کے بعد سب درہم برہم ہوگیا فضا میں زخمی بچوں ،عورتوں اور مردوں کو چیخ وپکار سے کہرام برپا تھا،ہر طرف لہو ،کسی ماں کا لخت جگر اس سے چھین لیا گیا ، کسی کا بھائی بچھر گیا تو کہیں زندگی بھرساتھ نبھانے کا عہد کرنے والے ساتھی ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑ گئے ،ہر طرف خون ہی خون تھا چند سیکنڈ میں کھلتے چہرے مرجھا گئے،انسانی اعضاء بکھر گئے اور زخمیوں کی دل دہلا دینے والی چیخیں فضا میں گونجتی رہیں۔ مسخ شدہ لاشیں دیکھ کر ورثاء اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے ۔قیامت صغریٰ برپا کر دی گئی، پر امن نہتے شہریوں کو سماج دشمن عناصرنے اپنی بزدلانہ کاروائی کے لئے سوچی سمجھی منصوبہ بندی سے ابدی نیند سلا دیا۔

ظلم و بر بریت کی انتہا۔۔۔ درجنوں افراد کی شہادت۔۔۔ ماؤں کی ہری بھری گودیں ا ناً فاناً ویران۔۔۔ بچے باپ کی شفقت سے محروم۔۔۔ بوڑھے والدین کی کمریں ٹوٹ گئیں۔۔۔ بیسوں خاندانوں میں صفِ ما تم۔۔۔ ہر طرف کہرام۔۔۔ فضا سوگوار۔۔۔ہر آنکھ اشکبار۔۔۔گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ کر دور تک بکھر گئے۔ ہر طرف افراتفری اور بھگدڑ مچ گئی۔

جہاں معصوم لوگوں کی شہادت نے ہر اہل دل کو رلا دیا ،وہیں جب زخمیوں کو خون کی ضرورت پڑی توخون کا عطیہ دینے کے لئے انسانیت کی محبت کے جذبے سے شرسار عوام کا سمندر امڈ آیا ہسپتالوں میں خون دینے والوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ خون عطیہ کرنے والے لوگوں کاجذبہ دیدنی تھا،چند گھنٹوں بعدہی ہسپتال انتظامیہ کو نوٹس لگانا پڑا کہ ہمارے پاس وافر مقدار میں بلڈ دستیاب ہے فی الحال مذید ضرورت نہیں ہے۔ ہر شخص سوگوار چہرے سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا عزم بلند کرتے ہوئے دہشت گردوں کو پیغام دے رہاتھا کہ وہ ایک زندہ دل قوم ہیں اور دہشت گرد ان کے حوصلوں کو پست نہیں کر سکتے۔

بلاشبہ یہ بہت افسوس ناک سانحہ تھا اور اس سانحہ نے بہت سی ماؤ ں کی گود کو اجاڑ دیا ہے،میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں جن کے ذریعے اس بد ترین وا قعہ پر اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار کروں ،ایک بہت المناک سانحہ گزرا ہے اس سے ہر آنکھ اشکبار ہوئی ہے ، درجنوں گھروں میں ماتم جاری ہے اور پورا ملک سوگ کی کیفیت میں ہے۔

لاہور میں ہونے والے حملہ کی ذمہ داری پاکستان تحریک طالبان نے قبول کی ہے اورکہا کہ ان کے ایک حملہ آور نے کفار کی لڑائی لڑنے والی پولیس فورس پر حملہ کرکے کئی پولیس والوں کو ہلاک کیا ہے۔ ان کا اب بھی دعویٰ ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز امریکہ اور دیگر کافر ملکوں کی جنگ لڑ رہی ہیں۔

ابتدائی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ حملہ آور کا اصل ٹارگٹ سی سی پی او امین وینس تھے ۔ اس سے قبل بھی دہشت گردوں کی جانب سے اعلیٰ پولیس اہلکاروں پر حملے کیے گئے ہیں۔ رواں ماہ میں ڈی پی او چمن ساجد خان مہمند اور ایس پی کوئٹہ کو شہید کیا گیا جبکہ کچھ ماہ قبل لاہور میں ہی ڈی آئی جی کیپٹن مبین اور ایس ایس پی زاہد گوندل پر خودکش حملہ کیا گیا۔

ان جرائم پیشہ انتہا پسندوں نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے علاوہ ہزارہا شہریوں کی بھی جان لی ہے۔ اگرچہ اپنے حملہ کے اثر میں شدت پیدا کرنے کیلئے طالبان دہشت گرد فوج یا پولیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن موقع ملنے پر ایسے اجتماعات پر بھی حملے کر چکے ہیں جہاں معصوم شہری، خواتین اور بچے جمع تھے۔ ان عناصر کا واحد مقصد انتشار، بدامنی اور بے یقینی پیدا کرنا ہے اور وہ مسلسل اس مقصد میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں۔۔۔؟ بیرونی دشمنوں کے بعد آخر میں نادان دوستوں کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔پاکستان جل رہا ہے ،ملک دشمن عناصر نے میرے وطن کے لوگوں کا سکھ چین ،آرام و امن سب کچھ چھین لیا ہے ۔ سیاسی جماعتیں آپس میں دست و گریباں اور ٹکراؤ کا شکار ہیں۔ صرف جھوٹ، فریب، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، تباہ کرنے اور مکر کی سیاست چل رہی ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈا کرنا کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی پریس کانفرنس ملتوی کروانے کیلئے یہ گورنمنٹ نے خود کروایا ہے۔خدارا ! کچھ تو شرم کرو ،سیاسی عداوت کو ذاتی اور ملک دشمنی میں نہ بدلو۔نادانی میں ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل کا باعث نہ بنیں،لاشوں کی سیاست کا نہ میت کو فائدہ ہوتا ہے نہ لواحقین کو!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MALIK SALMAN

Read More Articles by MALIK SALMAN: 69 Articles with 31893 views »
Columnist at Daily "Nai Baat" & Cyber Security Expert .. View More
27 Jul, 2017 Views: 453

Comments

آپ کی رائے