شکار اور آشکار

(Muhammad Nasir Iqbal Khan, Lahore)

شہنشاہوں کے دورمیں جب کوئی بادشاہ شکار کاشوق پورا کرنے کیلئے جنگل کارخ کرتاتواس کے ساتھ وفادار وزیروں اورفرمانبرداردرباریوں سمیت سینکڑوں سہولت کاربھی ہوتے تھے ،یہ سہولت کار ایک بڑے دائرے کی صورت میں مخصوص انداز سے شورمچاتے ہوئے شکار کوگھیر کر مقررہ مقام تک لے آتے جہاں شہنشاہ اپنے تیروں سے شکار کو چھلنی کردیتا ۔شیر زبردست شکاری ہوتے ہیں مگر کئی بار انہیں خودشکارہوتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔ بھینسیں جواپنے آگے بین بجانے پربھی اس سے متاثر نہیں ہوتیں اگروہ انتقام پراترآئیں تو اپنے سینگوں سے بار بار شیر کواچھالتی اورزمین پرپٹختی ہیں تواُس وقت شیرکی حالت زاردیکھ کر بیچارے پرترس آنے لگتا ہے۔ان دنوں بھی ایک شیرشکاریوں کے نشانے پر ہے،سہولت کاربڑی مہارت سے گھیر کرشیر کواس مقام تک لے آئے ہیں جہاں عنقریب اس کی قسمت کافیصلہ ہوگا ،دیکھتے ہیں شیر کی قسمت میں کیا لکھا ہے۔علم غیب تواﷲ تعالیٰ کی ذات کے سواکوئی نہیں جانتا مگر نشانیوں اورشیر کی نادانیوں سے لگتا ہے کہ پاکستان اور بیچارے عام پاکستانیوں کی آسانیوں کادورشروع ہونے میں اب زیادہ وقت نہیں رہا ۔پاناما پر بہت ہنگامہ کیا گیا مگر پھربھی بہت کچھ آشکارہوگیا۔باب العلم حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا تھا ،''میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے اﷲ تعالیٰ کی قدرت کوپہچانا''۔ہمارے ہاں کچھ نادان لوگ اپنے ''ارادوں ''کی تکمیل کیلئے'' اداروں'' کوتوڑنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔ اپنے ارادوں کی ٹوٹ پھوٹ میں قدرت کی مصلحت کوصرف وہ پہچانتا ہے جس میں خدادادصلاحیت ہو۔قرآن مجید فرقان حمید میں اﷲ تعالیٰ یوں اِرشاد فرماتا ہے ،ترجمہ : '' اﷲ نے ان کے قلوب اورکانوں پرمہرکردی ہے اوران کی آنکھوں پرپردہ ہے اوران کیلئے بڑاعذاب ہے ۔ان کی مثال اس شخص کی مثال کی طرح ہے جس نے آگ جلائی ،پھر جب اس (آگ )نے جوکچھ اُس کے گردتھا روشن کردیا ،اﷲ ان کے نورکولے گیا اوراُن کواندھیرے میں چھوڑدیا وہ کچھ نہیں دیکھتے ،بہرے ،گونگے ،اندھے ہیں سووہ نہیں لوٹتے،یاجیسے مینہ (جو)بادل سے (برسا) اِس میں اندھیرااورکڑک اوربجلی ہے ہولناک آوازوں سے اپنی انگلیاں موت کے ڈر سے اپنے کانوں میں دیتے ہیں اوراﷲ کافروں کوگھیرے ہوئے ہے۔قریب ہے بجلی ان کی نظرکواچک لے جائے،جب کبھی وہ اُن کو روشنی دیتی ہے اس میں چلنے لگتے ہیں اورجب اُن پراندھیراکرتی ہے ٹھہرجاتے ہیں اوراگراﷲ چاہتاتوضروران کی شنوائی اوران کی بینائی کولیجاتا،اﷲ ہرچیز پرقادر ہے ۔اے لوگواپنے رب کی عبادت کروجس نے تمھیں پیداکیا اورانھیں جوتم سے پہلے تھے تاکہ تم متقی ہوجاؤ ''۔قیادت کیلئے بصارت سے زیادہ بصیرت اہم ہوتی ہے۔داناانسان صرف داناانسانوں کی صحبت میں بیٹھنا پسندکرتا ہے جبکہ کنداذہان لوگ دانائی اور داناؤں سے دوربھاگتے ہیں۔ہمارے حکمران باوردی ہوں یابغیروردی وہ خطرناک حدتک خوشامدپسند اورخودپسند ہوتے ہیں اوران دونوں بیماریوں کاان کے حواریوں کی طرف سے بھرپورفائدہ اٹھایاجاتا ہے ۔ہرانسان کے ساتھ زندگی میں متعدد اور مختلف معاملے پیش آتے ہیں اورہرمعاملے میں اُس کیلئے کئی اشارے پنہاں ہوتے ہیں اورکئی نشانیاں چھپی ہوتی ہیں اگران پرسنجیدگی سے غورکیاجائے توبروقت سدباب کر کے خودکو بڑے نقصان سے بچایاجاسکتا ہے ۔شریف خاندان نے پاناما پیپرز کوانڈراسٹیمیٹ اور اسے مس ہینڈل کیا،کالے کوٹ کی نہیں کالے کرتوت کی ناکامی ہے۔عدالت میں وکیل نہیں ملزم یامدعی کوشکست ہوتی ہے۔یہ کہنا کہ ذوالفقارعلی بھٹو کی شہادت میں ان کی ناقص وکالت کارفرماتھی یاآج شریف خاندان کی جگ ہنسائی میں ان کے وکلاء کاہاتھ ہے درست نہیں۔وکلاء کوملزم یامدعی فریق سے جوشواہدیادستاویزات ملتے ہیں وہ ان کی بنیادپروکالت کرتا ہے،شریف خاندان کاکیس کمزورتھاان کے وکلاء کیا کرتے ۔ان کادوررس فیصلہ انہیں اوران کی سیاست کو دوررس بربادی سے بچاسکتا تھا مگر چاپلوس اورخوشامدی ٹولے نے ہر مرحلے پر انہیں گمراہ کیا ۔ مریم نواز کوامورمملکت سپردکرنے کابھی میاں نوازشریف کونقصان پہنچا ،ڈان لیک میں مریم نواز کانام نہیں آیا یانہیں آنے دیاگیا لیکن جے آئی ٹی کی رپورٹ میں آگیا ۔

محاورہ''عقل کے اندھے ''ہرکسی نے سناہوگا،کچھ لوگ بینائی ہوتے ہوئے بھی نابینا ہوتے ہیں ۔نڈر ہوکرگناہ کرنیوالے سرکش ہیں مگر جس وقت قدرت کی گرفت میں آتے ہیں تواس وقت ان کی کوئی چال نہیں چلتی بلکہ ہرچال الٹی پڑجاتی ہے ۔پاناما پیپرز کابے نقاب ہونا قدرت کافیصلہ ہے اس میں عمران خان کاکوئی عمل دخل یاکمال نہیں تاہم پاکستان میں پاناما پیپرز کومنطقی انجام تک پہنچانے کاکریڈٹ عمران خان کوجاتا ہے۔پیپلزپارٹی کے قائدین عمران خان کواناڑی قراردے کراس کامذاق اڑاتے اور فرینڈلی اپوزیشن کاکرداراداکرتے رہے جبکہ عمران خان کی استقامت اورمستقل مزاجی نے بازی پلٹ دی۔اگرعمران خان خودبھی نااہل ہوجاتا ہے تواسے یقینا اس بات کاکوئی غم نہیں ہوگا ،اگرعمران خان کے اس سیاسی خودکش حملے سے نیا پاکستان معرض وجودمیں آجاتا ہے توعمران خان تاریخ میں زندہ رہے گاجبکہ پاناما والے کردارقصہ پارینہ بن جائیں گے۔پاناما پیپرز کے منظرعام پرآنے اورکچھ ملکوں میں حکمرانوں کے مستعفی ہونے پرپاکستان میں بھی میاں نوازشریف کووزارت عظمیٰ کامنصب چھوڑنے کیلئے باربار کہا گیا مگر وہ اپنااوراپنے خاندان کادفاع کرتے رہے اس دوران شریف خاندان کے مختلف افراد کے بیانات میں انتہائی تضادات بھی ریکارڈ پرآگئے ۔ شریف خاندان کے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار نہال ہاشمی کابھاشن بھی بیک فائرکرگیا۔قطری کی چھتری بھی احتساب کی دھوپ سے نہیں بچاپائی ۔بعض اہم دستاویزات بھی جعلی نکلے ،جس سے شریف خاندان کو مزید رسوائی ،پسپائی اورجگ ہنسائی کاسامنا کرنا پڑا ۔چندمخصوص وزراء کی دن رات پریس کانفرنسوں سے بھی الٹا منفی تاثر پیداہوا ۔جہاں تدبیر کی ضرورت تھی وہاں تقریرکاسہارا لیا گیا اورجہاں تدبر سے کام بن سکتا تھا وہاں تکبر نے کام بگاڑدیا۔غرورکرنااوراسے پچاناانسان کے بس کاروگ نہیں کیونکہ غرورانسان کوچکناچورکردیتا ہے ۔پاناما پیپرز نے جہاں حکمران خاندان کوبے نقاب کیا وہاں ان کے معتمدخاص اسحق ڈار کاطریقہ کار آشکارہواہے ،ان کے ضرورت سے زیادہ حامی کچھ میڈیا گروپس ،ٹاک شوزمیں ان کی وکالت کرنیوالے نام نہاد دانشور ،اینکرپرسنزاورقلم فروش کالم نگار بھی ایکسپوزہوگئے ۔کچھ لوگوں کے نزدیک پیسہ بناناان کاپیشہ ہے،میں قلم فروشی کوجسم فروشی سے بدترسمجھتاہوں۔عہدحاضر میں سینئر اوردبنگ کالم نگاررحمت علی رازی ،برادرم ڈاکٹر محمداجمل نیازی ،سینئر کالم نگار ارشاد احمدعارف،سینئر کالم نگار قیوم نظامی،برادرم محمددلاورچودھری،برادرم سمیع اﷲ ملک، برادرم مظہربرلاس،برادرم محمدمکرم خان ،برادرم منصورآفاق،برادرم محمدآصف عنایت بٹ ،برادرم محمدآصف بھٹی ،برادرم میاں محمدسعیدکھوکھر،برادرم توفیق بٹ،برادرم محسن گواریہ ،برادرم علی احمدڈھلوں ،برادرم محمداکرم چودھری ،برادرم امتیازاحمد بٹ،برادرم ہمایوں سلیم،برادرم کاشف سلیمان ،برادرم صابر بخاری،برادرم خواجہ اے متین،برادرم افتخار مجاز،برادرم ضیغم سہیل وارثی،برادرم میاں اشرف عاصمی ،برادرم محمدصفدر سکھیراکی طرح جو کالم نگارقلم فروش نہیں وہ سرفروش اورسربکف ہیں،یہ کالم نگار سچائی تک رسائی کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔کامیا ب انسان وہ ہے جس کوخود سے اپناچہرہ نہ چھپاناپڑے ،میرے نزدیک جس کاضمیر زندہ اوربیدار نہیں وہ مردہ ہے۔

راقم نے زیادہ تر اہل سیاست اوراہل صحافت کی زبان سے حالیہ تین دہائیوں میں میاں نوازشریف کیلئے ''نااہل''کافقرہ سنا ہے۔آوازخلق کونقارہ خداکہاجاتا ہے، سواس حساب سے'' نااہل'' کی عدالتی ''نااہلی ''کاامکان غالب ہے۔جہاں تک عمران خان کی منی ٹریل کاایشوہے تو کپتان اورمیاں نوازشریف کے معاملے میں قطعاً کوئی مطابقت نہیں کیونکہ عمران خان آج تک براہ راست اقتدارمیں نہیں آیا۔واصف علی واصف ؒ نے فرمایا تھا ،''بادشاہ کا گناہ ، گناہوں کابادشاہ ہوتا ہے'' ۔جس طرح عالم اورجاہل سے ایک طرح کا گناہ سرزدہونے پرعالم سے زیادہ بازپرس ہوگی۔اگرکوئی زرپرست سرمایہ دار قومی وسائل میں نقب لگائے جبکہ ایک بھوکا پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے روٹی چوری کرے توان دونوں کی سزا مختلف ہوگی، اس طرح حکمران اورعام آدمی کو بدعنوانی پریکساں سزا نہیں دی جاسکتی ۔میں یہ بھی کہنا ضروری سمجھتاہوں کہ عمران خان کی جماعت میں آنیوالے سیاستدانوں کے ماضی کاوہ جوابدہ نہیں لیکن تحریک انصاف میں آنے کے بعد اگروہ کوئی غلطی یاسیاسی گناہ کرتے ہیں تواس صورت میں عمران خان کوعوامی عدالت کے کٹہرے میں ضرور کھڑاکیا جائے۔حکمران جماعت کوچھوڑ کر سیاستدانوں کا اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی میں آنامائنڈسیٹ اورسیاسی کلچر کی تبدیلی ہے ۔اگر پرویز مشرف کی باقیات مسلم لیگ (ن) میں شامل اوراعلیٰ عہدوں پربراجمان ہوسکتی ہیں توپیپلزپارٹی کے لوگ پی ٹی آئی میں کیوں نہیں آسکتے ۔

ایک نیم پاگل شخص نے اپنے پاس بیٹھے ایک شخص سے کہا دیوار پردھوپ پڑرہی ہے میں اسے دھکا لگاکرچھاؤں میں کردیتا ہوں اور اس شخص کاجواب سنے بغیردیوار کودھکالگانا شروع کردیا ،وہ مسلسل کئی گھنٹوں تک زورلگاتا رہا ۔ سورج ڈوب گیا اورشام دھیرے دھیرے زمین پر اترآئی تواس نے کہا دیکھا میں دیوارکو سایہ میں لے آیا ہوں ۔کچھ اس طرح کاحال جاویدہاشمی کابھی ہے ، وہ سمجھتا ہے اس نے اپنے زورداربیانات یاپی ٹی آئی چھوڑنے سے جمہوریت کی دیوار کو آمریت کی دھوپ سے بچالیا ہے۔میں وثوق سے کہتا ہوں ملک میں رائج جمہوریت جیسی بھی ہے اسے کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے لیکن اگرکسی کی شخصی حکومت یابادشاہت خطرے میں ہے تویہ ان کے اپنے اعمال کاوبال ہے ۔''جمہوریت کوخطرہ ہے'' کی رٹ لگانیوالے درحقیقت جھوٹ بول کرقوم کوگمراہ کررہے ہیں۔جس طرح کوئی دانا انسان دوسرے کے گناہوں کابوجھ اپنے کندھوں پرنہیں اٹھاتا اس طرح کوئی زیرک سپہ سالار منتخب مگر نااہل حکمران کی ناکامیوں کاملبہ خود پرگرانے کی اجازت نہیں دے گا۔جنرل قمرجاویدباجوہ کی ترجیحات کاتعلق حکومت یاسیاست نہیں بلکہ ریاست اوراس کی سا لمیت سے ہے،وہ دن رات قیام امن کیلئے کمربستہ ہیں،پاک فوج کیخلاف منفی اوربے بنیادپروپیگنڈا دفاعی اداروں کی کمر توڑنے کے مترادف ہے۔پرویز مشرف بھی مرضی سے اقتدارمیں نہیں آیا تھا بلکہ اسے دھکا دیاگیا تھامگر اُس وقت اوراِس وقت کے حالات وحقائق میں زمین آسمان کافرق ہے ، عاقبت نااندیش حکمرانوں نے نجی دوستی نبھاتے نبھاتے پاکستان کوتنہا اورغیرمحفوظ کردیا ،اس نازک وقت میں پاک فو ج اپنے پیشہ ورانہ کام چھوڑ کرسیاست یاحکومت کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔حالیہ سروے میں پاکستانیوں کاپاک فوج اورآزاد عدلیہ پر بھرپوراظہاراعتماد حقیقت میں منتخب حکومت پرعدم اعتماد ہے۔

عوامی شاعرحبیب جالب مرحوم کی شہرہ آفاق غزل کاایک شعر حکمرانوں پرصادق آتا ہے جوخودکوپاکستان کیلئے ناگزیر سمجھ بیٹھے ہیں ۔

تم سے پہلے وہ ایک شخص جویہاں تخت نشیں تھا اس کوبھی اپنے خداہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nasir Iqbal Khan

Read More Articles by Muhammad Nasir Iqbal Khan: 173 Articles with 82164 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Jul, 2017 Views: 592

Comments

آپ کی رائے